[نظم کہانی] جہنم میں خوش باش - محمد عثمان جامعی

جہنم کے ہر ایک باسی کو حیرت

بھڑکتی آگ، جلنے کی اذیت

ہر اک لمحہ عذاب، اک پَل نہ مہلت

ملامت، ذلتیں، توہین، لعنت

مگر ایسے بھی ہیں کچھ نار والے

جہنم نگری میں سب سے نِرالے

نہ ہونٹوں پر کراہیں اور نہ نالے

سکوں چہروں پہ، بتیسی نکالے

پھر اک دن راز سے پردہ اُٹھایا

ہے ایسا کیوں؟ فرشتے نے بتایا

”جہنم میں جو رہ کر ہنس رہے ہیں

یہ دوزخ جھیل کر آئے ہوئے ہیں

یہاں جو چین و اطمینان سے ہیں

ارے یہ لوگ پاکستان سے ہیں“