حجاج بن یوسف کے انتظار میں - رومانہ گوندل

جب سے دنیا بنی ہے تجارت اور سیر و سیاحت کی غرض سے آ مدورفت کا سلسلہ چلتا رہا ہے اور دن بدن اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ بھی ہر دور میں جاری رہا ہے۔ کچھ فتوحات مذہبی بھی تھی اور کچھ حملہ آوروں نے اپنی حکومت اور سلطنت کو وسعت دینے کے لیے بھی اور دوسرے ملکوں کے خزانوں پہ قبضہ کرنے کے لیے بھی دوسرے علاقوں کا رخ کیا۔ ان فتوحات میں تو کچھ تو محدود علاقے تک تھی لیکن ایسے فاتح بھی گزرے ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھا۔ اس مقصد کے لیے وہ ایک علاقے سے اٹھے، حملے کیے، علاقے فتح کرتے گئے۔ سکندر اعظم بھی ایک ایسا فاتح تھا جس کو تاریخ نے 'دی گریٹ' کا نام دیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند شروع سے ہی ایک ایسا علاقہ رہا ہے جو حملہ آواروں کے لیے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مختلف لوگوں نے حملے کیے، کچھ فتح یاب بھی ہوئے پھر یہاں حکومتیں بھی کی لیکن ایک فاتح جس نے برصغیر کی تاریخ بدلی تھی کیونکہ یہاں اسلام لانے کا سہرا انہیں کے سر رکھا جاتا ہے۔ جی ہاں! بات ہو رہی ہے تاریخ کے کم عمر فاتح کی ’’ محمد بن قاسم‘‘۔

ایک عورت کی پکار پہ 17 سال سپہ سالار طائف سے اٹھتا ہے، ایک لشکر کی کمان کرتا ہے اور یہ کمان آج کے دور کی نہیں تھی جہاں آرمی جنگ کے لیے جاتی ہے تو ان کا پیچھے سے مکمل رابطہ ہوتا ہے، منٹ منٹ کی رپورٹ بتائی جاتی ہے اور ہر کارروائی کی ہدایات انہیں دی جاتی ہیں، ضرورت پڑنے پہ مزید آ رمی اور اسلحہ بھی مل جاتا ہے۔ لیکن اس دور کے حالات آج سے بہت مختلف تھے۔ پیچھے فوری رابطے کی کوئی سہولت لشکر کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ سارا لشکر بھی مارا جاتا یا قید ہوجاتا تو یہ بات پتا لگنے میں جانے کتنا وقت لگ سکتا تھا۔ ایسے میں پورا لشکر سپہ سالار پہ انحصار کرتا تھا۔ حالات، ضروریات کے مطابق جو حکمت عملی، سپہ سالار بہتر سمجھتا اپنا لیتا۔ اس لیے سپہ سالار کا تجربہ کار اور فہم و فراست اور فیصلہ کرنے کی قوت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور ایسے کئی سپہ سالار گزرے ہیں جنہوں نے اپنے فیصلوں اور قابلیت کا لوہا منوایا۔ لیکن ایک 17 سالہ نوجوان کے لیے لشکر کی کامیابی سے کمان کرنا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا لیکن کمان بھی ہوئی وہ فتح یاب بھی رہے، حکومت کی اور اسلام کی تبلیغ کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ایک بہترین سپہ سالار، حکمران اور مبلغ ہیں اور ان کے دم سے بے شمار لوگ مسلمان ہوئے اور ایک ایسی شاندار ریاست بنی جس میں ہر انسان اپنے حکمران سے خوش تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی پرورش اور تربیت کے انداز - حافظ محمد زبیر

محمد بن قاسم ایسے ہیرو ہے جس کے بغیر تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہیں جتنا سراہا جائے کم ہے لیکن ایک سوال آتا ہے ذہن میں کہ 17 سال کے نو جوان میں اتنی قابلیت آئی کیسے؟ آج کل ایک ٹرم مشہور ہو گئی ہے گاڈ گفٹڈ، کچھ لوگوں خاص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ خاص قابلیت کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے لیکن اس قابلیت کو تربیت سے نکھارنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ تربیت ہر بچے کو نہیں ملتی۔ اس لیے جہاں محمد بن قاسم کی عظمت کو مانا جاتا ہے، وہاں ایک سلوٹ حجاج بن یوسف کو بھی کرنا چاہیے جو محمد بن قاسم کے چچا تھے۔ اس عورت نے حجاج بن یوسف کو پکارا تھا لیکن حجاج بن یوسف نے 17 سالہ نو جوان پہ اتنا اعتماد کیا کہ انہیں لشکر کا سپہ سالار بنا کے بھیجا۔ انہوں نے نو جوان پہ اعتبار کے ساتھ اپنی تربیت پہ بھی بھروسہ کیا۔ انہیں یقین تھا کہ محمد بن قاسم بہترین کمانڈر ثابت ہوں گے۔ اگر انہیں کم عمر سمجھ کے اس لشکر کی کمانڈ نہ دی جاتی تو کیسے پتا چلتا کہ وہ سترہ سال کی عمر میں اتنی صلاحیتوں کے مالک ہیں؟

آج ہمارے معاشرے میں والدین، اساتذہ اور بزرگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی ذمہ داری پوری کریں اور پھر ان پہ اعتماد کریں۔ تبھی وہ زندگی میں کچھ کر کے دکھائیں گئے۔ سترہ سال کی عمر میں جب محمد بن قاسم کو لشکر کی کمانڈ دے دی گئی تھی، آج ہمارے ہاں بچوں کو سترہ سال کی عمر میں موٹر سائیکل کی چابی نہیں دی جاتی تو یہ بچے کب کچھ کر کے دکھائیں گے؟ انہیں تاریخ کے ہیروز کے بارے میں بتائیں، ان کا تعارف کروائیں تا کہ ان کا عمل ان سے متاثر ہو۔ ورنہ تو وہ فلمی ہیروز سے ہی متاثر ہوں گئے جن کو وہ دن رات دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میری امی! - مہوش کرن

ہمارے 17 سال کے نوجوانوں کو ٹین ایجر کہہ کر سنجیدگی سے لیا ہی نہیں جاتا، نہ ان سے بات کرنا ہی ضروری نہیں سمجھتے تو تربیت کیسے ہوگی؟ حالانکہ نوجوانوں کا کردار ہر تاریخ میں ایک نمونہ رہا ہے چاہے وہ اسلام کا ابتدائی دور ہو یا تحریک پاکستان نو جوانوں نے اس کے لیے جو قربانیاں اور جدو جہد کی، وہ ناقابل فراموش ہے۔ یہ عمر جو ش و جذبے کی ہوتی ہے۔ اگر ان کے اس جوش و جذبے کو صحیح سمیت دے دی گئی تو قوم سنوار جائے گی ورنہ یہ جذبے سڑکوں پہ ون ویلنگ کا شکار ہو جائیں اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لیے قوم آج پھر اپنے حجاج بن یوسف کے انتظار میں ہے جو اس کے نو جوانوں کے سر پہ سپہ سالاری کا تاج رکھ دے۔

Comments

رومانہ گوندل

رومانہ گوندل

اقتصادیات میں ایم فل کرنے والی رومانہ گوندل لیکچرر ہیں اور "دلیل" کے علاوہ جریدے "اسریٰ" کے لیے بھی لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • محترمہ کی باتوں سے تو سو فیصد اتفاق کرتا ہوں البتہ حجاج بن یوسف کا حوالہ بڑا نامناسب معلوم ہوتاہے اس تباظر میں کے می ٹو تحریک زور پر ہے

  • حجاج کے کارناموں میں ایک واقعہ حرہ بھی ہے . ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ شام میں ٹرمپ کی کامیابی اور افغانستان. میں ناکامی کی دعا کرتے ہیں . دوسری قوموں کا مال, عورتیں و اسباب لوٹنا بہرحال غلط ہے چاہے وہ عراق ہیں جھموریت لانے کی بنیاد پہ ہو یا سندھ میں اسلام لانے کے لئے . اصل بات یہ ہے کہ لوگ جھموریت یا اسلام سے اتنے کمیٹیڈ تھے تو یہ درد ان کے اپنے ممالک میں یا ان مفتوحہ علائقوں میں بعد از فتح نظر کیوں نہیں آتا؟