مدینے کی ریاست کا حوالہ - محمد اسماعیل ولی

مدینے کی ریاست کا حوالہ دینا بہت آسان ہے، لیکن ان اصولوں کو عملی جامہ پہنانا جوے شیر لانے کے مترادف ہے. اس سلسلے میں چند بنیادی حقائق کو سمجھنا بہت ضروری ہے. پہلی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مدینے کی ریاست کسی عوامی انتخاب کے ذریعے وجود میں نہیں آئی تھی، بلکہ الہی "انتخاب" کا نتیجہ تھا. اس انتخاب میں یہ عنصر شامل نہیں تھا کہ عوام کی خواہشات کیا ہیں. عوام کس بات کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں، عوام تو شراب پینے کو پسند کرتے تھے، کعبہ کے اردگرد ننگے ہوکر طواف کرنے کو پسند کرتے تھے، متمول طبقہ سود کو پسند کرتا تھا، اور یہی طبقہ عیاشی کی زندگی کو پسند کرتا تھا، عرب والے دوسروں کو عجم سمجھتے تھے، معاشرے کی بنیاد طبقاتی نظام پر قائم تھا. الہی نظام میں یہ سب باتیں ممنوع قرار دی گئیں. اور انسانوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ ایک ایسی ہستی کے سامنے جواب دہ ہے، جو حی اور قیوم ہے، نیند اور تھکاوٹ سے مبرا ہے. خونی رشتوں سے مبرا ہے، علیم و خبیر ہے، اور لطیف و بصیر ہے، ساتھ قادر بھی اور قدیر بھی ہے. ایک ایسی ہستی ہے جو دل کی گہرائیوں میں کروٹ لینے والی نیتوں کو جانتا ہے. پھر منکر نکیر کی خفیہ سروس شب و روز فعال رہتی ہے.

اس جواب دہی اور خود احتسابی کے احساس کا نتیجہ تھا کہ حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ کاش "میں پیدا ہی نہ ہوتا". اس احساس کا نتیجہ یہ تھا کہ پیغمبر ﷺ ایک صحابی سے اس لیے ناراض ہوتے ہیں کہ اس کی دیوار ہمسائیوں کی دیوار سے اونچی ہے. اس احساس کا نتیجہ تھا کہ حضرت صدیق منشی سے کہتے ہیں کہ ان کے آٹے میں اس لیے کمی کی جاے کہ پھر ان کے گھر میں حلوہ نہ پکے. اس احساس کا نتیجہ تھا کہ اصول پسندی غالب ہوتی ہے، اور معاشرے سے گداگری ختم ہوتی ہے، اور مساوات کا ایک ایسا نظام وجود میں آتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے. اور ایسی مثالیں قائم ہوتی ہیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی، یعنی غلام اور آقا ایک ہی اونٹنی پر باری باری سواری کرتے ہیں. غلام اور آقا ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں.

مسلمان قیصر و کسری پر اس لیے غالب نہیں ہوے کہ ان کا تعلق عرب قوم سے تھا، بلکہ ان کی کامیابی کا راز اصول پسندی میں مضمر تھا. حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالاری سے ہٹا کر سپاہی بنایا جاتا ہے، لیکن وہ کسی سازشی ٹولے کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ بحیثیت سپاہی لڑنے کو پسند فرماتے ہیں. حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے کئی گورنروں کو بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی پر برطرف کرتے ہیں. مصر کا گورنر ایک غریب کو اس لیے تھپڑ مارتا ہے کہ غریب کا بیٹا دوڑ میں گورنر کے بیٹے سے آگے نکل جاتا ہے. بات حضرت عمر رضی اللہ تک پہنچتی ہے. ثابت ہونے پر گورنر کو تھپڑ مروانے کے ساتھ عہدے سے بھی ہٹایا جاتا ہے. حضرت عمر کے بیٹے پر وہی قانون لاگو ہوتا ہے جسے قرآن نے سب کے لیے مقرر فرمایا ہے، کیونکہ قرآن کا مخاطب انسان ہے. پھر انسانوں میں وہ طبقہ جو ایمان کا دعوی کرتا ہے، کیونکہ اس پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے. اسلام ایک ٹھوس اصولوں پر مبنی نظام کا نام ہے. ان اصولوں کا تعلق اس بات سے نہیں کہ عوام ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں. اگر ایک انسان ان اصولوں کو ماننے کا دعوی کرتا ہے تو پھر ذاتی پسند و ناپسند یا عوامی پسند و ناپسند کی باتیں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں. حضرت علی ایک کافر کو مارنے سے اپنے ہاتھ اس لیے واپس کھینچ لیتے ہیں کہ ان کے منہ پر تھوکنے کے بعد یہ ایک ذاتی مسئلہ بن جاتا ہے- خالق کائنات ان اصولوں کے ماننے والوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے-
الَّذينَ إِن مَكَّنّاهُم فِي الأَرضِ أَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ وَأَمَروا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عاقِبَةُ الأُمورِ﴿۴۱﴾
"وہ لوگ جن کو ہم زمین پر حکمرانی بخشتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں. زکوۃ دیتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں، اور سارے امور کا انجام اللہ کے پاس ہے.''
ایت کریمہ بالکل واضح ہے جس کی روشنی میں مندرجہ باتوں کا اخذ کرنا واضح ہو جاتا ہے.
1 – طاقت اور حکمرانی کے اظہار کے لیے "مکان" کا ہونا ضروری ہے.
2 – مسلمان حکمران کا یہ فرض بنتا ہےکہ وہ زمین کے اس ٹکڑے پر نماز قائم کرنے اور زکوۃ اداکرنے کا اہتمام کرے، اور ایسے ادارے وجود میں لاے جو نیک کاموں کو فروغ دینے اور برے کاموں سے روکنے کے لیے مؤثر انتظامات کریں. اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو انجام کار اللہ کے حضور پیش ہونا اور جواب دینا ہے

عملی طور پر اسلامی ریاست کا انحصار نماز اور زکوۃ کے اداروں کو مضبوط کرنے پر ہوتا ہے، بظاہر ان دو کاموں میں کوئی ربط نظر نہیں آتا. نماز کا تعلق انسانی جسم و ذہن کے ساتھ ہے. یہ کام اسلامی ریاست کا ہے کہ نماز باجماعت کا اہتمام و انتظام کراے کیونکہ یہاں سے معاشرے کی روحانی شیرازہ بندی شروع ہوتی ہے، مساوات کی عملی صورت سامنے آتی ہے، رنگ ونسل کا فرق مٹ جاتا ہے، نفرتیں ختم ہونے لگتی ہیں، اخوت کے دروازے کھل جاتے ہیں. ہمارے ہاں کھیل و ثقافت کے لیے الگ محکمہ قائم ہے. لیکن نماز جمعہ ایک چپڑاسی یا اسسٹنٹ پڑھاتا ہے. کسی سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری، یا سیشن آفیسر کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ نماز جمعہ پڑھاے. ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کی شان کے خلاف یہ بات ہوگی کہ وہ امامت کرے. میرا اندازہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت نماز کے بنیادی مسائل سے لاعلم ہوگی. یقینا بہت سے دوست ان باتوں کو دقیانوسی کہ کر رد کریں گے. پھر مدینے کی ریاست کی بات بھی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ مدینے کی ریاست اور نماز لازم و ملزوم ہیں. پھر یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسجدوں پر نظررکھے. ایسا نہ ہو کہ دوسرے مذاہب والے مسلمانوں میں نفرت پھیلائیں، یا طبقاتی اسلام کی حوصلہ افزائی ہو. مسجدوں کو روحانی تربیت گاہ بنایا جاے نہ کہ نفرت، شدت پسندی، بغض و کینہ پروری کو ہوا دینے کے لیے استعمال کی جائیں.

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ہوش کے ناخن لیں - ابو محمد

نماز کے ساتھ "زکوۃ دو" کی آیت عموما دہرائی جاتی ہے، اور زکوۃ دینے کے لیے صاحب مال ہونا ضروری ہے، اور صاحب مال ہونے کے لیے محنت اور ہنر مندی ضروری ہے. عصر حاضر میں "اسلام" کا انحصار زکوۃ دینے کے بجاے زکوۃ مانگنے پر ہے. حالانکہ زکوۃ مانگنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، اور زکوۃ دینا فرائض میں شامل ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت فرض ہے. ہم اپنے طلبہ و طالبات کو زکوۃ و خیرات و صدقات مانگنے کے لیے تیار کرتے ہیں، نہ کہ زکوۃ دینے کے لیے ان کی ذہن سازی اور کردار سازی ہوتی ہے. خواہ اس کا تعلق مشرقی طرز کے اداروں سے ہو، یا مغربی طرز کی یونیورسٹیوں سے ہو.

