فضائل ِ القرآن – ڈاکٹر سید نوح

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن کتاب ِ حیات ہے، اللہ تعالی کے قول کی دلیل: اؤ من کان میتاً فأحییناہ وجعلنا لہ نوراً یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمات لیس بخارج منھا کذلک زین للکفرین ما کانوایعملون (الانعام ۱۲۲)(کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح ان سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔)

اور اللہ عزوجل کا فرمان: یایھا الذین آمنوا استجیبوا لﷲ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم واعلموا أن ﷲ یحول بین المرء وقلبہ وأنہ الیہ تحشرون (الانفال ۲۴) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے،)

پس قرآن اللہ کا کلام ہے، اور اللہ عزوجل کی روح سے ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا: وکذلک اؤحینا الی روحاً من امرنا ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان ولکن جعلناہ نوراً نھدی بہ من نشاء من عبادنا وانک لتھدی الی صراط مستقیم (الشوری ۵۲) (اور اسی طرح (اے نبی) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے، تمہیں کچھ پتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو۔)

ہماری زندگیوں میں قرآن کا کیا کردار ہے، اس پر طویل گفتگو ہو سکتی ہے، لیکن ہم یہاں اپنی گفتگو فضائل قرآن اور زندگی میں اس کے اثرات تک محدود رکھیں گے۔

قرآن کریم کی تلاوت، حفظ، اس کی سمجھ اور اس پر عمل کے بہت فوائد ہیں، ان میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں:

پہلا فائدہ: اگر قرآن پڑھنا آدمی کے لیے مشکل اور دشوار ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور اگر وہ اس کے لیے سہل ہے، تو وہ روشن چہروں والے معزز نیکو کار لوگوں کے ہمراہ ہو گا۔

حدیث میں ہے: ’’جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، وہ اس کا ماہر ہے تو وہ روشن چہرے والے معزز نیکو کار لوگوں کے ہمراہ ہوگا، اور جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے، اور اس کا پڑھنا اس پر دشوار ہے، تو اس کے لیے دو اجر ہیں‘‘۔

دوسرا فائدہ: جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، ان کے دل سکینت اور اطمینان، اور امن اور امان سے آباد رہتے ہیں، اور جو اس کی تلاوت نہیں کرتے ان کے دل ویران رہتے ہیں۔

حدیث میں ہے: ’’جس کے اندر قرآن کا کوئی حصّہ بھی (محفوظ) نہیں وہ ویران گھر کی مانند ہے‘‘۔

ہمیں اسے حفظ کرنے کی اشد ضرورت ہے خواہ وہ کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ کوئی حصّہ ہوکیونکہ کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ کسی وجہ سے ہمیں مصحف قرآنی میسر نہ ہو۔

’’ابن ِ تیمیہ‘‘ کو جب قید خانے میں ڈالا گیا، ان کو کتابوں سے محروم کر دیا گیا، حتی کہ مصحف بھی ساتھ رکھنے سے منع کر دیا گیا۔۔ قرآن ان کے سینے میں محفوظ تھا، اور وہی ان کا نور تھا۔ انہوں نے قید خانے میں ۸۰ (اسی) مرتبہ قرآن کریم ختم کیا، اور ان کی زندگی کا اختتام بھی اسی کی خوشخبری سے ہوا، انہوں نے آخری لمحات میں سورہ القمر کی آخری آیات پڑھیں جن میں ان کے لیے بشارت تھی: ان المتقین فی جنات ونھر٭ تی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (سورۃ القمر ۵۴۔ ۵۵)(بلاشبہ متقین باغوں اور نہروں میں ہوں گے، سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔)

تیسرا فائدہ: جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، اللہ ان کے گھروں میں وسعت عطا فرماتا ہے اور ان کی حفاظت فرماتا ہے، ملائکہ ان میں حاضر ہوتے ہیں، اور شیاطین وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں۔

ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ حدیث مرفوع ہے: ’’ایسا گھر اس کے رہنے والوں پر کشادہ ہو جاتا ہے، ملائکہ اس میں حاضر ہوتے ہیں اور شیاطین وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں، اس میں بھلائیاں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ اس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے‘‘۔

چوتھا فائدہ: یہ قرآن قیامت کے روز اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کروائے گا، اور اسے کرامت کا زیور پہنائے گا۔

حدیث میں ہے: ’’بلاشبہ یہ قرآن قیامت کے روز اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کروائے گا، قرآن کہے گا: اے رب اسے عزت وافتخار کا زیور پہنا، تو وہ اسے عزت و وقار کا زیور پہنائے گا، پھر وہ کہے گا، اے رب اسے عزت و وقار کا لباس پہنا، تو وہ اسے عزت ووقار کا لباس پہنائے گا، پھر وہ کہے گا: اے رب اسے عزت کا تاج پہنا، تو وہ اسے عزت کا تاج پہنائے گا، پھر وہ کہے گا، اے رب اس سے راضی ہو جا، کیونکہ تیری رضا کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہی‘‘۔

پانچواں فائدہ: تین سورتوں کی تلاوت کرنااس سے بھی بڑا ہے کہ آدمی کے گھر میں تین موٹی اونٹنیاں ہوں (دودھ والی)، جو اسے ہدیے میں دی جائیں۔

اور حدیث میں ہے: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اسے تین دودھ دینے والی موٹی اونٹنیاں ملیں؟ وہ بولے ’’ہاں، یا رسول اللہ ﷺ، پس فرمایا: ’’ تم میں سے جو کوئی بھی تین آیات تلاوت کرے گا، اس کے لیے وہ سب سے بہتر ہیں‘‘

چھٹا فائدہ: حدیث میں ہے کہ قرآن پڑھانے اور سیکھنے والے، دونوں پر فرشتے رحمت بھیجتے ہیں حتی کہ وہ سورۃ مکمل کر لیں، لہٰذا تم میں سے جو کوئی بھی قرآن پڑھ رہا ہو وہ آخری دو آیتیں ذرا ٹھہر کر پڑھے، تاکہ وہ تلاوت اسوقت ختم کرے جب فرشتے اس پر اور سننے والے پر رحمت بھیج چکے ہوں‘‘۔ یعنی وہ دو آیتیں چھوڑ دے تاکہ فرشتے اس پر رحمت بھیجتے رہیں، پھر وہ دوسری سورۃ شروع کرے۔

اس میں بعض مقامات پر اضافہ ہے کہ قاری اور مستمع ہر سورۃ سے دو آیتیں چھوڑ دیں، اور سورۃ مکمل نہ کریں تاکہ فرشتے رحمت کی دعائیں مانگتے رہیں، اور ان کے لیے مغفرت کی دعائیں مانگتے رہیں، اور پورے مصحف کی اسی طرح تلاوت کی جائے۔ اور مکمل کرتے وقت چھوڑی ہوئی آیات تلاوت کر لی جائیں، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ فرشتے اتنی دیر آپ کے لیے مغ
فرت کی دعائیں مانگتے رہیں گے اور رحمت بھیجتے رہیں گے۔

ساتواں فائدہ: اللہ تعالی اس دل کو عذاب نہیں دے گا جس میں قرآن موجود ہے (یعنی اس نے حفظ کیا اور اس پر عمل کیا)۔ حدیث مبارکہ میں ہے: ’’قرآن پڑھو، اور تمہیں یہ معلق صحیفے کسی دھوکے میں نہ ڈال دیں، کیونکہ اللہ کسی ایسے دل کو عذاب نہ دے گا جس میں قرآن محفوظ ہو‘‘ یعنی تم کبھی بھی تلاوت ِ قرآن ِ پاک سے بے پرواہ نہ ہو جاؤ، اور تمہارے ہاتھوں میں موجود صحیفے تمہیں کسی دھوکے میں نہ مبتلا کر دیں، بلکہ ان سے اپنے دلوں کو بھر لو، اور انہیں اپنی زبانوں پر جاری کر لو۔ اور ہمیں قرآن حفظ کرنا چاہیے، اور ہر وقت مصاحف ہی میں نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ ہم تھوڑا تھوڑا کر کے حفظ کرتے رہیں اور پھر کبھی وہ دن بھی آئے کہ ہم مصحف کے محتاج نہ رہیں۔

