فاٹا کا انضمام اور ہزارہ صوبے کا قیام - کامران ریاض اختر

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی بحث آجکل پھر زور پکڑ رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے، دہشت گردی کے امکانات کو ختم کرنے اور قبائلی عوام کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے۔

لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ تمام اہداف فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنا کر کیوں نہیں حاصل کیے جا سکتے۔ علیحدہ صوبہ بننے کی صورت میں فاٹا کے پاس این ایف سی ایوارڈ کے ذریعہ قومی وسائل میں علیحدہ حصہ ہوگا، کوٹہ سسٹم جاری رہنے کی صورت میں ملازمتوں میں اپنا کوٹہ ہوگا، سینیٹ میں نمائندگی ہو گی، مشترکہ مفادات کی کونسل میں فاٹا کی نمائندگی ہوگی۔ لیکن فاٹا ان سب فوائد سے خیبر پختونخوا میں انضمام کی صورت میں محروم ہو جائے گا۔ کے پی کا کا حصہ بننے کی صورت میں فاٹا کو وہی کچھ مل سکے گا جو پشاور اسے دینا چاہے گا، وسائل پر اس کا کوئی جداگانہ قانونی حق نہیں ہوگا۔

پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ قبائلی علاقوں کی عوام کی باقاعدہ رائے لیے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کسی اور کو کیا حق پہنچتا ہے؟ عوامی رائے کے تعین کے لیے ریفرینڈم کرا لینے پر کیوں کچھ لوگوں کو اعتراض ہے؟ یقیناً سرتاج عزیز کمیٹی کی قبائلی مشران سے ملاقاتوں کے بعد مرتب کی گئی سفارشات سے زیادہ قابل اعتماد عوام کی رائے کا براہ راست اظہار ہوگا-

خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ قبائلی عوام نسلی اور لسانی طور پر خیبر پختونخوا کی اکثریتی پختون آبادی سے جڑے ہیں۔ لیکن ہم یہاں یہ بات نظر انداز نہیں کر سکتے کہ تمام پاکستانی صوبے انتظامی اکائیاں ہیں نسلی یا لسانی وحدتیں نہیں۔ اگر نسلی اور لسانی بنیاد پر تنظیم نو کی جائے تو نہ صرف موجودہ صوبوں کی نئی حد بندیاں کرنا ہوں گی بلکہ کئی نئے صوبے بھی قائم کرنا ہوں گے۔

مثلاً خیبر پختونخوا کو ہی لے لیں، اگر پختون ہونے کی بنا پر قبائلی علاقوں کو اس کا حصہ بنایا جائے تو اسی اصول پر بلوچستان کے پختون علاقے بھی اس کا حصہ ہونا چاہیئیں۔ پھر خود خیبر پختونخوا کے غیر پختون علاقے جیسے ہزارہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کسی پختون صوبے کا حصہ کیوں رہیں؟ کیوں نہ جس آئینی ترمیم کے ذریعہ فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اسی کے ذریعہ ان علاقوں کو بھی علیحدہ کر کے دوسرے صوبوں کا حصہ بنا دیا جائے یا کم از کم ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے؟ اب تو آبادی کی بنیاد پر ہزارہ کے ہندکو بولنے والے صوبے میں حکومتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن فاٹا کی شمولیت کے بعد ان کی آبادی کا تناسب کم ہونے سے ان کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور وہ خیبر پختونخوا میں ایک بے بس اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔

اس لیے جو لوگ نسل کی بنیاد پر خیبر پختونخوا میں فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں وہ دوسری نسلوں کا حق بھی تسلیم کریں اور انضمام کی صورت میں ہزارہ صوبے کی حمایت بھی کریں-