گورکن-ریحان اصغر سید

کالی رات میں آسمان سے بارش اس طرح برس رہی تھی کہ لگتا تھا اب کبھی نہیں تھمے گی۔ جب بجلی چمکتی تو اس کی روشنی میں آسمان سے پانی کی چادریں زمین پر اترتی نظر آتیں۔ بادلوں کی گھن گرج دل کو دہلا رہی تھی۔ اس اثنا میں ایک سرخ رنگ کی پرانی سوزوکی کلٹس پانی سے بھری ایک سڑک پر رینگ رہی تھی۔ گاڑی میں تین لوگ بیٹھے تھے۔ اگلی سیٹوں پر دو نوجوان اور پیچھے ایک لحیم شحیم پولیس والا بڑی مشکل سے سیٹ میں پھنسا سا نظر آتا تھا۔

"سڑک پر پانی بہت زیادہ ہے، مجھے لگ رہا ہے یہاں گاڑی بند ہوجائے گی اور ہم یہاں پھنس جائیں گے."

گاڑی کے ڈرائیور فہیم نے بیک ویو مرر میں پولیس والے کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا۔ اونگھتا ہوا پولیس والا چونک کے بیدار ہوا۔ اس نے سستی سے گردوپیش کا جائزہ لیا اور نیم دلی سے اعتراف کیا کہ واقعی سڑک پر پانی زیادہ ہے اور گاڑی کے انجن کا اس میں ڈوب کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ کچھ دیر خاموشی رہی جس میں بارش کی بوندوں کی کار کی باڈی پر گرنے کی آوازیں اور ونڈ سکرین پر پوری رفتار سے چلتے وائپرز کی آواز سنائی دیتی رہی۔

"میں تم لوگوں کو مزید تکلیف دینا تو نہیں چاہتا۔۔۔لیکن کیا کروں مجبوری ہے۔ اس طوفانی بارش میں اگر میں نے پیدل گھر جانے کی کوشش کی تو میں اندھیرے میں کسی گٹر کے کھلے مین ہول میں بھی گر سکتا ہوں۔ میری سرکاری گن، موبائل فون اور دوسرا سامان بھی بھیگ جائے گا۔ جہاں اتنی نیکی کی ہے وہاں ایک دو کلومیڑ کی زحمت اور کرلو."

پولیس والے نے درخواست کے الفاظ میں حکم سناتے ہوئے کہا۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ گھر پہنچنے تک اس کا گاڑی سے اترنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

"یہاں سے کچھ پیچھے ایک متبادل رستہ بھی ہے وہاں سے چلے جاتے ہیں"

پولیس والے نے پلان بی پیش کیا۔

"سر، آپ مروائیں گے ہمیں"

فہیم نے دل ہی دل میں پولیس والے کو گالیاں دیتے ہوئے یو ٹرن لیا۔ وہ اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے اس زندہ لاش کو کار میں لفٹ دی تھی۔ پسینجر سیٹ پر بیٹھے حمزہ کے چہرے پر بھی بیزاری کے تاثرات تھے۔ کار اب نسبتا تنگ گلیوں میں چل رہی تھی۔

"یہاں سے دائیں لے لو۔۔ یہ راستہ قبرستان کے بیچ میں سے گزرتا ہے۔ قبرستان سے گزر کر میرا گھر نزدیک ہی ہے۔پھر تم لوگ فارغ ہو"

پولیس والے نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو تسلی دی۔ قبرستان کا اندرونی راستہ کسی ترقیاتی کام کے سلسلے میں ادھڑا ہوا تھا۔ ہر طرف مٹی اور اینٹیں بکھری ہوئی تھیں بارش کے پانی نے صورتحال کو مزید بدتر بنا دیا تھا۔چھوٹی سے کار اینٹوں پر اچھلتی اور کیچڑ پر سلپ ہوتی چل رہی تھی۔ چند سو گز کا فاصلہ فہیم کو ہزاروں میلوں پر محیط لگ رہا تھا۔اچانک ہی کار سلپ ہو کر تیزی سے گھومی اور ایک درخت سے ٹکرا کے بند ہو گئی۔ فہیم نے بے اختیار ایک موٹی سی گالی گاڑی کو خود کو راستے کو اور پولیس والے کو دی۔ کار بند ہونے سے گاڑی کی ہیڈ لائٹس بھی بند ہوگی تھی۔ لگتا تھا بونٹ کے درخت سے ٹکرانے سے بیڑی کا وائرنگ سے کنکشن بھی منقطع ہو گیا ہے۔فہیم نے بے اختیار چابی سے سلف گھمانے کی کوشش کی لیکن کار کسی مردے کی طرح بے جان لگ رہی تھی۔

"لے بھائی تو گھر ڈراپ ہو جا۔ ساڈی خیر اے۔"

حمزہ نے جلے بھنے انداز میں کہا۔

"صبح تک تو راستہ ٹھیک تھا۔۔۔بارش نے ستیاناس کر دیا ہے ہر چیز کا"

پولیس والے نے بارش کو گالی دی۔ ہر طرف گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ بارش پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے برس رہی تھی۔ کار میں بیٹھے لوگوں کو لگ رہا تھا ان کی کار کسی آبشار کے نیچے کھڑی ہے۔ فہیم کو اپنے نئے بوٹوں کی فکر تھی۔ اس نے اپنا بٹوا اور موبائل نکال کر ڈیش بورڈ پر رکھا۔ اندر سے بونٹ کو کھولا اور حوصلہ کر کے باہر نکل آیا۔ فہیم کو اندھیرے میں آسمانی بجلی کا ہی آسرا تھا جو ہر تھوڑی دیر بعد کچھ لمحوں کے لیے گردوپیش کو روشن کر دیتی تھی۔ کار کا بمپر ٹوٹ گیا تھا۔ ریڈی ایٹر ایک طرف سے اپنے فریم سے نکل گیا تھا۔ ایگساٹ فین بھی ٹیڑھا ہو کے انجن کی جانب جھک گیا تھا۔

"اب گاڑی کا اسٹارٹ ہونا ناممکن ہے۔۔۔میکنک کے پاس لے کر جانی پڑی گی"

فہیم نے باہر سے ہی چلا کے کہا۔

"لعنت ہے"

حمزہ نے پولیس والے کو گھورا اور باہر نکل آیا۔

"حضور آپ بھی باہر تشریف لے آئیں۔۔۔آئیں میں آپ کو کندھوں پر بیٹھا کے گھر چھوڑ آوں"

پولیس والے نے سنجیدگی سے فہیم کی پیشکش پر غور کیا پھر شاید اس کی صحت کو دیکھتے ہوئے انکار میں سر ہلاتا کار سے باہر نکل آیا۔

"سوری جوانو! لیکن دو چار گھنٹے کی بات ہے صبح ہونے والی ہے۔ صبح تمھیں کوئی نہ کوئی چیز ضرور مل جائے گی جس سے تم کار کو باندھ کر ورکشاپ لے جا سکو"

پولیس والے نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے روانہ ہونے کے لیے پر تولے۔

"کمال کر رہے ہو بھائی جان۔۔۔ہمیں اس اندھیری رات اور طوفانی بارش میں پھنسا کے خود نکلنے کی تیاری میں ہو۔۔۔انسانیت بھی کوئی چیز ہے کہ نہیں"

حمزہ نے غصے سے کہا۔ اسی اثنا میں بجلی چمکی تو اردگرد کھڑے درخت اور قبریں بھوتوں کی طرح نظر آئیں۔۔لیکن پولیس والے کو کچھ اور بھی نظر آ گیا تھا وہ بڑے چونکے ہوئے انداز میں ایک جانب دیکھ رہا تھا۔

