دماغ اب عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیتا - محمد فاروق خان

اگر پوچھا جائے کہ انقلاب کسے کہتے ہیں؟ اس کے لفظی معنی کیا ہیں؟ تو جواب آتا ہے کہ تبدیلی، اور اگر کوئی تبدیلی کو جاننا چاہے تو اسے بدلنا اور ردوبدل کو حافظے میں محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس سے آگے تبدیلی کی حیرت انگیز منزل بھی ہے، جس کے ادراک کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ تبدیلی صرف بدل دینے کا نام نہیں ہے۔ تبدیلی میں بدل جانے کے بھی امکانات موجود ہیں۔ داعی انقلاب کے پاس صرف دو آپشن ہوتے ہیں، یا وہ بدل دیتا ہے، یا پھر بدل جاتا ہے۔ تبدیلی سے صرف تعمیر ہی نہیں ہوتی، تبدیلی سے تباہی کا امکان بھی رہتا ہے۔ تبدیلی سے صرف امن ہی وجود میں نہیں آتا، اس سے تخریب کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ تبدیلی میں راستہ بھٹکنے، اور اہداف سے ہٹنے کا ڈر موجود رہتا ہے۔

تبدیلی کے بدلتے مزاجوں، سمت اور رفتار پر نظررکھنا سازش نہیں ہوتی۔ اسے مایوسی پھیلانے کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ تبدیلی اگر ملک و قوم کے لیے ہے تو اس کے لیے ہر فرد اور ہر ادارے کو تبدیلی کے لیے آمادہ کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان کے درمیان شک کی دیوار چن دی جائے۔ تنقیدکو صرف تخریب کے طور پر نہ لیا جائے، اس میں بھلائی اور رہنمائی کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ تبدیلی پر نظر رکھنا قومی فریضہ ہے۔

تاریخ انسانی تاریخ انقلاب سے جڑی ہے۔ علمی، ثقافتی، مذہبی، سائنسی، سیاسی، معاشی اور فوجی انقلاب اسی تاریخ کا حصہ ہیں۔ انقلاب مختلف مراحل سے گزرتا اہداف تک پہنچتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب من مرضی کے نتائج حاصل نہیں کر سکا۔ لیکن کسی معاشر ے کے سیاسی، معاشی یا سماجی نظام میں سے کسی ایک میں بنیادی تبدیلی کوبھی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔

محمد خان جونیجو سادگی، دیانت داری، رواداری کی علامت، سیاست سے بد عنوانی اور کرپشن کے خاتمے کا داعی، جرنیلوں اور وفاقی سیکرٹریوں کو چھوٹی گاڑیوں میں بٹھانے والا، تاریخ میں عمران خان سے معتبر دکھائی دیتاہے۔ مسلم لیگ ن اگر یہ کہہ کر عمران خان کو تاریخ میں نام لکھوانے سے روکتی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں رہائش نہ رکھنے والا پہلا وزیر اعظم تو شاہد خاقان عباسی ہے، لیکن عمران خان کے پاس دھرنے کی ایسی بے مثل تاریخ ہے، جو شاید مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں کسی سیاستدان کے حصے میں نہ آسکے۔ جو عوامی تحریک سے قومی تحریک میں ڈھل گئی، دھرنا اگر کچھ دن اور ہوتا تو سیاسی مخالفین سیاسی یتیم بن جاتے۔ عمران خان نے منفرد دھرنا کلچر دیا۔ سیاسی جمود کو توڑنے، تھکا دینے والے نظام سے نجات دلانے، کرپشن کا ہاتھ توڑنے اور ظالم کی گردن مروڑنے والے نجات دہندہ کے طور پر عوامی دلوں کو مسخر کرتا رہا، جسے بھر پور عوامی پذیرائی ملی۔ جس قوت سے عمران خان نے طاقتور حکمرانوں کو للکارا، نہ صرف اہل وطن کے دل جیت لیے بلکہ پوری دنیا کو متوجہ کیا۔ غموں، دکھوں کی ماری، ظلم وستم اور ناانصافی کی ستائی عوام پورے یقین اور امید کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوتی گئی۔ مردوں اور عورتوں نے آنسو گیس کی شیلنگ میں اپنے قائد کو حصار میں لیے رکھا۔ سینے پر گولیاں کھا کر شہید جمہوریت بنے۔ ایسی مائیں بھی ریکارڈ پر ہیں جو اپنے شیرخوار بچوں کو ۔بروقت دودھ نہ پلا سکیں کہ کہیں وہ دھرنے سے لیٹ نہ ہو جائیں۔گھر کے واحد کفیل دھرنوں میں رکے رہے۔ شروع میں تو تحریک انصاف کے جیالے تھے لیکن آخری دنوں میں یہ تمیز یہ تفریق ختم ہوگئی۔ آخری دنوں میں ایسا لگتا تھا کہ پورا پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ صرف جذباتی ہی نہیں بلکہ انتہائی مخلص اعتبار اور انتظار کرنے والی قوم ہے۔ دھرنا ہو یا لانگ مارچ انتہائی مسائل زدہ غیر مشروط اور رضاکارانہ طور پر کھڑے رہے، صرف اس آرزو کے ساتھ کہ عمران خان اپنے مقصد میں سرخرو ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

وقت ہمیں عجب مرحلے میں لے آیا ہے۔ تخت حکمرانی پر بیٹھا عمران خان کنٹینر پر کھڑ ے عمران خان سے کمزور ہو گیا ہے بلیو بک کے حصار میں چلا گیا ہے، ٹیکنوکریٹ کے نرغے میں آگیا ہے، بیوروکریسی کی مرضیوں والا ہوگیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قوم پر سکون رہے، مشکل وقت گزارنا پڑے گا، ہمیں ہمت اور حوصلے سے کام لینا ہوگا۔ قوم پر سکون رہے۔ ایک لاجک تشفی کا باعث بنتی ہے کہ ابھی کچھ دن ہی گزرے ہیں، ابھی تو ہنی مون پیریڈ بھی باقی ہے، جلدی کس بات کی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ عمران خان قومی اور عوامی اعتبار سے اب بھی سرشار ہے۔ عوام کی امید، یقین اور اعتبار کی وہی کیفیت ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان سے لیکر قرض اتارو ملک سنوارو جیسے مہلک تجربات کے باوجود دل تو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن دماغ کبھی کبھی بے اعتباری پر اکساتے ہیں۔ دماغ کہتا ہے کہ انقلاب کے داعیوں کے چلن ایسے نہیں ہوتے، وہ سمجھوتے نہیں کرتے، وہ راستہ نہیں بدلتے، وہ مہلت نہیں مانگتے، وہ جواز پیش نہیں کرتے، وہ اعداد و شمار کے پیچھے نہیں چھپتے۔ تبدیلی والے حکومت نہیں کرتے ڈلیور کرتے ہیں۔ وہہ عوام سے آنکھیں نہیں چراتے۔

عمران خان وزیراعظم ہاوس کے ایک حصے میں رہنے، بھینسوں اور گاڑیوں کو نیلام کرنے،گورنر ہاؤسز کو عوام کے لیے کھولنے کو اپنے اہداف کا حصول سمجھ کر حکومت انجوائے نہ کرنے لگ جانا۔ اب کی بار تبدیلی سے یا تو ملک تبدیل ہوگا یا حکومت۔ تبدیلی کے داعیوں پر حکومت کرنا حرام ہوتی ہے۔ عمران خان کو ڈی چوک پر کنٹینر کو وزیراعظم ہاؤس بنانا چاہیے تھا۔ اور وہیں سے قوم سے خطاب ہوتا۔ یوٹیلٹی بلز کو آگ لگانا اور سول نافرمانی کرنے والے وزیراعظم کو یوٹیلٹی بلز میں اضافہ کرکے حکومت چلانا زیب نہیں دیتا۔ سب سے پہلے اپنی کابینہ اور ارکان اسمبلی سے قومی خزانے کو محفوظ کرنے کی مثال بناتے۔ انہیں اپنی تنخواہیں نہ لینے اور ذاتی گاڑیوں کے استعمال کا حکم دیتے۔ آپ نے قوم پر اعتبار نہیں کیا۔ آپ نے قوم سے قربانی لینی تھی تو ہر پاکستانی کو ایک لاکھ سینتیس ہزار روپے کا واجب الادا قرضہ قومی خزانے میں جمع کرانے کی اپیل کرنی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے - غریدہ فاروقی

قوم منتظر ہے کہ کب قرضے لینے والے قومی مجرم بنتے ہیں؟ کرپشن پر پہلا مجرم کب پھانسی چڑھتا ہے؟ سستا اور فوری انصاف کب کمزور کی دہلیز پھلانگتا ہے؟ مفلوج و مرحوم دستور کب اپنی ہیت میں متحرک ہوتا ہے؟ یہاں تو قا نون کے گلو بٹ اور حکومتوں کے منشا بم، نام اور حلیے بدل کر ظلم و جبر کا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تو
شاہ وقت کا پٹرول،گیس او ربجلی کے بموں سے عوامی نشانہ بازی کی مشق پسندیدہ کھیل رہا ہے۔

وزیر اعظم صاحب! یہ ملک کہاں ہے؟ یہ تو سیاسی شکار گاہ ہے، اختیاراتی منڈی ہے۔ آپ اگر با خبر ہیں، عوامی مسائل کا ادراک رکھتے ہیں تو آپ کے علم میں ہو گا کہ اس ملک میں بھینسوں کو چارہ ڈالنے والے، دوکان سے گھر کا سودا لانے والے، صاحب کی گاڑی چلانے والے ووٹ کو عزت دینے پر مامور ہیں۔ پورا حلقہ ان کی دسترس اور قبضے میں ہے۔ جنہوں نے جمہوریت کی ماں کو مار کر دفنا دیا ہے۔ زندہ جمہوریت توخورشید شاہ کے بیانوں میں ہے یا پھر ٹاک شو میں۔

وقت ختم ہو تا جا رہا ہے۔ ڈلیور نہ کرنے سے مایوسی پھیلتی جا رہی ہے۔ اپنی کابینہ میں کوئی ایک وزیر دکھاؤ جو تبدیلی کے مزاج والا ہو یا اہداف پر ڈلیور کر رہا ہو۔ سارے کے سارے حکومت کر رہے ہیں۔ آپ کے بہت سارے خیرخواہ خوفزدہیں کہ کہیں لوگ مایوس ہو کر ٹرکوں کے پیچھے نواز شریف کی تصویر بنواکر یہ نہ لکھنا شروع کردیں
تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