رشتے، جذبات اور ہم - محمد فیضان

ہم بیک وقت کئی رشتے نبھا رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی رشتہ یا تعلق کی خوبصورتی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم ہر رشتہ میں 'ہَم' کو 'مَیں' پر ہمیشہ فوقیت دیں، دوسرے کی عزتِ نفس کو کم از کم اتنا مقدس سمجھیں اور رائے کو مقدم رکھیں جتنا ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، دوسرے کی پسند ناپسند کے لئے اتنے ہی حساس رہیں جتنا ہم اپنے لیے ہیں، دوسرے کے دِل کو دُکھانے یا تکلیف پہنچانے کے بارے میں اتنے محتاط رہیں جتنا اُس کی زندگی بچانے کے لیے ہوسکتے ہیں، دوسرے کے آرام و راحت کے لیے کم از کم اتنے فکرمند رہیں جتنا ہم اُن سے اپنے لیے توقع رکھیں۔ دوسرے کو اُسے اپنے ہی اوپر اور اِس تعلق پر کم از کم اتنا اختیار دینے کی جرات دکھائیں کہ جتنا اختیار ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔ اخلاص کے ساتھ دوسرے شخص کے اخلاص، شعور، جذبات، احساسات اور خیالات کو کم از کم اتنی عزت دیں جتنی ہم اپنے لیے توقع رکھتے ہیں۔ 'کہنا آسان کرنا مشکل' کے مصداق یہ چند اصول بہرحال اس زندگی کے رشتوں میں بے تحاشہ خوبصورتی پیدا کر سکتے ہیں۔

رشتے کی خوبصورتی کیا ہے؟ رشتوں کی صحت جانچنے کے پیمانے جذبات و احساسات ہیں.. جتنا مضبوط رشتہ اتنے ہی جوشیلے احساسات، اتنا ہی صبر و حوصلہ، اتنا ہی بڑا جذبۂ ایثار۔ کسی کے ساتھ خوبصورت رشتہ کم از کم وہ احساس ہے کہ جو محض یاد آنے پر ہی زیرِ لب مسکراہٹ لے آئے۔ وہ جذبہ جس کے لیے لوگ کم از کم اپنی چھوٹی بڑی خواہشات، مال اور مستقبل کے خدشات کو قربان کرنے سے ایک قدم پیچھے نہ ہوں اور حد یہ ہو کہ جان بھی دے سکیں۔ جُڑا رکھنے کی ایک ایسی ڈور کہ جس سے محبت ہو، نہ کہ جس میں لوگ خود کو بندھا ہوا محسوس کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   میٹریلزم میٹریلزم اور میٹیریل زم - عظمیٰ خان

بقول استاد ہماری تہذیب کے بڑے آدمی کا تصور یہ ہوا کرتا تھا کہ جو سب سے زیادہ حساس ہو اور اس کے ساتھ ساتھ تمام رشتے نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہو، لیکن آج کا بڑا آدمی وہ ہے جس کا مکان بڑا ہے۔ زمانے کی بدلتی ہوئی قدروں پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ آج کا انسان تھوڑا چالاک ہوگیا ہے، گویا راستے سے ہٹ بھی گیا لیکن رشتوں کے نبھانے کی قدر کو گفتار کی حد تک زندہ رکھ کر اس سے اپنی معصومیت کے فوائد بھی سمیٹنا چاہتا ہے۔ فکر کی بات ہے کہ یہ ہوشیاری ہمارے قلبی سکون و اطمینان کا باعث بنی یا ہم اپنے ہی دھوکہ کے جال میں الجھ کر رہ گئے؟ استاد کہتے ہیں دعا کرتے رہنا چاہیے کہ نیتیں ٹھیک رہی۔

ان رشتوں کا پاس رکھنے والے ہی تو ہوتے ہیں جن کے دنیا سے جانے کے بعد بھی خلقت انہیں یادوں میں زندہ رکھتی ہے۔ بقول واصف علی واصف زندہ وہی جو یادوں میں زندہ رہیں۔ جن کی چھوٹی چھوٹی خوبیاں یاد کر کے لوگ رشک میں آنسو بہاتے ہیں۔ جن کے محض تذکروں سے بھی دنیا والے ہمت جُٹا لیتے ہیں، امید پاتے ہیں، خواب دیکھ پاتے ہیں۔ کیا تاریخ نے کبھی کسی بڑے آدمی کو یاد رکھا جس نے ان رشتوں کے لیے خود کو ہلکان نہ کیا ہو؟ جس نے ان رشتوں کے لیے قربانی دینا منافع بخش نہ سمجھا ہو؟ نہیں، بلکہ امر ہونے والوں کو اسی راستے سے گزرنا پڑا ہے جس پر رشتوں کی لاج رکھنے کے لیے جذبات و احساسات کی تپتی زمین پر پاؤں کا جلنا لازم ہوتا ہے۔

انگریزی کا مقولہ ہے کہ ہم الفاظ نہیں، بلکہ وہ احساس یاد رکھتے ہیں جو کسی سے میل جول کے نتیجے میں ہمارے دل پر گزرتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ اب تک ہم نے کتنے لوگوں کو اپنی ذہانت سے زخمی کیا؟ کتنے لوگوں کے دلوں سے بہنے والے خون کے آنسو ہمارے پھینکے گئے 'خیرخواہی' کے تِیر کی وجہ سے آج بھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی میں ہی بیٹیوں کو حصہ دیں - ڈاکٹر محمد مشتاق

ہم اپنی زندگیوں میں طرح طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں جن میں اہل منصب بھی ہوتے ہیں، مالدار بھی، مادی دنیا میں ناممکن کو ممکن بنادینے والے بھی، جہاں دیدہ بھی، ذہین ترین ہیں۔ کبھی ہم ان لوگوں سے متاثر بھی ہو جاتے ہیں، لیکن محبت ہم صرف حساس لوگوں سے ہی کر پاتے ہیں اور خاص ان سے کہ جو ہمارے لیے حساس ہوں۔ سو اسی اصول کے مطابق، ہم بھی اپنے پیچھے محبت اور یاد کرنے والے رشتوں کو چھوڑ جانا چاہتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے۔