رمضان المبارک اور خود احتسابی (4) - بشریٰ تسنیم

پچھلی قسط

اب اپنے ایمان کا احتساب ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم شیطان کے قول ولاتجد اکثرهم شاکرین کو سچ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں یا اپنے رب کے قول وقلیل من عبادی الشکور پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان بندوں میں شامل ہوکر کامیاب ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے شیطان کو باور کرایا کہ "تیرا میرے بندوں پہ کوئی زور نہیں چل سکے گا۔"

ہم اپنے محاسب خود ہی ہو سکتے ہیں کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ اللہ الخالق ہم سے" میرا بندہ" کہہ کر مخاطب ہو؟

اللہ رب العالمين کی طرف سے اس پیار بهری پکار سننے کے لیے اس کا شکر گزار بندہ بننا ہوگا۔ ہر نافرمانی ناشکری کا مظہر ہے اور ناشکری کا نتیجہ نافرمانی ہے۔ متعدد مقام پہ ایسی بستیوں اور افراد کا ذکر ہے جنہوں نے ناشکر گزاری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی خوش حالی کو بد حالی میں بدل دیا۔

انسان اپنے منعم حقیقی کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار کرنے اس کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے تو اس مہربان رب نے کوئی طریقہ تو بتایا ہوگا کہ جس کو اپنا کر ہم اس کے خاص بندے بن کر ان پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں جو سب سے الگ نظر آتے ہوں، "خاص ایوارڈ "کے مستحق ہوں، جو اس رب کی خاص رحمت کے سائے میں ہوں۔ بے شک ہر آقا و مالک اور اختیارات و اقتدار والے کا قرب پانے والے خاص ہی ہوتے ہیں اور مقرب بندے ہمیشہ قلیل ہی ہوتے ہیں۔ اللهم اجعلنا منهم۔

شکر گزاری وہ عظیم الشان سر چشمۂ صفت ہے جس سے باقی اوصاف حمیدہ کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس، شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ اپنے عبد ہونے کی پہچان سے اطاعت کے لیے روح بے تاب ہونے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے انابت فزوں تر ہونے لگتی ہے، اپنی کم مائیگی کا احساس مغفرت کی طرف راغب کرتا ہے اور مالک کائنات کے سامنے اپنا دامن پھیلائے رکھنے میں عافیت نظر آتی ہے۔

اللہ رب العالمين کی شکر گزاری سے انسان کی روح خوش اور زندہ رہتی ہے۔ جب روح پژمردہ ہوتی ہے تو انسان بے چین و بے کل رہتا ہے اور جب روح کی بےکلی حد سے گزر جاتی ہے توانسان زہنی نفسیاتی اور روحانی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور جب زہنی پراگندگی، روحانی و نفسیاتی پیچیدگی مایوسی میں بدل جاتی ہے تو انسان خودکشی جیسی قبیح حرکت پہ آمادہ ہوجاتا ہے۔ دنیا میں خود کشی کرنے والے لوگوں کی زیادہ تعداد اللہ پہ ایمان نہ لانے والوں کی ہوتی ہے۔ مسلم معاشرے میں اس کا رجحان کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کو اللہ رب العالمين نے اپنے قریب کرنے اپنا شکر گزار بندہ بنانے کے لیے طریقۂ کار وضع کر دیا ہے۔ کلمہ گو انسان کی زبان سےاکثر "الحمدللہ "ادا ہوتا ہے۔ وہ شعوری ہو یا لاشعوری عادتاً ہو یا فہم کے ساتھ، اللہ کی تعریف اور اس کی شکر گزاری کے کلمات کے اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ مسنون دعائیں اور کلمات جو ہم صبح سے رات تک مختلف مواقع پہ اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں ان میں الحمدللہ کا کلمۂ ذکر موجود ہے۔ نیند سے بیدار ہوکر الحمدللہ، سے زبان تر اور روح شاد ہوتی ہے تو سارا دن اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے حتیٰ کہ آپ رفع حاجت کے بعد جو آسودگی محسوس کرتے ہیں اس پہ بهی "الحمدللہ الذی عافانی" کہہ کر اپنے رب کی شکر گزاری کرتے ہیں۔ اگر حالات اچھے نہیں ہیں تو بهی "الحمدللہ علی کل حال و أعوذ بالله من حال اهل النار" کہہ کر اپنے رب سے خوش اور راضی رہتے ہیں۔ یہی الحمدللہ کہنا زندگی کے ہر موڑ پہ مؤمن کی روح کی آبیاری کرتا ہے۔ اور موت، قبر، برزخ حساب کی مشکل گھاٹیوں سے گزر جب اپنی منزل ابدی گھر جنت میں پہنچتا ہے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جو ترانہ گاتا ہے وہ بهی الحمدللہ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (سورۂ زمر، 74)

اور جنتی لوگوں کی زبان پر اللہ کی حمد وثنا وہاں بهی جاری رہے گی اور ان کی ہر بات کے آخر میں نعرہ تحمید الحمدللہ رب العالمین ہوگا

دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورۂ یونس، 10)

گویا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف دنیا سے آخرت تک کے سفر میں ہماری ساتھی ہے۔ صبح و شام کے اذکار سے لے کر ساری فرض عبادتیں اللہ کے حضور شکرگزاری کے لیے ہیں۔ صلوة دن میں پانچ بار رب کے حضور حاضر ہوکر دن بهر کے ہر پہر کی نعمتوں پہ شکرگزاری کا اظہار ہے۔ روزہ قرآن پاک جیسی عظیم نعمت کا شکرانہ ہے۔ زکٰوة مال کا شکرانہ ہے تو حج امت مسلمہ کے فرد ہونے پہ اظہار تشکر ہے۔

شکر گزاری قول و عمل دونوں سے ہوتی ہے اور حضورئ قلب اس کی جان ہے۔

مسنون اذکار میں اللہ رب العزت کی بہترین الفاظ میں ثنا کی گئی ہے۔ بہترین سے بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا ذکر اللہ میں حسن پیدا کرتا ہے۔

آخر میں مؤمن اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تعریف اور شکرگزاری کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے تو اظہار کرتا ہے۔

اللهم لا احصی ثناء علیک أنت کما اثنیت علی نفسک "اے اللہ ہم تیری حمد وثنا کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں آپ ویسے ہی ہیں جیسے کہ آپ اپنے لیے خود حمد وثنا پسند فرمائیں اور جو آپ کے شایان شان ہو۔

اللہ رب العزت کی محبت توجہ، مہربانی، رحمت قرب، فضل وکرم، مغفرت اسی نسبت سے حاصل ہوگی جتنی بندے کے اندر شکر گزاری کا جذبہ خالص ہوگا۔ جب اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ہے تو ان عنایات پہ شکرگزاری کے احساسات ہر احساس پہ غالب رکھنے کی کوشش کی جانی لازمی ہے۔ ہمارے پیارے رب نے فرمایا کہ نعمتوں کو شمار کرنا انسان کےبس میں نہیں ہے۔ مگر شکر گزاری کا امتحان لینے کے لیے چند، صرف ایک ہاتھ کی انگلیوں کے برابر مشکلات ضرور لائی جائیں گی۔ غور کا مقام ہے نعمتوں کا شمار ناممکن ہے اور امتحان صرف چند چیزوں سے۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (سورۂ بقرہ، 155)

شکر گزاری پہ نفس کو قائم رکھنے کا ایک ہی کار گر نسخہ ہے کہ دنیا کے معاملے میں اپنے سے کمتر کو نگاہ میں رکھو اور دین کے معاملے میں اپنے سے بہتر کو اپنا ٹارگٹ بناؤ۔

أبو الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی صفت اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ وہ ہر حال میں "شاکر لانعمه" (اپنے رب کی نعمتوں پہ شکر گزار)تها تو "اجتبه" (منتخب کر لیا) کا مرتبہ ملا۔

اور اسے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی دی گئی

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ (سورۂ نحل، 120 تا 122)

الحمد لله علی کل شئی أعطانا اے اللہ جو بهی نعمت ہمیں دی ہے یا دنیا میں کسی کو بهی دی ہے وہ سب تیری طرف سے سب کا تو مالک ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں نہ ذات میں نہ صفات و کمالات میں تو وحده لا شریک ہے۔ لک الحمد کله ولک الشکر کله

اللہ رب العرش العظيم نے اپنی کتاب ہدایت میں آمنوا اور عملو الصلحت کو ایک دوسرے کا لازمی حصہ بنایا
ہے۔ آمنوا حقوق اللہ ہیں تو عملو الصلحت کا سارا معاملہ حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے اور دراصل یہی اصل میدان ہے جس میں اولاد آدم کی ہار جیت کا دارومدار ہے الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (سورۂ ملک، 2)

اگر حقوق اللہ کی ادائیگی کا بنیادی نکتہ "شکر" سے وابستہ ہے تو حقوق العباد کی ادائیگی کا بنیادی نکتہ "صبر" سے وابستہ ہے۔ یقین جانیے صبر اور شکر مؤمن کی روحانی زندگی کے دو پر ہیں جن سے وہ قرب الٰہی کی طرف پرواز کرتا ہے۔ اور یہ بهی سب جانتے ہیں کہ بندے کی عبادات سے اللہ رب العالمین کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا، کوئی بندہ اس کی عبادت نہ کرے تو اس کے"إله"ہونے میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا وہ مالک کون و مکاں ہے ساری مخلوق اس کو مانے یا انکار کرے اس کی ناشکری کرے یا شکر کرے وہ غنی عن العلمین ہے۔

قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (سورۂ نمل، 40)

یہ عبادات اور شکر کا جذبہ بندے کے اپنے فائدے کے لیے ہے اور حقیقتاً یہ عبادات حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے بندے کو روحانی تقویت دیتی ہیں۔ غور کریں تو معلوم ہوتا یے کہ شکر کا جذبہ انسان کو صابر بهی بناتا ہے۔ شکر اور صبر ایسے لازم وملزوم ہیں جیسے آمنوا اور عملوالصلحت۔ صبر کرنا اسی لیے تو ممکن ہوتا ہے کہ شکر کرنے کے لیے کوئی نعمت نظر آرہی ہوتی ہے۔ اور نعمتیں اس قدر جا بجا بکهری ہوئی ہیں کہ ان سے صرف نظر بهی ممکن نہیں۔ اور شاکر بندہ دراصل لاحاصل چیزوں کی حسرتوں سے آزاد ہوکر اپنے رب کی تقسیم پہ خوش ہوتا ہے اس کا شکر ادا کرتا ہے اپنی خواہش نفس کو حاوی نہیں ہونے دیتا کہ ضبط نفس کو صبر کرنا بهی کہتے ہیں۔ صابر و شاکر بندہ ہر وقت ہر حال میں کائنات پہ غوروفکر کی وجہ سے اللہ کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُمْ مِنْ آيَاتِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (سورۂ لقمان، 31)

إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (سورۂ شوریٰ، 33)

صبر زندگی کے ہر پہلو پہ حاوی ہے۔ قرآن پاک میں تقریباً ہر دوسرے صفحے پہ صبر کا ذکر ملتا ہے۔ صبر کے مختلف پہلو ہیں۔ اپنے نفس کو نیکی پہ مائل کرنا اس پہ اسقامت دکهانا، نیکی کو اعلیٰ معیار پہ لانے کی سعی کرنا سب صبر کرنے کے مختلف مظاہر ہیں۔ عمل صالح کرنے کے لیے قدم بڑھانے کے دوران، اپنے نفس امارہ کو سر کشی سے روکنا بهی صبر کا متقاضی ہے۔

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (سورۂ شمس، 9 تا 10)

بندوں کو اللہ تعالیٰ نے مسابقت کے جس میدان میں اتارا ہے وہ فاستبقوا الخیرات ہے۔ اس میں سرعت سے آگے بڑھنے کی تلقین ہے۔ "ایکم أحسن عملا" کے معیار پہ پورا اترنے کی ترغیب ہے۔ اور یہ سب صبر و استقامت کا متقاضی ہے۔