سرکاری ملازم؛ زندگی اور کام - نورین تبسم

کام مکمل کرنے کے لیے زندگی کی دُعا نہ مانگنا بلکہ کام کرنے کے لیے زندگی مانگنا، کیونکہ کام اگر شروع کر لیے جائیں تو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ جوں جوں زندگی کا سفر آگے بڑھتا ہے، فائلوں کے انبار جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہم کام کے اوقات میں پورا کام کرتے ہیں، اوورٹائم بھی لگاتے ہیں، لیکن کام ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتے۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ ہم تھکنے لگتے ہیں، پریشان رہتے ہیں، کیا ہے یہ زندگی؟ کبھی آرام بھی ملے گا، جب ہم اپنی مرضی سے کچھ وقت گُزارسکیں۔

اسی بھاگ دوڑ میں واپسی کی گھنٹیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔ بات یہ نہیں کہ اپنی مشقت کی قیمت نہیں ملتی بلکہ ہمیں ہماری اہلیت کےمطابق مراعات ملتی رہتی ہیں۔ سب نیت پر ہے کہ اچھی ہ گی تو اچھا پھل ملے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلا لیتے ہیں اور پھرگردشِ زمانہ کا گلہ کرنے لگتے ہیں یا پھرصرف اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے کام شروع ہی نہیں کرتے۔ اپنی طرف سے جائز تاویلات بھی دیتے ہیں کہ کسی کام کی قدر نہیں، کسی شے کو دوام نہیں، سب کھیل تماشا ہے تو دل لگانا، محنت کرنا، کیا معنی رکھتا ہے؟ اپنے آپ کو چھوڑ کر دوسروں کے طرز زندگی پر نظر رکھنا ہمارا کام بن جاتا ہے اور یہ کام کبھی مکمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہوتا ہے۔ عمریں بیت جاتی ہیں، کردار بدل جاتے ہیں اور کام ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتا جاتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ کسی دوسرے پر نگاہِ غلط ڈالنے کو حرام جانیں گے تو خود بھی سُکھی رہیں گے اور دوسرے بھی آزاد رہیں گے۔ ہم سرکاری ملازم ہیں۔ اِس سے آگے ہمیں اور نہیں سوچنا۔ لیکن ہوتا یہ ہےکہ ہم اپنے آپ کوایک عام نظرآنے والے سرکاری مُلازم کی طرح سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک چھوٹےگریڈ کا کلرک جو 'نو سے پانچ' کی نوکری کرتا ہے، چھوٹے سے کوارٹرمیں رہتا ہے، مالی پریشانیوں کا شکارہوتا ہے، خرچے پورے کرنے کے لیے آمدنی کے ناجائز ذرائع تلاش کرتا ہے، جواز بھی دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں واقعی اُس کی چادراُس کے خیال میں چھوٹی ہوتی ہے، سر ڈھانپو تو پیر باہر نکل جاتے ہیں۔ اگر ضمیر کا قیدی ہو تو شام کو پارٹ ٹائم اور رزق ِحلال کے لیے شفٹوں میں کام کرتا ہے، سرکاری نوکری کے اوقات میں ڈنڈی بھی مارتا ہے۔ غرض یہ سب کرنے کے باوجود وہ اپنی زندگی کے بوجھ تلےدبا ہی رہتا ہے، ہمیشہ ناخوش، گھروالوں کے لیے اپنا آپ مار کے بھی اُن کو پوری طرح مطمئن نہیں کر پاتا۔

یہ بھی پڑھیں:   دراڑ - حنا نرجس

اس ساری اذیّت، ساری مُشقت میں وہ اُس سرکار کو بھول جاتا ہے جس نے اُسے مُلازم رکھا تھا۔ اُسے کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی سرکار کے سامنے اپنے مسائل کے انبار رکھے۔ وہ سوچتا ہے سرکار کا کام فائلیں بھیجنا، اُن کے اُوپر اُس سے کام کرانا اور مہینے کے آخر میں تنخواہ کا ایک چیک بھیجنا ہی سرکار اور اُس کا باہمی تعلق ہے۔ آخر وہ ایک چھوٹے دماغ کا سرکاری مُلازم جو ہوا کہ جتنا وہ اپنا دماغ استعمال کرے گا، اُتنی ہی کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر پائے گا۔

اُسے کبھی پتہ ہی نہیں چلتا سرکار نے اُس کے لیے کیسے کیسے بونس، کیسے کیسے الاؤنس، کتنی ترقیّاں سنبھال رکھی ہیں۔ سرکار کی شرط صرف ایک ہی ہے، اپنی ڈیوٹی پوری دیانت داری سے سرانجام دی جائے، اُس میں رتی برابر ذہنی یا جسمانی کمزوری نہ دِکھائی جائے۔ سرکاربھی تو بےنیاز ہے، کام سمجھا کر ہر چیز اختیار میں دے دی ہے۔ کوئی مداخلت نہیں، کوئی روک ٹوک نہیں، صرف اپنی موجودگی کا احساس ہے۔

حقیقت یہ ہے ہم سب سے اُونچے درجے کے سرکاری مُلازم ہیں۔ بات ماننے کی یہ ہے جتنا بڑا مرتبہ ہوگا، اُتنا ہی اہم کام ہوگا، اُتنی ہی بڑی ذمہ داری ہو گی، اُتنے ہی زیادہ کام کے اوقات ہوں گے، اور اُتنی ہی زیادہ نگرانی ہوگی۔ ہماری حیات کا ایک ایک لمحہ نگاہ میں ہے، سب ریکارڈ ہو رہا ہے، ہمارے لیے ایک پلیٹ فارم سیٹ کر دیا گیا ہے، ہمیں اسی پر چلنا ہے۔ کسی قسم کی غلطی کی کوئی گُنجائش نہیں۔ اپنے ہرعمل، ہر سوچ کا حساب دینا ہے۔ اتنی سخت ڈیوٹی سرانجام دینے کے دوران سرکار کی عنایات نہ ہوں تو ہم مرنے سے پہلے مرجائیں۔ یہ مالک کا کرم ہے کہ وہ ہماری خطاؤں سے درگُذر کرتا ہے۔ اگر ہم خلوصِ نیت سے اپنی ذمہ داری پوری کریں، اپنی خواہشوں کے گھوڑے کو لگام ڈال دیں۔ تواُس کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیں اس سے کئی گُنا بہترعطا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کو خوشگوار بنائیں - مریم صدیقی

مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہےجب ہم دُنیا کی فانی لذت کی خاطرآخرت کی ابدی عطا کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پیاس اس دُنیا میں ہی بُجھ جائے۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ اگر ہم نے اس دنیا میں ہی سب حاصل کر لیا تو وہاں جا کر کس منہ سے اپنے اللہ سے اپنی من چاہی چیز طلب کریں گے۔

ہم سب سرکاری ملازم ہی تو ہیں اور جو محدود وقت دیا گیا، اُسی میں سے اپنے لیے کچھ ڈنڈی مارتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دُنیا کے مالک کچھ نہ جانتے ہوئے بھی بہت بےرحم ہیں تو سب کا مالک جانتے بوجھتے بھی ڈھیل دیے جاتا ہے۔ یہ سوچ کی دولت بھی اُسی نے دی۔ اب اس کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنا فرض ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.