رمضان انتہاء نہیں ابتدا ہے - محمد ندیم اعوان

کل کی تو بات ہے کہ رمضان کی آمد آمد کا سندیسہ ہر جانب سنائی دے رہا تھا اور اتنے میں عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد امام صاحب نے رمضان کی خوشخبری دی اور تراویح پڑھائی۔ یہ ماہِ مبارک اپنی پوری آب و تاب، انوارات و برکات، احسانات و انعامات اور کرامات کے ساتھ امت مسلمہ پر سایہ فگن ہوا۔ بے پایاں رحمتوں کے نزول اور لا تعداد بخششوں کے بعد اب جہنم سے نجات کی نوید دیے جارہا ہے۔ اعتکاف، لیلۃ القدر اور پھر شوال کا چاند تحفے میں دے کر یہ مہمان ہم سے رخصت ہو جائے گا۔ شاید جب تک آپ یہ الفاظ پڑھ رہے ہوں گے رمضان گزر چکا ہوگا یا عید الفطر کی تیاریاں ہو رہی ہوں گی۔

اس ماہ مبارک کو گزرنے کے بعد عموماً دو طرح کے احساسات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کچھ لوگ یقیناً گناہوں کے بوجھ سے ہلکا ہونے پر خدا کا شکر اداکرتے ہوئے انتہائی مطمئن اور مسرور دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں پر مایوسانہ کیفیت طاری ہوتی ہے جیسے کوئی مکرم، محترم اور ذی وقار مہمان رخصت ہو جائے اور بہت دنوں بعد آنے کی آس ہو۔ در حقیقت یہ دونوں کیفیتیں پیامِ رمضان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے منافی ہیں۔ رمضان کے رخصت ہونے سے مسلمان شریعت کے احکامات سے آزاد ہو جاتے اور نہ اللہ تعالیٰ سے تعلق بہر حال ختم ہو جاتا ہے، بلکہ رمضان انسان کے اندر ایک نئی زندگی گزارنے کا جذبہ اور تحریک پیدا کرتی ہے اس لیے مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندویؒ فرمایا کرتے تھے کہ رمضان انتہا نہیں، ابتدا ہے۔

رمضان المبارک میں قرآن کی تلاوت، ذکر اذکار، نوافل و صدقات، نیک اعمال کی کثرت، گناہوں سے پرہیز کے باوجود ہمارا کام ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں، تاہم یہاں چند اُن کاموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس کی پابندی رمضان کے بعد بھی ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے۔ اول یہ کہ ہمیشہ اپنے گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی اور رزق میں برکت کے لیےاللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے یعنی ‘‘سچی توبہ’’ کی صفت سے اپنے آپ کو متصف رکھنا چاہیے کیونکہ انسان کو ولایت کے مقام تک پہنچانے کا یہ واحد راستہ ہے، دل و دماغ کی صفائی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کا زینہ ہے اوریہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اطمینان قلبی نصیب ہوتی ہے، یہی وہ لوگ ہیں جن کی دعائیں عرش باری تعالیٰ پر قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں نفسا نفسی کے عالم میں عرش کا سایہ نصیب ہو گا، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں بہترین انسان قرار دیا گیا ہے اور یہی جنت کی بشارتوں کے مستحق ٹھہرائے گئے ہیں۔

دوسرا کام ہر جگہ، ہر حالت اور ہر وقت اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہنا چاہیے۔ رمضان المبارک میں کثرت استغفار سے ایمان کی تجدید کا عمل شروع ہوتا ہے، جسے اگلے رمضان تک برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ جانے انجانے میں ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو ایمان کی تجدید کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اگر روز بہ روز ایمانی کیفیت کو طاعات سے غذا اور تقویت بہم پہنچائی جائے اور نہ ایمانی حرارت کو چنگاری مہیا کی جائے تو حدیث پاک میں وارد ہے کہ ‘‘ایمان پرانا ہو جاتا ہے جیسے کپڑے میلے اور پرانے ہو جاتے ہیں’’۔ اسی لیے آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ)، جسے حدیث میں افضل ترین ذکر قرار دیا گیا ہے، کے ذریعے سے ایمان کو تازہ رکھنے کی تلقین کی گئی۔ رمضان کو حدیث میں چونکہ غمخواری اور ہمدردی کا مہینہ کہا گیا ہے، لہٰذا تیسرا کام آپ یہ کریں کہ رمضان گزرنے کے بعد ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جو اپنی غربت و لاچاری کے مارے بنیادی ضروریات سے محروم ہونے کے باوجود اپنی خودی اور عزت نفس کو کبھی کسی کے ہاتھوں نیلام ہونا گوارہ نہیں کرتے اور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو ڈھونڈا جائے اور روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ اگر ممکن ہو تو اُن کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا جائے۔ یہ ایک طرف قوم کی تعمیر و ترقی میں آپ کا حصہ تصور کیا جائے گا اور دوسری طرف آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہو گا۔

چوتھا کام یہ کہ عموماًرمضان المبارک میں وہ تمام چیزیں جو عام حالات اور دنوں میں ہمارے لیے حلال اور جائز ہیں صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کے حکم کی پاسداری میں ترک کر دیتے ہیں، لہٰذا ہمیشہ کے لیے ہمیں اس سبق کو یاد رکھنا چاہیے اور دائمی طور پر اُن تمام حرام اشیاء جیسے سود کا مال، حرام کی کمائی، غصب شدہ اشیاء وغیرہ اور نا شائستہ صفات و عادات جیسے جھوٹ، غیبت، دھوکہ، خیانت، کام چوری، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑے اور اس جیسے دیگر بری عادات سے ہمیشہ کے لیے بچنا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھی شریعت کے جتنے اوامر و نواہی ہماری طرف متوجہ ہیں چاہے وہ ہماری انفرادی زندگی میں ہوں یا اجتماعی زندگی میں، اخلاقی امور ہوں یا معاشرتی امور کی مکمل پابندی کرنی چاہیے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہیے۔

پانچواں کام یہ کریں کہ جیسے رمضان المبارک میں خوب شوق و جذبہ کے ساتھ دن رات قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف رہے، اسی طرح غیر رمضان میں بھی قرآن پاک کی تلاوت سے اس رشتہ کی آبیاری کریں تاکہ یہ رشتہ کمزور ہونے کی بجائے مزید طاقتور اور مضبوط ہو اور اس پر مستزاد صرف تلاوت پر اکتفاء کیے بغیر قرآن کے معانی، مفاہیم اور پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں، تاکہ اگلے رمضان میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایمانی حلاوت بھی محسوس کریں۔