"وہاں آم کے درخت کے پاس کچھ لوگ قبر کھود رہے ہیں"

کچھ لمحے کے لیے جب ماحول دوبارہ روشن ہوا تو اس نے اعلان کیا۔ فہیم اور حمزہ نے اس جانب دیکھا تو انھیں بھی کچھ دور قبرستان کے اندر تین لوگ ایک قبر کے گرد کھڑے نظر آئے جن کے پاس ٹارچ بھی تھی۔

"لگتا ہے یہ لوگ کوئی لاش ٹھکانے لگا رہے ہیں"

پولیس والے نے جوش سے کہا۔ "قبرستان لاشیں ٹھکانے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے"

فہیم نے اعتراض کیا۔

"اوے کھوتے۔۔مجھے یہ کوئی قتل وغیرہ کا کیس لگتا ہے ورنہ اتنی اندھیری رات اور بارش میں کون قبر کھودتا ہے۔۔۔چلو چل کے دیکھتے ہیں"

فہیم اور حمزہ تذبذب کا شکار تھے۔ پہلے ہی وہ پولیس والے کو لفٹ دے کر مصبیت میں پڑ گئے تھے۔ اب وہ ایسے آدمی کے لیے ایک قدم بھی اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھے جس نے اپنا کام نکلنے پر انھیں چند گھنٹوں کے لیے اپنے مکان میں پناہ کی پیشکش تک نہیں کی لیکن پولیس والا کسی طرح انھیں راضی کر کے مشکوک افراد کی طرف بڑھتا ہے۔ قبر کے پاس کھڑے کام میں مصروف افراد اپنے کام میں مگن ہیں ان میں سے دو نوجوان ہیں اور ایک بوڑھا۔

"کیا کر رہے ہو تم لوگ۔۔۔قتل کر کے لاش ٹھکانے لگا رہے ہو"

پولیس والا اپنی سرکاری گن نکال کر اونچی آواز میں چلایا۔ کام میں مصروف افراد نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"بادشاہو۔۔۔کونسا قتل اور کیسی لاش؟ ہم تو گرتی ہوئی قبر کی پشت پر مٹی ڈال رہے کہ بارش سے تباہ نہ ہو جائے"

ٹارچ ہاتھ میں پکڑے بوڑھے نے پولیس والے کی دھاڑ کے بدلے میں اس پر ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے قدرے بیزاری سے کہا۔

"یہ کون سا وقت ہے قبر کو درست کرنے کا۔۔۔تمھیں تھانے جا کے چھتر ماروں گا تمھاری ساری ہوشیاری ہوا ہو جائے گی۔"
پولیس والے نے بوڑھے سے ٹارچ چھین کر اسے ہلکا سے دھکا دیا جس سے بوڑھا ڈگمگا سے گیا۔

"چوہدری صاحب نے چار پانچ دن پہلے کے پیسے دے ہوئے تھے کہ طوفانی بارش کی پیش گوئی ہے اس سے پہلے پہلے میری والدہ کی قبر مرمت کر دینا۔۔لیکن میں سستی کر رہا تھا۔مجھے کیا پتہ تھا اتنی طوفانی بارش آ جائے گی۔ چوہدری صاحب فجر پڑھ کر سیدھا قبرستان کا رخ کرتے ہیں۔۔مجھے تو اس خیال سے نیند نہیں آ رہی تھی کہ یہ نہ ہو صبح قبر گر جائے۔ اس لیے میں اپنے بیٹوں کو جگا کے کام پر لگ گیا ہوں۔۔۔آپ خواہ مخواہ مشکوک ہو رہے ہیں سرکار"

