سوامی بنام نواز شریف- روف کلاسرا

خیر حیرانی ہونی تو نہیں چاہیے تھی کیونکہ دنیا ایک تھیٹر ہے جس میں سب اداکار اپنی اپنی باری پر اپنا رول ادا کر کے پردے کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔

کچھ نئے اداکار ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ نواز شریف اچھی قسمت لے کر پیدا ہوئے ہیں‘ ہر دفعہ وہ پھنس جاتے ہیں‘ پھر حیران ہو کر پوچھتے ہیں: میرا کیا قصور تھا؟ یہ رویہ صرف نواز شریف کا نہیں‘ ہم سب انسان اپنے اپنے ماحول اور حالات میں یہی کچھ کرتے ہیں۔

ہم خود کو مظلوم اور دنیا کو ظالم سمجھتے ہیں۔ یہ چیز ہمارے اندر خود ترسی پیدا کرتی ہے‘ جو کہتے ہیں احساس کمتری سے بھی بدترین سمجھی جاتی ہے۔ تو کیا جس مصیبت میں نواز شریف پھنس گئے تھے‘ وہ ہم سب کا کیا دھرا تھا؟ دنیا ظالم تھی اور نواز شریف مظلوم؟ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی؟ ان کا کسی معاملے میں قصور نہ تھا؟ ایک نیک انسان اور خاندان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے؟
پچھلے دنوں پرانی کتابوں سے خریدی گئی ایک نایاب کتاب
The complete works of Swami Vivekananda پڑھ رہا تھا‘ جو ان کے لیکچرز‘ جو یورپ اور بھارت اور دیگر ملکوں میں دیے گئے تھے‘ پر مبنی ہے۔

یہ کتاب 1924ء میں چھپی تھی‘ اس میں ایک لیکچر ہے‘ جو سوامی نے 1900ء میں امریکہ میں دیا تھا۔ اس لیکچر کو پڑھتے ہوئے بار بار میرا دھیان سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف جا رہا تھا‘ اور ان کے وہ چبھتے ہوئے سوالات‘ جو وہ پچھلے ایک سال سے بار بار پوچھ رہے تھے‘ میرا قصور کیا تھا‘ میرے ساتھ یہ کیوں کیا گیا؟ سوامی کے پاس نواز شریف اور حامیوں کے لیے جواب موجود ہے‘ جو 118 سال پہلے لیکچر میں دیا گیا تھا۔

اس میں سے کچھ اقتباسات میں یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سوامی کہتا ہے: میں نے اپنے گرو سے ایک بات سیکھی کہ زندگی میں سب سے اہم بات یہ ہے آپ نے زندگی میں آگے بڑھنے یا مقصد حاصل کرنے کے لیے کون سے means استعمال کیے تھے۔ وہ ذرائع ہی دراصل آپ کے انجام کا پتہ دیتے ہیں۔ سوامی کے بقول انجام سے زیادہ اہم وہ means ہیں‘ یا وہ سیڑھیاں کہہ لیں‘ جنہیں پھلانگ کر آپ اوپر چڑھ جاتے ہیں۔

زندگی میں ہم خوابوں اور منزل کے حصول کے چکر میں اتنے گم ہو جاتے ہیں کہ یہ نہیں دیکھتے‘ ہم کیسے ذرائع استعمال کر کے آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ جب ہمیں ناکامی یا مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور ایمانداری سے جائزہ لیں تو ننانوے فیصد کیسز میں پتہ چلے گا کہ ہم نے ان ذرائع پر توجہ نہیں دی تھی‘ جنہیں استعمال کرتے ہوئے ہم آگے بڑھ رہے تھے‘ اور جن کی وجہ سے ہمیں زوال آیا۔ اگر means درست استعمال کیے گئے تھے تو یقین رکھیں انجام یا اثر بھی بہتر ہو گا۔

یہ دراصل cause ہوتی ہے جو effect پیدا کرتی ہے۔ کسی بھی کام کا نتیجہ خود بخود پیدا نہیں ہوتا‘ اور جب تک یہ cause کے لیے استعمال کیے گئے ذرائع درست نہیں ہوں گے‘ تو نتیجہ کبھی درست نہیں نکلے گا۔

اس لیے زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ نتائج سے زیادہ ذرائع پر توجہ دی جائے۔ انسان اس وقت تک بیمار نہیں ہوتا‘ جب تک اس کا بدن اس بیماری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ مطلب ہم کمزور ہوتے ہیں تو بیماری ہم پر حملہ کرتی ہے اور ہمارے کمزور ہونے کے پیچھے بھی ہمارا اپنا قصور ہوتا ہے۔

ہمیں اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا جب تک ہم خود کمزور نہیں ہوتے۔ بیماری کے جراثیم اس وقت حملہ آور ہوتے ہیں‘ جب انسان کا جسم اندر سے کمزور ہو چکا ہوتا ہے‘ ورنہ ہر وقت لاکھوں کی تعداد میں جراثیم ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔ بقول سوامی آپ کو ایسا کوئی مُکا زندگی میں نہیں پڑتا جس کے آپ مستحق نہ ہوں۔ ایسی کوئی برائی ہمارے ساتھ نہیں ہوتی جس کی بنیاد ہم نے اپنے ہاتھوں سے نہ رکھی ہو۔

آپ اپنا تجزیہ کریں تو احساس ہو گا کہ آپ کے ساتھ جو کچھ بھی غلط ہوا یا زیادتی ہوئی اس کی بنیاد آپ نے خود رکھی تھی۔ وہ مکا ایک دن آپ کو پڑنا تھا کیونکہ آپ نے وہ مکا کھانے کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ آپ نے وہ مکا کھانے کے لیے اگر آدھا بندوبست خود کیا تھا تو باقی کا آدھا کام دنیا نے کیا۔ یوں آپ نے خود ہی دنیا کو یہ موقع دیا کہ وہ آپ کو مکا مارے۔ جب آپ یہ سوچیں گے کہ یہ مکا مجھے میری وجہ سے ہی پڑا ہے تو آپ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ جب آپ اپنا جائزہ لینے بیٹھیں گے تو اس میں آپ کے لیے امید کا پیغام بھی ہے کہ آپ وہ وجوہات پیدا نہ کریں جن کی وجہ سے کل کلاں دنیا آپ کے منہ پر مکا دے مارے۔

اس طرح ہم بچپن سے ہی یہ سیکھتے ہیں کہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال دو‘ غلطی آپ کرو لیکن ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرائو۔ ہم ہمیشہ دوسروں کو ہی درست کرنا چاہتے ہیں‘ لیکن خود کو نہیں۔ جب ہم برے حالات سے گزرتے ہیں تو کہتے ہیں دنیا ہی خراب ہے۔ ہم دوسروں پر لعن طعن کرتے ہیں‘ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم خود اتنے اچھے ہیں تو پھر ہم اس شیطانی دنیا میں ہیں ہی کیوں؟ اگر دنیا شیطانی ہے تو پھر ہم بھی شیطان ہیں ورنہ ہم اس شیطانی دنیا کا حصہ ہی نہ ہوتے۔

ہم کہتے ہیں: دنیا بہت خود غرض ہے‘ تو پھر اس کا مطلب ہم بھی خود غرض ہیں‘ ورنہ اس خودغرض دنیا میں ہم کیوں ہوتے؟ ہم اگر دوسروں سے بہتر ہوتے تو اس خود غرض دنیا میں کیا کر رہے ہوتے؟
سوامی کہتا ہے: ہمیں وہی کچھ ملتا ہے جس کے ہم مستحق ہوتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے‘ جب ہم کہتے ہیں: ہم تو اچھے ہیں لیکن دنیا بہت بُری ہے۔ بہت ضروری ہے دنیا کو برا کہنا بند کریں‘ دوسروں پر الزام مت دھریں۔ اعتراف کریں کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار میں خود ہوں۔ ویسے اس سے بڑا شرم کا مقام کیا ہو سکتا ہے کہ ایک لمحے میں ہم مرد بنے ہوئے ہوتے ہیں‘ اگلے لمحے ہمیں ایک پتھر پڑتا ہے جو ہمیں زخمی کر دیتا ہے۔

کسی کا ہم پر معمولی غصہ یا طنز یا جملہ بھی ہمیں مجروح کرتا ہے۔ اگر ہم اتنے مقدس ہیں تو کیا یہ سب ہمارے ساتھ ہونا چاہیے؟ تو کیا دنیا کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے؟ تو کیا ہماری کسی بھی چالاکی یا چال سے ہمارا انجام بُرا ہو سکتا ہے یا حالت خراب ہو سکتی ہے؟ اگر آپ اتنے بے غرض ہیں تو پھر آپ تو انسان سے ماورا کوئی ہستی ہوئے‘ عام انسان نہیں‘ لیکن جب آپ اپنے مسائل کا ذمہ دار دنیا کو سمجھتے ہیں تو اس سے پتہ چلتا ہے آپ اس دنیا کا حصہ ہیں۔

آپ عام انسان ہیں۔ جب آپ یہ سب باتیں محسوس کرتے ہیں تو اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آپ جو کچھ کہتے یا خود کو سمجھتے ہیں وہ آپ نہیں ہیں۔ پھر آپ بار بار اونچی آواز میں چلاتے ہیں‘ یہ تصور کر کے کہ آپ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے‘ زیادتی ہو رہی ہے۔ آپ چلاتے رہتے ہیں کہ یہ شیطانی دنیا کا کام ہے‘ فلاں بندہ مجھے تکلیف دے رہا ہے۔ یہ سب خیالات آپ کے مصائب میں دراصل اضافہ کر رہے ہوتے ہیں‘ کمی نہیں۔

ہم دنیا کا کچھ نہیں کر سکتے لیکن ہم اپنا تو خیال رکھ سکتے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم دوسروں کو چند لمحوں کے لیے بھول جائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ہم پہلے ان ذرائع پر توجہ دیں جن کو استعمال کرتے ہوئے ہم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع آپ کے اچھے ہوں گے تو یقین رکھیں انجام بھی اچھا ہو گا۔ دنیا اس وقت ہی پاکیزہ اور اچھی ہو گی جب ہماری اپنی زندگیاں نیک اور اچھی ہوں گی۔ زندگی کو اچھا‘ برا بنانا ہمارے اپنے بس میں ہے‘ دنیا کے نہیں۔

ویسے پاکستانی وفد کو بادشاہ کے سامنے بیٹھے دیکھ کر سوامی جی کی آخری بات یاد آئی۔ فقیر کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ فقیر کو ہمیشہ خیرات ملتی ہے۔ وہ خیرات لے کر پیچھے اپنے لیے‘ نفرت چھوڑ جاتا ہے۔ چلیں نفرت نہ سہی لیکن یہ خیال ضرور پیچھے چھوڑ جاتا ہے کہ یہ کم تر انسان ہے۔ ہو سکتا ہے فقیر بھیک تو لے جائے لیکن اس بھیک سے وہ کبھی لطف نہیں اٹھا سکتا۔