تراویح میں شرارتیں اور نوجوانوں کی مسجد سے دوری – طلحہ زبیر بن ضیاء

میں مسلمان نوجوان ہوں، اکثر تنقید کی زد میں رہتا ہوں۔ ہمارے ایک محترم بزرگ نے مجھے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھیجی جس میں مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان تھا جس میں وہ نوجوانوں کے کردار پر بات کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ ہماری (نوجوانوں) کی تباہی کی وجہ اسلام سے دوری ہے۔ بلا شبہ ان کی بات سو فی صد درست تھی کہ ہم تو صرف جمعہ یا عید کے دن ہی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔

خیر! میں عشاء کے اوقات میں مسجد گیا تو تروایح سے پہلے اعلان ہوا کہ "بچوں کو مسجد میں مت لائیں، نماز تراویح خراب ہوتی ہے جو بچے آئے ہیں وہ شور مت کریں" جبکہ بچے تو بہت خوش ہوتے ہیں کہ رمضاں آگیا ہے تو مسجد جائیں گے۔ جب ان کو سختی سے روکا جاتا ہے تو ان میں ایک بغاوت جنم لیتی ہے۔ یوں مسئلہ کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا کہ ہم نے وہ نوٹ بھی پڑھا تھا کہ بچوں کو مسجد میں مت لائیں۔ مگر بچے تو بچے ہوتے ہیں وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آتا ہے اور ایک بچے کو تھپڑ رسید کرتا ہے۔ یہاں پر ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ہاں! مسئلہ یہاں ہے، یہاں سے ہی ہم اسلام سے دور ہوتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بچے کی یاداشت کم ہوتی ہے، وہ جلد ہی بھول کر دوبارہ اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے، وہ مسلسل سیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے اردگرد کے مشاہدات سے اپنا مستقبل لکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اس کو مارنا یا سختی سے روکنا اس کے لیے بالکل بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ عمل بچے کو بغاوت پر اکساتا ہے کہ کیوں مارا؟ کیوں روکا؟ اس کو سمجھائے بغیر مارنا اس کو خلاف کرنا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ مسجدمیں شور نہیں کرتے۔ اگر روکنا مقصود ہو تو بچے کو پیار سے بلائیں اور کہیں بچوں مسجد میں شور نہیں کرتے۔ وہ ایک دفعہ نہیں سمجھتے، کچھ دیر بعد دوبارہ کہیں کہ بچو! آپ کو ہم نے سمجھایا تھا۔ بچے ایک دفعہ نہیں تو دوسری مرتبہ سمجھ جائیں گے اگر آپ ان کے لیے مسجد میں کو اسلامی ایکٹیویٹی کا اہتمام کر دیتے ہیں تو یہ آپ کا اس نسل پر احسان ہوگا۔ ان کو بلائیں اور ان کا ایک مقابلہ کروا دیں کہ جو بچہ مجھے یہ دعا سنائے گا اس کو یہ انعام ملے گا یا چند دعائیں دے کر ایک دن کا وقت دے دیں لیکن اگر آپ سختی کریں گے، سمجھائے بغیر آپ ان کو ماریں گے تو آپ کو برے القابات میں یاد رکھیں گے اور مسجد سے بھی دور ہو سکتے ہیں۔

ایک واقعہ بیان کرتا ہوں کہ ہم بچپن میں نماز پڑھنے مسجد میں جاتے اور بہت شوق سے جاتے۔ یہاں تک کہ صبح اٹھ کر ہمیں مسجد جانے کی جلدی ہوتی۔ پھر ایک دن عصر کی نماز کے اوقات میں ہم پارک میں کھیل رہے تھے، اذان ہوئی تو مسجد چلے گئے تو وہاں موجود امام صاحب نے فوری کہا کہ گندے کپڑے لے کر مسجد مت آیا کرو۔ وہ کپڑے نیکر شرٹ تھی۔ اس سے کچھ عرصہ بعد میرے لیے والدہ ایک نہایت خوبصورت نیکر اور شرٹ لائیں جسے ہم نے فوری رجیکٹ کر دیا اور اس دن سے ہم مسجد سے دور ہونا شروع ہوئے۔ پھر نماز تراویح میں ہمارے ایک مرتبہ کان کھینچے گئے، اس کے بعد ہم میں بغاوت کی لہر اٹھی اور آہستہ آہستہ ہم مولوی صاحبان کے رویّے سے دور ہوتے چلے گئے۔

اب یہاں مسئلہ ہے کہ ہم نے بچے کو بچپن میں مسجد کا شوق نہیں دلانا تو ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا ہے کہ وہ جوانی میں بھی مسجد نہیں آئے گا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ مولوی صاحبان کا یہ کہنا کہ بچوں کو مسجد میں مت لائیں اور سکولز کا بچوں کو الحاد کی جانب دھکیلنا۔ ان کے معصوم دماغوں کو یہ نہیں معلوم کہ صحیح غلط کیا ہے؟ ان معصوم دماغوں کو آپ نے بچپن میں جیسا بنا دیا ساری زندگی ان کی ویسی ہی گزرے گی۔

اس موضوع پر مولوی صاحب سے بات کی کہ جناب آپ کے مطابق جب آپ ﷺ نماز پڑھتے ہوئے سجدے میں جاتے تو حضرت حسن رضی الله عنہ اور حضرت حسین رضی الله عنہ آپﷺ کے کندھوں پر بیٹھ جاتے تھے، آپﷺ تب تک نہ اٹھتے جب تک کہ حضرت حسن رضی الله عنہ اور حضرت حسین رضی الله عنہ اٹھ نہ جاتے تو بچوں کے مسجد میں آنے پر پابندی کیوں؟ انہوں نے پہلے تو برا منایا اور جب ان سے بصد احترام و عقیدت عرض کیا کہ جناب ہمیں آپ صرف اتنا بتا دیں کہ کیا کوئی اس پر حدیث ہے تو کہنے لگے کہ اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچاؤ۔ نیز، خرید و فروخت، لڑائی جھگڑے، آواز بلند کرنے، حد قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے مسجدوں کو بچاؤ، مسجد کے دروازے پر طہارت کے واسطے جگہ بناؤ۔ جمعہ کے دن مسجدوں میں خوشبو کی دھونی دو۔‘‘ جب ہم نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس حدیث کی صحت ضعیف ہے اور اس کے ساتھ ہی دوسرا کافی مواد معلوم ہوا۔ یہ حدیث دوسری صحیح احادیث سے ٹکراتی ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ چھوٹے بچوں کو مسجد میں لاتے بلکہ ایک مرتبہ آپ نے اپنی نواسی کو گود میں لے کر صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی۔

ابوقتادہ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور (اپنی نواسی) امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو امامہ کو اٹھا لیتے اور سجدہ میں جاتے تو زمین پر رکھ دیتے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۵۴۳، کتاب الصلاۃ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلاۃ)

اب یہاں پر ان مولوی صاحب کی غلط بیانی سامنے آتی ہے جو کہ امت کو گمراہی کی جانب دھکیلتی ہے کہ جو اپنی مرضی ہو وہ صحیح اور شریعت کے عین مطابق جو پسند نہ ہو اس پر ضعیف احادیث بھی صحیح۔ اب بچہ اس صورت حال میں جب اس کو مسجد میں مار پڑے اور جہاں گالیاں اور الحاد ہو وہاں اس کو بہترین ماحول ملے تو یاد رکھیے کہ اپنی اگلی نسل کی فکر کریں جو ہماری طرح بے نمازی اور الحاد سے متاثر نظر آئے گی۔

ہماری مساجد میں قاری صاحبان کی ٹریننگ کی بے حد ضرورت ہے کہ کس طرح بچوں کو ٹریٹ کریں۔ ایک آرٹیکل نظروں سے گزرا کہ ترکی میں مساجد میں بچوں میں شوق پیدا کرنے لیے کھلونے رکھے جاتے ہیں اور بچوں کو مسجد میں آنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس پر مقابلہ جات کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ ہمارے پاس بچوں کو مساجد میں لانے پر ہی اکثر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر ہم جب جوان ہوتے ہی ہمارے پاس آزادی آتی ہے تو ہم ان زنجیروں کو توڑ دیتے ہیں جو ہم پر سختی سے مسلط کی جاتی ہیں ہم اپنی من مانی کرتے ہیں والدین جو سختی کرتے تھے وہ بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں ان میں ہمت باقی نہیں ہوتی اور ہم نوجوان اسلام کی کھلم کھلا مخالفت مولوی صاحبان کی تمام حرکتوں پر تنقید کرتے ہیں جو ہمیں بچپن میں پیش آئی تھیں اور ہم پر مسلسل تنقید کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ یہ نوجوان برائی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