تعلیم اور پراپیگنڈہ - طلحہ زبیر بن ضیا

ایجوکیشن ایک مقدس فریضہ تھا ۔۔ پڑھانے والے کی تنخواہ حضرت عمر نے مقرر کی تھی۔۔ مگر اس کو پروفیشنل بزنس بنایا گیا ۔ ۔۔ اسی سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ بنایا گیا جسے اہل یہود نے بنایا ۔ جب ان کو کام کروانے کے لئے انسانوں کے ہجوم کی اور ہجوم کو سنبھالنے کے لئے مینجرز کی ضرورت پڑی تو اس وقت دنیا کا پہلا بزنس سکول قائم ہوا ۔۔ ہاورڈ ۔۔۔ یہاں پر ایم بی اے میں پڑھایا تو بزنس جاتا ہے مگر ان اس کے درمیان سمجھایا بھی جاتا ہے کہ تمہارا کام بزنس کرنا نہیں ہے تمہارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ تم بزنس شروع کر سکو ۔۔اس لئے تم صرف پڑھو اور جاب تلاش کرو شادی کرو اور بچے پیدا کرو ۔۔ زندگی کیا ہے زندگی کا مقصد کیا ہے ۔۔ یہ دنیا میں کسی سکول میں نہ پڑھایا گیا نہ پڑھایا جا سکتا ہے ۔ہاورڈ کے بعد یہ بزنس پھیلنا شروع ہوا اور یہود کا بینکنگ کے ساتھ دوسرا بڑا کمائی کا ذریعہ پراپیگنڈہ ہے ۔ یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے نواز شریف نے بھی پراپیگنڈہ کے لئے ایک فرم کی خدمات حاصل کی تھیں اور اس کی مد میں پاکستانیوں کا ڈیٹا بھی ان کے حوالے کیا تھا۔ پراپیگنڈہ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ ایک الگ وسیع دائرہ ہے ۔ پراپیگنڈہ کے لئے پہلے خود کو ہولو کاسٹ کے تناطر میں معصوم قرار دیا گیا ۔

اب چونکہ یہود کا مسئلہ پاکستان اور امت مسلمہ ہے۔ اس لئے پوری دنیا میں پراپیگنڈہ کےلئے دو ایجوکیشن سسٹم بنائے گئے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج ۔جس نے پراپیگنڈہ کے تناظر سے نہایت وسیع قسم کے نتائج حاصل کئے ۔ ۔ تیسرا نظام تعلیم میٹرک سسٹم ہے ۔۔ جو ان سے بھی بدترین غلام پیدا کر رہا ہے ۔ میٹرک سسٹم پر آگے بات کریں گے ۔۔ آکسفورڈ اور کیمبرج پوری دنیا میں رائنج ہیں لیکن پاکستان میں چند جگہوں پر ۔ پوری دنیا کو یہود کا بنایا ہوا سلیبس پڑھایا جاتا ہے ۔ مسلم امہ کی یوتھ یورپ کیاپڑھنے جاتی ہے میں آج تک یہ نہیں سمجھ پایا ۔ شائد یہ تحریر کے آخر تک کچھ خدوخال واضع کر سکوں ۔ ان کی تمام کتب میں آکسفورڈ کی "بنائی" ہوئی تاریخ اور یورپ اور امریکہ کو بہترین ممالک قرار دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی تاریخ پوری طرح نہیں مگر بہت حد تک مسخ کر کے پیش کیا گیا ۔ محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کو لٹیرا بنا کر پیش کیا گیا ۔ عجب نہیں کہ اگلے کچھ عرصہ میں بیت المقدس کی فتح کو بھی متنازعہ بنا دیا جائے کیونکہ اس وقت اس کی اشد ضرورت نظر آ رہی ہے اور اس پر کام بھی ہو رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   زمانے کے انداز بدلے گئے- شیخ خالد زاہد

اب آتے ہیں پاکستان کے تعلیمی نظام کی جانب ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر تعلیم کو فقط نوکری کے لئے ہی حاصل کیا جاتا ہے ۔ اور ہمارے ہاں اساتذہ فقط تنخواہ لینے سکول جاتے ہیں۔۔۔۔ تربیت اور اس قسم کی ہر بات سے ماورا یہ اساتذہ ملک کی ایک بڑے طبقے کو کچھ نہیں دے پاتے ۔ ان کی ایک بڑی تعداد زندگی کے مقصد سے عاری ہے ۔ بطور ایک استاد مین نے پاکستان کے سکول کا اپنی نظر اور سوچ کے مطابق مطالعہ کیا ۔ پاکستان میں اس وقت میٹرک سستم رائنج ہے جو کہ سب جانتے ہیں کہ لارڈ میکلالے نے جب برضغیر کا دورہ کیا تو اس نے رپوٹ پیش کی ۔ کہ اگر اس تہزیب کو مٹانا چاہتے ہیں تو ان کے تعلیمی ادارے ختم کردو ۔ اس وقت کے تعلیمی ادارے آدھی عمر پڑھائی میں ضائع نہیں کرتے تھے ۔ ان کی تریت کی اجاتی اور بچہ وہ پڑھتا جو اس کا شوق ہوتا فزکس کیمسٹری پریکٹکلی پڑھائے جاتے ۔ اور رٹہ نام کوئی شئے مسلمانوں میں پائی تک نہ جاتی تھی ۔ 1825 میں یہ نظام بدلنا شروع ہوا 1857 کی جنگ آزادی کے بعد صرف 25 سال میں یہ نظام ختم ہو چکا تھا ۔ اس کے بدلے میں میٹرک اور ایف ا ے ایف ایس سی سسٹم آ چکا تھا ۔ یہ تباہی کا پہلا قدم تھا ۔