مغرب کی کامیابی کا راز محنت پر ہے. ہم ہر سطح پر بغیر محنت کے کمانے کے عادی ہیں. گھر میں ایک بندہ کمانے والا ہوتا ہے. باقی ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں. اسلام میں نماز محنت کی علامت ہے. یہ محنت وضو سے شروع ہوتی ہے جس کا تعلق ہاتھ پاؤں کو حرکت دینے سے ہے. پھر اصل نماز شروع ہوتی ہے جس کے چار بڑے انداز ہیں. قیام، رکوع، سجدہ اور قاعدہ اور اس کی نفسیاتی کیفیت نیت سے شروع ہوتی ہے. جو نماز کی مقصدیت کو ظاہر کرتا ہے، یعنی نماز پڑھنے کا مقصد کیا ہے؟ نماز وہ حرکت ہے جس کے لیے معراج مؤمن کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جو اس کی روحانی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، لہذا مدینے کی ریاست کی بات نماز سے شروع ہوگی. نماز کے حوالے کے بغیر یہ بات نہ صرف نامکمل ہوگی بلکہ گمراہ کن بھی ثابت ہوگی. حال ہی میں کارٹون کا معاملہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ نماز اس بات کا اعلان ہے کہ انسان شتر بے مہار نہیں کہ جو کچھ اس کے جی میں آئے کر گزرے یا کہہ گزرے. نماز میں سورہ فاتحہ کو پڑھنا اس لیے ضروری ہے کہ اس میں وہ اصول بیان ہوئے ہیں جن کا تعلق ذات باری تعالی کے علاوہ ایک ایسے دن کے تصور جب انسان اپنے اعمال کے ساتھ خالق کے سامنے پیش ہوگا، سے ہے، اور ان باتوں کو دن میں پانچ مرتبہ دہرانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی شعور میں یہ باتیں جاگزیں ہو جائیں، نہ کہ ایک عادت کے طور پر دہرائی جائیں- جو ایک مشینی حرکت کے مترادف ہے.

اسلامی تصور ریاست کا معاشرتی مظہر نماز اور مالیاتی مظہر زکوۃ ہے، کیونکہ کسی بھی ریاست کو چلانے کے لیے مالی وسائل بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، اس لیے نماز کے ساتھ زکوۃ کا حکم بھی دیا جاتا ہے. اسلام افراد کو یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ حلال ذرائع سے دولت کمائیں، تاہم اس آمدنی کا ایک مخصوص حصہ ریاست کو ادا کیا جائے. اس کے ساتھ "عفو" کا تصور بھی انتہائی ضروری ہے. عفو کی اصطلاح دولت یا آمدنی کے اس حصے کے لیے استعمال ہوا ہے، جو "ضروریات" کو پوری کرنے کے بعد بچ جائے. اگر عفو کے اصول پر خلوص نیت سے عمل کیا جائے تو ایک مہینے میں ریاست پاکستان آئی ایم ایف یا کسی اور مالیاتی دہشت گردوں سے چھٹکارا پائے گا، لیکن یہ کام مشکل اس لیے ہے کہ تہذیب نو نے ہر تعیش کو ضرورت کا درجہ دیا ہے.

سیاق و سباق کا تقاضا ہے کہ بیوروکریسی پر بھی بات کی جاے. جب انگریز برصغیر پر قابض ہوگئے تو ان کو ایک ایسے طبقے کی ضرورت تھی جو ان کے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکے. شروع شروع میں اس طبقے کے افراد انگلینڈ ہی سے تقرری کا پروانہ لے کر آتے تھے. اگرچہ ٹاپ لیول کے لوگ (وائسرائے یا پولیٹکل ایجنٹس) آخر تک انگریز ہی رہے. تاہم نچلی سطح کی نوکریاں مقامی نوابوں کی اولاد کو بھی دی گئیں. جن کو انڈین سول سروس کے ذریعے بھرتی کیا جاتا تھا. ان کی ذہن سازی اس طرح ہوتی تھی کہ وہ حاکم ہیں، اور عام لوگ محکوم، اس لیے سرکاری خطوط اور مراسلوں کے آخر میں "آپ کا انتہائی تابعدار غلام"یا "میں تاحیات آپ کا تابعدار غلام رہوں گا" کے الفاظ لکھے جاتے تھے، تاکہ محکومیت کا تصور ذہنوں میں جاگزیں ہو جائے. یہ رسم امر ضیا الحق کے دور میں ختم کیا گیا. اب بھی اگر سرکاری احکامات کا مطالعہ کیا جاے تو آغاز اس طرح ہوتا ہے، "مجاز اتھارٹی کو یہ حکم دیتے ہوے خوشی ہوتی ہے کہ۔۔۔" حالانکہ اس فقرے کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے کہ کسی آفیسر یا سیاسی شخصیت کی ذات کو خوش کرنے کے لیے کسی حکم کا اعلان ہو، اور نہ آئین پاکستان میں ایسی کوئی شق موجود ہے. جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہو یا کسی ٹرانسفر کے حکم میں "عوامی مفاد" کا اضافہ کیا جاتا ہے، حالانکہ ٹرانسفر کے اکثر احکامات سفارش کی بنیاد پر صادر ہوتے ہیں. ہماری بیورو کریسی کی اکثریت کا تعلق شرابی / کبابی / شبابی طبقے سے ہے. اور ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ مدینے کی ریاست کے اصولوں کی پاسداری کریں گے. ایں خیال است و محال است و جنون است. حقیقت یہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں "پولیٹکل ایجنٹ" کا عہدہ ان کی ضرورت تھی، جس کو بعد میں ڈپٹی کمشنر کی صورت میں بر قرار رکھا گیا، اور ہمارے صوبے کے پچیس ضلعوں کے پچیس ڈپٹی کمشنروں کو جو مراعات حاصل ہیں. ان کی قیمت کروڑوں میں ہوگی، اور صوبائی سطح پر سیکرٹریوں کو جو اختیارات و مراعات حاصل ہیں، وہ بھی معقولیت کے زمرے میں نہیں آتیں. اگر مدینے کی ریاست کے اصولوں پر ایک فیصد حصے پر عمل ہو تو پاکستان ایک فلاحی ریاست بننے میں دیر نہیں لگے گی.

یہ بھی پڑھیں:   حکمرانوں کی بصیرت؟ اسد احمد

وہ ایک فیصد کیا ہے؟
1- ٹاپ افسر شاہی کو جو مراعات حاصل ہیں، ان کو بتدریج کم سے کم کیا جاے، خصوصا وہ گھر جن کو انگریزوں نے ایک محکوم قوم پر رعب داب جمانے کے لیے بنایا تھا، ان سے واپس لیے جائیں، اور ان کی آمدنی متعلقہ ضلعوں کی ترقی پر خرچ کی جاے. ان کے بعض اختیارات بلدیاتی نمائندوں کو تفویض کیےجائیں، تاکہ ان کے غرور اور تکبر میں کمی آے. اگر وہ بدعنوانی میں ملوث پائی جائے تو کڑی سے کڑی سزا دی جاے.

2- رویوں میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ سیکرٹریز کو اس بات کا پابند بنایا جاے کہ وہ نماز کے اوقات کی پابندی کریں اور دوسروں کو اس کی تلقین کریں. اگر کوئی غیر مسلم ہو تو اس کے لیے سویرے اٹھنے کو لازمی قرار دیا جاے.

3- ٹیکس کے بجاے نظام زکوۃ مؤثر طور پر نافذ کیا جاے- "مسائل" کے بجاے زکوۃ کے عملی فوائد کو مد نظر رکھا جاے. فقہ اسلامی افراد کی راے پر مشتمل ہے. اب یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان ممالک ایک ایسا ادارہ وجود میں لائیں جو از سر نو ان مسائل کا جائزہ لے، اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ریاستی امور سے متعلق احکامات کو اس طرح مدون کرے کہ یہ فرقوں کے بجاے اسلام اور خدا شناسی کی ترجمانی کرے، کیونکہ اسلام میں قانوں ساز خدا ہے.

4- نماز کی معاشرتی اور نفسیاتی اہمیت کے مدنظر ہر اسلامی ملک میں ایک ایسا ادارہ وجود میں لایا جا ے جس کا کام اس اہم ترین عبادت کو قرآنی روح کے مطابق نافذ کرنے میں کردار ادا کرنا ہو.

5- کسی بھی کام کی انجام دہی کے لیے صلاحیت اور قابلیت کے ساتھ ایمانداری بھی ضروری ہے. ایک چھوٹی سی مثال اس کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے. ایک سرجن کی علمی اور فنی صلاحیت عمل جراحی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ناگزیر ہے. لیکن یہی جراح اگر بےایمان ہو تو صحت کا بیڑہ ہی غرق ہو جائے گا. قرآن پاک میں حضرت یوسف ؑ کی ایماندرانہ منصوبہ بندی سے اس کی وضاحت ہوتی ہے.

6- مدارس کے اعداد و شمار ایک منظم کوشش کے تحت جمع کیے جائیں، ان کے نصاب کو عصر حاضر کی ضرورت کے مطابق مؤثر بنایا جاے، تاکہ مدرسوں سے فارغ ہوکر طلبہ و طالبات ملک کی مالی اور معاشرتی ترقی میں بھر پور کردار ادا کرسکیں.

7- مساجد کے ائمہ کو اس بات کا پابند بنایا جاے کہ وہ ریاست کی طرف سے مقرر کردہ خطبے کو بیان کریں، تاکہ انتشار، انتہا پسندی، اور فتوے بازی کا خاتمہ ہو، اور فرقہ پروری کی سیاست کو ہر سطح پر روکا جا سکے.