ہر بات ہی سیاسی بات ہے – محمد جمیل اختر

آج کل جو بات بھی پڑھنے کو یا سننے کو مل رہی ہے، سیاسی ہے۔ سیاست نے عوام کی زندگی میں شامل دیگر موضوعات کو نگل لیا ہے، سیاست بھی زندگی کا ایک اہم موضوع ہے لیکن وہ مکمل زندگی نہیں ہے۔ لوگ زندگی میں زندگی کی بات نہیں کرتے اور ایک دوسرے کو سیاسی جماعت سے وابستگی کے حساب سے پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا آوازوں کا ایک ہجوم ہے کہ جس میں بیکار باتوں کا تناسب زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ بھی اتنی آوازیں اور شور ہے کہ آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ ایک بڑے حمام میں ہیں، جس کی دیواروں پر لکھا ہے کہ یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے اور اس دیوار کے عین نیچے لوگ سیاسی گفتگو کر رہے ہیں۔ سڑک ہو، بس ہو، سکول ہو کہ دفتر ہر کوئی سیاست کو زیر بحث لائے ہوئے ہے۔

عموماً لوگوں کا مکالمہ یوں ہوتا ہے کہ " آپ نے رات فلاں لیڈر کی بات سنی؟ "

"سن لی، جواب دیکھا تھا پھر؟ کیسا منہ توڑ جواب دیا ہے۔"

" جاؤ جاؤ بھئی، جواب تو وہ دیں جن کا کوئی کردار ہو، ابھی اس دن ہی عدالت نے کہا ہے کہ سب کرپٹ ہیں۔"

اور پھر یہ مکالمہ ایک تلخ بحث میں بدل جاتا ہے اور عموماً لوگ اپنے دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔

غریب ملکوں میں تمام سیاسی جماعتیں تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ بس انیس، بیس کا فرق ہوتا ہے۔ سب نے وعدے کرنے ہوتے ہیں تاکہ وہ بھلائے جاسکیں اور عوام انہی کی بنیادوں پر ووٹ دے سکیں اور ملک کا طاقتور طبقہ کمزور پر ایک مناسب طریقے سے حکومت کرسکے۔ بس اتنی سی بات ہوتی ہے اور عوام ایک دوسرے کا گریبان ناحق پکڑتے ہیں۔

ایک نوجوان کا قصہ ہے کہ وہ دس دن اپنے گھر سے اس لیے باہر رہا کہ اس کے گھر والے اس کی مخالف سیاسی پارٹی کو ووٹ
دینے کا ارادہ رکھتے تھے، سو چونکہ وہ ایک جذباتی نوجوان ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کی پارٹی ہی عوام کی امنگوں کی سہی ترجمان ہے۔ سو اگر ان کو ووٹ نہ دیا گیا تو وہ گھر واپس نہ آئے گا۔ سو گھر والوں نے معذرت کی اور اس کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ امید ہے اس کی پارٹی حکومت میں آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑائی کے بعد والے مکے یا اقدار کی سیاست - یاسر محمود آرائیں

یہ عجیب رویوں کی تبدیلی ہے کہ خاندان کے لوگ آپ کو بچپن سے جانتے ہیں اور آپ ان سے دشمنی صرف سیاسی جماعت سے وابستگی کی وجہ سے اختیار کرلیتے ہیں، جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ ہم اپنے سیاسی نظریات میں اس قدر پختہ اور تلخ ہوجاتے ہیں کہ مخالف کی ہر بات، ہر دلیل بغیر غور کیے رد کردیتے ہیں کیونکہ ہم اپنے ذہن میں پہلے ہی سے مخالف کو غلط اور جھوٹا تصور کیے ہوتے ہیں سو وہ کبھی سچا ہو ہی نہیں سکتا۔

ایک بات قابل غور ہے کہ گزشتہ ستّر سالوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی لوگوں نے ووٹ کے بعد آپ کو نظر بھی نہیں آنا اور آپ نے پھر انہی رشتہ داروں اور احباب کے ساتھ گزارہ کرنا ہے، سو اپنے پیاروں سے بگاڑ کر مت رکھیے اس موئی سیاست کی وجہ سے آپ کیوں ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے ہیں، محبتوں کو نفرتوں میں کیوں بدلتے ہیں؟

آپ کی بات اور نظریہ آپ کے لیے جتنا اہم اور سچا ہے آپ کے مخالف کا نظریہ بھی اتنا ہی اہم اور سچا ہوسکتا ہے سو اس میں جھگڑا بھلا کس بات کا؟ برداشت کیجیے اور زندگی میں سیاست کے علاوہ بھی ہزاروں موضوعات ہیں ان پر غور کیجیے اور انہیں بھی زیر بحث لائیں۔