نگاہ آئینہ ساز - شعیب آرین

کچھ ناراض بلوچوں نے ریاست کو جگانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا، جسے ریاست سمیت بہت سے لوگوں نے غلط سمجھا اور عدم تشدد کا راستہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ یا پی ٹی ایم ہے جو شروع دن سے عدم تشدد کے پیروکار ہیں۔ احتجاج اور جلسے سے اپنی بات منوانے کے قائل ہیں، مگر یہ بھی ریاست سمیت بہت سے لوگوں کو ناگوار گزر رہا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے ایسے بنیادی مطالبات کیے ہیں جن سے ریاستی پالیسوں پہ بہت سارے سوالات اُٹھ گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں پشتون تحفظ موومنٹ اور ریاست کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی ہے۔ ان سوالات کا زور توڑنے کے لیے بہت سے تحریری اور تقریری حربے استعمال کیے گئے۔ کبھی قوتِ گویائی سلب کر لی جاتی ہے، تو کبھی قلم پر پہرے بٹھائے جاتے ہیں یا ذہن کو نام نہاد ثقافتی یلغار سے مرعوب کیا جاتا ہے۔ جو اعلیٰ فوجی قیادت سے لے ایک ادنیٰ سوشل میڈیا چلانے والے تک سب نے استعمال کیے۔ اب حالات یہ ہیں کہ پشتون تحفظ پارٹی رو بہ شباب ہے۔ ہر ایک اسے اپنے اپنے پیمانے سے ناپتا اور پرکھتا ہے۔ غدار، ایجنٹ اور انجینئرڈ جسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ میڈیا نے ان سے مکمل منہ موڑ لیا ہے۔ وہ صاحبان جو فاٹا کے "منی یورپ" بننے کے قصیدے پڑھتے تھے، پشتونوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے فاٹا نہیں دیکھا اور نہ ہی ان اینکر صاحبان نے دیکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جیت کے بلند بانگ دعوے کرتے پھرتے ہیں۔ فاٹا کے اصلی ترجمان میں، آپ یا کسی ادارے کا سربراہ نہیں، بلکہ وہاں رہنے والے لوگ ہیں اور ان کی بات سننا ریاست کا فرض ہے۔

را اور این ڈی ایس کے ایجنٹ ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے، گویا را اور این ڈی ایس کو پشتونوں کے بنیادی حقوق کی فکرہے نہ کہ ریاستی اداروں کو‘‘۔ ’’کہا جاتا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کو سبوتاژ نہیں کر نے دیں گے، مطلب یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو صرف سوال اُٹھانے سے ہی سبوتاژ ہو جائے گی۔ پشتون تحفظ موومنٹ میڈیا بلیک آؤٹ کے بعد سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہے جو عوام تک اپنی بات پہنچانے اور تائید حاصل کرنے کا اچھا راستہ ہے۔ اس تحریک کو نہ صرف پشتون بلکہ کافی نان پشتون کی حمایت حاصل ہے کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

اب جب ریاست کو منظور نہیں کہ لوگ اس تحریک کا تحریری اور عملی طور پر ساتھ دیں، تو ان کے درمیان خلا پیدا کرنے کے لیے بہت سے حربے استعمال ہو رہے ہیں۔ جس میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مختلف اینکر صاحبان کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ اور منظور پشتین کی کردار کشی کرنا اس عمل کا حصہ ہے۔ سوشل میڈیا پہ پشتونوں کو غصہ میں لانے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے وہ دوسری قوموں کے لیے غلط الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں۔ اس سے تحریک کے حامی نان پشتونوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے ارکان غلط الفاظ کے چناؤ سے گریز کریں، دلیل سے اپنی بات منوانے اور بات آگے رکھنے کی کوشش کریں۔ جیسے کہ تحریک کے رہنما کرتے آرہے ہیں تاکہ ان نان پشتونوں کی دل آزاری نہ ہو جو تحریک کے ساتھ ہیں۔

تحریکیں ایک دن میں کامیاب نہیں ہوتی، نہ مطالبات گھنٹوں میں مانے جاتے ہیں۔ یہ حقوق کی جنگ ہے، ریاست طاقت کا سرچشمہ ہے اور ایک طاقت ور کے ساتھ حق کی جنگ لڑنے کے لیے اتحاد، اتفاق اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے اپنے پُر امن جلسوں میں اپنی آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔ جو لوگ ان کے شانہ بشابہ نہیں وہ کل ساتھ ہوں گے اور ریاست جو آج سننا نہیں چاہتی تو کل اسے گھٹنے ٹیکنے ہوں گے۔ یہ صبر اور حوصلے کی تحریک ہے، جذبات میں آکر تحریری یا عملی طور پر ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو بداخلاقی کے دائرے میں آتا ہو۔ بے شک میڈیا نے بلیک آؤٹ کیا ہے لیکن باقی قوموں کی نظر ہم پر ہے اس لیے صبر اور حوصلے سے کام لیں اور ثابت قدم رہیں۔

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */