اسلامی نظریاتی کونسل کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی نظریاتی کونسل کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے تماشائیوں کو خوش رکھنا اپنے اوپر فرض کرلیا ہے۔ (Playing to the gallery) چنانچہ کونسل کے ارکان کی توجہ اس پر ہے کہ بھارت میں مسلم پرسنل لا میں کیا کچھ "ارتقا" ہوا ہے، حالانکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا، بھارت میں مسلم فیملی لاز آرڈی نینس نامی قانون نہیں ہے۔ اس قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہاں تین طلاق مؤثر تھیں جن کو بھارت کی سپریم کورٹ نے دستور میں قرار دیے گئے حقوق سے متصادم قرار دیا۔ ہمارے ہاں ایک تو دستور کی اسلامیت کا دعوی ہے، دوسرے مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کی وجہ سے قانون کی نظر میں تین طلاق ویسے بھی غیر مؤثر ہیں۔ ایسے میں "طلاق نامے" کے متعلق مزید قانون سازی لغو عمل ہے۔ یہ قانون سازی اس صورت میں مفید ہوتی جب قانون تین طلاقوں کو مؤثر مانتا۔ جب قانون کی نظر میں تین کیا، ایک طلاق بھی اس وقت تک مؤثر نہیں جب تک مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کی دفعہ 7 میں مذکور طریقِ کار پر عمل نہ ہو تو پھر اس کار عبث کا فائدہ سوائے تماشائیوں کو خوش کرنے کے اور کیا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ مرد تو طلاق دے کر فورا چھوٹ جاتا ہے جبکہ عورت کو خلع لینے کےلیے عدالت کے لمبے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ یہ دعوی کئی غلط مفروضات اور قانون کے متعلق عدم علم پر قائم ہے۔ ایک تو مرد طلاق کے بعد فوراً چھوٹ نہیں جاتا بلکہ قانون کی رو سے اسے دفعہ 7 کے تحت پوری کارروائی کرنی پڑتی ہے، جس میں کم از کم تین ماہ لگتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ کئی سال بلکہ عشرے بھی لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 1993ء میں کنیز فاطمہ کیس میں قرار دیا تھا کہ جب تک شوہر یہ کارروائی پوری نہ کرے، طلاق بدستور غیر مؤثر رہے گی، حالانکہ طلاق 1978ء میں باہمی سمجھوتے کے بعد دی جاچکی تھی۔ دوسرے ، مشرف دور میں فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10 میں ترمیم کر کے عدالت پر لازم کیا گیا ہے (قانون میں shall کا لفظ ہے جو وجوب کےلیے آتا ہے) کہ خلع کی درخواست پر پہلی سماعت میں ہی اگر میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش ناکام ہوجائے تو عدالت نے فی الفور (forthwith) تنسیخِ نکاح کا حکم جاری کرنا ہے۔ اس ترمیم کے بعد سے اب گویا "آٹو میٹک خلع" کا طریق کار قانون نے دے دیا ہے۔ اس کے بعد تفویضِ طلاق کے متعلق مزید قانون سازی کی ضرورت یا فائدہ کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا شوہر بیوی پر زبردستی تعلق قائم کر سکتا ہے - حمزہ زاہد

اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ "حقوقِ انسانی" کے تقاضوں کی رو سے مرد اور عورت میں "مساوات" یقینی بنانا پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے، کیونکہ اس نے "خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے بین الاقوامی معاہدے" کی توثیق کی ہے، جس کی دفعہ 16 کے تحت مرد اور عورت کو نکاح اور طلاق کا حق یکساں ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے دو طریقے ہیں: یا تو مرد کے حق طلاق کو اسی طرح عدالت کی مرضی پر معلق کیا جائے جیسا کہ عورت کا "حق خلع" ہے؛ یا عورت کو اسی طرح عدالت کی جھنجھٹ میں پڑے بغیر خود کو الگ کرنے کا حق ہو جیسا کہ مرد کو ہے۔ پہلی تجویز خواتین کے حقوق کے علمبرداروں نے صراحتا دی ہے۔ مثال کے طور پر بیگم رشیدہ پٹیل کی کتاب "عورت بنام مرد" (آکسفرڈ) ملاحظہ کیجیے۔ اس تجویز کے مسترد ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ اس لیے کونسل نے دوسری تجویز کا رخ کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح "طلاق آسان تحریک" کے نتیجے میں خاندان کو جو نقصان پہنچتا ہے، کیا وہ شریعت کا مقصود ہے؟ ہمارے مقاصدی فکر والے مجتہدین اس باب میں کیا فرمائیں گے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین استاد محترم جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے گلہ کیا کہ اخبارات کی غیرثقہ خبر پر تحریر لکھنا مناسب نہیں تھا۔ آج ایک عزیز دوست نے گلہ کیا کہ مجھے قرآنی حکم فتبینوا پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ ان کی خدمت میں عرض کیا: فتبینوا پر عمل کیسے نہیں کیا؟ یہ خبر کسی ایک اخبار میں نہیں، بلکہ بہت سے اردو و انگریزی اخبارات میں شائع ہوئی اور کونسل کی جانب سے تردید یا تصحیح نہیں آئی۔ یہی بات کل ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب سے کہی۔ اس کے بعد ان کی جانب سے غلام نبی مدنی صاحب کو وضاحتی انٹرویو دیا گیا اور مجھے کہنے دیجیے کہ اس وضاحت کے بعد میرا اعتراض ختم نہیں بلکہ مستحکم ہوا ہے۔ اس پر تفصیل سے لکھوں گا، ان شاء اللہ۔ ڈاکٹر اکرام الحق یاسین صاحب کا جو تردیدی بیان آج سامنے آیا ہے، اس میں محض تردید ہی ہے، تصحیح نہیں۔ تفصیل کےلیے انتظار کیجیے۔ اور ہاں، برسوں کا تعلق مجھے بے حد عزیز اور ڈاکٹر صاحب سے مجھے بے حد محبت ہے لیکن دین کے معاملے میں مداہنت سے بچنے کی کوشش مجھ پر لازم ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.