کیوں کریں بھئی؟ - خرم علی عمران

ہماری عظیم الشان روایتی قومی عادتوں میں سے ایک" کیوں کریں؟" بھی ہے۔ نمونے ملاحظہ کریں بھائی ذرا روزگار کی حالت کچھ بہتر تو کردو، کوئی منصوبہ بندی کوئی کوشش کرو، کوئی پلاننگ کرکے بے روزگاروں کی طویل لائن کو کم تو کرو نا؟ نجی اور سرکاری اداروں میں نئی ملازمتیں تخلیق کرو، نئی انڈسٹریز لگاؤ نا؟ جواب ملے گا، کیوں کریں؟ اچھا، مزے کی بات یہ ہے کہ یہ جواب قولا نہیں ہوگا یعنی منہ سے ایسا نہیں کہا جئے گا، بلکہ عملا ہوگا، اور مجال ہے کہ کچھ کیا جائے، اورمحال ہے کہ واقعی کچھ کرکے دکھایا جائے، کیا جانا تو دور، کچھ سوچنے اور دماغ لگانے کی زحمت بھی مشکل سے ہی گوارا کی جائیگی، ہم کیوں کریں بھئی، اور قولا کچھ یوں فرمایا اور کہا جائے گا، کہ، منصوبہ بندی کر لی گئی ہے کام شروع کر دیا گیا ہے، اس مشکل کے حل کے لیےہم پوری ہمت اور کوشش سے ساری طاقت لگادیں گے، جلد ہی اثرات و نتائج سامنے آئیں گے، اللہ مالک ہے، اللہ بہتر کرے گا۔ یہ سب قولا کہا جارہا ہوگا، اور عملا۔ وہی، کیوں کریں؟

بھائی، ذرا نظام تعلیم پر خدارا دھیان دے دو، آئندہ نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے، یہ نقل کا رجحان، یہ گرتا ہوا معیار تعلیم تو ہمارے لیے خطرے کا الارم ہے، کچھ تو کریں نا یار، قوموں کی ترقی تعلیم سے وابستہ ہے، تووہی عملی جواب ملے گا کیوں کریں، اور قولی وہی کہ دن رات محنت کی جارہی ہے، یہ ہورہا ہے، وہ ہو رہا ہے، اللہ بہتر کرے گا وغیرہ وغیرہ،

جناب! یہ کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، ہر شعبے میں کینسر کی طرح پھیل گئی ہے، پیون سے لیکر پی ایم تک اس میں مگن و محو ہیں، اس سے بڑی خرابی بڑا ہی بگاڑ آ گیا ہے، کچھ توکریں نا، جواب ملے گا، کرپشن کی اجازت نہیں دی جائے گی، آہنی ہاتھوں سے نپٹیں گے، قانون سب کے لیے برابر ہے، کڑا احتساب ہوگا وغیرہ وغیرہ، اور عملا وہی کیوں کریں بھئی؟

یہ بھی پڑھیں:   خوش رہنے والے بچوں کی سات عادات (3) - نیر تاباں

تو صاحبو! میں نے جو تین دانے دیگ کے پیش کیے ہیں اسے اسی ترتیب پر آپ ملک کے دیگر مسائل اور شعبوں پر منطبق کرتے جائیں اور آپ پر یہ حیرت انگیز انکشاف بھی ہوگا کہ مذکورہ بالا اجتماعی مسائل کے علاوہ ہماری عظیم اکثریت اپنی انفرادی زندگی میں بھی اس سنہری عادت کی خوگر ہو گئی ہے، یار، دیکھ میں تجھے ادھار دے تو رہا ہوں مگر وقت پر واپس کر دیو،، قولا، یار بکا، ٹائم سے پہلے ہی لوٹا دوں گا، پھر! عملا، وہی، کیوں کریں،۔۔ یار ذرا محنت تو لگے گی مگر کل تک یہ کام نپٹا ضروردینا، ہوجائے گا نا، قولا، آپ فکر ہی نہ کرو، عملا، کیوں کریں!

تو یہ کیوں کریں بڑی مفید عادت ہے، اور کئی فضائل و فوائدکو جامع ہے، مثلا، بے کار کی ذہنی و جسمانی محنت و مشقت سے بچاتی ہے، فکر فردا سے بے نیاز کر دیتی ہے، سکون اور غنودگی آمیز کاہلی کی وہ مہان کیفیت عطا کرتی ہے جو بڑے بڑے رشی منی سادھو کڑی تپسیا کے بعد حاصل کر باتے ہیں، وہ کسی شاعر نے کیا حقیقت پسندانہ بات کی ہے کہ

کس کس کو یاد کیجیے، کس کس کو روئیے

آرام بڑی چیز ہے، منہ ڈھک کے سوئیے

تو بھائی، اپنی پیاری اور نیاری قومی عادتوں کی حفاظت اور نگہداشت کریں کہ اس کرہ ارض پر آپ وہ واحد مملکت اور قوم ہیں جن میں اتنی عظیم الشان اور اس سطح کی عادات بہت ساری ایسی پائی جاتی ہیں جن میں سے کسی ایک یا دو کا بھی کسی اور قوم یا ملک میں پایا جانا اسے برباد کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، مگر ہم ان ساری عادتوں کے مجموعے کے حامل ہونے کے با وصف شاد ہیں، آباد ہیں، آزاد ہیں، اور دشمنوں کے سینے پر مونگ دلے چلے جارہے ہیں۔۔

ٹیگز