گفتگو میں مشکل الفاظ کیوں؟ - بشارت حمید

اللہ تعالٰی نے سورہ الرحمٰن کے آغاز میں ارشاد فرمایا " الرحمٰن (جس نے) قرآن کی تعلیم دی۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اسے بولنا سکھایا"۔ بلاشبہ بولنے کی صلاحیت جو اس زمین پر موجود لاکھوں مخلوقات میں سے صرف انسان کو دی گئی ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان اپنی زبان کی حرکات سے مختلف الفاظ ادا کرکے دوسرے انسانوں تک اپنا مافی الضمیر پہنچا لیتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں مافی الضمیر کے اظہار کے لیے مختلف الفاظ پر مشتمل مختلف زبانیں وجود میں آئیں۔ انسانوں کی ان مختلف زبانوں کو سمجھنے کے لیے مترجمین نے ہر زبان کے الفاظ اور جملوں کے دوسری زبان میں مفہوم کو سمجھنے کے لیے قواعد ترتیب دیے جن کی مدد سے ہم ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرکے بات سمجھ لیتے ہیں۔

زبان یا لینگوئج بنیادی طور پر ایک میڈیم اور چینل ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے میں اور آپ اپنی بات ایک دوسرے کو سمجھا لیتے ہیں۔ انہی الفاظ کے ذریعے ہم خوشی اور غم کا اظہار بھی کرتے ہیں محبت اور نفرت بھی انہی الفاظ سے ہی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ الفاظ ہر زبان میں چند حروف تہجی کا مجموعہ یا مرکب ہوتے ہیں اور ہر حرف کی ایک مخصوص آواز یا ساونڈ ہوتی ہے جن کو ہم اپنی زبان سے ادا کرکے بات چیت کرتے ہیں۔ ہر زبان میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن کے ذریعے ہم اچھی یا بری گفتگو کرتے ہیں۔ اچھی گفتگو ماحول میں اچھے اثرات مرتب کرتی ہے اور بُری گفتگو بُرے۔ اس ساری تمہید سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ کوئی بھی زبان بذات خود اعلیٰ یا ادنیٰ نہیں ہوتی بلکہ اس کے بولنے والے کے الفاظ کا چناؤ گفتگو کے معیار کا تعین کرتا ہے۔

ہم جس مجلس میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں اگر تو اس مجلس میں تمام لوگ علمی اور عقلی لحاظ سے بلند درجہ رکھتے ہوں تو اور بات ہے ورنہ اگر عوام الناس کی مجلس میں گفتگو کرنی ہو تو وہاں سامعین کی زبان دانی اور زبان فہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی جائے تاکہ جو پیغام ہم ان تک پہنچانا چاہ رہے ہیں وہ اسی مفہوم کے ساتھ ان کی سمجھ میں آ جائے جو مفہوم ہمارے ذہن میں ہے۔ بعض دوست اس بات کا لحاظ کیے بغیر ایسے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں جن سے ان کی علمیت اور زبان دانی کا اظہار تو یقیناً ہو جاتا ہے لیکن سامعین کو ان کی گفتگو مشکل الفاظ کی وجہ سے پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔

یہی معاملہ تحریر کا ہے۔ اگر تحریر ادبی رنگ لیے ہوئے زیادہ ثقیل الفاظ پر مشتمل ہے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ قاری کے سر کے اوپر سے گزر جائے گی اور مصنف جو بات قارئین تک پہنچانا چاہتا ہے وہ درست انداز سے نہیں پہنچ پائے گی۔ جس کا نتیجہ غلط فہمی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ اس لیے دوسروں پر اپنے علم کا رعب ڈالنے کی بجائے ایسی زبان استعمال کی جائے جو عام فہم ہو اور بات کو بہتر انداز سے واضح کر سکے۔

ایک اور معاملہ دوسری زبانوں سے مرعوبیت کا بھی ہے۔ مثال کے طور پر ہم پنجاب میں رہنے والے اکثر لوگ گھر میں پنجابی بولنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور مادری زبان ہونے کے باوجود پنجابی بولتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ اس کی بجائے بچوں سے اُردو یا انگلش میں بات کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں حالانکہ اپنی زبان پر شرمندہ ہونے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ تو ایک کمیونیکیشن میڈیم ہے جس کا مقصد ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچانا ہے۔ اپنی مادری زبان پر یہ شرمندگی زیادہ تر ہم پنجابیوں میں ہی پائی جاتی ہے جبکہ دوسرے تمام خطوں کے لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے ہم زبان سے مل کر فوری اپنی زبان میں گفتگو کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن مغربی پنجاب والے نامعلوم کیوں دوسری زبانوں کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ حالانکہ دوسری زبان کچھ دیر بول لیں تو منہ بھی درد کرنے لگ جاتا ہے جبکہ اپنی مادری زبان میں بندہ گھنٹوں بولنے سے بھی نہیں تھکتا۔

گفتگو ایک مقرر اور تحریر ایک مصنف کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے ان دونوں اصناف میں آسان اور مثبت الفاظ کا استعمال جہاں بات کو درست پیرائے میں واضح کرتا ہے وہیں شخصیت کا ایک اچھا تاثر بھی سننے اور پڑھنے والوں کے ذہن میں پیدا کرتا ہے اس لیے زیادہ ثقیل اور مشکل الفاظ استعمال کرنے کی بجائے سادہ اور عام فہم زبان میں بات کرنا ہر لحاظ سے سودمند ثابت ہوتا ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.