آٹھواں فائدہ: اہل ِ قرآن لوگوں میں سب سے افضل ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اس کی تعلیم دی‘‘۔

نواں فائدہ: دو گنا اجر، پس حدیث شریف میں ہے: ’’جو شخص قرآن کی تلاوت کرے اور وہ اسے نہ سمجھتا ہو، تو اسے ہر حرف (کی ادائیگی) پر ایک نیکی ملے گی، اور وہ دس نیکیوں کے برابر ہو گی، اور اگر وہ اس کے کچھ حصے کو سمجھتا ہے اور کچھ کو نہیں، تو اسے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملے کی جو بیس نیکیوں کے برابر ہو گی، اور اگر وہ اسے مکمل طور پر سمجھتا ہے تو اسے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملے گی جو تیس نیکیوں کے برابر ہو گی‘‘۔

ایک اور حدیث ہے: ’’جس نے کتاب اللہ سے ایک حرف پڑھاتو اسے ایک نیکی ملے گی جو دس نیکیوں کے برابر ہو گی، میں (الم) کو ایک حرف نہیں کہتا، بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔‘‘

دسواں فائدہ: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جس نے اللہ کی کتاب سے ایک آیت سنی، وہ اس کے دل میں نور پیدا کرے گی‘‘ وہ نور جو حق اور باطل میں فرق پیدا کرتا ہے، اور وہ اس کے چہرے کا نور ہے، اور قیامت کے روز (پل ) صراط پر نور ہو گا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے: نورھم یسعی بین ایدیھم وبایمانھم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شیء قدیر (التحریم ۸) (ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔)

اور اللہ سبحانہ وتعالی فرماتا ہے: یوم تری المؤمنین والمؤمنات یسعی نورھم بین ایدیھم وبایمانھم بشراکم الیوم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ذلک ھو الفوز العظیم (الحدید ۱۲) (اس روز جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) ’’آج بشارت ہے تمہارے لیے‘‘۔ جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔)

گیارھواں فائدہ: یہ ہر بیماری سے شفاء ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’فاتحہ الکتاب (سورۃ الفاتحہ) میں ہر بیماری کی شفاء ہے‘‘۔ یہ شفاء کیسے ہے؟

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب بندہ اسے پڑھے تو اسے عملاً شفاء مل جائے، یا اسے ایسی چیز کی جانب رہنمائی مل جائے جس سے اسے شفاء نصیب ہو جائے، یا ایسا ڈاکٹر جو اس کے لیے شفاء کا سبب بن جائے۔ میں نے خود اپنے ایک بھائی کو دیکھا جو ’’متحدہ عرب امارات‘‘‘ میں وزیر ِ عدل تھا، اس کے پیٹ میں ایسا درد رہتا کہ اسے کسی بھی وقت آرام محسوس نہ ہوتا!! اس نے بتایا کہ ابن ٍ قیم کے حوالے سے پڑھا کہ: ’’اگر سورۃ الفاتحہ کو سات مرتبہ آب ِ زمزم پر پڑھا جائے، اور بندہ اسے یقین کے ساتھ پئے تو اسے ہر بیماری سے شفاء مل جائے گی‘‘۔

اس میں یقین بے حد ضروری ہے، کہ شفاء دینے والے اللہ ہے، نہ کہ سورۃ الفاتحہ، بلکہ وہ اللہ کی جانب سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد کبھی درد کی شکایت محسوس نہیں ہوئی۔

بارھواں فائدہ: وہ اپنے پڑھنے والے کو شیطان سے دور رکھتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے: ’’جس گھر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جاتی ہے شیطان اس سے نکل جاتا ہے اور وہ اس کے لیے بجلی یا چمک ثابت ہوتی ہے‘‘ یعنی خوفزدہ ہو کر رعب سے چلا جاتا ہے۔ ہمیں اسی نیت سے اسے پڑھنا چاہیے کہ شیطان گھر سے نکل جائے۔

اور دوسری روایت میں ہے: ’’جس نے سورۃ البقرہ کے آغاز سے چار آیات، آیۃ الکرسی، اس کے بعد کی دو آیات اور سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات پڑھیں، تو اس روز شیطان اس کے اور اس کے گھر والوں کے قریب نہیں پھٹکتا، اور نہ ایسی چیز جسے وہ ناپسند کرتا ہو، اور مجنون کے مرض میں افاقے کا سبب بنتی ہے، الا یہ کہ اللہ کی قضاء اس کے لیے کوئی فیصلہ کر چکی ہو‘‘۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران سیکھو، کیونکہ یہ دو نوں سورج اور چاند کی مانند ہونگی، اور یہ دونوں قیامت کے دن اپنے ساتھی پر بادل کی مانند سایہ کئے ہوئے ہوں گی‘‘۔

ان کے معنی سیکھو: ان کی تلاوت کرو، انہیں حفظ کرو اور سمجھو۔

’’اور بلاشبہ قرآن اپنے ساتھی سے قیامت کے روز ملے گا جس وقت قبر شق ہو گی اور وہ زرد چہرہ لیے باہر نکلے گا، تو وہ اس سے پوچھے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ تو وہ کہے گا: میں تمہاں نہیں پہچانتا، تو وہ کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں، جس نے نصف النہار میں تیری پیاس بجھائی تھی، اور میں تیرے رت جگوں کا ساتھی ہوں، اور ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہوتا ہے، اور تو بھی آج اپنی تجارت کے ساتھ ہو گا، پھر اس کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت دی جائے گی، اور ہائیں ہاتھ میں ہمیشگی، اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو ایسا زیور پہنایا جائے گا جو اہل ِ دنیا میں سے کسی نے نہ پہنا ہو گا، وہ دونوں (حیرت) سے پوچھیں گے: ہمیں یہ کیوں پہنایا گیا؟ تو ان دونوں سے کہا جائے گا: اپنے بیٹے کو قرآن سکھانے پر، پھر اس شخص (بیٹے) سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور جنت کے زینے پر چڑھتا جا، اور اس کے بالا خانوں پر، اور وہ ہمیشہ بلندیوں کی جانب رہے گا، خواہ ایسے ہی پڑھے یا ترتیل سے پڑھے‘‘۔

تیرھواں فائدہ: وہ دجال سے محفوظ رہے گا،

حدیث مبارکہ میں ہے: ’’جو سورۃ الکھف کی آخری آیات یا شروع کی آیات یا پوری سورۃ پڑھے گا، وہ دجال سے محفوظ رہے گا‘‘۔

کیونکہ اس میں توحید کی دعوت ہے، اور اللہ کے راستے میں تحمل اختیار کرناہے، اور اسے جمعہ کے روز غروب تک پڑھا جا سکتا ہے۔

حدیث میں ہے: جو شخص سورۃ الکھف جمعہ کو پڑھے گا، تو وہ اس کے لیے اس شخص اور بیت ِ عتیق کے درمیان نور کر دے گی‘‘۔

چودھواں فائدہ: وہ اس کے لیے کم ازکم جنت میں محل بنائے گا اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔

حدیث شریف میں ہے جسے عمرؓ بن خطاب نے سعید بن مسیب ؓ سے روایت کیا ہے، کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے قل ھو اللہ احد دس مرتبہ پڑھا اس کے لیے جنت میں تین محل بنا دیے جائیں گے‘‘ عمرؓ نے کہا: بخدا اے اللہ کے کے رسول، پھر تو ہمارے محل بہت زیادہ ہو جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ہاں اس سے بھی بہت زیادہ ہے‘‘۔

اس کے خزانے بہت وسیع ہیں، جس کی وسعت کی کوئی حد نہیں۔ دس بار میں ایک محل، بیس میں دو محل، اور تیس بار میں تین محل۔

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.