شیخ سدو - خرم علی راؤ

نام تو اسد جمال شیخ تھا مگر مشہور شیخ سدو کے نام سے ہیں۔ آپ کی کیا تعریف کروں؟ انہیں اگر محلہ بھنڈار پورہ کی سب سے دلچسپ اور مشہور شخصیت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کن کن خوبیوں کے حامل ہیں، کیا عرض کروں؟ مرے قلم کی کیا اوقات، جو شیخ صاحب کی شخصیت کا احاطہ کر پائے؟ بس اپنی سی کوشش کر رہا ہوں کہ کوزے میں سمندر کو بند کر سکوں۔ سب سے بڑی خوبی تو ان کا اعتماد ہے، جو اتنا بڑھا ہوا ہے کہ کسی کواہمیت دینا تو درکنار خاطر میں بھی مشکل سے ہی لاتے ہیں۔ ہر علم اور ہر فن پر اتنے اعتماد سے بات کرتے ہیں کہ گویا جیسے ساری عمر اسی علم یا فن کی تحصیل میں ہی صرف کی ہو۔ فن سیاست اور سماجی واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں، علم نجوم میں بھی مہارت کا دعویٰ ہے۔ ستاروں کی چال بھی خوب سمجھ لیتے ہیں خصوصاً فلمی ستاروں کی۔ آپ بڑے وثوق سے علم الاعداد میں اپنی بے پایاں مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے سٹے کا نمبر بتاتے ہیں اور اگر وہ نہ لگے تو سننے والوں پر برس پڑتے ہیں کہ تم نے غلط سنا ہوگا، میں نے تو یہی بتایا تھا۔ مجھ جیسے کتنے ہی ان کے دوست نما مرید ہیں، چاہنے والے ہیں جن کے سروں اور حواس پر حضرت پیرِ تسمہ پا کی طرح سوار رہا کرتے ہیں۔

اکثر گلی کے کونے پر بنے تھڑے پر پائے جاتے ہیں۔ وہ ایسی جگہ ہے کہ ہر آنے جانے والا لا محالہ وہیں سے گزرتا ہے۔ چنانچہ شیخ صاحب سب پر نظر اور سب کی خبر رکھتے ہیں۔ خبر پر یاد آیا کہ اپنی نجومی مہارت کے بل پر وہ آئندہ ہونے والے واقعات کی خبریں بھی دے دیا کرتے ہیں۔ ملکی سیاست میں رونما ہونے والے اکثر واقعات ہمیں پہلے ہی ان کی زبانی معلوم ہو جایا کرتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر چند معمولی ترامیم، یہی کوئی اسّی نوّے فیصد تک، کے ساتھ ان کے بتائی پیشن گوئیاں تقریباً درست ثابت ہوا کرتی ہیں۔ چنانچہ مجھے یہ کہنے میں کوئی ڈر نہیں کہ محلہ بھنڈار پورہ کے لوگ شاید پاکستان کے سب سے باخبر لوگ ہیں۔ ان کی شخصیت ایسی نہیں کہ ایک آدھ مضمون میں سما سکے، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ یہ مضمون عمران سیریز کی طرح شیخ سدو سیریز کا آغاز ہو۔

مجھ سے بڑی محبت رکھتے ہیں اور مغل بچوں کی طرح جس سے محبت کریں اسے مار کر رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کی محبت بسا اوقات بڑی بھاری بھی پڑ جاتی ہے۔ انہیں میرے لکھنے لکھانے کے شوق کی بھی خبر ہے اور صحافت سے میرے تعلق کی بھی بھنک ہے، اس لیے اپنی ہر بات، ہر پیش گوئی، ہر خود ساختہ خبر مجھے اس ہدایت کے ساتھ بتانا کہ میاں، یہ اخبار میں لگنی چاہیے، ان کا معمول ہے۔

اکثر فرمائش کرتے رہتے ہیں کہ میاں! مجھ جیسا جینیئس اس تھڑے پر ضائع ہو رہا ہے، مجھے بڑا تھڑا یعنی کسی چینل پر کوئی کرنٹ افیئر کا پروگرام دلادو، ریٹنگ کے سارے ریکارڈز نہ توڑ کر دکھادوں تو کہنا۔ میں نے ایک آدھ مرتبہ دبے لفظوں میں منمنا کر گزارش بھی کی کہ شیخ صاحب! نیوز اور کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں ایک تو مقابلہ بڑا سخت ہے اور وہاں تو بڑے بڑے شیخ سدو پہلے ہی سے جمع ہوئے ہوئے ہیں اور" جان دے دوں، جگہ نہ دوں" والی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں، میں کچھ نہیں کر سکتا اور پھر میں تو ایک تیسرے درجے کا معمولی سا مضمون نگار ہوں، کسی چینل کا ہیڈ، یا کوئی "گورنر" تھوڑی نہ ہوں کہ کسی کو اینکر بنا سکوں؟ اس پر مجھے حقارت سے دیکھ کر ہنکارا بھرا اور چپ ہو گئے۔ مگر اکثر و پیشتر یہ فرمائش پھر بھی کرتے رہتے ہیں۔

منطق کے غلط سلط استعمال کے بادشاہ ہیں۔ ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ اگر امریکنز نے ہمارے وزیر اعظم کو برہنہ کرکے تلاشی لی ہے، تو کیا ہوا، کوئی بات نہیں، اس میں تو بے عزتی ہمارے ملک کی نہیں ہے بلکہ امریکا کی ہے۔ میں بڑا حیران ہوا اور تجسس سے پوچھا حضرت! وہ کیسے؟ شانِ بے نیازی سے فرمایا کہ بھئی ان کے جب جوتے موزے اتارے ہوں گے تو پیروں کو تو ہاتھ لگانا پڑا ہوگا نا؟ کیوں؟ ہوئی نا بے عزتی؟ ہمارے وزیر اعظم کے پیر چھونے پڑے نا؟ میں سوائے بے بسی سے سر ہلانے اور ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔

ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ پاکستان کا سب سے نیک طبقہ تو سیاست دانوں کا ہے۔ میں نے حسب معمول حیران ہو کر استفسار کیا کہ کیسے؟ فرمایا ابے تُو بڑا صحافی کی دُم بنا پھرتا ہے، بات کی تجھے ککھ سمجھ نہیں ہے؟ ارے! یہ بے چارے تو معمولی سی کرپشن وغیرہ کر کے عوام کے لیے جو مشکلات پیدا کرتے ہیں اور ان مشکلات پر عوام خون کے گھونٹ پی کر جو صبر کرتے ہیں تو انہیں کتنا ثواب ملتا ہے؟ تو بھائی یہ بے چارے تو ثواب پھیلارہے ہیں نا؟

اب بتائیں! اس منطقِ لاجواب کا کوئی کیا جواب دے؟

ٹیگز