ایک اور محمد شاہ رنگیلا – محمد فاروق خٹک

مغلیہ سلطنت کا زوال محمد شاہ رنگیلے پر ہوا تھا اور اس کا بنیادی سبب حکمرانوں کی عیش و عشرت تھی۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اور شاید آل سعود کی بادشاہت کا خاتمہ بھی آج کے محمد شاہ رنگیلے یعنی محمد بن سلمان پر ہو۔

صدیوں سے ملوکیت کے زیر اثر سعودی معاشرے میں خباثت پہلے کیا کم تھی کہ اب عوام کی گردنوں پر زبردستی مسلط شاہ سلمان نے اپنے بے وقوف بیٹے کو ولی عہد نامزد کرکے اسے عالم اسلام کے مرکز اور ایک اسلامی ملک کو ایک سیکولر اور بے دین ریاست میں بدلنے کی کھلی چھٹی دے دی ہے؟ یہ عمل امریکہ کے دباؤ پر دراصل سابق بادشاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز کے دور میں شروع ہو چکا تھا لیکن اب سلمان کے بیٹے نے اس عمل کو تیز کرکے اسے قانونی تحفظ فراہم کردیا ہے۔ سلمان کا بیٹا درحقیقت ابلیس کے اس چیلے کا کردار ادا کررہا ہے جس کی طرف اشارہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے نام سے کیا ہے۔

فکر عرب کو دے کہ فرنگی تخیلات

اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

انا للہ و انا الیہ راجعون غیر ملکی فوجیں جب کسی ملک میں داخل ہوتی ہیں تو احتجاج کی صدائیں بلند ہوتی ہیں لیکن حیرت ہے کہ غیر ملکی فوجوں سے زیادہ خطرناک غیر ملکی تہذیب، غیر ملکی ثقافت عالم اسلام کے مرکز پر حملہ آور ہے۔ ایک اسلامی ملک اور مرکز اسلام کو سیکولر لادین ریاست بنایا جارہا ہے، خواتین کو مادر پدر آزادی دی جارہی ہے سینما ہاؤس، ڈانس کلب، ناچ گانے کے مراکز، تاش جوئے کے اڈے، میراتھن ریس، شراب خانے اور بدکاری کے اڈے سیاحت کے نام سے کھولے جارہے ہیں اور پورا عالم اسلام خاموش تماشائی بنا ہے کہ جب عالم اسلام کے مرکز اور بلاد حرمین سے نعوذ باللہ اسلام کا جنازہ نکل جائے تو پھر ہم دفاع حرمین شریفین اہل حدیث، مرکزی اہل حدیث، جمعیت اہل حدیث، عبدالملک مجاہد، حافظ سعید کے نام سے کمر کس کر دفاع حرمین کی بھڑکیں مارنا شروع کردیں گے لیکن پھر فائدہ کیا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

تحفظ حرمین پامال کیا جارہا ہے، محمد بن عبدالوہاب کی فکر کا جنازہ نکالا جارہا ہے، ابن تیمیہ، ابن باز، العثیمین، سفر الحوالی اور سلمان العودہ کا فلسفہ ڈبویا جارہا ہے اسلام کو حجاز و یمن سے بے دخل کیا جارہا ہے اور دفاع حرمین والے مفادات کی لمبی تان سورہے ہیں۔ سعودی عرب کے بے وقوف ولی عہد امریکہ کے یاروں شاہ ایران، صدام حسین، معمر القذافی، علی عبد اللہ صالح اور انور السادات کا حشر بھول رہے ہیں۔ عرب کے شاہ اور شہزادے تو نشان عبرت بن جائیں گے انہیں زمین کا گوشہ گوشہ پناہ دینے سے انکار کردے گا لیکن تحفظ حرمین کیسے بحال ہوگا؟ عالم اسلام جس انتشار کا شکار ہے امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب بھی اسی طرح داخلی انتشار کا شکار ہو جائے اور مسلمانوں کی مرکزیت کی علامت ختم ہو جائےسلمان کے بیٹے بے شک اپنے ملک میں اصلاحات نافذ کریں عوام کو حقوق دیں لیکن اپنے دین ثقافت اور تہذیب کے حدود کو پامال نہ کریں۔ اس سے پہلے کہ ہم آل سعود سمیت حرمین شریفین کا نوحہ پڑھیں، امت مسلمہ، اسلامی تنظیموں، علماء اور مصلحین کی ذمہ داری ہے کہ سلمان کے بے وقوف بیٹے پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے سیاہ کرتوتوں کو لگام دیں اور اپنی ملحدانہ پالیسیوں سے باز آئیں، قبلۂ اوّل ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے، شام و کوفہ و بغداد میں ہمیں بے اختیار کردیا گیا ہے، مصر میں اسلام کا نام لینا ممنوع ہے، اردن یہود کی گود میں بیٹھا ہوا ہے، خلیجی رجواڑوں میں دنیا کے سب سے بڑے بت خانے تعمیر ہورہے ہیں۔ خدا نخواستہ مکہ اور مدینہ بھی ہمارے ہاتھ سے نگل گئے تو عالم اسلام کی مرکزیت ختم ہو جائے گی۔