قاضی اطہر مبارکپوری - امتیاز شمیم

ماضی قریب میں ہندوستان کی علمی شخصیات کے مابین قاضی اطہر مبارکپوری کی شخصیت نہایت ہی بلند و بالا رہی ہے، ان کی خدمات کے مختلف شعبے تھے اور ان میں سے ہر شعبے میں انھوں نے کمال ہنروری کا مظاہرہ کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’قاضی اطہر مبارکپوری‘‘ جیسا کہ نام سے ہی واضح ہو جاتا ہے، انھی کے سوانح حیات سے متعلق ہے۔ اس میں آپ کی پیدایش سے لے کر وفات تک کی علمی اور عملی زندگی کا مجموعی خاکہ مختصر انداز میں کھینچا گیا ہے۔ یہ کتاب در اصل عربی زبان میں لکھے گئے ایک کتابچے ’’القاضی أبو المعالی أطہر المبارکفوری‘‘ کا ترجمہ ہے۔ اس کتابچے کی تصنیف جامعہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور عربی زبان و ادب میں گراں قدر خدمات کے عوض ’’صدر جمہویہ ایوارڈ‘‘ سے سرفراز ہوچکے ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی صاحب نے کی تھی اور اپنی ادارت میں نکل رہے سہ ماہی عربی میگزین ’’مجلۃ الہند‘‘ میں شائع کیا تھا۔ بعد میں اسے باضابطہ کتابی شکل دی گئی، اب اس کا اردو ورژن بھی منظرعام پر آیا ہے۔ ترجمہ نگاری کا کام محمد معتصم اعظمی نے انجام دیا ہے، موصوف عربی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی ہیں، ترجمہ نویسی کااچھا ذوق رکھتے ہیں اور قاضی صاحب کی مشہور تصنیف ’’عرب وہند عہد رسالت میں‘‘ کا انگریزی ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ یہ کتاب ان کا دوسرا اہم کام ہے۔ انہوں نے افادۂ عام کے پیش نظر اس کو اردو میں منتقل کیا ہے اور اس کے لیے وہ قابل مبارکباد ہیں۔

قاضی صاحب کی پیدایش 1914ء میں مبارکپور میں ہوئی، ابتدائی تعلیم ’’احیاء العلوم‘‘ مبارکپور سے حاصل کی اور جامعہ قاسمیہ مرادآباد سے دورۂ حدیث مکمل کیا۔ آپ ایک مصنف، مؤرخ، تحقیق نگار، صحافی، ادیب، شاعر اور مترجم تھے، شعر وشاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے، اردو صحافت سے بھی آپ کا مضبوط رشتہ رہا؛ چنانچہ انہوں نے کئی اخبار ورسائل میں مدیر اور نائب مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔ ممبئی سے شائع ہونے والے مشہور روزنامہ’’انقلاب‘‘ اور ہفتہ وار اخبار’’البلاغ‘‘ کا نام سر فہرست ہے۔ ان کی علمی بلند قامتی اس حد تک تھی کہ نہ صرف ہندوستان میں ان کا شمار بڑے علمائے دین میں تھا؛ بلکہ عرب ممالک میں بھی انہیں مقبولیت حاصل تھی اور کئی چھوٹے بڑے اداروں میں اعلی عہدے پر فائزتھے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے بانی ممبر تھے، دارالعلوم ندوۃ العلما کی مجلس شوری اور دارالعلوم دیوبند کی مجلس علمی کی رکنیت حاصل تھی۔ دیوبندکی شیخ الہند اکیڈمی کے بھی نگراں رہے۔ ان کی تصنیفی خدمات کا دائرہ بہت متنوع اور وسیع ہے، انہوں نے اسلامی تاریخ، تفسیر اور علم حدیث ومحدثین کے ساتھ ساتھ فقہائے کرام کی حیات وخدمات وافکار و خیالات اور دیگر علمی واسلامی موضوعات پر لازوال علمی سرمایہ چھوڑا ہے، خاص طور سے عرب وہند کے مابین تعلقات پر آپ کی کئی گراں قدر کتابیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایساکہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے - مولانا محمد جہان یعقوب

زیر تبصرہ کتاب اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں آپ کی تقریبا ساٹھ مطبوعہ اورغیر مطبوعہ کتابوں کا ذکر ہے، ان میں سے بعض کا قدرے تفصیلی اور بیشتر کا بالاختصار جائزہ بھی پیش کیاگیا ہے۔ یہ کتاب گو مختصر ہے، مگر اس میں جامعیت ہے اور قاضی صاحب پرعربی میں لکھی گئی سب سے پہلی باضابطہ اورمنظم کتاب ہے، مصنف نے تحقیق اور باریک بینی سے کام کیا ہے اور آپ کی زندگی کی مختلف جہتوں کو قاری کے سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی ہے، کتاب کے اخیر میں مصادر و مراجع کی لمبی لسٹ اس کا بین ثبوت ہے، ترجمہ میں آسان لب ولہجہ کا خاص لحاظ رکھاگیا ہے، اس میں سلاست ہے، روانی ہے اور دلکشی ہے۔ حکیم شمیم ارشاد اعظمی صاحب کتاب کے مقدمہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’ترجمہ نگاری ایک مشکل فن ہے؛ لیکن زیر نظر کتاب دیکھ کر بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد معتصم نے اس فن کا نہ صرف حق ادا کیا؛ بلکہ بسا اوقات اصل کتاب اور ترجمہ میں تفریق مشکل ہوجاتی ہے‘‘۔

طباعت واشاعت کا اہتمام اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن، نئی دہلی نے کیا ہے، سن طباعت 2017ء ہے، ٹائٹل خوب صورت ہے، جس کے بیچوں بیچ قاضی صاحب کی خوش رو تصویر بھی لگائی گئی ہے، کاغذ بھی اچھا ہے، صفحات کی تعداد ایک سو چودہ اور قیمت سو روپے ہے۔ امید ہے کہ اردو داں حلقے میں اس کتاب کو پذیرائی حاصل ہوگی اور قاضی صاحب کی حیات و خدمات پر تحقیق کرنے والے افراد اس کتاب سے رجوع کریں گے۔