امریکہ، کھوکھلی انتظامیہ، بد مست عوام - ہلال احمد تانترے

مسٹر ٹرمپ کے آجانے کے بعد امریکی انتظامیہ ہمیشہ سے ہی نت نئی خبروں میں شہہ سرخی کے طور پر اپنی جگہ بناتی رہی۔ خیال رہے کہ موجودہ دنیا میں شہہ سرخی میں رہنے سے مراد انتظامی بدحالی، لوٹ کھسوٹ، گھوٹالے، جھوٹ، مکاری، دھوکہ، فریب، گھپلے، سرکاری رازوں کا لیک ہو جانا، انتظامی معاملات میں یکے بعد دیگرے ردو بدل کرنا، وغیرہ وغیرہ شامل ہے۔ ویسے بھی یہ ایک عجیب صورتحال ہے کہ میڈیا کا پورا دھیان اِنہی مدعوں پر چوبیسوں گھنٹے لگا رہتا ہے۔ دنیا میں شاذ ہی ناظرین یا قارئین کے صبح کی شروعات کو ٹیلی وژن یا اخبار والے کسی اچھی خبر سے کراتے ہیں۔ عوام کی ذہنیت بھی کچھ اسی طرف مائل ہو چکی ہے۔ علی الصبح دفتر یا دکان میں جب ایک صاحب اخبار ہاتھ میں لیے جیسے کچھ تلاش کر رہا ہوتا ہے، تو دوسرا ساتھی اس سے یہ پوچھتا ہے کہ ’آیا آج کچھ خاص خبر ہے کیا؟‘ اگر کہیں تشدد، ظلم، یا نا انصافی کے بجائے امن، شانتی یا ترقی کی بات کہی گہی ہوتی ہے، تو جواب ملتا ہے کہ ’بھائی، آج اخبار میں کوئی خاص خبر نہیں ہے‘۔ اِس کے مقابلے میں اگر کہی کوئی بے گناہ اپنی جان گنوا بیٹھا ہوتا ہے، کہی اگر تشدد کی واردات واقع ہو گئی ہو، کہی اگرکسی پر ظلم کیا گیا ہو، تو جواب ہوتاہے ’ ہاں بھائی، آج کا اخبار اہم سرخیوں سے بھر ہوا ہے‘۔ مادیت کے بے دریغ اور ناروا اصولوں کو شعار بنا کر میڈیا ایجنسیوں کا انسانیت کے اوپر یہ کسی ظلمِ عظیم سے کم نہیں ہے۔

امریکی انتظامیہ کے جملہ محکموں، ایجنسیوں اور آفسوں کا پچھلے ایک دہائی سے یہ خاصا رہا ہے کہ ایک کے بعد دوسرے متنازع اعمال میں اپنی چھاپ ڈالتے رہے۔ لیکن اس سب کے باوجود صورتحال ایسی ہے کہ یقینی ردِعمل ظاہر کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ایک بات جس کا ادراک حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ امریکی حکومت اندر ہی اندر سے اپنے جملہ محکمہ جات و اہلکاروں کے ساتھ کسی بڑی جنگ میں مصروفِ عمل ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے امریکی انتظامیہ کے اندر ایسے افراد و ایجنسیوں کی خاطر خواہ بھرتی ہوئی ہے جو ظلم و عدوان اور عناد و رساکشی میں حد سے تجاوز کرنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کررہے ہیں۔ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ میں ابھی بھی یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ اپنے دورِ حکومت میں اِن کے ہاں ایک سوچھا سمجھا میکانزم چل رہا تھا جس کے تحت امریکی عوام کی مواصلات پر کڑی نگرانی کی جارہی تھی۔ اس دوران بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اِسی نگرانی کے تحت حاصل کیا گیا مواد بعد میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے صدارتی انتخابات میں استعمال میں لایا گیا۔ اس شبہہ کو براک اوباما کا یہ بیان تقویت بخشتا ہے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے دیا کہ ــ’میرے دورحکومت میں کوئی اسکینڈال نہیں ہوا، اور جس کی کھنچا تانی کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے‘۔ یہی صورتحال ۲۰۱۶ ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران اور اس کے بعد صدر بننے کے ساتھ دیکھنے کو ملی۔ ٹرمپ کی کامیابی کے لیے روس کے اوپر یہ الزام دھر دیا گیا کہ روسی انتظامیہ نے ٹرمپ کو صدر بننے کی مشقت میں خاصی خدمت گذاری کی تھی۔ ایسے بھی بیانات سامنے آئے کہ امریکی انتظامیہ میں اس فیصلے کے حق میں پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ صدر کا سہرا ڈونلڈ ٹرمپ کو جانا ہے۔ حالانکہ اس فیصلے کے تناظر میں امریکی معاملات کے اوپر نظر رکھنے والے تجزیہ کارورطے حیرت میں رہ گئے تھے، کیوں کہ اِن تنائج کی کسی نے امید نہیں کی تھی۔ صدر بننے کے بعد ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے متعدد شہرں میں احتجاج بھی ہوئے تھے۔ اِدھر کثیر تعداد میں امریکی سیاست دانوں کے نجی ای میلز کی نگرانی کرنا بھی اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ امریکی معاملات میں بہت کچھ صحیح نہیں ہو رہا ہے۔ صدارتی مہم کے دورا ن ٹرمپ کی حریف ہیلری کلنگٹن(جو کہ اُس وقت امریکہ کی سکریٹری آف اسٹیٹ بھی تھیں) کی نجی ای میلز و باقی پیغامات کی خاصی نگرانی ہوتی رہی۔ بعد میں دیکھا گی کہ مسز کلنگٹن نے ۳۳۰۰۰ پیغامات کو حذف اور کچھ برقی آلات بھی تبا ہ کر ڈالے تھے۔ اسی طرح سے ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغی توازن پر سوال اٹھائے جانے اوراُس مشتبہ سوچ کے تناظر میں اُن کے متعدد فیصلے لینے اور متنازع بیانات دینے سے بھی یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر بہت کچھ گڑ بڑی کا معاملہ چل رہا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں اندر ہی اندر سے اتنی ساری بدعنوانیوں کا انبار ہونے کے باوجود کوئی کچھ کیوں نہیں بول رہا ہے۔ اس کا جواب ایک تو امریکی چودھراہٹ میں صاف دکھائی دے رہا ہے، جس کے مطابق عالمی رائے عامہ کو بہکانے میں ذرائع ابلا غ کا اپنے مفاد کے تعیں استعمال کرنا شامل ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ امریکی عوام کااپنے ملک کے نظام سے قطع تعلقی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اور وہ اس لیے کہ نفس ومادہ پرستی کے عالم میں امریکی عوام کو کسی بھی چیز سے اب سروکار نہیں رہ گیا ہے۔ اپنی زندگیوں کو عیش و عشرت کے منتہائے عراج پر جینے سے اُنہیں کسی سیاست یا معیشت سے کیا لینا دینا۔ اس چیز نے انہیں ایک تو باہر کی دنیا سے ناآشنا کر دیا ہے، وہی دوسری طرف وہ خود بخود اپنے آپ سے بھی غافل ہو رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف پنسلوینیا میں Annenberg Public Policy Center کی طرف سے ایک تحقیق میں ا س بات کے قوی شواہد و آثار ملے ہیں کہ امریکی عوام کی اکثریت اپنے ملکی نظام کے بنیادوں سے بالکل نا آشنا ہے۔ تحقیق کے مطابق امریکی آبادی کا محض ۲۵ فیصد حصہ اپنے ملک کے جملہ انتظامی حصوں کے نام بتا سکتے ہیں۔ باقی ۷۵فیصد حصہ اس بنیادی انفارمیشن سے بے خبر ہے۔ امریکی آئین کے تناظر میں اکثریت کو یہ پتہ تک بھی نہیں ہے کہ جنگ چھیڑنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اسی طرح سے ملک کے جملہ انتظامات کا نظم ونسق کس قانون کا پاپند ہے، امریکی عوام اس حوالے سے بھی بے فکر نظر آرہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعدادو شمار ۲۰۱۶ ء میں جمع کیے ہیں۔ موجودہ امریکی عوام کا بے فکر کھراٹے مارنے کی صورتحال اس طرح سے کتنی شدید ہوگی، اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

اسی تناظر میں گزشتہ مہینے امریکہ نے اسرائیل کی غیر اخلاقی و غیر قانونی ریاست میں اپنا سفارت خانہ بڑی بے شرمی و ڈھٹائی کے ساتھ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا۔ اپنی ۷۰ سال کی ناجائز ولادت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو جیسے یہ ایک حسین و جمیل تحفہ دے دیا۔ جس پر فلسطین کے باسیوں نے شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران طاقت کے نشے میں چور اسرائیلی فوج نے آہنی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے قریباً ۴۳ افراد کو ہلاک اور ہزاروں کو زخمی کر دیا۔ واضح رہے کہ متعلقہ فیصلے پر امریکہ کے سابق تین صدور(بل کلنٹن، جارج بش اور باراک اوباما)بہت سوچتے رہے لیکن کچھ عملی اقدام نہیں اٹھا سکے تھے۔ یہ سحرا صرف موجودہ صدر کو جاتا ہے جس نے یہودیوں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے انہیں ۷۰ سالہ سالگرہ کے موقع پر جیسے ایک تحفہ دے دیا۔ حالاں کہ دسمبر ۲۰۱۷ ء میں اس فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں۱۳۷ حاضر ممالک کے مندوبین میں سے ۱۲۸ ممالک نے اپنی بے زاری کا بر ملا اظہار کیا تھا۔

مندرجہ بالا تناظر میں امریکی کا اسٹریجک ناکامی کی طرف اشارہ کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، جس کے تحت امریکہ کا اپنے ہی قائم کیے ہوئے مفروضوں سے منہ موڑتے ہوئے کسی اور مقصد کی طرف لپٹ جانا معنیٰ خیز ہے۔ آئی ایس ایس، طالبان، القاعدہ، پاکستان، ایران، مشرقی وسطیٰ، دہشت گردی، انتہا پسندی، موسمی بدلاؤ وغیرہ قائم کیے گئے مفروضوں سے ہزیمت اٹھاتے ہوئے لے باہر جانے کی طرف گامزن امریکہ اس سال کے اوائل میں جب شمالی کوریا کی طرف لپٹ گیا، تو وہاں سے بھی کچھ ہاتھ نہ آنے کے بعد اپنی ہی اُٹھائی گئی پلید کو صاف کرتے ہوئے اب راہ فراری اختیار کر رہا ہے۔ اسی چیز کا ایک اور واضح ثبو ت امریکہ کی دفائی حکمت عملی برائے سال ۲۰۱۸ ء میں بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جہاں یہ اعترف کیا گیا ہے کہ ’ہماری مسابقتی برتری اب بہتی چلی جارہی ہے، ہم اس وقت عالمی بے چینی سے دوچار ہیں جس کی شدت ماضی قریب میں بھی اتنی نہیں دیکھی گئی، جتنی آج محسوس کی جارہی ہے، ہمارے لیے دہشت گردی نہیں، بلکہ بین ریاستی دفائی مقابلہ آرائی سب سے بڑا چیلنج ہے‘۔

حکومت اور عوام کے مابین ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ دونوں کے مابین توازن و توسط قائم رہنا ملک کی سلامتی کا عکس آئینہ ہوتا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا بھی اس حوالے سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن امریکہ اور وہاں مقیم لحاف اوڑھی ہوئی عوام کی صورتحال اس تناظر سے بالکل ہی مختلف ہے۔ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی تیسرا ایجنٹ (third party) ا س ملک کے جملہ انتظامات چلا رہا ہے، جس کا ہدف صرف اپنے مقاصد حاصل کرنا ہے، قطع نظر اس سے کہ ملک و عوامِ امریکہ کا حال کتنا بھی بے حال ہوجائے۔ گوکہ یہ بات امریکہ پر ابھی واضح نہیں ہے لیکن قرین قیاس ہے کہ وقت قریب میں یہ بات اُن پر منکشف ہو جائے گی او اُس وقت اُنہیں کفِ افسوس مَلنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */