ماں کی ڈائری سے - نورین تبسم

موسم بدل رہا ہے۔ جسم کو مَس کرتی ہوا کے جھونکے بدلتے موسم کی آمد کی گواہی دیتے ہیں۔ پُرانے لباس کتنے ہی پسندیدہ کیوں نہ ہوں، نئے موسم کا سامنا نیا لباس ہی کر سکتا ہے۔ پرانے کپڑوں کو بھاری بکسوں میں رکھنا عجیب سا دُکھ بھرا لمحہ ہوتا ہے کہ نہ جانے اگلے برس انہیں پہننے کا موقع بھی مل سکے گا یا پھر اُن کو خیرات کر دیا جائے گا۔ لباس چاہے کتنا پسندیدہ کیوں نہ ہو، اگر اُس کا پہننے والا نہ رہے تو دوسروں کے لیے بےوقعت ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے لباس سینت سینت کر رکھتے ہیں اور کبھی دوسروں کے لباس سنبھالتے ہیں۔ لباس سدا وہیں رہتے ہیں جہاں رکھے جائیں لیکن کبھی اُن کو پہننے والا چلا جاتا ہے تو کبھی سنبھالنے والا۔ اگلے برس جب نئے موسم میں لباس کی ضرورت پڑتی ہے تو اگر سنبھالنے والا نہ رہے تو بہت ٹٹولنا پڑٹا ہے، یوں کہ جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کرنا۔ کھوئے ہوئے انسان کی طرح کھویا ہوا لباس بھی کم ہی ملتا ہے۔ دُنیا کا کاروبار تو چلتا ہے لیکن ایک کمی ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔ لباس چاہے کپڑے کا ہو یا احساس کا، اس کی خاصیت اور ضرورت ہمیشہ ایک سی ہوتی ہے کہ دونوں کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔

ماں گھر کی "ماسٹر کی" ہے۔ اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کا کوڈ گھر کے ہر فرد کو پتہ ہو تاکہ کوئی کسی وقت بھی گھر لوٹے تو دروازہ کھول سکے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ دروازہ بند بھی مل سکتا ہے۔ یہ صرف ماں سوچتی ہے۔ اسی سوچ میں بچوں سے دور رہتی ہے کہ بچے اتنے بڑے ہو جائیں اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر ہر دروازہ خود کھول سکیں۔ بچے لاشعوری طور پر ہمیشہ ماں کے شانوں کا سہارا چاہتے ہیں، بظاہر اپنی قوت ِپرواز پر نازاں ہوتے ہیں، یوں کبھی جُھک کر نہیں دیکھتے۔ بےخبر پرندے نہیں جانتے کہ قدموں تلے زمین نہ رہے تو قدم جمانا کتنا مشکل ہے، اور ماں کی ردا کے بغیر تنکا تنکا آشیانہ بنانا کتنا کٹھن۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کا روپ - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

مائیں بچوں سے محبت ضرور کریں لیکن اُنھیں اپنی عادت نہ ڈالیں کہ محبت یاد بن جاتی ہے اورعادت کمزوری۔
ماں کے لیے اگر اس کے بچے آنکھ کی روشنی ہیں تو بچوں کی آنکھ میں اترے جگنو عکس ماں کے دل میں نقش بن کر ابھرتے ہیں۔ اب ان نقوش کو ایک مجسم تصویر کی صورت میں ڈھالنے کا ہر ماں کا جدا انداز ہے۔ کچھ لمس کی گرمی سے تو کچھ لفظ کی نرمی سے اس احساس کو ساتھ رکھنے کی سعی کرتی ہیں اور کبھی کوئی اپنی نظر سے گھبرا کر بےخبری کی خودساختہ عینک میں سب چھپا جاتی ہیں اور صرف اُن کا دل ہی اس نقش کی سلامتی کی پکار سُنتا ہے۔

آخری بات
زندگی موسموں کےآنے جانے کا نام ہے اور موت انہی موسموں کے ٹھہر جانے سے وجود میں آتی ہے۔ زندگی موت کی یہ آنکھ مچولی ہم اپنے آس پاس مظاہرِ فطرت میں ہر آن دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی اپنے جسم وجاں میں اِن کا لمس محسوس کرتے ہیں تو کبھی بنا چکھے بنا دیکھے یوں اِس کا حصہ بن جاتے ہیں کہ سب جان کر بھی کچھ نہیں جان پاتے اور بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی سرسری گزر جاتے ہیں کہ ہماری عقل کی حد ہماری آنکھ کے دائرے سے باہر پرواز کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتی۔ خزاں ہو یا بہار، آنکھ کی چمک باقی رہے تو دیکھنے والی آنکھ ہر رنگ میں زندگی کے عکس تلاش کر لیتی ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.