وزیر اعظم آتے ہیں، ہمیں تڑپاتے ہیں – محمد اقبال دیوان

وزیر اعظم معین قریشی کی پاکستان آمد کا احوال براہ راست کراچی ایئرپورٹ سے

بہت دن ہونے کو آئے۔ ایتھوپین ایئرلائنز کی نے کراچی سے اپنی پرواز شروع کی۔ اس شام اسی سلسلے کی تقریب تھی۔ میزبان سے ملاقات ہوئی۔ بی بی کا نام شاید نشان تھا۔ ایک کاؤنٹر پر انگیٹھی میں کوئلے دہکا کر ایتھوپیا کی خاص کافی پیالی بھر بھر کر لنڈھا رہی تھی۔ اس طرح کے چار پانچ کاؤنٹر ہال میں تھے جہاں کافی کی سبیلیں لگائی گئیں، دیگر معلومات کے کاؤنٹر علیحدہ تھے۔

ایتھوپیا کی ایئرلائن نے پروازوں کا آغاز کیا تو انہیں لگا کہ پاکستانی بوریا بستر باندھے ان کے جہاز میں بیٹھنے اور کافی پینے ہی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ پاکستانی پہلی افتتاحی پرواز سے ان کی ٹکٹ کی کھڑکیوں پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے ایک زمانے میں وی سی آر انٹرنیٹ کی آمد سے قبل ٹوٹے والی پنجابی فلموں پر جان نچھاور کرنے شائقین سینما گھر پہنچ جاتے تھے۔

غریب ملکوں کا وہی المیہ ہے جو ان پڑھ غریب کا ہوتا ہے کہ اس کا لالچ سڑک پر میلے کپڑوں میں ناچ رہا ہوتا ہے۔ لوگ جلد بھانپ لیتے ہیں، کنارہ کش ہوجاتے ہیں یا پیش بندی کرلیتے ہیں۔ جب کہ امیر کی خوبی یہ ہے کہ اس کا معیار ہوس، عربوں کے ثوب کی طرح وہ دن میں تین دفعہ تبدیل ہوتا ہے اور ہر وقت عود و عبیر سے مہک رہا ہوتا ہے۔

پاکستانیوں میں کافی اور دیگر مشروبات کا ذوق نہ ہونے کے برابر ہے۔ کھڑے چمچ کی چائے (پیالی میں اتنی چینی کہ چمچ کھب جائے اور سیدھا کھڑا ہوجائے وہ حیدرآباد دکن میں اس نام سے پکاری جاتی ہے ) وہ بھی زور کی سڑکی لے کر میزبان، ویٹر اور گھر کی خواتین کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے زیادہ شوق سے پیتے ہیں۔ وہی اُن کا محبوب مشروب ہے۔

ان بے چارے اہل حبشہ نے یہاں نے اپنی پروازوں اور دفتر کا آغاز کیا تو مظفر علی شاہ جو چیف منسٹر سندھ تھے، انہیں افتتاح کے لیے مدعو کیا گیا۔ حکومت کا چل چلاؤ کا دور تھا۔ سرکاری ایوانوں میں خاص مصروفیت بھی نہ تھی۔

وہ نہ آئیں گے تو فراقؔ ہمیں

کام ہی کیا ہے، انتظار کریں

والا معاملہ تھا۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ کو فارمولا تیار کرنے میں معاونت کے لیے مشاورت کی لیبارٹری کھل گئی تھی۔ اس وقت کے صدر گرگ باراں دیدہ ْغلام اسحق خان اور وزیر اعظم کے لیے Out you go کی صدائے گستاخ کسی وقت سنائی دینے والی تھی۔

اس سہ پہر افتتاحی تقریب میں چند منٹ تقاریر ہوئیں، پھر مہمان داری اور میزبانی کا سلسلہ فلور پر پھیل گیا۔ ہم نے اپنے پسندیدہ چیف منسٹر کی تقریر بغور سنی۔ وہ انگریزی بولتے ہیں تو اچھا لگتا ہے۔ مزاج رکھ رکھاؤ والا، آواز کھرج دار، مردانہ اور الفاظ کا چناؤ بڑا شاہانہ اور رجا ہوا لگتا ہے۔ آپ کو اللہ نہ کرے یہ کرب عظیم جھیلنا پڑے کہ سندھ سرکار کے کسی ووڈیرے، وزیر اور افسر کی انگریزی سننی پڑ جائے آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ لیاری میں کسی غریب کے گھر کی چھت ٹپک رہی ہے۔ پنجاب کے ایک نااہل ترین وزیر اعظم نواز شریف اور پنڈی کے فرزند جمہوریت شیخ رشید جب تقریر کررہے ہوں تو اردو اور انگریزی دونوں ہی میں مناسب اور محفوظ الفاظ ڈھونڈتے وقت اتنی لمبی آ…آ… کرتے ہیں کہ لگتا ہے کوئی ان کے گلے میں وائپر لے کر اتر گیا ہے اور کم بخت نکلنے کا نام نہیں لے رہا۔

ایتھوپین فضائی کمپنی کی سر و قد اور خوش مزاج میزباں نشان ایسی تھی کہ احمد فراز کا وہ مصرع اس کی رنگت اور آنکھ کو دیکھ کر سمجھ آجاتاتھا

اس کو سرمہ فروش آہ بھر کر دیکھتے ہیں

شاہ صاحب کا مطالعہ بے حد وسیع ہے اور مشاہدہ بھی کچھ ایسا کمزور نہیں۔ ٹہلتے ٹہلتے وہاں اسٹال کے پاس آئے تو آہستہ سے پوچھا How is the 4th cup؟ ہمیں اندازہ نہ تھا کہ وہ اپنے آخری ایام اقتدار میں افسروں کے ناؤ و نوش پر ایسی کڑی نظر رکھیں گے۔ ہم نے بھی جب ہلکی سی شرارت سے جواب دیا Still hot تو وہ مسکراکر آگے بڑھ گئے۔

ہم نے آخری ایام اقتدار اس لیے کہا کہ 26 مئی سن 1993 کو ٹینس کی بال کے رقیب جسٹس نسیم حسن شاہ نواز شریف حکومت کو بحال کرچکے تھے اور شاہ صاحب کی چیف منسٹری کو بظاہر خطرہ نہ تھا۔ اس کے باوجود جانے کیا ہوا کہ ان تک یہ بے نظیر صاحبہ کہ بلند شکووں کی یہ باز گشت پہنچ گئی تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بڑی Glitter ہے۔ شیکسپئر نے اپنے ڈرامے ہیملٹ میں ایک فقرہ کہا ہے کہSomething is rotten in the state of Denmark (لگتا ہے ریاست ڈنمارک میں کوئی چیز سڑ گئی ہے)۔ وہ جسٹس نسیم حسن شاہ صاحب کے اس فیصلے کے علاوہ وہ ان سے اپنے والد کہ عدالتی قتل کے فیصلے کے حوالے سے بہت رنجور تھیں۔ جسٹس شاہ اس سات رکنی بینچ کے ممبر تھے جنہوں نے ان کے والد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا بحال رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

ایک دعوت میں یہ نسیم حسن شاہ جنہیں کرکٹ سے بہت لگاؤ تھا، مگر پستہ قد ایسے تھے کہ وکٹ پر ہوتے تو اسپن بال کو بھی باؤنسر قرار دلوادیتے تھے۔ اسی دعوت مین عبدالحفیظ کاردار اور ایئر مارشل نور خان بھی شریک تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے کرکٹ بورڈ پر جرنیلوں نے مفت کے مال، بے راہ رو خواتین، عہدے سے جڑی وقتی شہرت، گلیمر اور دوروں کی بھرمار کے سبب ایک کے بعد ایک پاکستان کرکٹ بورڈ پر یلغار شروع کردی تھی۔ جس زمانے کا یہ قصہ ہے اس وقت واپڈا کے حوالے سے کرپشن میں لتھڑے جنرل زاہد اکبر علی خان بورڈ کے چیئرمین تھے۔ نسیم حسن شاہ کے دماغ میں یہ خیال بہت عرصے سے سمایا ہوا تھا کہ تین برسوں کے لیے یعنی 1963 تک جسٹس اے آر کارنیلس بھی بورڈ کے چیئرمین رہے تھے۔ نسیم حسن شاہ نے تینوں سربراہان سے کرکٹ کا احوال پوچھا اور پھر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف لپکے تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان اور کرکٹ کے سب سے بڑے شناور عبدالحفیظ کاردار نے جنرل زاہد علی اکبر کو خبردار کیا کہ ’’لگدا اے گٹھے نسیم جناب دی نوکری دے مغر پے گیا ہے‘‘۔ دو دن بعد جب نسیم حسین شاہ کی تقرری کا پروانہ جاری ہوا تو جنرل صاحب کویقین آیا کہ چوروں کو مور پڑگئے ہیں۔

آئیے کوفۂ ثانی اسلام آباد کو چھوڑ کر ہمارے محترم شاہ صاحب کی طرف کراچی لوٹ چلتے ہیں۔

جولائی 1993 کا تیسرا ہفتہ شروع ہوچکا تھا۔ امیتاز شیخ صاحب جو شاہ صاحب کے پرنسپل سیکرٹری تھے، پہلے ہمارے رفیق کار تھے۔ بعد میں ہمارے مہرباں ہوگئے۔ مناصب کی دوری کے باوجود سندھی روایات کے بموجب بہت لحاظ مروت سے پیش آتے تھے۔ کشادہ دلی اور معاملہ فہمی بہت تھی۔ ہمیں فون کیا کہ شاہ صاحب اسلام آباد جارہے ہیں۔ پروٹوکول بہت کم ہوگا مگر ہمیں ان کے ساتھ حکومت کے آج خاتمے کے باوجود ویسے ہی ادب، لحاظ اور احترام سے پیش آنا ہے۔ انہیں جہاز پر ان کی نشست تک پہنچا نے کا فریضہ خود سر انجام دینا ہوگا۔