اس کے بعد پیدا ہونے والی قوم آہستہ آہستہ یورپ کے چکر میں ماڈرن ازم کی جانب بڑھتی چلی گئی ۔ جب پاکستان بنا تو ایک کانسپرنسی تھیوری کے مطابق ایک یہودی سے مسلمان ہونے والے تحریک کے رکن نے قائد کو خط لکھا کہ دوسال کے لئے تمام ادارے بند کر کے تمام اساتذہ کی تربیت کی جائے مگر اس کے بعد قائد کی وفات ہو گئی اور اس خط کے بارے میں قیاس آرائیاں ہی سننے کو ملیں ۔ اقبال تو شروع سے ہی اس نظام تعلیم کے خلاف تھے ضرب کلیم میں فرماتے ہیں مقصد ہو اگر تربیت لعل و بدخشاں بے سودہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار کیا مدرسہ ، کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو اس میں مختصر اََ کہا گیا ہے کہ مغربی نظام تعلیم اقبال کی نظر میں سرتاپا بے مقصد اور لغو ہے اور قوم کے لیے زہر ِ ہلاہل کا اثر رکھتی ہے اس سے نوجوانوں کی تما م تر صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔ اور قوم اپنی راہ سے یکسر بھٹک جاتی ہے۔ اس میں مدرسہ سکول اور دینی مدارس دونوں کو کہا گیا ہے کیونکہ عالم کفر نے صرف ہماری دنیا ہی نہیں دین پر بھی محنت کی ۔ آج مدارس کی جو حالت ہے میں خؤد کئی مدارس میں حفظ کے لئے گیا ہوں ۔ ہر مدرسہ میں مجھے علماء یہود نظر آئے اور اسی بنا پر میں حفظ پورا نہ کر سکا ۔

یہ بھی پڑھیں:   آجکل کے پڑھے لکھے اور ماضی کے ان پڑھ - میر افسر امان

علامہ اقبالؒ جانتے تھے کہ کسی بھی قوم کو تباہ کرناہو تو اس میں خودی اور مقصدیت ختم کر دو ہمیں علامہ کی شاعری میں بھی یہی ملتا ہے اور عالم کفر نے ہمارے ساتھ یہی کیا ۔ ہماری تعلیم ہر قسم کی مقصدیت اور خودی سے دور ہے ۔ اسی وجہ سے یہود کا پراپیگنڈہ کامیابی کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔ اور پاکستان بننے کے سے ابتک اس کی رفتار بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ اب آتے ہیں بیکن ہاوس کی جانب ۔ بیکن ہاوس سکول سسٹم نومبر 1975 میں قائم ہوا اور حیرت کی بات ہے کہ اسی سال پاکستان مین بھی قائم ہوا جبکہ کسی بھی بزنس کو برھتے بڑھتے عرصہ لگ جاتاہے پاکستان میں اس نے ہماری زبان تہزیب ثقافت سب کو یرغمال بنایا ہماری ثقافت تو ویسے بھی انڈیا سے بر آمد کی گئی ہے اسی انڈین تہزیب کو فروغ دیا گیا اور ہمیں دقیانوسی اور اولڈ فیشن کہا گیا ۔۔ اس کے بعد معاملہ یہاں تک نہیں رکا ۔ ہماری میڑک کی ٹیکسٹ بک بھی باقائدہ آئی ایم ایف سے منظور ہونے لگی ۔ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم ٹیکسٹ بک بنا رہے تھے ایک ایکسٹرا ماڈرن میڈم ہماری اسلامیات کی کتاب کی انچارج تھیں انہوں نے ہمیں آڈر جاری کئے کہ آپ یہ حصہ نکال دیں اوریہ حصہ ڈال دیں ۔۔ کیونکہ یہی آڈر موصول ہوئے ہیں ۔

پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت کچھ نہیں نکالا اور ان کو تسلی دی کہ ہاں یہ سب نکال دیا گیا ہے ۔۔ اس کے بعد کا مجھے علم نہیں کہ کیا ہوا ! ۔ اب اگر سیاست کی بات کریں تو 2012 میں شہباز شریف نے دو غیر ملکی ایجوکیشن سسٹم کے لئے پاکستا ن بلائے تھے اس کے بعد چھٹی کی کتاب میں محمد بن قاسم کو لٹیرا کہا گیا ۔ مجھے اس کے بعد کی کوئی انفارمیشن نہیں ۔ آج اس وقت پورے پاکستان میں کوئی بھی سکول یا مدرسہ اس فتنے سے خالی نہیں ہے ۔