بی بی جی کی ڈوئی - بریرہ صدیقی

صبح سویرے سکول روانگی کی تیاری کے لیے صحن عبور کر کے ڈیوڑھی کے آخر میں بنے غسل خانوں کا رخ کرنا ایک طویل مسافت کا کام لگتا تھا۔ اس لیے بسا اوقات مختصر پڑاؤ صحن کے آخر میں موجود بی بی جی کے کمرے میں کیا جاتا۔ مٹی کے تیل کا جلتا چولہا، اس پے دھری پتیلی، ایک بڑی اور چند چھوٹی پیڑھیاں، ساتھ ہی قرینے سے چھینکے میں رکھے برتن، اوپر بڑے اور لمبے شیڈز، تخت پوش اور اس پہ لٹکتی تسبیح، بڑا سا قرآن پاک، چارپائی اور لحاف اور ان سب کے درمیان کبھی کام کاج کرتی اور کبھی تلاوت کرتی ہوئی بی بی جی کسی بد ذوق کا دل چاہتا ہوگا کہ ایسی خوابناک پناہ گاہ چھوڑ کر سکول کا رخ کرے؟ بی بی جی کا دوسرا کمرہ سیڑھیوں کے درمیان گیلری میں تھا جس میں غالباً وہ اپنے مزاج یا موسم کے حساب سے قیام کرتی تھیں۔ اندرونی صحن میں کھلتی چھوٹی چھوٹی رنگین شیشوں والی کھڑکیاں جن پر چڑھ کر نیچے صحن میں جھانکنے کا کس قدر لطف تھا اور کھڑکیاں بند کرنے پر کھڑکیوں سے چھن کر آتی موسم سرما کی نرم اور رنگ برنگی دھوپ! کمرے کے ایک طرف لکڑی کے دو بکس رکھے تھے۔ جس میں سنا تھا جن بسیرا کرتے ہیں اور جب بی بی جی تلاوت کرتی ہیں تو یہ جست لگا کر باہر آجاتے ہیں اور ختم ہونے پر پھر واپس اندر، اور اس کمرے کا دوسرا دروازہ جو باہر کے صحن کی طرف کھلتا اور پتلی سی ٹیرس جس کا اختتام گلی تک جا کر ہوتا تھا اور اس ٹیرس پر لوہے کے ہولڈرز میں ساتھ ساتھ لگے گملے، اسے لگتا تھا سارے گھر کی کشش کا مرکز یہی دو کمرے ہیں۔ جن میں بی بی جی کی خاص خوشبو رچی بسی ہے۔

ایک دو بار جب اس نے اپنے شرارتی ترین بھیا کو امی کی مار سے بچ کر بی بی جی کی پناہ گاہ میں جاتے دیکھا۔ جہاں جا کر نہ صرف سیز فائر ہوئی بلکہ ہر قسم کی ڈانٹ ڈپٹ کا خاتمہ بھی تو خودبخود ان کمروں نے حفاظتی قلعوں کی شکل بھی اختیار کر لی۔ بی بی جی اور اس کا ساتھ اگرچہ محض سات یا آٹھ سال کا ہے لیکن اس کے نقش بھرپور اور ان مٹ ہیں۔ مغل خاندان سے تعلق رکھنے والی، بیحد گوری چٹی اور خوبصورت نین نقش کی مالک بی بی جی، تھانیدار صاحب سے بیاہ کر پٹیالہ آئیں۔ تقسیم کے موقع پر بیوگی اور بیٹے کی جدائی کا غم سہنا پڑا، پھر عین جوانی میں باقی تین بچوں کے ساتھ ہجرت کے بعد تن تنہا گزارہ کیا۔ آسودگی کے دور کی ابتداء ہوئی، اکلوتے بیٹے کی شادی اور پوتے پوتیوں کی رونق ہوئی لیکن ایک بار پھر بہو اور پوتے کو یکے بعد دیگرے ناگہانی اموات نے آن گھیرا۔ سنتے تھے کہ تھانیدارنی صاحبہ گھوڑے پر سوار تشریف لائیں تو دور سے بٹو بچو کی صدائیں بلند ہوتیں۔ اس پس منظر کے ساتھ، اب دوسری بہو اور ساری آل اولاد کی نگرانی میں شاید کسی حد تک وہم کا عنصر بھی شامل ہو چکا تھا۔ امی ابو کی آنکھ لگنے کے منتظر بچے، گرمیوں کی دوپہر میں جب مختلف کھیل کے پلان لیے آہستگی سے کمروں سے باہر کھسکتے تو بعض اوقات موقع پر ہی دھر لیے جاتے اور بعض اوقات، سٹور کے کونوں کھدروں، برآمدوں یا گیراج میں بی بی جی کے "چھاپے" اور بچوں کی "روپوشی" کا کھیل جاری رہتا۔ اس وقت بی بی جی دادی سے زیادہ ایک تھانیدارنی کے طمطراق سے چکر لگاتی دکھائی دیتیں۔

