چھوٹی امی - عظمیٰ ظفر

رشتوں کی مٹھاس اور چاشنی ان کو نبھانے میں ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے ہوتی ہیں جن کی محبت اپنائیت مٹھاس سے بھری ہوتی ہے اور وہ بھلائے نہیں جاتے۔ میرے لیے بھی ایسی ایک ہستی میری چچی تھیں جنھیں ہم سب بہن بھائی "چھوٹی امی" کہتے تھے۔

چونکہ میرا بچپن بہت زیادہ چچا جنھیں ہم پاپا یا چھوٹے ابو کہتے ہیں ان کے گھر اپنی چچازاد بہنوں کے ساتھ گزرا، اس لیے میں اپنے گھر کم اور وہاں موقع بے موقع پائی جاتی تھی۔ اور چھٹیوں میں تو دل گھر میں کم لگتا، وہاں زیادہ لگتا تھا۔

چھوٹی امی کی شخصیت پر مکمل طور پر لکھنا تو شاید ممکن نہیں۔ البتہ ہم بہن بھائیوں کو ان سے بہت پیار تھا۔ وجہ یہی تھی کہ وہ پیار دیتی بہت تھیں۔

میں نے انہیں ہمیشہ ہنستا مسکراتا دیکھا۔ کبھی شکوہ کرتے ہوئے، روتے دھوتے نہیں دیکھا۔ پاپا سے ہونے والی ہلکی پھلکی بحث میں بھی ہم ہنس رہے ہوتے۔ پاپا غصے سے پھولتے تو چھوٹی امی ٹھنڈی پھوار بن جاتیں۔

پرکشش چہرہ، باوقار اور سادہ لباس۔ چھوٹی امی اور چھوٹے ابو کی جوڑی بھی بہت زبردست تھی۔ میں نے ہمیشہ انہیں ساتھ ساتھ دیکھا۔ دونوں میں محبت بھی مثالی تھی۔ کھانے کی میز پر ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملتا۔ کھانے کی اشتہاء سے ہم بے تاب ہوتے اور اگر چھوٹی امی میز پر نہیں ہوتیں تو پاپا مستقل آوازیں لگاتے:

آجاؤ جی!، آجاؤ جی!

اور چھوٹی امی کہتیں ہم آرہے ہیں، آپ لوگ کھانا شروع کریں۔

مگر چونکہ پاپا کی پلیٹ میں چھوٹی امی خود کھانا ڈالتی تھیں، اس لیے وہ انتظار کرتے رہتے۔ کبھی خود سے کھانا شروع نہیں کرتے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد چونکہ پاپا جلدی جاگ جاتے تھے، اس لیے اگر کبھی چھوٹی امی سو رہی ہوتیں تو ناشتے کے لیے کبھی منہ سے نہ کہتے۔ بلکہ یا تو کھڑکی سے تھوڑا سا پردہ ہٹا دیتے، کبھی کرسی کو زمین پر بلاوجہ گھسیٹتے تاکہ آواز سے کسی طرح وہ اٹھ جائیں۔

میں نے کبھی ان کو بےحال اجڑے حلیے میں نہیں دیکھا۔ صبح کچن میں آتیں تو بالوں پر ہاتھ پھیرتی سمیٹ کر آتیں۔ وہ ہر موسم میں سدا بہار تھیں۔

خاندان والوں کو جوڑ کر رکھنا، ملنا ملانا، تحفے تحائف، کھلے چھپے، سب کا اہتمام سلیقے سے کیا کرتی تھیں۔ اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا، خود بھی تعلیم یافتہ تھیں۔

میں نے کتابوں سے محبت وہیں سے سیکھی۔ پرانے مصنفوں سے تعارف ان ہی کے گھر سے ہوا۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک کی عمر کا ادب ان کے گھر میں موجود تھا۔ کتابوں کی حفاظت دل و جان سے کی جاتی۔ آج میرے بچوں کو جب بچپن کی پڑھی گئیں وہی کتابیں نونہال، ٹوٹ بٹوٹ، گل بکاؤلی، آنکھ مچولی، وغیرہ پڑھنے کو ملیں میں تو حیران رہ گئی کہ کم و بیش وہ اسی حالت میں تھیں۔

ہمیں اس گھر میں جب بھی جانا ہوتا تو ہمیشہ یہی کہتے چھوٹی امی کے گھر جا رہے ہیں۔ چچا کے گھر کہنا تو اجنبی سا لگتا تھا زباں کو بھی، سماعت کو بھی۔

پتہ نہیں پہلے کے لوگ کس مٹی سے گندھے تھے۔ خلوص و محبت، رواداری، قربانی اور سب سے بڑھ کر بڑوں، چھوٹوں کی عزت۔

مجھے یاد ہے جب بھی کوئی نئی کتاب آتی تو چھوٹی امی وقتاً فوقتاً کمرے کا چکر لگاتیں کہ شاید کتاب ختم ہوگئی ہو اور ان کا نمبر آجائے۔ کوئی نا کوئی کتاب ان کے کمرے میں پڑھنے کے لیے ضرور ہوتی۔

عم زاد بہنوں کے ساتھ گزارا وقت تو اک الگ اور عجیب داستان ہے مگر یہ رشتے بھی بڑوں کے ذریعے ہی پروان چڑھتے ہیں۔ اس لیے آج تک ہم میں وہی محبت ہے کہ لاکھ نظروں سے دور سہی، دل ملنے کو تڑپتا ہے۔ جتنا بھی مل لیں، باتیں کرلیں، وقت کم ہی لگتا ہے۔

خصوصاً چھوٹی امی کے انتقال کے بعد میرا دوسرا میکہ تو سمجھیں ختم ہوگیا۔ پاپا اور ساری بہنیں بھی شہر کو ویران کرکے دوسرے شہر آباد ہوگئیں۔

چھوٹی امی کی سلیقہ مندی اپنی مثال آپ تھی۔ پرانی چیزوں کو بھی ایسے سنبھالتیں جیسے نئی کی نئی ہوں۔ کپڑوں کے کترنوں کو بھی سلیقے سے تہہ کرکے رکھتیں۔ ہاتھ سے تہہ کیے کپڑوں کو لگتا استری کی ضرورت نا ہو۔ ان کی الماری میں سب کچھ ایسے سلیقے سے رکھا ہوتا جیسے سامان ابھی بول پڑے۔

عمر کے ساتھ ساتھ جب بیماری بڑھتی گئی تو اکثر بھولنے لگی تھیں اور بعد میں اس بھول پر بھی ہم خوب مزے لے کر ہنستے، وہ خود بھی ہمارے ساتھ ہوتیں۔ کالج یونی ورسٹی کی باتیں شوق سے سنتیں۔ اہمیت دیتیں تھیں۔ اس طرح ان کی بچیوں کی دوستیں بھی ان کی گرویدہ ہوجاتیں۔ ان سے ان کے مزاج کے مطابق ہی بات کرتیں۔ حلقہ احباب بھی بہت وسیع تھا وہ کسی کی ننا تھیں، دادی تھیں، بھابھی تھیں، بہن تھیں تو کسی کی پھوپی، کسی کی ممانی، کسی کی آنٹی.۔ سب کو جتنا پیار دیا، اتنا ہی سب آج ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

انہیں سارے کام خود کرنے کی عادت تھی۔ بہترین سلائی کرتی تھیں۔ کھانا پکانا، گھر داری، سب کام اپنے ہاتھوں سے کرنا پسند تھا اس لیے بحالت مجبوری رکھی جانے والی ماسیاں بہت کم ان کے گھر ٹکتی تھیں۔

کسی کام کے لیے دوسروں کو کہنے اور انتظار کرنے کے بجائے خود ہی کرلیتیں۔ روک ٹوک کبھی ہوتی تو اس وقت طبعیت پر گراں گزرتی تھی مگر وہ ہمارے فائدے کے لیے ہی ہوتی تھی۔

جوڑوں کے شدید درد میں بہت مجبور ہوکر بھی گھر کا کام خود کیا کرتیں اور رشتے داریاں بھی نبھاتیں۔ یہاں تک کہ ہمارے گھر بیمار پرسی میں بھی موسم کے پھل لیے پاپا کو زبردستی لے کر آجاتیں خواہ وہ آنا چاہ رہے ہوں یا نہیں۔ کیونکہ وہ خود بڑھاپے کی طرف جارہے تھے۔ وہ ملنا ملانا اور گاڑی ڈرائیو کرنا نہیں چاہتے تھے مگر چھوٹی امی ہر جگہ ان کو اپنے ساتھ لے جاتیں۔

میں نے اپنی والدہ اور چھوٹی امی میں کبھی دیورانی جٹھانی والی لڑائی جھگڑے والی بات نہیں دیکھی۔ انہیں غصہ کرتے یا کسی بچے پر ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھا۔

صرف پیار بھری ڈانٹ میں کہتی تھیں۔ "ماریں گے ایک ہاتھ"۔ ان کی چار نگوں والی ناک کی لونگ ان کے چہرے پر بہت بھلی لگتی تھی۔

شدید بیماری میں بھی اللہ کا شکر زبان سے جاری رہا۔ عبادت گزار تھیں۔ قرآن آخر وقت تک نہیں چھوٹا۔ عیادت کے لیے جاتے تو بہت عاجزی دکھاتیں۔ آنے والے کا اتنا شکریہ ادا کرتیں کہ سب شرمندہ ہوجاتے۔

کبھی فون پر بات ہوتی تو پھولتی سانسوں اور لڑکھڑاتی آواز کے ساتھ فرداً فرداً سب کی خیریت معلوم کرتیں، دعا دیتیں۔

انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کی طرح پیار دیا۔ میرے لیے بھی وہ صرف چچی نہیں، سچ مچ چھوٹی امی ہی تھیں۔

اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت کے اعلیٰ باغوں میں ان کی مہمانی کرے۔ آمین!

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں