تخلیقی سوچ - محمد عامر خاکوانی

چار پانچ سال پہلے کی بات ہے، ملتان سے ایک عزیز نے فون کیا، ان کا صاحبزادہ میڈیا سٹڈیز کی طرف آنا چاہتا تھا۔ رشتے میں کزن ہیں، مگر عمر میں خاصے بڑے ہونے کی وجہ سے ہم انھیں اپنے بزرگوں میں سے سمجھتے ہیں۔ خیر ان کا بیٹا اپنی صلاحیتوں سےگورنمنٹ کالج، لاہور میں داخل ہوگیا، ملنے آتار ہا۔ مستقبل میں میڈیا میں آنا چاہتا تھا، مشورہ مانگا، جو سمجھ میں آیا اس کی رہنمائی کی۔ ایک بات پر زور دیا کہ کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالو۔ جوش میں نوجوان ہامی بھر بیٹھا، ہم نے اسے ایک عدد فہرست تھما دی۔ تب سے غریب کتابیں پڑھ پڑھ کر ہلکان ہوگیا۔ جب آتا ہم اسے دو تین کتابیں تھما دیتے۔ شرط یہ تھی کہ پہلی دے گا تو دوسری ملیں گی۔ یہ صرف اس کا معاملہ نہیں، جب بھی کوئی لکھنے کا خواہش مند نوجوان یا صحافت کا طالب علم مشورہ مانگے تو اسے کتابیں پڑھنے کی راہ دکھاتا ہوں۔ اکثر نوجوان یہ سن کر بدمزہ ہوتے ہیں۔ انھیں ایک کیپسول ٹائپ حل چاہیے، چند صفحات پر مشتمل کوئی جامع تحریر، پمفلٹ یا کچھ اور جس میں ”سب کچھ“ موجود ہو، دو تین گھنٹے میں اسے پڑھ کر اگلے ایک سال کے لیے درکار علم ”نچوڑ“ لیا جائے۔ ایسا کوئی جادوئی حل چونکہ ہے نہیں، اس لیے ہمیں مجبوراً ان نوواردان صحافت کو مایوس کرنا پڑتا ہے۔ یہ تو خیرگھر کا بچہ تھا، فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے ہدایات پر عمل شروع کیا۔ روزانہ اخبار اور کالم پڑھنے شروع کیے، اردو کے اخبار پھر انگریزی کا اخبار، بعض نیوز ویب سائٹس روزانہ دیکھنا، مختلف موضوعات پرمنتخب کتب کا مطالعہ، ڈھیروں شاہکار فلمیں دیکھنا، دنیا کی بہترین موسیقی سننا، موبائل میں 4G انٹرنیٹ سم ڈلوانے سے یہ سب کام آسان ہوگئے۔ اس کا عملی سفر بھی شروع ہوگیا، اب ایک چینل پر نیوز اینکر کی خدمات انجام دے رہا ہے۔

پچھلے دنوں ہمارے عزیز بھائی ظفر خان ملیزئی کا بیٹا، وہی نوجوان منیب ملیزئی گھر آیا۔ کھانے کے بعد اتفاقاً ذکر چھڑا تو اس نے میری اہلیہ کو اپنے اوپر گزرنی والی ”دلدوز داستان“ سنائی۔ بتانے لگا، ”میں نے ڈیبیٹ اور سپیچ کے حوالے سے مشورہ کیا کہ فی البدیہہ تقریروں کی طرف جاؤں تو خوش دلی سے اجازت دے دی، محنت کر کے نمایاں پوزیشن حاصل کی، مختلف شہروں میں ڈیبیٹ مقابلوں میں جانے لگا تو عامر بھائی نے منع کر دیا۔ ڈراموں میں حصہ لینے کے لیے پوچھا تو کہا کہ ضرور کرو، یہ زندگی کا منفرد تجربہ ہوگا، کوشش کی، کالج اور یونیورسٹی کی طرف سے ڈراموں میں حصہ لیا، انعامات ملے، ڈرامیٹک کلب کی ٹیم اسلام آباد جا رہی تھی، جانے نہیں دیا کہ اس کی لت پڑ جائے گی۔ تقریبات کی اینکرنگ کے اچھے پیسے اور بھرپور اہمیت مل جاتی ہے، اس کے لیے بھی اجازت دے دی مگر جب کچھ نام بننے لگا تو پھر روک دیا۔ ہر طر ف سے گھوم گھام کر مطالعہ پر لگاتے رہے، اس وقت کوفت ہوتی، مگر اب بطور نیوز اینکر مجھے اپنے ساتھیوں پر اسی لیے فوقیت مل رہی ہے کہ میرا بیک گراؤنڈ نالج اپنے ساتھیوں سے بہتر ہے، سیاسی سمجھ بوجھ اور معلومات کا ایڈوانٹیج ہے اور تجزیے، کالم، کتابیں پڑھنے سے تھوڑا بہت گہرائی میں سوچنا، روایتی سوالوں سے ہٹ کر پوچھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ منیب کی باتیں سنتا، مسکراتا رہا۔ صرف یہی تبصرہ کیا کہ ہمارے جیسوں سے کوئی مشورہ لینے کی حماقت کرے گا تو اس کی قیمت ادا کرنا ہی پڑے گی۔

بعد میں سوچتا رہا کہ یہ کچھ انوکھا نہیں ہے، بس زمانہ بدل جانے سے شاید مختلف لگ رہا ہے۔ ہم نے صحافت شروع کی تو اپنے سینئرز کا مطالعہ دیکھ کر رشک آتا۔ اردو ڈائجسٹ سے ملازمت کا آغاز کیا تھا، وہاں ہر طرف کتابیں، لغات نظر آتیں۔ آئے روز کسی نہ کسی لفظ پر بحث شروع ہوجاتی، فرہنگ آصفیہ اور نجانے کون کون سی لغت، کتابیں نکال لی جاتیں۔ الفاظ کے ”روٹس“ پر بحث چل رہی ہے، درست، فصیح، غیر فصیح کی باتیں۔ کسی موضوع پرلکھ رہا ہوتا تو ہر روز صبح ڈاکٹر اعجاز قریشی کتابوں کا ایک پلندہ لا کر میز پر دھر دیتے کہ اسے بھی دیکھ لیجیے۔ اتنی موٹی کتابیں دیکھ کر روح فنا ہوجاتی، مگر کرنا ہی پڑتا۔ ابتدائی دنوں کی اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ بعد میں روزنامہ اخبارات کے سہل پسندی پر مائل، عجلت والے ماحول کے باوجود ہم کچھ نہ کچھ دال دلیہ کرتے ہی رہے۔ آج کے الیکٹرانک میڈیا کے پاس وقت بہت ہی کم ہے، سکینڈز کی برتری سے آپ فاتح یا شکست خوردہ بن جاتے ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس سوچنے، غور کرنے کا وقت ہی نہیں۔ چلیں نیوز کی تو سمجھ آتی ہے، ان پر بہت دباؤ ہے۔ پروگرامنگ والوں کے پاس تو وقت ہوتا ہے، وہ بھی مکھی پر مکھی مارنے کے عادی ہوگئے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ ایک چینل نے سٹیج کے دو تین کامیڈین کو ساتھ بٹھا کر شو شروع کیا، ہٹ ہوگیا تو ہر چینل نے اسی کی نقالی کی۔ کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ کچھ نیا کر لیا جائے۔ کچھ عرصہ قبل دو تین چینل شروع ہوئے، سب نے وہی افسوسناک حد تک نقالی کا وتیرہ اپنایا۔ لوگ بور نہ ہوں تو کیا ہو۔ ہر جگہ ایک سی سکرین، ایک ہی فارمیٹ اور کئی جگہوں پر تو کامیڈین بھی ایک سے ہیں۔

نیوز چینلز کے ٹاک شوز کا بھی یہی معاملہ ہے۔ پندرہ سولہ سال پہلے حامد میر نے تین مہمان بٹھانے کا تجربہ کیا، کامیاب ہوا تو ہر جگہ وہی چلتا رہا۔ آخر کیوں؟ ضروری تو نہیں کہ ایک اینکر جس طرح پروگرام کامیاب بنائے، ویسی کامیابی دوسرے کو بھی ملے؟ یہ سوچنے کی مگر کوئی زحمت نہیں کرتا۔ بھیا کچھ نیا تجربہ کر کے دیکھ لیں، زیادہ کامیاب نہ ہو تو پھر بدل دیں، مگر اتنی سی زحمت بھی کوئی نہیں کرتا۔ ایک اور بات مجھے سمجھ نہیں آتی کہ چلیں کسی پروگرام میں مہمانوں کو تین ، چار ونڈو میں دکھا دیا، لیکن اسے لازمی کیوں سمجھ لیا گیا؟ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک میز پر اینکر کے ساتھ دو یا تین مہمان بیٹھے ہیں، مگر ان سب کو الگ الگ ونڈو میں یوں دکھایا جاتا ہے، جیسے یہ کہیں اور بیٹھے ہوں۔ ٹاک شوز میں کبھی کبھار شریک ہوتا ہوں تو عجیب لگتا ہے کہ اینکر ایک الگ کیمرے میں دیکھ کر بول رہا ہے اور آپ جواب میں اینکر کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے بالکل سامنے لگے کیمرے میں دیکھ کر بول رہے ہیں۔ یہ عجیب وغریب طریقہ کار بدلنے کے لیے بھی کسی تکنیکی مہارت کی ضرورت ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ چھوٹے چینلز میں تو کم کیمرے ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا مجبوری ہے، لیکن بیشتر بڑے چینلز میں تین تین کیمرے ہوتے ہیں، ان سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ کام لیا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ ایک ٹرینڈ چل رہا ہے، اسے توڑنے کی کوئی ہمت نہیں کرتا، چل سو چل والا معاملہ ہے۔ اسی طرح آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر انٹرویو میں سائیڈ لیمپ لازمی دکھائی دے گا۔ آخر کیوں؟ شروع میں کسی نے سکرین کو خوبصورت بنانے کے لیے کمرے میں رکھے کسی دلکش لیمپ کو استعمال کیا تو اب اس کا بھی رواج پڑ گیا۔ کوئی پروڈیوسر یہ کوشش ہی نہیں کرتا کہ لیمپ کے بغیر بھی سکرین کو دیدہ زیب بنایا جائے۔ ہر کوئی ناکامی یا تنقید سے ڈرتا ہے، نیا کرنے کا حوصلہ نہیں یا پھر کچھ ہٹ کر سوچنے میں جو تخلیقی کرب اٹھانا پڑتا ہے، اس سے بچنا مقصد ہے۔ سو لفظوں کی کہانی کا اخبارات میں رواج آیا۔ لکھنے والوں کی فوج امڈ آئی۔ ہمارے دوست مبشرعلی زیدی نے سو لفظی کہانی کا کامیاب تجربہ کیا تو بیشتر نے اسے ہی فالو کیا۔ احمد اعجاز جیسا ایک آدھ ہی ہوگا جس نے اپنی نئی راہ نکالی، ورنہ سب نے اسی پیٹرن پر کہانیاں لکھنے کی عادت بنا لی۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ نیا فارمیٹ جلد اپنی کشش کھو بیٹھا۔

یہ ویسے صرف میڈیا کا ایشو نہیں، بیشتر شعبہ جات میں ہم لوگ ایک ہی انداز میں، تخلیقی سوچ کو زحمت دیے بغیر اسی گھسے پٹے روایتی انداز میں کام کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ بات لمبی ہوجائے گی، ورنہ بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اہمیت نئے آئیڈیاز، تخلیقی سوچ کو دی جاتی ہے اور ہمارے ہاں حوصلہ شکنی کا رویہ ہے۔ مجھے تو طالب علموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ان میں اپنے مخصوص نصاب سے ہٹ کر کچھ پڑھنے، سوچنے کا رجحان ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی نظام کچھ اس انداز میں وضع کیا گیا ہے کہ کتاب پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ تمام تر فوکس اور جدوجہد زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کے لیے ہے۔ گیارہ سو میں سے ایک ہزار نوے تک نمبر لے لیے جائیں، چاہے طالب علم کی مبلغ قابلیت کسی رٹو طوطے سے زیادہ نہ ہو۔ پہلے مجھے یاد ہے کہ آٹھویں، میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے بعد دو ڈھائی مہینوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں، انھیں میں پڑھنے کا چسکہ پورا کرتے تھے۔ اب تو بچے میٹرک کے فوراً بعد ہی اکیڈمی جوائن کر لیتے ہیں۔ صرف نوٹس اور انہیں بار بار رٹ کر ٹیسٹ دینا، مشینی انداز کی پرفیکشن حاصل کر نا ہی مقصد زندگی ہے۔ آٹھویں جماعت کے، آخری چھ ماہ پری نائنتھ کے نام پر نویں کا نصاب پڑھانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ کہیں سو فی صد نمبر لینے میں معمولی سی کوتاہی نہ رہ جائے۔ بھائی لوگویہ سب کرو، مگر بچوں میں تخلیقیت کا خاتمہ تو نہ کرو، انہیں آزادانہ طور پر نئے خیالات سوچنے کی تو تربیت دو۔ ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ ایک پوری نسل کو ذہنی مریض بنا دیا گیا ہے،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری مشینیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.