ابو جان - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ابو جان (۳۰ جون ۱۹۲۶ء۔ ۲۶ دسمبر ۲۰۰۵ء)

رب ارحمھما کما ربیانی صغیرًا

(ابو جان کا نام محمد شریف چوہدری تھا، میرے علاوہ چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کے باپ، جن میں میرا پانچواں نمبر ہے، ایک بہن مجھ سے چھوٹی ہیں۔ ابو جان کو تعلیم سے محبت خدائی تحفے کی صورت میں ملی، جہالت کے اندھیرے میں علاقے کے پہلے تعلیم یافتہ فرد تھے۔ ۱۹۵۵ء میں ایک تعلیم یافتہ خاتون امت الرحمٰن سے شادی ہوئی جو ادیب، عالم اور منشی فاضل تھیں، اور جماعت اسلامی کی بانی ناظمہ آپا حمیدہ بیگم کی زیرِ تربیت رہیں۔ انہوں نے شملہ سکول راولپنڈی اور گورنمنٹ ہائی سکول چوہڑپال میں کافی عرصہ تدریس کے فرائض ادا کیے اور آخر الذکر سے ۱۹۸۶ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ تھانہ چوھترہ کے علاقے کے آبائی حلقے ڈھلیال سے کئی مرتبہ صوبائی انتخاب لڑا۔ ۲۰۰۲ میں راولپنڈی کینٹ سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصّہ لیا۔ )

ابو جان کو اس دنیا سے گئے بارہ برس ہونے کو ہیں، لگتا ہے انہیں دیکھے صدیاں بیت گئیں، اور جب ان کے بارے میں سوچیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی تو یہاں تھے، جیسے ذرا سی آنکھ جھپکی اور ملک الموت نے انہیں ہم سے چھین کر اﷲ کے پاس پہنچا دیا، انّا للہ وانا الیہ راجعون!

ابوجان تھانہ چونترہ تحصیل و ضلع راولپنڈی کے رہائشی تھے، بچپن سے تعلیم کا شوق دل میں تھا، اس دور کے نوجوانوں کے دوسرے رحجانات سے دور تعلیم ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھی اور جس وقت مسلمان غلامی کی چکی میں پس رہے تھے، ابو جان اپنے گاؤں کے واحد تعلیم یافتہ فرد تھے۔ انہوں نے کئی کئی وقت بھوک برداشت کر کے تعلیم حاصل کی، کپڑے بھی معمولی قیمت کے پہنے لیکن اس وقت کے سب سے معیاری ادارے، گارڈن کالج راولپنڈی اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ گارڈن کالج میں اس وقت متمول خاندانوں کے بچے پڑھتے تھے، جن کے انداز و اطوار میں مال و دولت کی نمود و نمائش ہوتی، مگر وہ انکی دولت سے ذرا مرعوب نہ ہوتے اور صاف کہتے: ’’مقابلہ کرنا ہے تو علم کے میدان میں کرو‘‘ وہ انگریزی اور ریاضی میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ وہ خود علم اور آگہی کو آگے منتقل کرنے کی کوشش کرتے تھے، گاؤں کے ایک غریب لڑکے کو پڑھا کر میٹرک کروایا، ایک اور نوجوان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو رہی تھی، تو لیاقت باغ کے قریب واقع ’’امانت آئی کلینک‘‘ کے ڈاکٹر امانت صاحب کو اس کے مفت علاج پر مائل کیا، اور یوں اس کی بینائی لوٹ آئی۔

عین جوانی میں سید مودودی ؒ کے نظریۂ اسلام سے متعارف ہوئے اور اس دعوت پر لبیک کہی، ان کے والد صاحب کٹر بریلوی تھے، انہیں معلوم ہوا تو کافی تلخی ہوئی، غالباً اسی بنا پر وہ مولانا مودودیؒ کے پاس لاہور چلے آئے، اس وقت والٹن کیمپ قیام ِ پاکستان کے مہاجرین سے بھرا ہوا تھا، مولانا نے انہیں بھی وہاں رضاکار کے طور پر متعین کر دیا، کچھ عرصہ وہیں خدمت کرتے رہے، ایک روز مولانا نے ان سے کہا کہ اب آپ گھر چلے جائیں، آپ کے گھر والے یقیناً پریشان ہوں گے اور انکا غصّہ بھی دور ہو چکا ہو گا، ا بو جان گھر جانے کو تیار ہو گئے، مگر اس شرط پر کہ وہ والد صاحب سے پیسے نہیں لیں گے، اور یوں مولانا مودودیؒ نے ان کے خرچ کی ذمہ داری اٹھا لی، اور مولانا ہر ماہ انہیں منی آرڈر بھیجتے رہے۔

مولانا ہی سے انہوں نے دین دار خاتون سے شادی کرنے کی خواہش کا ذکر کیا، اور انہوں نے محترمہ آپا حمیدہ بیگم (جماعت اسلامی کی پہلی قیمہ) کے پاس بھجوا دیا، اور انہوں نے حافظ عبد المجید صاحب کی بیٹی سے انکی شادی کروائی، جو انتہائی سادگی سے انجام پائی۔ آپا حمیدہ بیگم سے انکی خط و کتابت کافی عرصے ہمارے گھر میں ایک ٹرنک میں موجود رہی۔

امی جان ابوجان عادات و اطوار میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے مگر دینی سوچ کے اعتبار سے مکمل ہم آہنگی رکھتے تھے! امی جان نہایت نازک مزاج، سلیقہ مند اور کفایت شعار تھیں، اور ابو جان کوٹ پہنے بھی سو سکتے تھے، بارش میں باہر سے آتے تو کیچڑ والے جوتے بیڈ روم تک لے آتے، اور جیب میں پیسے ہوتے تو ہر پسند آنے والی کتاب خرید لیتے، اور انہیں ہر کتاب ہی پسند آ جاتی تھی!

ابو جان نے دین کی بنیاد پر شادی کی تو نباہی بھی خوب، ان کے دوست احباب، رفیق اور متعین افراد سب کا خوب آنا جانا رہتا، وہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق کھانا کھلاتے اور دعوت پیش کرتے، اور امی جان میزبانی کے لوازمات میں مصروف رہتیں، حتی کہ دادی جان نے مداخلت کی، کہ تم نے شادی کی ہے یا مزدور بھرتی کیا ہے؟

ابو جان نے شادی کے بعد گریجویشن اور ایم ایڈ پنجاب یونیورسٹی سے کیا، امی جان فیصل آباد میں اپنے میکے میں رہیں اور ابو جان نے کسی فلاحی ادارے سے قرض ِ حسنہ لیکر سلسلہ تعلیم جاری رکھا، اور یہ قرض ریٹائر منٹ کے بعد پینشن ملنے پر ادا ہو سکا۔

ابو جان نے امی جان کو دین کے کام کے لیے وقف کر دیا، وہ امی جان کی موجودگی میں کھانا ان کے ہاتھ سے لیتے لیکن گھر میں نہ ہوتیں تو خود گرم کر کے کھا لیتے، دیگر معاملات میں امی جان کاسیلقہ انہیں بوجھل نہ ہونے دیتا، ان کے کپڑے استری کئے ٹانگے ہوتے، کسی خاص تقریب کے لیے ایک دو جوڑے، جوتے اور ٹوپی اور کبھی واسکٹ بھی امی جان ان سے بچا کر رکھتیں۔

ابوجان کو مال کی ہوس تھی نہ اس کے لیے مغز کھپائی، الیکشن کا زمانہ ہوتا یا کسی خاص مہم کا، وہ یا تو لمبی چھٹی لے لیتے، یا ملازمت کو ہی خیر باد کہہ دیتے، کئی مرتبہ صوبائی اور یونین کونسل کے انتخاب میں حصّہ لیا۔ ایوب خان کے صدارتی انتخاب کے زمانے میں سرسید سکول کی بہترین ملازمت سے استعفی دے دیا، اگر امی جان چھوٹے چھوٹے گھریلو کاروبار نہ کرتیں، اور اپنے زیورات اور زمینیں فروخت نہ کرتیں تو نظام نہ چل پاتا۔

ابو جان کو عبادات سے شغف تھا، آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو وہ مصلّے پر ہوتے، فجر کے وقت بآواز قرآن پڑھتے ہوئے مسجد سے واپس لوٹتے، نفل روزوں کا اہتمام، بلکہ آخری سال جب رمضان میں امی جان کا انتقال ہو گیا تو شوال کا تقریباً پورا مہینہ روزے رکھے، کئی مرتبہ اعتکاف بیٹھے، وہ فیصل مسجد یا کویتی مسجد میں اعتکاف کو ترجیح دیتے جہاں علمی سیری کا بھی اہتمام ہوتا، کئی مرتبہ اپنی اکلوتی بہن (پھوپھی جان) کو گھر بلا کر اعتکاف بٹھایا، اور امی جان ابوجان دونوں نے اجر کمایا۔

یہ بھی پڑھیں:   بیٹیاں اور ان کے ساون کے اندھے ورثاء - محمد سلیم

ابو جان دکاندار، ٹیکسی ڈرائیور اور پہلو کے ساتھی، کسی کو تلقین اور تذکیر سے محروم نہ کرتے، ہر ایک سے اس کے ذہنی افق کے مطابق گفتگو کرتے، اسکے مسائل کا ذکر چھیڑ کر قرآن سے حل تجویز کرتے، جب گاؤں جاتے مسجد میں خطبہ یا دروس کا اہتمام کرتے۔ کوئی بچہ پڑھائی میں کمزور ہوتا اسکے گھر جا کر پڑھا آتے، کئی کئی گھنٹے مسلسل پڑھاتے رہتے۔ ٹیوشن بہت کم وصول کی، جب خود انتہائی ضرورت ہوتی، اور وہ بھی جس نے جتنی دے دی۔

ابو جان کو حج بیت اﷲ کا بہت شوق تھا اور جانے کا یقین بھی، خواب میں دیکھا کہ ٹکٹ نہیں ہے اور جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہوں، اسی سال پاکستان گورنمنٹ نے ٹیچر کی بنیاد پر انہیں حج پر بھجوایا، یہ اگست ۱۹۸۶ء کی بات ہے، جب ابو جان واپس آئے تو ان کے سامان میں کوئی جائے نماز تھی نہ تسبیح، نہ ہی دیگر تحائف، بس کچھ کجھوریں تھیں اور آب ِ زم زم! دو بیگ کتابوں سے بھرے ہوئے جن میں صحیح بخاری، معجم اللسان العرب کی سولہ جلدیں، المورد، لاروس ڈکشنیریاں (جو ایم فل میں داخلہ پر انہوں نے مجھے تحفہ دے دیں)، اور دیگر بڑی بڑی کتابیں!! انکا استقبال کرنے والے انہیں لینے ایئرپورٹ پر کھڑے رہ گئے اور ابو جان نے دائیں دیکھا نہ بائیں، ٹیکسی لی اور گھر پہنچ گئے!!

ریٹائر منٹ کے بعد انہیں شدت سے احساس تھا کہ’’ میں نے زندگی ان علوم میں گزار دی جو دنیا سے متعلق ہیں‘‘، انہوں نے منصورہ دار العلوم میں تفسیر اور حدیث کے کورس میں داخلہ لے لیا، وہاں کے طالب علموں کو فارغ اوقات میں انگریزی اور ریاضی بھی پڑھا دیتے، اور کم وقت میں پورا کورس مکمل کر لیا۔ اب انکی نگاہ اگلی منزل پر تھی، جو سنتا حیران ہوتا مگر ابو جان کا فیصلہ تھا وہ اسلامی یونیورسٹی میں شریعہ اینڈ لاء کی باقاعدہ تعلیم حاصل کریں گے، وہ یونیورسٹی کے سینئر ترین طالب علم تھے، یونیورسٹی کے مجلے میں انکا ا نٹرویو بھی شائع ہوا، وہ صبح صبح گھر سے لنچ باکس لیکر یونیورسٹی جاتے اور شام تک واپس لوٹتے، عام طالب علم چھ کورس رجسٹر کرواتا تو وہ ایک سمسٹر میں آٹھ نو کورس پڑھتے، اسائن منٹس لکھی جاتیں، بلکہ اب تو ابو جان رٹا لگاتے ہوئے بھی پائے جاتے، اور بالآخر انہوں نے ایل ایل بی شریعہ مکمل کر لیا، اور ایل ایل ایم میں داخل ہو گئے، جسے ۲۰۰۲ ء کے الیکشن کے باعث ادھورا چھوڑ دیا۔

یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ خود بھی پڑھتے، ساتھی طالب علموں کی رہنمائی بھی کرتے اور اگر استاد لیکچر تیار کئے بنا آتا تو اسے بھی متوجہ کرتے اور ذمہ داری کا احساس دلاتے۔ اس دوران پیپلز پارٹی کے رہنما اور درویش منش ملک معراج خالد بھی کچھ عرصہ یونیورسٹی کے ریکٹر رہے، وہ ابو جان کے بہت قدر دان تھے، مختلف مواقع پر سٹیج پر بٹھاتے اور انکا تعارف کرواتے کہ میں اس ستر سالہ نوجوان سے بہت متاثر ہوں جس کا دل سولہ سال کا ہے، بلکہ انہوں نے ابو جان کو ایک تحریر بھی دی تھی جو ہر جاپانی اپنی جیب میں رکھتا ہے، جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ اگر آپ کی زندگی میں عزم نہیں ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ سولہ سال کی عمر میں اسی سالہ بوڑھے ہوں، یا آپ اسی سال کے ہوں اور آپ میں عزم سولہ سالہ جوان کا ہو۔ پڑھائی کے دوران ابو جان کی صحت بہت اچھی رہی، بلکہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نے چیک کیا تو وہ بھی کہنے لگا، جوانوں والی صحت ہے آپ کی، انکی نظر بھی معمول سے بڑھ کر تیز ہو گئی، وہ کہتے تھے کہ اس عرصہ میں انہوں نے قرآن کی تلاوت زیادہ کی تھی۔

کتابوں سے انہیں اتنی محبت تھی کہ ایک مرتبہ امی جان نے کچھ کتابیں نکالیں کہ کسی ادارے کو دے دیں، اب آپ سے کہاں پڑھی جائیں گی، اور گھر میں جگہ بھی نہیں اتنی کتابوں کی، ابو جان کا دل بیٹھ گیا، بولے: ’’میری زندگی میں مجھے یہ صدمہ نہ دیں، میرے بعد جسے چاہیں دے دیں‘‘۔ انکی وفات کے بعد میں نے انکی ڈھیر ساری کتابیں اسلامی یونیورسٹی لائبریری میں صدقۂ جاریہ کے لیے دیں۔

ابو جان میں سچائی اور صاف گوئی کی عادتیں بہت نمایاں تھیں، نہ غلط کرتے نہ کرنے دیتے، اس بنا پر کئی لوگ دشمنی بھی کرتے یا نقصان پہنچاتے، ایک مرتبہ ٹرین میں ٹکٹ چیکر نے کچھ لوگوں سے رقم وصول کی اور ٹکٹ جاری نہیں کئے تو انہوں نے زنجیر کھینچ کر ٹرین رکوا دی، اگلے سٹیشن پر انہیں ذمہ دارافسر کے سامنے پیش کیا گیا، وہ بھی ٹکٹ چیکر مافیا کا حصّہ تھا، جب ابو جان اپنے موقف سے دستبردار نہ ہوئے تو اس نے انہیں اس زور کا تھپڑ مارا کہ کان کا پردہ پھٹ گیا، اور ٹرین انہیں اتار کر چلی گئی۔ کافی عرصہ کان میں زخم رہنے کے بعد پردہ جڑ گیا اور سماعت میں کمی نہ رہی۔ گورنمنٹ کے ادارے رشوت بغیر کام نہ کرتے مگر وہ حرام مال دینے کے بھی سخت خلاف تھے، پورے محلے میں بجلی لگ گئی مگر ہمارا گھر کئی برس تک روشنی سے محروم رہا، پھر کوئی واقف کار عہدے پر آیا تو شنوائی ہوئی۔

بیٹیوں کے رشتوں کے چناؤ میں انہوں نے دین کو نمایاں اہمیت دی، دیگر اوصاف میں علمی قابلیت اور سیلف میڈ ہونا! چاروں دامادوں میں ایک صفت ِ مشترک ’’یتیمی‘‘ ہے، اور دوسری دین سے تعلق۔ وہ دنیا کے رسم و رواج کے قائل نہ تھے، سادگی سے شرعی طریقے سے سب کی شادیاں کیں، مسجد میں نکاح، گھر پر کھانا اور رخصتی!

میری شادی کے موقع پر میرے میاں سے کہا کہ میں نے آپ کو اپنے گلشن کا سب سے اچھا پھول دیا ہے، میں تو اسے پی ایچ ڈی کروانا چاہتا تھا(حالانکہ میں اس وقت بی اے بھی نہیں تھی)، پتا نہیں انہوں نے یہ بات کیسے کہی تھی کہ اﷲ نے پوری کروا دی، اور مجھے خاندان کی پہلی خاتون ڈاکٹر بنا دیا۔

مجھ سے ابو جان کو شروع سے ہی بہت لگاؤ تھا، اور اگر وہ مجھے کچھ کہہ دیتے تو مجھ سے بھی برداشت نہ ہوتے، کھانا چھوڑ دیتی اورچپکے چپکے آنسو بہاتی رہتی، امی جان کہا کرتی تھیں:

یہ بھی پڑھیں:   بیٹیاں اور ان کے ساون کے اندھے ورثاء - محمد سلیم

’’شبلی نے پھول مارا، منصور رو پکارا‘‘۔

(منصور کو ’’انا الحق‘‘ کہنے کے جرم میں سنگسار کیا گیا، ہر شخص کو پتھر مارنے کا حکم تھا، اسکا دوست شبلی اسے پتھر کیسے مارتا، بس حاکم کے حکم کی تعمیل میں ایک پھول منصور کو مار دیا، اور منصور جو سب کے پتھر کھا کر نہ رویا تھا، شبلی کے پھول سے رو دیا)۔

امی جان بچپن کا قصّہ سناتی تھیں کہ ایک مرتبہ مجھے نمونیہ ہو گیا، اور حالت انتہائی خراب، بالکل غنودگی، امی جان دوا پلانے لگیں تو ابو جان تڑپ اٹھے، بس چھوڑ دیں اب دوا، اسے تکلیف مت دیں، میں سورہ یاسین پڑھتا ہوں، اور امی جان تو ماں تھیں، وہ ناراض ہو گئیں کہ آپ کمرے میں جا کر پڑھیں، اور انہوں نے دوا کا درمیانی وقت گھٹا دیا اور دو دن بعد میری حالت کچھ بہتر ہوئی۔ اس واقعے کے حوالے سے بھی امی جان ابو جان میں نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔

جب میں نے ایم اے کیا تو اسکے بعد پبلک سروس کمیشن میں اسامیاں نکلیں، میں اپلائی کرنے لگی تو امی جان بہت ناراض ہوئیں کہ تعلیم کا یہ مطلب نہیں کہ تم ملازمت بھی کرو، میرے صاحب تو یہ کہہ کر کنارے ہو گئے کہ اگر امی جان راضی نہیں ہیں تو رہنے دیں، لیکن ابو جان نے مجھے کہا کہ تم اپلائی کر دو، وہ سمجھتے تھے کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے اداروں میں نفوذ کس قدر ضروری ہے، انکا کہنا تھا کہ ابھی کون سا ملازمت مل گئی ہے، اس کے حصول کے کئی مراحل ہوں گے، اس دوران امی بھی نرم ہو جائیں گی، اور یہی ہوا، میں نے انٹرویو میں دوسری پوزیشن لی اور امی جان خوش ہو گئیں۔

ابو جان کے ایک طالب علم نے انہیں زمین کی خریداری کے سلسلے میں دھوکا دیا، (اور ایسے دھوکے اور فراڈ ان سے کئی بار ہوئے، کیونکہ وہ مخاطب کے کہے پر بھر پور اعتماد کرتے تھے)، حسن اتفاق سے اس لین دین کا قانونی کاغذ لکھوایا گیا تھا، ابو جان اس کے گھر جاتے تو وہ وعدوں پر ٹرخا دیتا، ایک مرتبہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کہنے لگی، حاجی صاحب کیا بتاؤں، میرے تو اپنے گھر میں راشن نہیں، بچوں نے ناشتا تک نہیں کیا، تو ابو جان کا دل پسیج گیا اور اسے ناشتے کے پیسے بھی دے آئے۔ یہ طالب علم گورنمنٹ ملازم بھی تھا، وہ اس پر مقدمہ کرتے ہوئے بہت پس وپیش میں رہے کہ بیچارہ ملازمت سے نہ محروم ہو جائے، اور ان کے ’’بیچارہ‘‘ کہنے پر سب گھر والے تلملا اٹھتے۔ آخر میں جب مقدمہ کر دیا گیا تو کسی نے سر ِ راہ ایک تنگ گلی میں بلا کر گلا گھونٹنے کی کوشش کی، اﷲ کا کرم ہوا کہ ایک شخص اچانک گھر کا دروازہ کھول کر باہر نکلا، اسکے شور سے لوگ جمع ہو گئے اور ابو جان کی رہائی ہوئی۔ پولیس کے آتے ہی ابھی ابو جان اوسان بھی بحال نہ ہوئے تھے کہ کچھ ’’ہمدردوں‘‘ نے اس مجرم کو بھگا دیا۔ ابوجان یہی کہتے کہ غالب خیال یہی ہے کہ اسکے کارندوں کی کاروائی ہے۔ بڑی مشکل سے وہ عدالت میں یہ بیان دینے کو تیار ہوئے، یہ مقدمہ آخر کار ابو جان نے جیت لیا، اور یہ واحد فراڈ تھا جس کی پوری رقم واپس مل گئی، الحمد ﷲ۔

ہمارے علاقے میں کچھ لوگ غریب خاندانوں کو سود پر قرضہ دیتے، اور پھر سود در سود کی صورت میں جونکوں کی مانند ان کا خون چوستے رہتے، ان کے گھروں کے سامان تک بک جاتے مگر قرض ادا نہ ہوتا، ایسے ہی ایک خاندان نے ان سے مالی مدد کے لیے رابطہ کیا تو ابو جان انکو اس سود خور کے عذاب سے نجات دلانے اٹھ کھڑے ہوئے، تحقیق پر انکشاف ہوا کہ یہ ایک پورا گروہ ہے جو غریبوں کو قرض کا جھانسا دے کر ان کے اموال میں مستقل شریک ہو جاتا ہے، ابو جان ان کا مقدمہ لڑنے عدالت میں چلے گئے، اب حال یہ تھا کہ پیشی پر ان مظلوموں کو ٹرانسپورٹ بھی خود فراہم کر کے انہیں عدالت لے کر جاتے، اور دوسری جانب سود خوروں کے گروہ نے انہیں ڈرانا اور دھمکانا شروع کر دیا، مگر ابو جان ڈٹ گئے، مگر پاکستان میں عدالتوں میں برتے جانے والے تاخیری حربوں کی بنا پر انکی زندگی میں اس کیس کا فیصلہ نہ ہو سکا۔

امی جان جب بیمار ہو گئیں تو ابو جان نے ان کی بہت خدمت کی، انہیں فجر کے بعد شہد ملا پانی پلاتے، دن کو پھل کاٹ کر کھلاتے اور ہاتھ پکڑ کر ضروریات کے لیے لے کر جاتے، اس زمانے میں امی جان کافی نازک مزاج ہو چکی تھیں، مگر وہ کہا سنا برداشت کر لیتے، اور کبھی جھنجھلا بھی اٹھتے، مگر ہم نے تمام عمر ابو جان کو گھر میں روٹھتے نہ دیکھا۔ ایسا لگتا تھا انہیں بس صلح ہی کرنا آتی ہے، جہاں مخالفت ہوتی وہاں بھی جا کر پہل کر لیتے، اس معاملے میں گھر والوں کی رائے کی بھی پروا نہ کرتے، لیکن حق بیان کرنے سے دبتے نہ تھے۔

امی جان کے انتقال کے بعدوہ بہت دل گیر رہنے لگے، انہیں دفنا کر واپس آئے تو قبر کے ذمہ دار کو فون کر کے پوچھا کہ اگر کوئی شخص یہاں ایک اور قبر کی جگہ رکھوانا چاہے تو ایسا کرنا ممکن ہے؟ اس نے بتایا کہ یہاں تو پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر زمین ملتی ہے، وہ جب بھی قبرستان جاتے پریشان ہوتے کہ قبرستان بھرتا جا رہا ہے، اور صرف دو ماہ دس دن بعد اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملے، انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔

انکی وفات سے چند روز پہلے میں صبح ان کے کمرے میں آئی تو ان کے بستر سے بلی نکل کر بھاگی، میں نے پوچھا تو بولے میں خود ہی اس کو اندر لے آیا تھا، دسمبر کی یخ بستہ ٹھنڈ، اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔ ! میں نے ہنستے ہوئے کہا، اور اگر وہ آپ کا بستر گندہ کر جاتی تو۔ ! بولے: ’’میں نے سوچا، اس بلی کی مدد شاید میری مغفرت کا ذریعہ بن جائے‘‘۔

۲۵ دسمبر کو ان کے دوست نواز صاحب کا انتقال ہوا، وہ ان کے جنازے میں گئے اورانکی نیکی کی گواہی دی، اور اگلی صبح بھابھی ان کے کمرے میں ناشتا لے کر گئیں تو وہ رب کے مہمان بن چکے تھے۔ اللھم اغفر لہ وارحمہ واعف عنہ۔ آمین!

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.