ایک سو چوالیس سوال - مرزا فراز بیگ

ایم اے جناح روڈ پر ایک کے بعد دوسری تاریخی عمارت واقع ہے۔ ہر عمارت انگریزوں کے دور کی یادگار۔ مگر ایک عمارت ایسی ہے جو خود تو انگریز کی یادگار ہے ہی لیکن اس کا پورا انتظام اور نظم و نسق بھی انگریز کے دور ہی کی ایک یادگار ہے۔ وہ دونوں اس وقت اسی یادگار یعنی سٹی کورٹ کے احاطے میں بیٹھے اپنے وکیل کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے آٹھ بجے کا وقت دے کر اس بندہ خدا نے دس بجا دیے تھے اور بدستور دیدار کی کوئی نوید نہیں تھی۔ احاطے کے چاروں طرف لوہے کا جنگلہ تھا، جس کے دوسری طرف ٹریفک رواں دواں تھا اور پرانے رکشوں کی طرح، چل کم رہا تھا اور دھواں زیادہ دے رہا تھا۔ جنید نے حسرت سے ایک آہ بھری اور خاموشی کو توڑا۔

"یار! اچھی بھلی نارمل زندگی گزار رہے تھے۔ پتہ نہیں کیا سمائی ہے بھائی کے دل میں بھی کہ گھر بیچ دیتے ہیں؟"۔

اظفر اپنے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر گویا ہوا۔ "تو ایسا غلط بھی نہیں کہہ رہے تمہارے بھائی! تیس سال پرانا مکان ہے۔ اب بات مرمت سے آگے نکل گئی ہے۔ توڑ کر نیا ہی بنانا پڑے گا۔ خود پیسے کہاں سے لائیں؟ ویسے یہ نارمل زندگی کی کیا تعریف ہے جناب؟"

"لو بھلا! بھائی نارمل زندگی مطلب جس میں بندے کو کورٹ کچہری، ہسپتال اور تھانے کا چکر نہ لگانا پڑے۔"

"مطلب ان جگہوں پر کام کرنے والے لوگ نارمل زندگی نہیں گزارتے؟" اظفر نے موبائل سے سر اٹھا کر دیکھ ہی لیا۔

"ویسے میرا یہ مطلب تھا نہیں، مگر بات ایسی غلط بھی نہیں ہے۔ سوچ یار! پورا دن ایک کے بعد ایک بندہ ایک سے بڑھ کر ایک مصیبت لے کر ان لوگو ں کے پاس آتا ہے اور ان کے ذہن میں صرف ایک سوال ہوتا ہے۔ اس سے مال کتنا ملے گا؟"

"ہوں" اظفر نے بات کو جانے دیا۔

"وہ پچھلی عدالت والا پیشکار تو تم کو یاد ہوگا نا؟ ابے وہی جس کے بچے کا ایکس باکس ان لاک کرایا تھا۔ کیا کہا تھا اس نے؟ بھائی آپ کو کروڑوں کا فائدہ ہونے والا ہے کچھ ہمارے لیے کرو گے تو ہم بھی کچھ کریں گے۔ اور کیا کیا؟ اپنی عدالت سے اس عدالت میں کیس بھیج دیا کہ یہ والے جج صاحب وراثت والے کیس جلدی نمٹا دیتے ہیں۔ پچھلے ہفتے میں اکیلا آیا تھا تو پتہ ہے یہ کیا کہہ رہا تھا؟ وہ آپ کے دوست نہیں آئے اسکول والے؟ بچے کا ایڈمیشن کرانا تھا۔"

اب اظفر نے موبائل بند ہی کر دیا۔ "لے بھئی! چل خیر ہے۔ ابھی ویسے ہی نئے سال کا بیچ ہے۔ اب یہ وکیل حرامخور جلدی کام کرادے تو سال ختم ہونے سے پہلے ہی اس پیشکار سے جان چھوٹ جائے گی۔ لو نام لیا اور آگیا!"

وکیل صاحب نے آتے ہی پان کی ایک پچکاری سے پاس رکھے گملے میں کتھے اور چونے کی کھاد مہیا کی اور لمبا سا 'آسالامالیکم' کیا۔ پھر اپنے پاس موجود کاغذات دیکھتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔ "یار جنید بھائی، آپ لوگوں کا کام تو سمجھ لیں ہو ہی گیا ہے۔ بس اسی ہفتے ہوجائے گا۔ آپ کی باجی کب آرہی ہیں؟"

"یار میں نے آپ سے پوچھا تو تھا کہ کب کا ٹکٹ کرانا ہے؟ آپ نے کہا تھا کہ میں وقت سے پہلے بتا دوں گا۔"

"تو بھیا بتا تو دیا وقت سے پہلے۔ چار دن ہیں ہفتہ ختم ہونے میں۔ باجی کو بولو آج ہی جہاز میں بیٹھ جائیں۔

"یار آپ عجیب بات کر رہے ہو۔ کوئی مذاق تھوڑی ہے ٹکٹ کرانا۔ پندرہ بیس ہزار کا فرق آجاتا ہے کینیڈا کے ٹکٹ میں۔"

"تو بھیا فائدہ بھی تو کروڑوں کا ہے۔ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اچھا یہ بتاؤ فیس کے کچھ پیسے ملیں گے؟"

"وہ ابھی دیکھتے ہیں۔ آپ نے صبح آٹھ بجے بلایا تھا۔ خیریت؟"

"ہاں جی بھائی ویسے تو خیریت ہی تھی۔ اصل میں آپ سے کیا چھپانا؟" وکیل صاحب کا موبائل بج اٹھا اور ان کی بات ادھوری رہ گئی۔ اظفر نے بیزاری سے وکیل صاحب کو دیکھا جو فون پر کسی سے کچھ تیز آواز میں گفتگو فرمارہے تھے اور آہستہ سے جنید کے کان میں کہا۔ "دیکھ میں نے کہا تھا نا کہ اس نے فضول میں بلایا ہے آج۔ اس کو پیسے چاہیے تھے اور کچھ نہیں۔ یہ کمبخت وکیل، مکینک، ڈاکٹر سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس پیسے ہیں تو کام آگے نہیں بڑھنا۔ ان کو پیسے چاہیے ہوں تو پھرتیاں دیکھا کرو۔ ابھی خبردار جو تو نے ایک پیسہ بھی دیا اسے آج۔ میں دیکھتا ہوں۔" وکیل صاحب نے موبائل بند کر کے دوبارہ اپنی توجہ ان دونوں کی جانب مبذول کی تو اظفر نے بات چھیڑ دی۔ "خیر تو ہے وکیل صاحب؟ آپ کچھ غصے میں تھے۔"

"ارے کیا خیر یار اظفر بھائی؟ صبح صبح ضمانت کا کام پڑگیا تھا موکل کا۔ صاحبزادے نے گاڑی مار کر بندے کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔ تھانے والوں نے بڑی کوشش کی کہ کچھ لے دے کر معاملہ طے ہوجائے مگر صاحب ٹھہرے فضول کے اصول پسند آدمی۔ نتیجتاً پرچہ کٹ گیا اور بچہ اندر۔ آج ضمانت کے لیے بچے کو لائے تھے تو پورے تین لاکھ کیش لے آئے۔ اب بھلا بتاؤ نظارت والے کیش کیسے لیں؟ میں نے بھی بہت سنائی کہ یار بندے کو کچھ خود بھی عقل ہوتی ہے میں کیا کیا بتاؤں؟ اب جاؤ آپ اور اس کے سیونگ سرٹیفیکٹ لے کر آؤ ورنہ بچہ دو ہفتے کے ریمانڈ پر اندر جائے گا۔ انہی کا فون تھا۔ کر لیے ہیں سرٹیفیکٹ۔ میں نے کہا آپ جج کے کمرہ پر پہنچو میں آتا ہوں۔ ہاں! تو جنید بھائی کچھ فیس کا کردیں ذرا۔" وکیل صاحب وعظ کے آخر میں مطلب کی بات پر آگئے۔

اظفر نے کہا "یار وکیل صاحب صبح آٹھ بجے سے یہیں بیٹھے ہیں۔ اے ٹی ایم کیسے جاتے؟ آپ ایسا کریں یہ ضمانت والا کیس دیکھ آئیں۔ ہم جب تک پیسے بھی لے آتے ہیں اور کچھ چائے وائے بھی پی لیتے ہیں۔"

وکیل صاحب نے بیزاری سے 'ٹھیک ہے' کہا اور منہ میں پان جماتے ہوئے سیشن کورٹ کی طرف نکل گئے۔


"یار تو نے اس بوڑھی اماں کو دیکھا ہے؟ وہ جو پیڑ کے نیچے بیٹھی ہے رومال میں ٹفن لے کر۔" اظفر نے آنکھ کے اشارے سے جنید کو بتایا۔ جنید نے اماں کو دیکھا اور کہا۔ 'ہاں میرے خیال میں ان کا بیٹا کسی کیس میں اندر ہے۔ اسی کے لیے آتی ہیں۔ "

"کس کیس میں۔ ابے بھائی ڈبل سواری کا کیس ہے دفعہ ایک سو چوالیس کا۔ 19 سال کا لڑکا ہے۔ بائیک پر نکلا تھا دوستوں کے ساتھ۔ باقی تو سب دے دلا کر نکل گئے۔ یہ غریب پھنس گیا۔ یہ اماں پتہ نہیں کہاں اورنگی ٹاؤن سے آتی ہے روزانہ۔"

"تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا بھائی؟" جنید نے چائے میں چمچ چلاتے ہوئے پوچھا۔ "پتہ کیسے چلنا تھا۔ سنتری نے لائیٹر مانگ لیا۔ میں نے بات چھیڑ دی۔ ابے تجھے پتہ ہے یہ لوگ ہتھکڑی کیسے لگانی ہے اس کے بھی ریٹ رکھتے ہیں۔ مطلب اگر تکلیف والی نہیں لگانی تو اس کے پیسے۔ تالا نہیں لگانا تو اس کے پیسے۔ زنجیر میں اس کو آخر میں رکھنا ہے تو پیسے۔ صحیح بتا رہا ہوں، دل تو چاہ رہا تھا حرامخور کی سگریٹ کی بجائے اسی کو آگ لگا دوں۔ یار انسانیت نہیں ہے ان میں۔" اظفر بول رہا تھا اور جنید چپ چاپ بسکٹ کا پیکٹ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔

"یار کوئی حد ہے۔ ڈبل سواری گویا قتل سے بڑھ کر ہے۔ اس کو دیکھو نوابزادے کو۔ گاڑی مار دی مگر ضمانت مل گئی کیونکہ باپ کے پاس پیسہ تھا۔ یہاں ان بیچاروں کے پاس کھانے کو روٹی مشکل سے ملتی ہے۔ اچانک حکومت میں کسی کو سمجھ آیا 144 لگا دو ڈبل سواری بند کردو۔ تو نے دیکھا تھا نا ڈبل سواری پر پابندی کے اگلے روز کتنے لوگ تھے یہاں؟ ایک زنجیر سے بیس، بیس بندہ بندھا تھا۔ ظلم ہے یار! کوئی پوچھنے والا نہیں ہے یہاں۔" اظفر چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

"یار میں تو کہہ رہا تھا تجھے تو کر لے باہر کا۔ اپن دونوں بھائی چلتے ہیں۔" جنید نے چائے میں بسکٹ ڈباتے ہوئے کہا۔

"ابے نہیں یار۔ ابا کو کون دیکھے گا پھر؟ چل مان لیا دونوں چھوٹے دیکھ لیں گے۔ مگر تجھے پتہ ہے ان کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ تجھے یاد ہے نا تمہاری پھوپھی کے انتقال پر تینوں بیٹے باہر تھے۔ چار دن بعد تدفین ہوئی تھی۔ رو رہے تھے فون پر کہ یار ہمارے بغیر مت دفنانا۔ بھائی اتنی محبت تھی تو گیا کیوں تھا؟"

"ابے خیر تو ہے آج تو سب کو لپیٹ رہا ہے سب صحیح تو ہے نا۔" جنید نے مزے سے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا۔

"صحیح ہے یار سب۔ جاب چھوڑ رہا ہوں میں۔" اظفر نے خلاؤں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

"ہیں! اوے غیوں؟" جنید کے منہ میں چائے اور الفاظ گڈ مڈ ہوگئے۔

"کیوں کیا؟ ابے یہ باس لوگ بھی نا۔ فضول کی بے عزتی۔ کل کہہ رہا ہے اگر آپ کو اپنی عزت کی اتنی فکر ہے تو نوکری چھوڑ دیں آپ۔ میں نے بھی جواب دے دیا اگر آپ کو عزت کی فکر نہیں تو نوکری کرتے رہیں آپ۔ ابے بھائی نوکری کی ہے کوئی غلام تھوڑی ہے؟ ساڑھے چھ بجے بندہ آفس سے نکل رہا ہو اور یہ کہہ رہا ہے کیا ہو گیا آج جلدی جا رہے ہو؟ اپنی پوری فیملی کو باہر بھیج دیا۔ خود ایک ٹانگ یہاں ایک نیوزی لینڈ اور چاہتا ہے ہم بھی اس کی طرح ذہنی ہو جائیں۔" اظفر اب باقاعدہ پھٹ پڑا تھا۔

"لے بھئی تو تو بالکل ہی پٹڑی سے اتر گیا ہے۔ تیری چائے میں کچھ گر گیا تھا کیا؟ ہلکا ہو جا بھائی۔" جنید نے بات کو آئی گئی کرنے کی کوشش کی۔

"ابے نہیں یار۔ بس میں نے سوچ لیا ہے۔ جاب چھوڑوں گا۔ میرا سائیڈ کا کام ویسے ہی اچھا چل رہا ہے۔ یہ روز کی جھک جھک سے بھی جان چھوٹ جائے گی اور گریچویٹی کے پیسے بھی کافی ملیں گے۔ بچے بھی باجی والی برانچ میں جارہے ہیں وہ جس میں تیرے اس پیشکار کو شوق ہورہا ہے اپنے بچے کو بھیجنے کا۔"

"سائیڈ کا کا م کون سا وہ انٹیریئر ڈیکوریشن والا؟" اظفر نے سر ہلا دیا۔

"اچھا تو بیٹھ میں آتا ہوں۔" جنید نے اظفر کو وہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود نکل گیا۔


"بڑی دیر کر دی یار تو نے۔" اظفر نے جنید کو دیکھتے ہی کہا۔

"ہاں! کام تھوڑا لمبا ہوگیا تھا۔ مگر شکر ہے ہوگیا۔ چل چلتے ہیں۔" جنید نے سامان سمیٹتے ہوئے کہا۔ دونوں چلتے ہوئے پارکنگ کی طرف آرہے تھے کہ اظفر کی نظر روڈ کے دوسری طرف گئی۔ وہی بوڑھی اماں بس کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ مگر ان کے ساتھ میں ایک لڑکا بھی تھا۔ عمر کوئی اٹھارہ بیس سال۔ اظفر نے جنید کی طرف دیکھا۔ جنید نے نظریں چرا لیں۔

"بات سن۔ تو اس کام کے لیے گیا تھا؟" اظفر نے جنید سے پوچھا۔

"کس کام کے لیے؟" جنید نے جواباً سوال داغ دیا۔

"ہوشیاری نہیں۔ تو نے اماں کے بیٹے کی ضمانت کرائی ہے نا؟" اظفر نے دوبارہ پوچھا۔

"لے بھئی اب اس پر کیا اعتراض ہے؟" جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"نہیں اعتراض نہیں۔ یہ کیا کیسے تو نے اتنی جلدی۔" اظفر نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔

"کچھ نہیں یار۔ ابا کی پنشن کے اکاؤنٹ میں پیسے تھے۔ امی سے بات کی فون پر۔ سامنے والے نیشنل سیونگز سے سرٹیفیکیٹ لیے۔ اپنے وکیل صاحب کو بچے کا وکیل بنایا اور ڈال دی ضمانت۔ ابا کی روح کے لیے ایصال ثواب کے لیے۔ اماں تو دعائیں دیتے نہیں تھک رہی تھی۔ رو رو کے میرا بھی برا حال کردیا۔ بچہ بھی اچھا ہے یار کافی تمیزدار۔ تو اپنے پاس رکھ لینا۔ بی کام میں ہے اور کہہ رہا کوئی ڈپلوما وغیرہ کیا۔۔۔۔" جنید اپنی دھن میں بولے جارہا تھا کہ اظفر نے اس کو روک کے گلے لگالیا۔

"یار آج صحیح معنوں میں تجھے اپنا دوست کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے۔ جیتا رہ میرے بھائی۔" اظفر نے نمناک آنکھوں سے کہا۔

"یار! تیری وجہ سے تو یہ ہوا ہے۔ میں یہی سوچتا تھا، رہ جاتا تھا کہ یار بندہ کس کس کی مدد کرے؟ کروڑوں لوگ ہیں اس ملک میں۔ ہر کسی کے ہزاروں سوال بندہ کس کس کا جواب دے؟۔" جنید نے اپنی آستین سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

"آج شاید ہمارے ذمے اس بوڑھی اماں کے ان 144 سوالوں کا جواب ہی تھا۔ چل یار کچھ کھلاتا ہوں تجھے۔ کیا کھائے گا؟" اظفر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

"عزت کی روٹی کے بارے میں کیا خیال ہے؟" جنید نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس دیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */