لاہور پیرس اور کراچی نیویارک، علاج لندن میں کیوں؟ - محمد علی خان

جب کبھی مؤرخ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایمانداری سے مرتب کرے گا وہ خادمِ اعلیٰ شہبازشریف کے ذکر خیر کے بغیر ادھوری رہے گی۔ ان کی "گڈ گورننس" کی طرح ان کی گفتگو بھی کمال کی ہوتی ہے جس کا لطف اس وقت دو آتشہ ہوجاتا ہے جب وہ فرماتے ہیں کہ اس بار اگر عوام نے ہمیں منتخب کیا تو لاہور کو پیرس بنا دیں گے۔ یہ وہ جملہ ہے جو وہ ہر الیکشن کے موقع پر دہراتے ہیں اس میں نیا اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب کراچی کے دورے کے دوران انہوں نے کراچی کو نیویارک بنانے کا اعلان کیا تو اہل کراچی کی بن آئی۔شہباز شریف نے ابھی سے اپنے مالی معاملات کو فارن کرنسی یعنی امریکن ڈالر کے حوالے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور بعض افراد یہ بھی پوچھتے پائے گئے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ پر گرین کارڈ کی اسٹمپ یہیں کراچی میں لگے گی یا امریکہ والے نیویارک سے لگ کر آئے گی؟

وہ تو بھلا ہو پاکستان کے پیرس لاہور سے اطلاع آگئی کہ ان باتوں کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں، الیکشن کے دنوں میں میاں شہبازشریف کی شو بازیاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ پھر الیکشن جیتنے کے بعد وہ بتا رہے ہوتے ہیں کے فلاں سال کے آخر تک ہم بجلی ہی ختم کر دیں گے، مطلب کہ لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے اور پھر کسی شاندار موٹروے کا افتتاح ہوجاتا ہے۔یار لوگ بھی نیتوں پر شک کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں پیرس اور نیویارک کو چھوڑیں بس لندن کی طرح کوئی اسٹیٹ آف دی آرٹ ہاسپٹل بنا دیں جس میں عوام کو بھی چھوڑیں بس اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا علاج کرا سکیں۔

دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب گورنمنٹ سے پچاس کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے جس کے مطابق ہر چیئرمین پانچ لاکھ سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں اور انکے زیر استعمال گاڑی کی مالیت 65 لاکھ سے زائد ہے جبکہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کی تنخواہ ایک لاکھ 80 ہزار بتائی گئی ہے، یقیناً چیف سیکرٹری سوچنے میں حق بجانب ہوں گے۔

اورنج ٹرین کے منصوبے پر لاگت 93 ارب تک جا پہنچی ہے جو کہ ابھی تک نامکمل ہے ۔گڈ گورننس کے دعویداروں کا سارا زور کاسمیٹک منصوبوں پر ہے۔ سستی روٹی ہو یا دانش اسکول قائد اعظم سولر پارک ہو یا نندی پور پروجیکٹ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

بات کہاں سے چلی کہاں جا پہنچی؟ میاں شہبازشریف کے کراچی کے طوفانی دورے متحدہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مراکز پر حاضری اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کے شہبازشریف حصول اقتدار کے لیے ہر دہلیز پر سجدہ کرنے کو تیار ہیں۔ میاں نواز شریف کا بیانیہ مزاحمتی اور نظریاتی سیاست کا علمبردار ہے جبکہ شہباز شریف مصالحت کے سرخیل بنے پھر رہے ہیں۔

آنے والے الیکشن میں کس کو کیا حصہ ملے گا؟ اس کا فیصلہ تو نتائج کریں گے مگر عوام کا کہنا ہے کے پچھلے الیکشن میں ن لیگ کی تشہیری مہم میں انہیں بلٹ ٹرین دکھائی گئی تھی حکمرانوں کا تو چین آنا جانا لگا رہتا ہے جب تک اصل ممکن نہیں ہے بلٹ ٹرین کا ماڈل ہی منگوا کر بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر نصب کر دیا جائے۔

دوسری طرف بعض لوگ بضد ہیں کے لوڈ شیڈنگ اور توانائی کا بحران ن لیگ کی انتخابی مہم کا مرکزی ایجنڈا ہونا چاہیے کیونکہ جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوں گے انہیں پر ووٹ لینے کی سیاست ہوتی رہے گی اور اس طرح ووٹ کی عزت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

ہر چارہ گر کو میری چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ مجھے جو درد تھے اتنے لا دوا نہ تھے