کولمبو، پان کا بیان اور میرا ناسٹلجیا - عبداللہ فیضی

پان کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، برصغیر کے اس دیسی ماؤتھ فریشنر کے رسیا کرشنا جی سے لے کر سید مودودی تک رہے ہیں، اور پھر ہمارے علامہ طاہر اشرفی نے تو گویا "میٹھے پان" کو دوام ہی بخش دیا۔ پان کے بارے میں ایک وضاحت ابتدا میں عرض کر دوں کہ پان صرف لکھنے و بولنے کی حد تک ہی "کھایا" جاتا ہے، اصل میں اسے صرف چبانا ہوتا ہے، یہ بات مجھے عرصہ دراز بعد سمجھ میں آئی۔

تاریخی حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ ہندوستان آنے والے سیاحوں نے بھی پان کا ذکر بہت دلچسپی سے کیا ہے۔ اس حوالے سے ماہر طباخ سلمی حسین نے لکھا ہے کہ البیرونی ’کتاب الہند‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستانیوں کے دانت سرخ ہوتے ہیں۔‘ امیر خسرو نے کہا کہ پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ عبدالرزاق جو کالی کٹ کے بادشاہ زمورن کے دربار میں سمرقند سے سفیر بن کر آئے تھے، پان کی خوبیوں کو سراہتے دکھائی دیے۔ کہتے ہیں کہ ’پان کھانے سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ دانت مضبوط اور سانس کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔‘ مجھے یہ آخری بیان قطعی بکواس معلوم ہوا۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاک وہند میں جھوٹی قسم کے بعد سب سے زیادہ کھائی جانے والی چیز پان ہے۔

ہر ہندوستانی خاندان کی طرح میرے خاندان میں پان کی روایت بھی خاصی پرانی ہے۔ میں نے اپنے دادا ابو مرحوم کو پان چباتے دیکھا، انہوں نے ہمارے گھر کے قریبی پان فروش سے سلام دعا رکھی ہوئی تھی، اور مسجد آتے جاتے دن میں دوخصوصی پان وہاں سے لیا کرتے تھے۔ میری ان کے پان والے سے خوب لڑائی رہتی۔ داد ابو اپنے پان میں ہلکا تمباکو پسند کرتے جو ان کی صحت کے لیے مضر تھا اور میں جا جاکر پان والے کو کہتا کہ میرے دادا کے پان میں تمباکو ڈالا تو تیری خیر نہیں، اور جب وہ بیچارہ تمباکو نہ ڈالتا تو اسے دادا ابو سے جھڑکیاں سننے کو ملتیں کہ ابے تو پیسے پورے لیوے تمباکو ڈالے نہیں، کوئی سواد نہیں تیرے پان میں۔

پرانے وقتوں کی بیگمات کے وقار اور مرتبہ کا اندازہ صرف ان کے پاندان سے لگایا جاتا تھا۔ میں نے خود اپنی پھوپھو جان کے گھر ان کی ساس مرحومہ کا دومنزلہ پان دان مشاہدہ کیا ہے جس میں سے فرمائشی پان میرے ابوجی کو بڑی محبت سے بنا کر دیا کرتی تھی۔ پان بنانے کے انداز میں بھی ایک خاص سلیقہ ہوا کرتا تھا۔

پان دان (جس میں سارے پان کے لوازمات ہوتے)، ایک ٹرے جو اکثر پان ہی کی وضع کی ہوتی، جس کے اندر ایک چین رکھی جاتی اور چھوٹی چھوٹی تھالیاں۔ سروطا جس سے چھالیہ کاٹی جاتی، ساتھ میں اُگالدان بھی رہتا۔ یہ پان کھانے کے بعد پیک کے لیے ہوتا تھا۔اس کی خاص وضع بنی ہوتی، نیچے اور اوپر سے کھلا کھلا، اور پیچ میں (خوبصورت حسینہ کی کمر کی طرح) تنگ بنا ہوتا ہے۔ مجھے اس ڈیزائین ٹیکنالوجی کی بہت بعد میں سمجھ میں آئی کہ اس وضع سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پیک نظر نہیں آتی اور چھیٹے بھی اچھل کرکپڑوں پر نہیں آتے۔ پھر پان چبانے والے کا نظروں میں اشارہ کہ جس کا مطلب اگالدان قریب کیا جاوے کہ پیک پھینکی جا سکے۔ دادا ابو کے لیے یہ ڈیوٹی میں سرانجام دیتا تھا۔

پھر پان کھانے کے آداب بھی ہوا کرتے تھے۔ چھوٹوں کا بڑوں کے سامنے بنا اجازت کے پان کھانا بد تمیزی سمجھا جاتا، پان کی گلوری منہ میں ڈالتے وقت سیدھے ہاتھ سے کھانا اور دوسرا ہاتھ منہ کے اوپر رکھ کر کھانا، دینے والے اور گھر کے سب سے بڑی ہستی اگر سامنے ہوتو ان کو بھی سلام کرنا ضروری سمجھا جاتا۔ خواتین میں اگر کسی بڑے کے آنے پر پاندان ان کے اختیار میں دے دیتے، تو اس کو عزت دینے میں شمار کیا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے ہی ہاتھ کا بنا پان کھانا پسند کرتے تو وہ میزبان کی اجازت لے کر خود ہی بنا لیتے اور پان بنانے کے بعد اس کے مسالے کا انگلیوں پہ لگا رنگ اپنے سر کے بالوں سے صاف کر لیتے۔ بغیر اجازت کے پان دان کو استمعال کرنا بدتمیزی سمجھا جاتا۔ بقول مشتاق یوسفی صاحب کے ایک خاص انداز سے پان لگا کر ہلکے سے جھک کر آداب کے ساتھ پان پیش کرنے کے لیے نسلوں کا رچاؤ چاہیے۔

اب یہ گھریلو روایتیں ختم ہوگئی ہیں، لہذا پان بھی صرف دکانوں یا نمائشوں تک محدود ہوگیا ہے۔ لاہور میں بہت سے فینسی پان شاپس کھل گئی ہیں، جہاں کا پان کھانا اپنے آپ میں ایک ٹریٹ سمجھا جاتا ہے۔ لطیفہ یہ ہوا کہ میں کوالالمپور کے لیے نکل رہا تھا، چھوٹا بھائی جو مجھے لے کر ائیرپورٹ جا رہا تھا، ڈیفنس سے چاندی کے ورق میں لپٹا گلقند والا پان لے آیا، اب میں نے آدھا پان گلے میں دابا اور سیکیورٹی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اہلکار نے مجھے دیکھا، میرے گلے کو دیکھا، میرے سوٹ بوٹ حلیے کو دیکھا، پھر ایک اور دفعہ میرے گلے کو دیکھا، پوچھا جناب یہ منہ میں کیا ہے؟ اب مجھے کیوںکہ پان گلے میں دبا کر بولنے کی پریکٹس نہیں تھی تو بس حلق سے "غوں غاں" کے مفہوم کی آواز ہی نکل سکی، جس پر اس نے مجھے سائیڈ پر آنے کو کہا، بڑِی مشکل سے بقیہ آدھا پان اسے دے کر خلاصی کروائی۔

کہانی طویل ہوگئی، بتانا یہ تھا کہ گزشتہ سفر میں طویلlayover کے دوران مجھے کولمبو (سری لنکا) دیکھنے کا اتفاق ہوا، اور سڑک پر چلتے یہ پان فروش راویتی میٹھا پان بیچتے نظر آئے، "سیلون" کا پان تو ویسے ہی المشہور ہے، سو فورا ہم نے مبلغ بیس سری لنکن روپے کا میٹھا پان خرید لیا۔

آخر میں پان کے حوالے سے اکبر الہ آبادی کے دو اشعار
لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا کہ پان حاضر ہے
قیامت ہے، ستم ہے ، دل فدا ہے، جان حاضر ہے

او
غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیا
مجھ سے کبیدہ ہو کے کہا پان لیجیے

Comments

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی ملائشیا میں بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے مرحلے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور اس سے جڑے سیاسی و مذہبی خدشات و امکانات دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ خود کو پرو پاکستان کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.