سرمگیں سکون - در صدف ایمان

سرمگیں سکون بمعنی سرمئی سکون، یہ عنوان دینے کی خاص وجہ صرف اور صرف ہماری موجودہ حالت و سکوں ہے۔ سب ایک ایسے سکون میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو پرسکون تو ہے پر شفاف نہیں، نکھرا ہوا نہیں، ایک دھندلے عکس میں اپنی زندگی گزارنے جـارہے ہیں، جس میں کوئی شے واضح نہیں۔ ایک چمکتے، نکھرتے، اجلے، شفاف سکون کے برعکس، ایک ایسا سکون جو اندھیرے سے مشابہ ہو، کیا ہمارے لیے بہتر ہے؟ جس دن سے ادراک ہوا سرمگیں سکون کا، اس روز سے اپنا آپ کم مایہ لگنے لگا، اپنی زندگی بے مقصد لگنے لگی، زندگی سے بے زاری ہونے لگی، اس سے قبل جو جو لکھتی رہی صرف اور صرف اسے ہی اپنے فرض کی ادائیگی سمجھتی رہی۔ پھر اپنی ذات سے باہر آئی، سرمگیں سکون کی چادر کو تیز دھار قینچی سے کاٹنے کے لیے، اسے تار تار کرکے ایک سورج سی روشن چادر خود پر، خود سے جڑے لوگوں پر، اشرف المخلوقات کے سر پر تاننے کے لیے۔

در صدف ایمان نے قلم تھاما اور یہاں لکھنا شروع کیا اس امید و مقصد کو لے کر کسی دن تو اس سرمئی چادر کو مکمل چاک کرنے میں کامیاب ہو کر روشن سکون کی جانب قدم رواں دواں ہوں گے اس لیے جو دل چاہتا ہے، جو ٹھیک لگتا ہے، جس جس شعور سے آگاہی ہوتی ہے، دُر صدف ایمان لکھتی جاتی ہے لکھتی جاتی ہے، اس امید پر کہ ان شاءاللہ ایک روز آواز ایماں پہنچے گی دنیا کے ذرے ذرے کو، اور پھر ہر ہر ذرہ ذرہ سرمگیں سکوں سے آشنا ہوکر بڑھے گا، اٹھے گا، چلے گا، ہمت کرے گا، اور سکوں میں قدم رکھے گا، دھندلاپن کہیں پیچھے رہ جائے گا، کہیں کھوجائے گا، اور اس دن میں سرمگیں سکون کو روشن سکون لکھ دوں گی۔ ان شاءاللہ اس لیے آپ اپنی آراء دے سکتے ہیں، میرا ساتھ دے سکتے ہیں، میری آواز خاموش ہونے سے پہلے پہلے ہر سو پھیلا سکتے ہیں، مقصد میرا بھی وہ ہی ہے جو کہیں نہ کہیں آپ کا ہوگا، اور نہیں بھی ہے تو ہونا چاہیے۔

جانتے ہیں، بہت پرکشش لگتا ہے مجھے یہ لفظ سرمگیں سکون، مدھم سا، بولنے میں میٹھا سا، سماعت میں مدھر سا، پڑھنے میں پر اسرار سا، مگر درحقیقت اثر رکھنے میں زہر زہر سا ہے۔ شاید آپ کو نہ لگے، اس طرح سے پھر بھی ضرور چاہوں گی کہ ایک بار اس سرمگیں سکون کے اس پار آکر ضرور دیکھیے،. جانیے، کھوجیے اور ختم کریے اندھیروں کو، تاریکیوں کو، شب ِ ظلمت کو، اور تانیے روشن سحر کو اجالوں کو روشنیوں کو۔ یہ نرم گرم، عجب سا لمس و درد لیے الفاظ نہ جانے میرے بلند خیالات ہیں یا لفظ لفظ کرچیوں کے شور کا مجموعہ، مگر پھر بھی میرے بے بس مگر بےحد نڈر قلم سے نکلے سہانے، طنزیہ، تلخ ، اور ٹوٹے کانچ کی تیزی سی حقیقت لیے حرفوں کا حسین سا بلاگ منتظر ہے آپ کا، آپ کے علم کا، آپ کی آراء کا، اور آپ کی با مقصد زندگیوں کا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com