دو ملاقاتیں (2) - روبینہ فیصل

قارئین نے پہلی ملاقات کوشوق سے پڑھا، اور دوسری کا شدت سے انتظار کیا۔

میں بھی دس سال پہلے ہو نے والی اس ملاقات کو قلم بند کر نے کے لیے انتظار کر رہی تھی اور ویسے بھی ہر چیز کہنے اور لکھنے کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے۔ اس ملاقات سے پہلے اور بعد میں بھی عمران خان پر اچھا، برا، بہت کچھ لکھا، عمران خان سے ایک دلی لگاؤ اپنی جگہ لیکن ان کے غلط فیصلوں، کمیوں کجیوں اور کو تاہیوں پر سب سے پہلے قلم اٹھایا کیونکہ اس وقت پاکستان کے مایوس لوگوں کی واحد امید عمران خان ہے۔ اس لیے دوسرے روایتی لیڈروں کی روایتی حرکتوں پر لکھنے کی بجائے، سمجھداری کا تقاضا یہی لگتا ہے کہ جس پر مان ہے، شکوے بھی اسی سے ہی کیے جائیں۔ یا یہ بھی کہ بھینسوں کے آگے بہت بین بجا لی، اب دل کرتا ہے کسی انسان سے بات کی جائے۔ اس لیے عمران خان پر ہی تعریف کے ساتھ ساتھ تنقید بھی لکھی۔ اسے، پسندیدہ لیڈر کو ولی کے درجے پر بٹھانے کا رواج ختم کر نے کی ایک کوشش بھی کہا جا سکتا ہے۔

کینیڈا میں بیٹھ کر پاکستان کی سیاست پر کبھی کبھی اس لیے لکھنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ یہاں ہمارا قلم نہ تو کسی مصلحت یا لالچ کا شکارہو سکتا ہے، نہ کسی دباؤ میں آسکتا ہے۔ یہاں کے ممالک کے نظام کی خوبصورت چیزیں، اپنے ملک میں دیکھنے کی خواہش اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ ان معاملات پر بولنا ضروری لگنے لگ جاتا ہے جن پر، ہم سے زیادہ اچھا بولنے والے پاکستان کے اندر موجود ہیں اور یہ کہ ہمارا وژن جتنا بھی تنگ ہو، اتنا نہیں ہو سکتا، جتنا ایک ہی جگہ بیٹھ کر ایک ہی جیسے لوگوں کی باتیں نسل درد نسل سنتے اور سہتے ہو جاتا ہے۔

نواز اور شہباز کو تو قریب سے دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ ہاں! اتفاق فاؤنڈری کا بورڈ ضرور قریب سے دیکھا تھا یا ایف سی کالج میں ان کے خاندان کا ایک سیمپل۔ چاول کا دانہ دیکھ کر دیگ کا اندازہ لگانے جتنی دانش تو نہیں مجھ میں، مگر ایک کامن سینس، جو ہم جیسے کامن لوگوں میں ہی ہوتی ہے، کا یقین ضرور ہے۔ اس ملاقات کا حال گزشتہ کالم میں لکھ دیا۔

عمران خان سے میری پہلی ملاقات 2008 میں ہو ئی، جب وہ شاید پہلی دفعہ اپنے سیاسی دورے پر کینیڈا تشریف لائے تھے۔ شبیر صاحب، جو کہ آرگنائزرز میں شامل تھے، ہم پر کرم فرمائی کی اور پریس کانفرنس سے پہلے ہی مجھے اور فیصل کو ملوانے اس ہال کمرے میں لے گئے، جہاں عمران خان سیدھے ایئرپورٹ سے آکر، ایک کرسی پر بیٹھے بیٹھے کمر سیدھی کر رہے تھے۔ اپنے سامنے عمران خان کو بالکل سادگی کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر، مجھے ایک لمحے کو بھی یہ احساس نہ ہوا کہ یہ وہی کرکٹ کا ہیرو ہے جس پر ایک دنیا جان دیتی ہے۔ پاکستان کو کینسر ہسپتال دینے والا، (تب سیاست میں ایسا نام نہیں تھا) ورلڈ کپ دینے والا اور یہ وہ لیڈر ہے جس نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی اتنی محبت، اتنی عزت کمائی، جو لوگ سیاست میں آکر طاقت کے زور پر کماتے ہیں۔ بلکہ پاکستان کی گندی سیاست نے کپتان سے چھینا ہی ہو گا، جو اس کے پاس پہلے سے ہی وافر مقدار میں موجود تھا۔

اور میں وہ ہوں جو اپنی ٹین ایج میں بھی، کبھی کسی شوبز ہیرو یا کھلاڑی سے نہ ملنے کا شوق رکھتی تھی نہ متاثر ہونے کا۔ اور تب مجھے خود پر یقین نہ آیا کہ دو مہینے کا بیٹا گھر چھوڑ کر، ہم دونوں، کپتان کو ملنے پہنچ چکے ہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ انہیں دیکھ کر پہلی دفعہ مجھے پتہ چلا کرشماتی شخصیت کسے کہتے ہیں؟ ہم سے پہلے چند نوجوان لڑکوں کا ٹولہ وہاں موجود تھا اور ان سے فٹنس کے راز پر بات کر رہا تھا، ہمیں دیکھ کر، عمران خان کے چہرے پر رونق آئی۔ بہت پیار سے سلام کا جواب دیا اور پوچھا میری کافی کہاں ہے؟ ہم حیران ہوئے۔ پھر پتہ چلا جب سے وہ آئے ہیں ابھی تک انہیں کافی نہیں ملی۔ میں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے مذاق میں کہا میں روبینہ فیصل ہوں اور ٹورنٹو میں لوگ آپ کو میرے کالموں کی وجہ سے جانتے ہیں۔ یہ کہتے ہی مجھے احساس ہوا کہ پتہ نہیں ہمارے دوسرے کھوکھلے لوگوں کی طرح یہ بھی مذاق نہ سمجھیں اور مجھ سے ناراض ہو جائیں کہ" تو ہے کون بی بی؟ میں ہوں عمران خان۔ دی عمران خان!"۔ مگر میرا ڈر غلط ثابت ہوا، کپتان نے ایک زور دار قہقہ لگایا۔

نوٹ: (اس وقت کوئی بھی کالم نگار عمران خان کے حق میں نہیں لکھتا تھا بلکہ انہیں سیاست میں نو ون ثابت کر نے پر تلے ہو تے تھے اور جب میں نے ان کی حمایت میں کالم لکھا، تو بہت عرصہ پی ٹی آئی کی ویب سائٹ پر وہ اس کیپشن کے ساتھ لگا رہا کہ شکر ہے کسی کالم نگار نے عمران خان کے حق میں بھی لکھا۔)

وہ نوجوانوں کے ساتھ اپنی فٹنس پر خوش اسلوبی سے گفتگو تو کر رہے تھے مگر اندر سے ایسے خوش نہ تھے کیونکہ جیسے ہی میں نے پو چھا کیا آپ سے سیاست پر بات ہو سکتی ہے؟ چہرے پر اشتیاق نمودار ہوا، فوراً سے بولے کیوں نہیں؟ شاید میں نے جماعت اسلامی کے ساتھ ہاتھ ملانے پر سوال کیا۔ ٹھیک سے یاد نہیں مگر ایک دو سوال کیے۔ پھر پریس کانفرنس کا وقت ہوا۔ وہاں بھی انتہائی صبر سے سب کے سوالوں کے جواب دیے۔ کافی ابھی تک نہ ملی تھی۔ میری ہمدرد اور مہمان نواز طبیعت بے چین ہو ہو کر آرگنائزر کو بار بار یاد دلائے کہ انہیں کوئی کافی تو دے دے مگر وہ بھاگ دوڑ میں، پھر بھول جاتے تھے۔ پریس کانفرنس کے فوراً بعد تقریر کے لیے انہیں لے جایا گیا۔ ہال کچھا کچھ بھرا ہو اتھا، وہاں مائیں بھی اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں۔ میں نے اپنی ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے نظر دوڑائی، پورے ہال کا ایک چہرہ نظر آیا، جس پر عمران خان کو اتنا قریب دیکھنے کی چمک تھی، آنکھیں، خوشی سے دمک رہی تھیں۔ روح پرور منظر شاید اسی کو کہتے ہیں؟

تقریر شروع ہوئی، مجال ہے ایک بھی بچہ رویا ہو۔ عمران خان کی آواز کے سوا کوئی دوسری آواز نہ تھی، بہت خوبصورت تقریر اور یقین ہوا کہ شرمیلا سا "عمی" اب ایک زبردست سپیکر بن چکا ہے۔ مزاح کی آمیزش نے لفظوں کو زیادہ پر تاثیر بنا دیا تھا۔ بعد میں سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا، بونگے بونگے سوالوں کے بھی تحمل سے جواب دیے۔ اس کے بعد کھانا کھل گیا اور میں نے زندگی میں پہلی دفعہ یہ نظارہ دیکھا کہ لوگ کھانے پر ٹوٹنے کی بجائے، عمران خان پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ آگے بڑھ بڑھ کر اپنے بچوں کے ہاتھ ملوا رہے ہیں اور عمران خان، کو کھانا مل بھی گیا لیکن یقین کریں کافی کی طرح وہ بھی دسترس سے دور ہی رہا کیونکہ لوگ منہ میں نوالہ ڈالنے کا مو قع ہی نہیں دے رہے تھے۔ نہ روٹی، نہ کافی، نہ سفر کی تھکاوٹ اتارنے کا موقع مگر چہرے پر نہ تھکاوٹ کے آثار نہ بھوک کی وجہ سے چڑچڑاہٹ۔

زندگی کا وہ، واحد فنکشن تھا جس میں ہم آخرتک بیٹھے رہے، ورنہ میں جو شور شرابہ چور ہوں، اول تو ایسے فنکشنز میں جاتی نہیں، جاؤں بھی تو جلدی بھاگ آتی ہوں۔

اس سے بھی زیادہ قابلِ قدر ملاقات ٹریفک سگنل پر ہوئی۔ لال بتی پر ہماری اور حفیظ خان صاحب (ان کے ساتھ عمران خان بیٹھے ہو ئے تھے) کی گاڑیاں ساتھ ساتھ آ کھڑی ہوئیں۔ ہم نے جوش سے عمران خان کو ہاتھ ہلایا، عمران خان نے ہمیں دیکھا، شیشہ نیچے کروایا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے حفیظ خان کو بلند آواز سے کہا انہیں جانتے ہو؟ یہ وہ ہیں جن کے کالموں کی وجہ سے میں ٹورنٹو میں مشہور ہوں۔ اشارہ سبز ہو گیا، گاڑیاں آگے کو نکل گئیں اور تب مجھے سمجھ آئی، خدا جب کسی کو اتنی محبت، شہرت اور عزت دیتا ہے تو اس سے پہلے اس کی ذات میں کو ئی گن رکھتا ہے اور عمران خان کو شاید خدا نے ان سب بنیادی اوصاف سے نواز کر بھیجا ہے جب انسان بلندی پر بیٹھ کر بھی عام انسانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اور جب عمران خان کو چھوڑنے ایئرپورٹ بھی گئے۔

(جاری ہے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */