کس قیامت کے نامے یہ مرے نام آتے ہیں - خرم علی عمران

عالی جناب، شہنشاہِ عالم، شاہِ باوقار و پر خار، محترم ڈونلڈ ٹرمپ صاحب بہادر!

جناب عالی، بہت معذرت کہ پھر جلدی تکلیف دے رہا ہوں، پر کیا کروں؟ میں اس کائنات میں شاید آپ کا سب سے بڑا عقیدت مند ہوں اور اب تو مجھے لگتا ہے کہ یہ عقیدت جیسے محبت میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں گلیوں میں گریباں چاک کیے ٹرمپ، ٹرمپ پکارتا نظر آؤں اور جناب جیسے عفت مآب، نیک، شریف اور باکردار و بے وقار فردِ فرید کی مزید بدنامی کا باعث بن جاؤں، لوگ آپ کو میرا نام لے لے کر چھیڑیں اور آپ دھیرے سے من من مسکائیں اور لجائیں پر بظاہر سنجیدہ سے نظر آئیں جو کہ اپ کے لیے نظر آنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ یہ تو مجھے پتہ ہے، خدا نہ کرے کہ ایسا ہو، اور اگر ایسا ہوا تو یقین کریں جناب عالی! لوگ پھر لیلیٰ مجنوں، رومیو جولیٹ، راک ہڈسن جل جونی سب کو بھول جائیں گے، زمانہ صدیوں تک ہماری پاکیزہ محبت کے گیت گائے گا، فلمیں بنائی جائیں گی اور کہانیاں لکھی جائیں گی، ہک ہا، کتنا بھیانک تصور ہے، اللہ معاف کرے!

تو جناب والا! واقعات کی رفتار ہی اتنی تیز ہے کہ آپ سے گفت و شنید کرنی ہی پڑ جاتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں، لوگ باتیں بنا رہے ہیں کہ ہمارے ایک بھولے بھالے سے سابق وزیر اعظم نے روایتی بھول پن میں کچھ ایسے بیانات دے دیے ہیں کہ آپ کو غصہ سا آ گیا ہے، جبین ناز پر شکن آ گئی ہے اور آپ نے اسرائیل کو گو-اہیڈ دے دیا ہے کہ وہ آپ کے بڈی نریندر موذی، اوہ سوری! جناب نریندر مودی کی بہادر فوج کے ساتھ مل کے ہمارا ایٹمی پلانٹ تباہ کردے۔ سر جی! اس سلسلے میں چند پہلو قابل غور ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ آپ ہمارے بھولے میاں کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا کریں، ہم بھی نہیں لیتے۔ وہ اکثر لسی کے نشے میں ایسی بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں اور پھر بے چارے ذرا پریشان سے بھی ہیں آج کل کہ ان کی عمر بھر کی سو فیصد حق حلال اور دن رات کی محنت کرکے کی گئی کمائی پر خوامخواہ ہی پانامہ والی تھیوری کا اطلاق کرکے اسے مشتبہ بنایا جارہا ہے، اس لیے وہ کبھی کبھار ایسی باتیں کر جاتے ہیں خصوصاً جب دوا کھانا بھول جائیں۔ بہرحال، ان کا علاج جاری ہے اور حکیم بغل بتوڑا صاحب نے شفائے کاملہ عاجلہ و اڈیالہ کی نوید سنادی ہے۔

دوسری بات یہ کہ سر ہمارا کیا ہے؟ سب آپ ہی کا ہے، کیا میرا اور کیا تیرا، ہم کوئی غیر ہیں کیا؟ اب آپ اپنا ہی ایٹمی پلانٹ تباہ کروائیں گے، وہ بھی غیروں سے مل کر؟ یہ تو نہ کریں نا اب۔ مجھے تو وہ مشہور گانا بڑے زور سے آ رہا ہے کہ "غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم، اے جانِ وفا یوں ظلم نہ کر"۔ ارے! آپ ذرا پیار سے ہم سے کہیں ہم خود چوہا بم لگاکر اپنا ایٹمی پلانٹ آپ کی ایک مسکراہٹ پر قربان کردیں گے۔ کہاں آپ اسرائیل اور انڈیا کو مسلم کشی جیسے اہم کام میں مصروف ہونے سے ہٹا کر اس کارِ عبث میں لگا رہے ہیں؟ وہ لوگ تو ویسے بھی نشانے کے کچے اور جوانی میں مانجھا ڈھیلا والے عاشق شچے کی بہترین مثال ہیں۔ کہیں غلط نشانہ لگ گیا تو آپ کا کوئی بحری بیڑہ ہی نہ اڑا دیں۔ سر! اگر ایسا ہوا تو میں برداشت نہیں کرسکوں گا، بتائے دے رہا ہوں، فوراً پرانے درد بھرے پاکستانی گانوں کی ڈی وی ڈی آپ کو بھجواؤں گا۔ پھر ہم دونوں مل کر آہ و زاریاں کریں گے، میں پکاروں گا ہائے بیڑہ! آپ کہنا ہائے غلط نشانہ! خوب گزرے گی۔

اچھا، اب یہ شمالی کوریا جیسا پدی آپ کو برا بھلا کہے، تڑیاں لگائے، یہ ہمیں کس طرح گوارا ہے، آپ ایسا کریں کہ چند ارب ڈالر، یہی کوئی 100 یا 200، ہمیں بھجوادیں ہم اپنے کوریا کو پیار سے سمجھا دیں گے وہ آپ سے صلح کر لے گا۔ سر جی! ہم اور کوریا بہت پرانے بلکہ بچپن کے دوست ہیں، وہ ہماری بات نہیں ٹالے گا، ڈالر منگوانے کی وجہ دنیا کو اپ کی سخاوت کا عظیم مظاہرہ بھی دکھانا ہے کہ دنیا والو! دیکھو، میرا ٹرمپ اتنا سخی ہے کہ حاتم طائی بھی اس کے سامنے پانی بھرتا نظر آتا ہے اور یہ بھی کہ ہم ان ڈالرز میں سے آدھے اپنے ڈئیر کم جونگ ال کو دے کر معاملہ رفع دفع کرادیں گے، آپ کو ملنے کی زحمت بھی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ غور کیجیے بلکہ اپنے دان شوروں مطلب دانشوروں سے غور کروائیے گا اس نادر مفت مشورے پر کیونکہ آپ کو غور و فکر کی فرصت اور ہمت کہاں، فائدہ ہی ہوگا، ہاں!

اچھا، اب اجازت دیں، حسبِ سابق ملکہ عالیہ و دخترانِ باعفت کو میری جانب سے بلکہ تمام پاکستانی عقیدت مندوں کی جانب سے دیر تک خصوصی والا پیار اور دعا ضرور دے دیجئے گا۔ پھر ملیں گے جلد ہی، اب آپ کے بنا چین کہاں؟

آپ کا عقیدت مند نما عاشق نما خادم،

حقیر فقیر بندۂ پرتقصیر،

خرم علی عمران