ایسی ہی ایک گرم دوپہر کو اسے ساتھ لیے اپنے کمرے میں چلی آئیں۔ لو لگ جانے کے ہوشربا قصے سنانے کے بعد آئندہ نہ جاگنے کے عہد و پیمان ہوئے۔ پھر اپنا سفید ململ کا دوپٹہ گیلا کرکے خوب اچھی طرح نچوڑ کر خود اور اسے اوڑھا کر لیٹ گئیں کہ گرمی ایسے بھگائی جاتی ہے اور پھر ایسی گرم دوپہروں میں بی بی جی کے ساتھ کئی انوکھے تجربے ہوئے۔ ایک دوپہر مہندی کا بڑا سا پیالہ گھول کر بیٹھی بی بی جی نے اسے بھی چمکار کر پکارا۔ دونوں ہاتھ مہندی کے برتن میں ڈبو کر خوب اچھی طرح مہندی لگاد ی گئی اور دونوں ہاتھوں پر تھیلیاں چڑھا دیں۔ خود اپنے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ یہ عمل پیروں پر بھی کیا۔ شام میں آنکھ کھلنے پر دیکھا، لال لال ہاتھ اور انگلیاں اور ناخن، کیا رنگین نسخہ تھا، گرمی بھگانے کا۔

بی بی جی کی اپنائیت اور پیار کے سارے رنگ کس قدر انوکھے اور خوبصورت تھے۔ ممکن نہیں تھا کہ نہا کر بی بی جی کے سامنے سے گزریں اور وہ جھپٹ نہ لیں۔ فٹ سے اپنی سرمہ دانی نکال، دونوں ٹانگوں میں جکڑ کر، سلائی پر دم، ایک بڑی گہری سی پھونک اور پھر تین تین بار سلائی، جان نکلتی محسوس ہوتی اس عمل سے۔ لیکن بعد کا مرحلہ نہایت پسندیدہ تھا۔ ذاتی تیار کردہ پنجیریاں اور گل گلشن، جنہیں کھلانے کا بھی اپنا ہی انداز تھا۔ گتے کے ٹکڑے کو موڑ کر چمچ کی شکل دی گئی ہوتی، اس سے اپنے ہاتھ سے کھلاتی جاتیں اور جن دنوں بڑے بھائی فوج سے چھٹی پر، نت نئے کھلونے لے کر اور نت نئے کرتب سیکھ کر گھر آتے تو گویا عید کا سا سماں ہوتا۔ گھر داخل ہونے پر بچوں کا والہانہ خیر مقدم اور لمبے اور چوڑے بھائی جان کا باری باری چھوٹے بہن بھائیوں کو اوپر ہوا میں اچھالنے کا منظر، جان حلق تک آتی محسوس ہوتی اور وہ مزید اونچا اچھالتے۔ تبھی اچانک غیر متوقع طور پر، پاس کھڑی اس منظر سے نہال ہوتی بی بی جی کی باری آ جاتی۔ جنہیں گود میں لٹانے کے انداز میں اٹھا کر صحن کے چکر لگانا شروع کر دیتے۔ بی بی جی کا واویلا، بچوں کی تالیاں اور بھائی جان کے قہقہے دیر تک صحن میں گونجتے رہتے۔

بی بی جی کا ایک محبوب مشغلہ کہانیاں سننا تھا۔ دُلار سے اسے کہتیں "موتی! اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کہانی سناؤ" جس کا مطلب تھا اردو کی کورس کی کتاب سے وہ سبق سنایا جائے جسے ان گنت بار وہ پہلے سن چکی تھیں اور جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ تھا۔ بوریت سے بچنے کو اس نے نیا راستہ نکالا۔ سبق پڑھنا شروع کیا۔ "حضرت۔۔۔۔ اپنا ہر کا۔۔ خود کر لیتے تھے۔ اپنی جوتیاں بھی خود۔۔"حضرت کون؟ بی بی جی حیرت زدہ ہو کر گویا ہوئیں۔ تو بی بی جی! کیا آپ کو نہیں پتہ اپنے کام خود کون کرتا تھا؟ یہ "م، م" کا کھیل ہے، جس میں 'م' نہیں بولا جاتا"۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہانی ان کا نام لیے بغیر سنائی جائے گی۔ لو بتاؤ؟ خفگی سے بولیں۔ "ہاں جی" مکمل ڈھٹائی سے جواب دیا۔ تب صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے ایک اور فیصلہ کیا گیا۔ بی بی جی اس کی پسند کا موتیے کے پھولوں کا سبق بھی سنیں گی اور یہ کھیل بھی اس سبق میں کھیلا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہانی بغیر کسی چھیڑ خانی کے پوری پڑھی جائے گی اور بعض اوقات انعام کیسے یادگار ملتے۔ جیسے ایک دن پہلے کا کاٹ کر رکھا گیا "میٹھا"، ترشی اور کڑواہٹ میں اپنی مثال آپ۔۔۔۔

بی بی جی کی سلطنت میں مداخلت، صرف اجازت ملنے کی صور ت میں ممکن تھی۔ ایک بار جب بی بی جی نے اسے گلاس دھو کر واپس برتنوں کے چھینکے میں رکھنے کو دیا تو اس کی نظر وہاں رکھی لکڑی کی ڈوئی پر پڑی۔ چھوٹا سا دستہ، جس پر معمولی نقش و نگار، چھونے پر نرم و ملائم، لیکن اس کی سب سے خوبصورت چیز اس کا سائز میں بے حد چھوٹا ہونا تھا۔ اسی لمحے بی بی جی سے وہ لینے کی اجازت لی اور اسی لمحے خشمگیں نگاہوں کے ساتھ اسے مکمل ردکر دیا گیا۔ اس لمحاتی انکار نے گویا ڈوئی سے محبت میں آگ بھر دی۔ سوتے جاگتے اس کو حاصل کرنے کے خواب، بالآخر ایک دن عین دیدہ دلیری سے ڈوئی اٹھا کر الماری میں کپڑوں کی تہوں کے درمیان جگہ بنا کر، ٹکا کر کھڑی کردی کہ الماری کھلتے ہی سامنے اس پہ نظر پڑے۔ سکول میں اگلا دن صرف ڈوئی کے بارے میں سوچتے گزرا۔ واپس آتے ہی الماری کھولی تو بھونچکا رہ گئی۔ ڈوئی، اس کے بدترین خدشات کے مصداق غائب تھی۔ گڑ بڑ امی نے کی ہے یا آیا کی صفائی کی نظر ہوگئی؟ جواب ملنا محال تھا۔ پھر کسی وقت جب بی بی جی کے کمرے میں جانا ہوا تو صدمے سے براحال ہو گیا۔ ڈوئی اپنی جگہ پر موجود تھی۔ کم ازکم بی بی جی سے ایسی "حرکت" کی توقع نہ تھی اور ڈوئی کی محبت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اب تو جیسے معمول بن گیا۔ ہر دوسرے دن ڈوئی اس کی الماری میں اور ہر چند گھنٹے کے بعد واپس اپنے ٹھکانے پر۔ کھینچا جانی کی اس سرد جنگ میں محال ہے فریقین میں سے کسی نے ایک بار بھی منہ سے شکوہ شکایت کیا ہو۔

ان دنوں گھر میں اکثر " اسلامی جمہوری اتحاد" کے نغمے ٹیپ میں گونجا کرتے۔ تبھی ایک دن پتہ چلا کہ امی ابو بچوں کو دادی اور آیا کے سپرد کر کے اسلامی جمہوری اتحاد کے اجتماعِ عام میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ پہلا دن خیریت کا گزر گیا۔ اگلے دن صحن میں ترکاری بناتے اچانک ہی بی بی جی سینے میں تکلیف کی شکایت کرنے لگیں۔ جانے کب اور کس نے اسپتال پہنچایا۔ تیسرے دن امی ابو واپس آئے تو ابو کو گھر داخل ہونے سے پہلے ہی بی بی جی کی اطلاع دینا سب نے ضروری خیال کیا اور ابو گیٹ سے ہی ہسپتال کے لیے روانہ ہو گئے۔ تب اگلے دن بی بی جی واپس آ گئیں۔ حیرت انگیز طور پر نڈھال اور کمزور۔ اس نے بطور خاص محسوس کیا کہ آج بی بی جی کے لپٹانے میں وہ گرمجوشی نہیں جس سے اس کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوتا تھا۔ شام میں جب سب بہن بھائی ٹیوشن پڑھنے میں مصروف تھے تو معلوم ہوا بی بی جی کو دوبارہ لے جارہے ہیں۔ سب نے بھاگم بھاگ ملنا چاہا۔ جاتے جاتے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے تاکید کرتی گئیں، بھائی نے بلی کے بچے پال رکھےتھے، انہیں بھوکا نہیں رکھنا، کمرے میں گوشت کے ٹکڑے رکھے ہیں وہ بلی کو ڈال دیے جائیں۔ یہی آخری جملہ تھا شاید جو اس کی سماعت میں محفوظ رہا۔ اگلی نصف رات بیت چکی تھی، جب دونوں پھپھوؤں کی سسکیوں کی آہٹ سے اس کی آنکھ کھلی۔ بھاگ کر باہر کی طرف دوڑ لگائی۔ بڑا گیٹ کھول دیا گیا تھا۔ ابو جی چارپائی کا ایک سرا پکڑے اندر داخل ہو رہے تھے۔ سفید چادر میں لپٹی لپٹائی بی بی جی، آنسو، تواتر سے ابو جی کے چہرے پہ بہہ رہے تھے اور پھپھوؤں کو سختی سے آواز نیچی رکھنے کی تاکید کر رہے تھے۔ تب امی نے بتایا بی بی جی ہمیشہ کے لیے سو چکیں۔ وہ رات کتنی اندھیری اور طویل لگنے لگی تھی۔ اگلے تین دن اسکولز بند رہے۔ جاتے جاتے بھی بی بی جی کیسا انمول تحفہ دے گئی تھیں۔ سکول سے چھٹیوں کا تیسرے ہی دن سامان تقسیم ہونے لگا۔ لکڑی کے بکس قریبی جامعہ بھجوانے کا فیصلہ ہوا۔ اس میں یہ ہمت نہ تھی کہ پوچھتی، بکس کے جن کس کے حصے میں آئیں گے؟ ہفتہ بھر کی چھٹی کے بعد اسکول جانے کی آزمائش پھر سے شروع ہوئی۔ بریک میں سکول کنٹین کے منظر نے بی بی جی کی یاد کو کسک میں تبدیل کر دیا۔ کینٹین والا، تیزی سے لکڑی کی ایک ننھی سی ڈوئی سے چٹنی ڈالنے میں مصروف تھا۔

Comments

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • گهرمیں بزرگوں کا ساته شجرسایہ دار کی طرح ہے جسکا احساس ان کے گذر جانے کے بعد ہوتا ہے.اللہ جی میری دادی جان کو اپنی جنت میں اور اپنی رحمت کے سائے میں رکهیں.