شاہ صاحب آئے تو وہی سنجیدہ مسکراہٹ، وہی بردباری۔ پوچھنے لگے اسلام آباد کی جانب کون سی اہم شخصیات اس فلائٹ میں سوار ہونے آئی تھیں؟ ہم نے کہا ہم نے سفید شیروانی اور چوڑی دار پاجامے میں حکیم محمد سعید کو بہت شادماں و فرحاں جاتے دیکھا ہے، وہ سب کو بڑی گرم جوشی سے علیک سلیک کررہے تھے۔ ہم نے کہا As if Moses is about to find his fire۔ شاہ صاحب ہنس دیے اور کہنے لگے کہ حکیم صاحب تو ہمیشہ کے بہت شائستہ اور ادب آداب والے ہیں۔ ہم نے کہا آج ان کے سلام میں وہی گرم جوشی اور بے تابئ توجہ تھی جو ایک شاعر نے بیان کی ہے کہ

حکیم محمد سعید

محفل میں وہ غیروں کو ہے کررہی سلام

وعلیکم السلام کہے جارہا ہوں میں

any important Sindhi notable?
کرسٹوفر لی

ہم نے کہا ہائی کورٹ کی کار سے اداکار کرسٹوفر لی (جنہوں نے بعد میں فلم جناح میں مرکزی کردار ادا کیا) جیسے ایک صاحب اترے تھے۔ ان کی آمد اس لیے ذرا انہونی تھی کہ ان کے ساتھ دو عدد فرشتے افسران تھے۔ ہمارے انکشاف پر شاہ صاحب نے صرف اتنا ہی کہا کہ I am glad you didn't liken your new CM to Terry Thomas (برطانوی اداکار جو جرنیلوں کے مزاحیہ کردار ادا کرنے کے لیے مشہور تھے)۔

ٹیری تھامس

زمانہ Pager کا تھا۔ موبائل فون نہیں آئے تھے۔ انٹرنیٹ حاصل کرنے کے لیے سفارش لگانی پڑتی تھی۔ ای میل اکاوئنٹ کی Disk Operating System (D.O.S) پر سیٹنگ کے لیے جہاز جیسا سی پی یو اٹھا کر متعلقہ کمپنی کے دفتر لے جانا پڑتا تھا۔ ہمارے Pager پر مختصر سا چیف سیکرٹری کے دفتر سے پیغام تھا۔ Hang on at airport .Call after 5.p.m. Sindh C.S is now sleeping.

جام صادق کے سندھ کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے چیف سیکرٹری کے دفتر کی اہمیت بہت کم ہوگئی تھی۔ بیوروکریسی کا مرکز اختیارات سی ایم ہاؤس منتقل ہوگیا تھا۔ تقرریوں، تبادلوں، ترقیوں کا معاملہ وہاں سے کنٹرول ہوتا تھا۔ ورنہ 1979میں جب مسعود زمان یہاں چیف سیکرٹری تھے تو ڈپٹی سیکرٹری ان کے دفتر کے احاطے میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔

ہماری وزیر تجارت حمید ڈی حبیب سے ایک تعیناتی پر ناراضگی ہوگئی۔ ان کے مسلک اور تجارتی مفادات اس بات پر بضد ہوگئے کہ اسلام آباد کی کی ہوئی تقرری کی بجائے ان کا اپنا بغل بچہ اس جگہ ہو۔ ہم سے پوچھنے لگے کہ میں وزیر مملکت ہوں۔ وہ تمہیں میری کاٹن ٹریڈنگ بورڈ میں مجھے سے پوچھے بغیر کیسے لگا رکھا ہے۔ یہ جگہ تو ہم نے اپنے مختار نقوی کے لیے مختص کی ہوئی ہے۔ خاکسار نے اس پر ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ A minister picked out of hat without mandate , how can he question the validity of Establishment Division which is the boss of all bureaucracy in Pakistan.

ایک وزیر جسے بازار سے اٹھایا گیا ہو، جس کے پاس عوامی تائید بھی نہ ہو وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جو تمام بیوروکریسی کا مائی باپ ہے وہ اس کے فیصلوں پر سوال کیسے اٹھا سکتا ہے۔ پنجابی اور سندھی پٹھان وزیر ہوتا تو تاؤ کھاجاتا۔ گجراتی ہونے کے ناطے، ہمارے بڑوں سے واقفیت اور اپنی زیادتی کا ادراک رکھتے ہوئے انہوں نے ہم سے کہا کہ میں اگر آپ کو اس سے اچھی پوسٹنگ کراچی میں لے دوں تو آپ کی میرے مسلک، میرے تجارتی عزائم سے شکایت ختم ہوجائے گی۔ ہمیں یوسف صاحب سی ایس پی جو ان کے نائب تھے انہوں نے کہا وزیر صاحب کی بات مان لیں۔ ہم نے افہام و تفہیم کو بہتر جانا۔ وزیر صاحب نے سیکرٹری کو بلا کر ہماری شان میں تعریف و توصیف میں ایک خط سندھ حکومت کو لکھا ساتھ ہی مسعود زمان کو فون کیا کہ وہ ہمیں سندھ حکومت میں پوسٹنگ دے دیں۔