بوڑھے نے اس دفعہ قدرے نرمی سے تفصیل بتائی۔ اس کایا پلٹ کی وجہ شاید وہ پستول تھا جو پولیس والے نے ان پر تان رکھا تھا۔ پولیس والے نے ٹارچ کی روشنی میں قبر کا تفصیلی جائزہ لیا بظاہر بوڑھا درست کہہ رہا تھا لیکن شاید پولیس والے کو فہیم اورحمزہ کے سامنے خجالت کا احساس ہو رہا تھا۔

"بکواس نہ کرو۔۔۔یہ اوزار نیچے رکھو اور میرے ساتھ تھانے چلو"

اب شاید وہ گورکنوں سے خرچہ پانی بنانے کی فکر میں تھا۔

"سرکار۔۔۔وہ سامنے والا کوٹھا ہمارا ہے۔۔غریب لوگ ہیں۔۔۔مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں"

بوڑھے نے قبرستان کے کنارے پر بنے ایک کچے پکے مکان کی طرف اشارہ کیا لیکن پولیس والے نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا۔یہ ایک غلطی تھی بوڑھے کے نوجوان بیٹے سے اپنے باپ کی توہین برداشت نہ ہوئی اس نے پوری طاقت سے پولیس والے کی ناک پر مکا مارا۔ پولیس والا الٹ کر فہیم کے قدموں میں گرا۔ اس کے ہاتھ سے ٹارچ اڑ کے کچھ دور پانی سے بھرے ایک گڑھے میں گر کر بند ہو گئی۔ ہر طرف گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد جب بجلی چمکی تو پولیس والے کا سر کسی ناریل کی طرح چٹخا ہوا ملا شاید اس کا سر پورے وزن سے اینٹوں سی بنی قبر کے کنارے سے ٹکرا گیا تھا۔

"اوے جنگلی، یہ کیا کر دیا تم نے پولیس والے کو جان سے ہی مار دیا"

فہیم نے رعب سے دھکا دینے والے نوجوان کا گریبان کھینچا جو خوفزدہ نظروں سے لاش کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد بوڑھا اور اس کے بیٹے فہیم اور حمزہ کے قدموں میں پڑے تھے۔ وہ بری طرح خوفزدہ تھے اور اس بن بلائی مصیبت سے ہر قیمت پر جان چھڑوانا چاہتے تھے۔ اگلے ادھے گھنٹے میں وہ تینوں چوہدری صاحب کی والدہ کی قبر کی پٹریاں اٹھا کے پولیس والے کے لاش اس میں منتقل کر کے قبر پر مٹی ڈال رہے تھے۔ فہیم اور حمزہ لا تعلقی سے ایک پختہ قبر پر بیٹھے ان کو دیکھ رہے تھے۔ گاڑی کی نمبر پلیٹیں اتار کر سیٹ کے نیچے چھپا دیں ہیں نہ؟

حمزہ نے فہیم سے پوچھا۔
"ہاں"

فہیم نے مختصرا کہا۔

کام مکمل ہوتے ہی تینوں گورکنوں نے دھکا لگا کر گاڑی کو پختہ گلی تک لے آئے۔۔یہاں فہیم نے ایک گھر کی لائٹ کے نیچے ریڈی ایٹر کو سیدھا کیا اور بیٹری کا ٹرمنل کس کے لگا دیا۔۔ دوسرے سلف پر گاڑئ سٹارٹ ہو گئی۔ جب وہ دونوں اُن تینوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوئے تو پسنجر سیٹ پر بیٹھے حمزہ نے دو سگریٹ سلگا کے ایک اپنے بچپن کو دوست کو دیا اور کہا۔

"جو اینٹ تم نے استعمال کی تھی اس پر پولیس والے کے بال خون اور گوشت لگا رہ گیا تھا۔۔۔میں نے گڑھے کے پانی سے اینٹ اچھی طرح سے دھو کے ایک ٹوٹی قبر میں پھینک دی تھی"

فہیم کچھ دیر حیرت سے حمزہ کو دیکھتا رہا پھر دونوں دوست مسکرا دیے۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.