اسلام میں پردے کا حقیقی مفہوم - انس اسلام

ایک تقریب میں جانا ہوا، سارے پروگرام میں حجاب کے فائدوں اور بےحجابی کے نقصانات پر زبانیں چلتی رہیں، ریشنلزم و دانشوری کا مرض کھا گیا ہمارے دینداروں کو بھی۔ کسی ایک نے بھی نہ کہا ، حجاب اللہ کا حکم ہے، مطلب کسی معاملے میں اللہ کا حکم ہونا نہ ہونا سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔ ہمارے اعمال و افعال و حرکات میں۔ ''اللہ کا حکم ہونا نہ ہونا'' کا باقاعدہ بنیاد ہونا تو بعد کی بات۔

پردہ و حجاب؛ اسلام کی باقی اصطلاحات کی طرح حجاب کا مفہوم بھی بہت سکیڑ کر بےمعنی و بےاثر و بےمقصد و عجوبہ سا بنا دیا گیا ہے۔ کہ عورت حجاب اوڑھے اور باہر پھرتی لُور لُور پھرتی رہے، جبکہ اسلامی علمیت میں پردہ کا حقیقی و مکمل مفہوم؛ عورت کا باہر کی دنیا سے پردے میں رہنا ہے۔ جب آپ عورت کو اس کے فریم ورک (فیملی یونٹ) سے ہٹا کر مردوں کے فریم ورک میں لاکھڑا کرتے ہیں، تو حضرات آخر کتنے دن اس کا چہرہ و بدن چُھپا رہ سکتا ہے؟

شدید گرمی میں جانا آنا، یہ روزانہ باہر نکلنا، صبح و شام باہر کی چکّی میں پِسنا، حجاب کو تو چند دن بعد سیاپا بنا کر رکھ دے گا۔ آخر کتنے دن وہ یہ بوجھ اٹھا پائے گی؟ بلاشبہ جس سے اس کا دم گھٹتا ہے۔ وہ تو ایک دن اسے بھی اتار پھینکے گی، پہلے دو تین دن خاموش رہے گی، پھر بات کرے گی، پھر ہنسے گی بھی، جب ہنسے گی تب تالی بھی لگائے گی،
آٹھ دن بعد اس کے لیے سب کچھ نارمل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ویسے بھی بغیر یونی فارم کے وہ جا کیسے سکتی ہے؟ کوئی ہوسٹس برقع میں جاب کرسکتی ہے؟

تو کیوں نہ پردے کا اصل و حقیقی و کامل مفہوم تسلیم کیا جائے؟ کہ عورت کو باہر کی دنیا سے پردے میں رکھا جائے؟ اس کا ذاتی فریم ورک (جو کہ اس کی فطرت کے عین مطابق ہے) خاندان و گھر و امورِ خانہ و فیملی یونٹ کا قیام و استحکام ہے۔ ہاں جب اسے باہر نکلنا پڑے، تب وہ پردے میں نکلے اور مجبوری کا کام کر کے فوری واپس آئے۔ لیکن ہم چونکہ منافقت کے عہد میں زندہ ہیں، اس لیے ہم نے عورت کو باہر بھی نکال دیا اور پھر اس پر حجاب کی قید بھی لگا دی۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

ایسے نہیں ہوتا بھائی! اگر باہر کی دنیا میں لانا ہے تو پھر اس کے نتائج بھی بخوشی تسلیم کیجیے۔ بہن، بیٹی کو باہر کوئی چاہنے لگے، کوئی اسے پسند آجائے، کوئی اس کی حیا چھین لے، کوئی گالی دے، کوئی چھیڑ جائے، کوئی ریپ کرے، کوئی اغواء کر لے جائے، کوئی اسے منشیات پہ لگادے، کوئی اسے بلیک میل کرنے لگے، اسے کوئی ہراس کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ تو بھائی ترقی کی خاطر یہ سب بلا چوں چراں قبول کرو۔ اس ٹائم پر حاجی و صوفی اور روایتی بننے کی بےکار کوشش مت کریں۔ کسی بھی عمل کا رزلٹ و نتیجہ دل و جان سے قبول لینا چاہیے اور اگر ایسے نتائج نہیں چاہییں تو پھر فریم ورک درست کرلینا چاہیے۔ اولاد و ماں باپ کے مابین مسائل، میاں بیوی کے باہمی مسئلے، خاندانی نظام کا درہم برہم ہونا، مسکرا کر ایکسیپٹ کیا جائے۔

مغرب جب آپ کو ترقی کے لیے عورت کو باہر نکالنے کا کہتا ہے تو وہ کوئی سازش وازش نہیں کر رہا، وہ تین سو سال پہلے خود یہ سب کچھ ہنسی خوشی کرچکا ہے، اس نے پہلے اپنی بیٹیاں برباد کروائیں پھر ترقی کی، پہلے اس نے لبرلزم پر خود عمل کیا اور اس کے نتائج پر غصہ یا پریشان نہیں ہوا، اس کے بعد اس نے آپ پر لبرلزم تھوپا۔ وہ جو کرتا ہے اس کے نتائج سے انکاری نہیں ہوتا۔ جبکہ ہمارا مسئلہ منافقت ہے، ہمیں مغرب کی طرح ترقی بھی چاہیے اور بیٹیاں بھی صحیح سلامت چاہییں، ہمیں ترقی بھی چاہیے اور خاندانی نظام بھی،
ہمیں ترقی بھی چاہیے اور شعائرِ اسلام، آسمانی اقدار و عبادات بھی چاہییں، ہمیں ترقی بھی چاہیے اور جرائم سے نجات بھی۔ ایسا نہیں ہوتا بھائی! جو لینا ہے ڈیسائیڈ کرو، پھر دوٹوک اس پر عمل کرو ، پھر اس کے نتائج اور قربانیوں سے مت بھاگو۔

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

پروگرام ختم ہوا تو خواتین و حضرات مجھے گُھور رہے تھے، اور میزبان بھی غائب ہوچکا تھا۔