جنگ کے دفتر کے سامنے ایکسپورٹ پروموشن کے دفتر سے ہم جب سیکرٹریٹ پہنچے تو نہ صرف سیکورٹی کو ہمارے بارے میں ہدایات تھیں بلکہ سی ایس کی آمد سے پہلے خوشبو کے چھڑکاؤ کے اثرات فضا میں مہک رہے تھے۔ انٹرکام پر ہوم سیکرٹری کو ہدایات دی گئیں کہ ہمارا خیال رکھیں اور اچھی پوسٹنگ دیں۔ Orders in writing to follow۔

ہوم سیکرٹری خود ایک پرانی مزدا 929 پر دفتر آتے تھے۔ باوردی درست ڈرائیور اسے سارا دن چمکاتا رہتا تھا۔ گریڈ اکیس کے آئی جی ارباب ہدایت اللہ گریڈ بیس کے ہوم سیکرٹری مظہر رفیع کے پاس جو ان دنوں انسپکٹر سے ڈی ایس پی کی ترقی کے علاوہ پولیس اور جیل کا بجٹ کنٹرول کرتے تھے۔ س اس وقت تک حاضری دینے کے حوصلہ مند نہ ہوتے جب تک ڈپٹی سیکرٹری پولیس ہمایوں فرشوری سے حال احوال نہ کرلیتے اور بڑے صاحب کے موڈ کا ادراک نہ ہوجاتا۔ آئی جی جیل خانہ جات منظور پنھور ہوم ڈی پارٹمنٹ کے سیکشن افسر کو دورے پر آتے وقت خود جیل کے صدر دروازے پر کھڑے ہوتے تھے۔ ہوم سیکرٹری کا دیدار تو انہیں عید بقرعید پر نصیب ہوتا تھا۔

ہمارے Pager پر مختصر سا چیف سیکرٹری کے دفتر والا پیغام تو آپ کو یاد ہے نا؟ Hang on airport .Call after 5.p.m. Sindh C.S is now sleeping.

ساڑھے چار بجے پیجر نے بیقرار ہوکر ایک کوک ماریCall C.S in 7 minutes. Now in toilet .P.S۔ دیکھا آپ نے کیسے اچھے اور باصلاحیت پرائیوٹ سیکرٹری ہوتے تھے، انہیں یہ بھی پتہ ہوتا تھا کہ سہ پہر کو خلاف معمول اچانک بیدار ہونے والے چیف سیکرٹری کا حاجت خانے میں قیام کتنے دورانیے کا ہوگا؟

انگریز نے غیر منقسم ہندوستان کی بیوروکریسی کو بلاوجہ تو Steel Frame of India نہیں کہا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ آزادی کے تیس سال بعد اس کے Steel میں ایک E کی بجائے A لگ گیا اور یہ اٹھائی گیروں کی ایک طاقتور مافیا بن گئی۔

فون کیا تو پی ایس لائن پر تھا ہم نے پوچھا کہ سندھ سرکار وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے کیسے جاگ گئی؟ کہنے لگے کہ جس طرح کھانا اور بیوی کی ڈانٹ کھائی تھی۔ کک بھی کہہ رہا تھا بھائی جان پیٹ بھر گیا ہے اور دل ٹوٹ گیا ہے تو عالم پناہ لمبی تان کر سوئیں گے مگر اسلام آباد سے دھبا دھب فون آرہے ہیں، لگتا ہے مارشل لگ گیا ہے۔ ہم نے جتلایا کہ غلط! مارشل لاء لگتا تو ٹی وی پر گھبرائے ہوئے جنرل تمہارے دفتر میں شرمیلے کرنل، غصیلے میجر اور بے مروت کپتان آتے۔ سی ایس کے پیٹ کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ اس تھوڑے سے رزق حلال کا کرشمہ ہے جسے ہضم کرنے میں انہیں دقت پیش آرہی ہے اس لیے موصوف بے وقت ٹوائلیٹ میں جا گھسے ہیں۔ دہی میں اسپغول اور ہاجمولا پکڑاؤ، دیکھو رات ہوگی تو شراب اور شباب کی رفاقت میں جب پہلا گھونٹ میکسکو کی ٹکیلا کا صحرائے بے آب حلق سے اترے گا تو طبیعت خود ہی الہ دین کے قالین کی طرح گانے لگے گی کہ

میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال

فون پر چیف سیکرٹری صاحب کا کہنا تھا، نو متعین وزیر اعظم کے لیے طیارہ اسلام آباد والے بھیجیں گے۔ انہیں وصول کرکے ہم
اسلام آباد والے عملے کو ہینڈ اوور کریں گے۔ ہم نے پروٹوکول لائن اپ کا پوچھا تو بچوں کی طرح غوں غوں کرکے کہنے لگے You know today ,I am the highest state authority in the province۔ ہمارا جی چاہا کہ انہیں اداکار شاہد کی بہنوں کا وہ جملہ بطور تعریف سنادیں جو اداکارہ بابرہ شریف سے شادی کے وقت انہوں نے اپنے بھائی کی شان میں کہا تھا کہ’’ساڈا بھا شاہد تو اگّے وی ہیرو سی‘‘ حد ادب مانع آگئی۔ وہ بتانے لگے کہ چونکہ صوبے میں وہ اور آئی جی وفاق کے سب سے بڑے زندہ نمائندے ہیں لہٰذا نو متعین وزیر اعظم کو مملکت خدا داد پاکستان میں سب سے پہلے وہ خوش آمدید کہیں گے۔ وزیر اعظم کون ہیں؟ تو انہوں نے None of your business کہہ کر فون پٹخ دیا۔

وزیر اعظم کون تھے؟ یہ تو اسلام آباد سے آئے ہوئے عملے کو بھی پتہ نہ تھا۔ ہمیں چنتا ہوئی تو ہم نے کہا جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ کسی سرکار کی آمد ہے تو ہم مرحبا کیسے کہیں گے؟ ان کا پروٹوکول افسر کہنے لگا کہ یہ سندھ حکومت کا سردرد ہے۔ وہ ہمیں چنی لال کیسری بھائی امدا واد (گجراتی احمدآباد کو ایسے بولتے ہیں) والے کو حوالے کردیں وہ جہاز میں بٹھا کر اسلام آباد لے جائیں گے۔ اسے وزیر اعظم کا حلف دلوادیں گے۔ اس بھونچال سے نتائج کی ذمہ دار خود سندھ حکومت کی ہوگی۔

کوئی ساڑھے چھ بجے پیجر پر پھر حکم آیا کہ سی ایس ہاؤس فون کریں۔ پتہ چلا کوئی معین قریشی صاحب ہیں۔ ورلڈ بنک میں ہوتے ہیں۔ سنگاپور سے براستہ بنکاک سے آرہے ہیں تھائی ایئرویز کی فلائٹ ہے۔ اب سی-ایس صاحب کو جہاز پارک کرانے کی فکر تھی۔

تھائی ایئرویز نے بمشکل ٹرمینل تھری کی اس وقت حامی بھری جب انہیں یہ خاطر جمع کرادی گئی کہ طیارہ وہاں آن کے رکے گا۔ سارا مرحلہ پانچ منٹ سے زیادہ کا عرصہ نہیں لے گا۔ پروٹوکول کے چونچلوں میں ان کی فلائیٹ کو تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ٹرمینل تھری تب ایک کارگو ٹرمینل تھا اور کھیپیوں کا پسندیدہ ہائیڈ آؤٹ بھی۔

تھائی ایئرویز والوں کو وہاں روشنی کے ناکافی انتظامات کا گلہ تھا مگر ہم نے انہیں ڈھارس بندھائی کہ ایک اندھیارے دکھیارے ٹرمینل کی کیا بات کرتے ہیں آپ؟ ہمارا امپورٹڈ وزیر اعظم ایسا ہوگا کہ سارے ایشیا میں اس کے افعال مبارکہ اور رخ روشن سے شمع اجالا ہوجائے گا۔ سرکار کی آمد مرحبا! ان کے افسر نے جب ہم سے سوال کیا کہ کیا ہم ان سے پہلے مل چکے ہیں؟ تو ہمارا وہی حال تھا کہ دنیا کرے سوال تو ہم کیا جواب دیں، تم کو نہ ہو خیال تو ہم کیا جواب دیں، کہنے سے ہو ملال تو ہم کیا جواب دیں۔

خدا خدا کرکے ٹرمینل ون جو وی آئی پی ٹرمینل ہے، اس کی بتیاں روشن ہوئیں تو اس کی دور سے چھن کر آتی ہوئی روشنی سے ٹرمینل تھری پر افسران ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے قابل ہوئے۔

کراچی ایئرپورٹ وی آئی پی ٹرمینل

ساڑھے سات بجے طیارہ ٹیکسی کرتا ہوا اس طرف آیا تو نیچے پروٹوکول میں سندھ کی ہائیسٹ سرکاری اتھارٹی چیف سیکرٹری، ان کے جلو میں آئی جی صاحب، ذرا ہٹ کے سیاہ اور سفید شیروانیاں تھامے دوڑے دوڑے بھاگے سے ایک صاحب بھی آگئے جنہوں نے اعلان کیا کہ Barely managed with his sherwanis۔ بعد میں اس نیک دل آدمی نے اپنا تعارف وزیر اعظم کا بھائی کہہ کرایا۔

ان سب سے شمع کی مانند اہل انجمن سے بے نیاز اپنی آگ میں چپ چاپ جلتا۔ اس نیم تاریک گوشے میں سیاہ ویلڈنگ کا چشمہ لگائے، سفید شلوار قمیص میں ملبوس پیلے براؤن کالے چیک کی بٹن بند واسکٹ اور ویسی ہی کرسٹی گیلز کی انگلش کیپ، ہاتھ میں گولڈ لیف کا پیکٹ تھا اور اسی ہاتھ کی دوسری اور تیسری انگلی کے درمیان بند مٹھی میں سلگتا ہوا سگریٹ۔ نہ اسے آئی جی کی دلداری اور منصب عالیہ کی پروا تھی نہ کارگو کی آتش پرستی کی۔ ہمیں لگا کہ یہ ایم آئی سکس کا ملکہ برطانیہ کی اجازت خصوصی سے تعینات وہ لارنس آف سمندری ہے۔ ان کا جاسوس رب نواز جسے آب پارہ والوں نے ہم سب کی نگرانی کے لیے بھیجا ہے۔

کرسٹی گیلز کیپ

جہاز رکا تو جس قدر جلدی نامزد وزیر اعظم کو طیارے سے باہر آنے کی تھی ایسے ہی بوجھل قدموں سے ہم بھی انہیں وصول کرنے کے لیے چل پڑے۔ ان کی شناخت کا مرحلہ یوں طے ہوا کہ ایئر ہوسٹس نے ہمارے استفسار پر کہا کہ فرسٹ کلاس میں ایک ایسا شخص موجود ہے جو یقیناً پاکستان کا ہونے والا وزیر اعظم ہے کیوں کہ بنکاک سے جہاز کے اڑان بھرنے سے اب تک وہ ہزارہا مرتبہ پوچھ چکا ہے کہ کراچی کب لینڈ کریں گے؟ ہم نے بھی آہستہ سے کہا کہ تو اگر کبھی بدھا کی کرپا سے وزیر اعظم بنی تو تیرا بھی وہی حال ہوگا جو ہمارے ہاں گاؤں کی دلہنوں کا دوسرے پنڈ سے آنے والی بارات کے بے چینی سے انتظار کے لمحات میں اور ہمارے جادوگر کے ہیٹ سے خرگوش کی طرح برآمد ہونے والے وزیر اعظم کا ہے۔

وزیر اعظم سے سرکاری تعارف کے دوران ہی ہم نے ان کا پاسپورٹ اور سامان کے ٹیگ حفظ ماتقدم پر مانگے تو انہوں نے خوش دلی سے حوالے کردیے۔ پاسپورٹ مشینی نہ تھا۔ تب تک مشینی پاسپورٹ آیا بھی نہ تھا۔ اسے سنگاپور سے جاری کیا گیا تھا۔ نام کی تصدیق کے لیے کھولا تو اس کے صحفات آپس میں یوں پیوستہ تھے جیسے چھوٹے بچے اجنبی مہمان کے تابڑ توڑ سوالات سے تنگ آن کر ایک دوسرے میں گھسے جاتے ہیں۔ ہم نے معین احمد قریشی نام پڑھا۔ سکھ کا سانس لیا کہ گوہر مطلوب تک صحیح پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کو جہالت اور غربت سے نکالنے کے لیے ورلڈ بینک نے انہیں بمشکل زمین پر اتارا ہے، ورنہ یہ بھی ستاروں میں بس رہے تھے کہیں۔

دم رخصت ایئر ہوسٹس سے انہوں نے ہاتھ ملایا تو جھونگے (چھوٹے علاقوں میں بچوں کو دکان سے سودا خریدنے پر جو چھوٹی سا کھانے پینے کا تحفہ دیتا ہے اسے پنجابی میں جھونگا کہتے ہیں) میں ہمارے ہاتھ میں تھائی ایئر کی ایئر ہوسٹس کا اجلی رس ملائی جیسا ہاتھ آگیا۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ نو تعینات وزیر اعظم کا پہلا سوال کیا تھا؟ ہم آپ کے تجسس پر برف کا پانی ڈال دیتے ہیں۔ وہ سوال تھا

Has someone brought Sherwanis for me؟ ہم نے جواب دیا

Yes Two- A white and black one

تو انگریزی میں پوچھنے لگے کہ وہ کونسی پہنیں؟ ہم نے کہا اگر تقریب کو ولیمہ سمجھتے ہیں تو وہائٹ اور سوئم سمجھتے ہیں تو سیاہ۔ ہنس کے کہنے لگے Nothing for honey- moon؟ جواب ملا We only have wedding bells and funerals here۔ انہوں نے ہمارے حس مزاح، گستاخانہ بے باکی کی تعریف کی اور وہ تین دفعہ جب کراچی آئے اور ہم ہی نے ان کے فرائض میزبانی نبھائے تو نام اور اپنا ڈائریکٹر پروٹوکول کا فقیرانہ عہدہ بتانے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ انہیں یاد ہوتا تھا۔

ہوائی جہاز کی سیڑھیوں کے ساتھ لگی ہوئی میزبان پر وقار کی قطار کی طرف انہیں لے جانے کی کوشش کی تو وہ پہلے تو اپنے شیروانی والے بھائی سے لپٹ گئے اور اس کے بعد وہ تیزی سے اس رب نواز جاسوس کی طرف بڑھے اور پیار والی جپھی ڈال کر دونوں ایک دوسرے کے ایسے اٹھانے لگے جیسے سندھی کشتی ملاکھڑا میں شلوار کو تھام کر مّل (پہلوان) ایک دوسرے کو زمین سے پٹخنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ برما ٹیک کی لکڑی کی رنگت والے چیف سیکرٹری جو سیاہ شیروانی اور ٹرمینل تھری کی تاریکی میں بمشکل دکھائی دیتے تھے۔ آئی جی صاحب بھی حیرت زیادہ تھے کہ انگنا میں نیاز و ناز کا یہ کیسا حسین منظر ہے کہ باوردی درست بت مغرور آئی جی کو چھوڑ کے ایک ڈی ایس پی کو وزیر اعظم نے یوں یوں پیار والی جھپی ڈال دی ہے؟

پرانے ٹرمینل پر جب عملے نے اپنے گواچے ہوئے وزیر اعظم کو دیکھا تو سانس میں سانس آئی ورنہ وہ تو ڈبوں میں بند اورنج جوس کے جام پر جام لنڈھا کر ہمارے عملے کو گا گا کر کہہ رہے تھے نگاہ ماردا آئیں میرا لونگ گواچا! وی آئی پی لاؤنج میں وزیر اعظم نے زیادہ گفتگو اپنے رشتہ داروں سے کی۔ سب کے سب بہت دھیمے مزاج کے شائستہ اور خوش مزاج تھے۔ کچھ مرد حضرات اور خواتین اور بھی تھے جو لگتا تھا۔ ان سے بیرون ملک قیام سے ہی واقف ہیں۔

آئی جی صاحب سے انہوں نے زیادہ اور چیف سیکرٹری سے بہت کم بات کی البتہ ہمیں قریب بٹھا کر کہنے لگے کہ وہ جو صاحب کونے میں سگریٹ پھونک رہے ہیں کیا میں انہیں اور ایک بہتے عنابی رنگت کے ملبوس والی تراشیدہ خطوط کی حامل گل تازہ قسم کی خاتون کو ان کے ساتھ جہاز میں بٹھا سکتا ہوں؟ ہم نے جب کہا ان کی خواہش تو ہمارے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے تو ان کے چہرے پر ہمارے جواب سے مرتبہ خوش گوار تاثرات کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ واشنگٹن میں ورلڈ بینک کی نوکری میں انہیں تابعداری کے شیرے میں لتھڑے ہوئے ہمارے جیسے سرکاری ملازمین کہاں ملے ہوں گے؟ وہاں تو ان کے بڑے افسر بھی میٹرو سے آتے جاتے ہیں۔ کیسا بھی موسم ہو دو بلاک پیدل چل کر پہنچتے ہیں کافی کی مشین سے کاغذ کے گلاس میں کافی بھی خود ہی لانی پڑتی ہے۔ امریکہ میں تو آپ اپنی سیکرٹری کے لباس اور بدن کی بھی تعریف نہیں کرسکتے کہ یہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا فعل قبیحہ سمجھا جاسکتا ہے۔ جبکہ یہاں تو وہ عنابی لباس والی ایک Fragile ,Handle with Care قسم کےCargo کی طرح جہاز میں سوار ہونے کے لیے بے تاب تھی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ٹرمینل کے اندر کیوں کر پہنچی تھی؟

ہماری وزیر اعظم سے اس مختصر سی گفتگو سے اصلی تے وڈے سی-ایس-پی چیف سیکرٹری کچھ بے لطف ہوگئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم قربت شاہ کے نشے میں وزیر اعظم کے کسی حکم کی بجاآوری میں کوتاہی کے مرتکب ہوں۔ خاموشی سے اداکارہ سلمہ ہائیک جیسے ریڈ کارپٹ والے آرمانی کے گاؤن کی طرح شیروانی سمیٹی اور اور باتھ روم کی طرف چل دیے۔ چلتے ہوئے ہمیں پیچھے سے انگلی سے ٹھونکا دیتے ہوئے گئے کہ ہم بھی پیچھے پیچھے آجائیں۔ باتھ روم سے برآمد ہوئے تو Divider کے پیچھے کچن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ ساری احتیاط اس لیے تھی کہ وہ ابھی گریڈ اکیس میں تھے۔ جلد ترقی کے بے تحاشا خواہاں۔ ڈی ایم جی جو اب ہندوستان میں اپنے ہم منصب گروپ کی نقل میں پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس کہلاتی ہے ایسے مواقع کی تاک میں رہتی ہے کہ وزیر اعظم آتے ہوں، وزیر اعظم جاتے ہوں۔ یہ ہی وہ عرصہ ہوتا ہے جب ترقیوں کی لوٹ سیل لگتی ہے۔ آتا ہوا وزیر اعظم لالچی اور جاتا ہوا وزیر اعظم خوف سے پیلا پڑا ہوتا ہے۔

انہیں جب ہم نے بتایا کہ وہ دو افراد کو جہاز میں سوار کرانے کا حکم دے رہے تھے۔ خاتون خوش رنگ کو تو انہوں نے انگریزی میں May be personal کہہ کر نظر انداز کیا لیکن لارنس آف سمندری اس بے چارے رب نواز جاسوس کو انہوں نے انگریزی میں ایک کراری سی ماں کی گالی دی۔ حسین معشوق اور سی ایس پی افسر گالی بکے تو لہجے کی شائستگی کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ کسی نے چائے میں الائچی ڈال دی ہو۔ ہم نے پوچھا کہ یہ رب نواز جاسوس کون ہے؟ ہماری اس عدم واقفیت کی وجہ سے انہوں نے ہماری نوکری پر لعنت بھیجی۔ وہ ان دنوں سندھ پولیس کی جانب سے ایف آئی میں ڈپوٹیشن پر تعینات کروڑ پتی اسسٹنٹ ڈائریکٹر چوہدری شریف گجر تھا۔

چوہدری شریف گجر

تین دفعہ اس کے بعد وزیر اعظم تشریف لائے تو کراچی میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں وہی ناہنجار ان کی خواب گاہ سے نکلنے والے آخری اور داخل ہونے والا پہلا افسر ہوتا تھا۔ کسٹم کی فائلیں جن کے سرکاری فائل کورز نئے گلابی فائل کی کلر کوڈنگ اور جلد شناخت کے لیے بدل دیا جاتے تھے۔ رنگ تو اور بھی ہوتے تھے لیکن ایک دن ادھر ادھر ہوا اور وزیر اعظم نے کوئی فائل مانگی تو نائب قاصد نے ہمیں باہر سے بلالیا کہ فائل نکا ل کردیں۔ تب ہم یہ راز نہاں کھلا کہ وہ کسٹم کی فائل تھی۔ وہ احکامات کے لیے لاتا اور لے جاتا۔ ہر ٹرپ یوں کروڑوں روپے کے لین دین کا سودا بن جاتا تھا۔ اپنے لیے بھی اور وزیر اعظم کے سفر آخرت کے لیے بھی۔

ایک دن وزیر اعظم باتھ روم میں تھے تو پنجابی میں کہنے لگا۔ ’’دسو کتھے جانا اے کسٹم کہ ایف آئی اے۔ ہن ہی اپلیکشن لکھو ہن ہی آرڈر کرانا آں۔ ’’ ہم نے کہا رہنے دیں ہمیں انگریزی نہیں آتی‘‘ تو کہنے لگا ’’مینوں کہیڑی آندی ہے؟‘‘۔ ہم نے دامن بچانے کے لیے جب کہا کہ ہم تو صوبائی ملازمت کے معمولی سے افسر ہیں تو کہنے لگا میں وی شروع وچ ایئرپورٹ تھانے وچ ہیڈ کانسٹیبل ساں۔ بادشاہو! ہمت پکڑو نئیں تے پچھے رہ جاؤ گے!‘‘

ہمارے سی-ایس-پی چیف سیکرٹری وزیر اعظم کے جاتے جاتے گریڈ بائیس میں پہنچ گئے۔ معین قریشی کا دور افسران عالی مقام کی ترقیوں کا سنہری دور تھا۔ وہ لارنس آف سمندری بھی ترقی پاکر ایف آئی اے میں ہی ضم ہوگیا۔ اس کے دور میں کسی کو سندھ میں کسی کو ایف آئی ایے کا ڈائریکٹر لگنے کی جسارت نہ ہوئی۔ یہیں سے جیل بھی گیا اور رہائی پاکر مسلم لیگ نون کا قومی اسمبلی کی رکنیت کا امیدوار بھی بنا۔ سندھ سے بہت دولت کمائی تھی اور ایام آخر میں معتبر ہونے کے لیے بیشتر افسران کی طرح اپنے آبائی علاقے جا بسا تھا۔

ایسے ہی دن تھے کہ ہماری عدالت کے باہر ہیڈ کانسٹیبل کے طور پر منڈلانے والا چوہدری شریف گجر اپنی چم چماتی پراڈو میں کہیں جاتا تھا کہ کوٹ رنجیت، نزد شیخوپورہ اس کی جیپ کا ٹائر پھٹ گیا اور وہ سڑک کے کنارے کسی ٹرک سے یوں ٹکرائی کہ وہ اور ڈرائیور دونوں ہلاک ہوگئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے فرزند کے انتخابی بینر پر والد مرحوم کے نام نیچے شہید کا وہ سستا ٹائٹل درج ہے۔ شہید کا یہ عظیم لاحقہ ہر مرنے والے کے لیے پاکستان میں کوڑیوں کے مول دستیاب ہے، چاہے وہ رات مجرے کی محفل، سیاسی جلسے سے خطاب یا زمینوں سے گھر لوٹتے ہوئے یا ٹارگیٹ کلنگ کرتے ہوئے پولیس کی گولی سے ہلاک ہوا ہو۔

رہ گئے ہم جو اس ترغیب اور موقع کی دستیابی کے باوجود نہ کسٹم، میں گئے نہ ایف آئی اے میں۔ تو ہمارے لیے ابن انشا مرحوم بہت پہلے کہہ گئے تھے

اس دل کے دریدہ دامن میں، دیکھو تو سہی، سوچو تو سہی

جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.