ایسے تو امن کبھی نہیں ہوسکتا! - شیخ خالد زاہد

امن کی دو قسمیں ہوسکتی ہیں ایک باطنی اور دوسرا ظاہری۔ عمل سے ثابت ہے کہ زندگی مسلسل جستجو کا نام ہے تو پھر لفظ امن کی کیا ضرورت تھی، جستجو جاری رہے گی تو اکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہے گی اور اکھاڑ پچھاڑ میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ ایک طرف مکرمی ارسطوکا قول ہے محض جنگ جیتنا کافی نہیں اس سے زیادہ اہم امن قائم کرنا ہے۔ ارسطو نے ظاہری امن کی بات کی ہوگی کیونکہ باطنی امن تو سب کا نجی مسئلہ ہے لیکن باطنی آسودگی امن کی گواہی ہے، اندر امن ہوگا تو باہر کے امن کے لیے کام کرے گا۔

بظاہر یہ ایک لاحاصل بحث دکھائی دے رہی ہے۔ آپ اپنے گھر کو صاف رکھنے کے لیے گھر کا سارا کچرا اٹھا کر گلی میں انڈیل دیں اور یہ سمجھیں کہ چلو گھر تو صاف ہوگیا مگر کچھ ہی دیر بعد وہی کچرا دوبارہ آپ کے گھر میں داخل ہونا شروع ہوجائے گا۔ جنگ اور امن بھی کچھ ایسے ہی ہیں، جدید دنیا کا یہ سمجھنا ہے کہ وہ جنگ کر کے امن قائم کرلینگے۔ زیادہ نہیں گزشتہ بیس، پچیس سالوں پر نظر دوڑائیں جو کچھ نظر آرہا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ سمجھانے والا سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے مگر ہم ہیں کہ سمجھا تک نہیں چاہ رہے۔ اس سمجھانے والے نے ظلم اور بربریت کی مثالیں قائم کردیں لیکن ہم ہیں کہ سمجھنے کے لیے تیارہی نہیں ہیں اور ظالم کی مدد اس صورت میں کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اب تک وہ کسی کسی کا گھر برباد کر رہا تھا، کہیں اب وہ ہمارے گھر میں گھس آئے۔ دشمن ہماری صفوں میں بیٹھ کر ہمیں ہمارے خلاف استعمال کرتا چلا جا رہا ہے۔ اب لفظ امن بھی اپنے نام کی تبدیلی کا درخواست کرتا سنائی دے رہا ہے۔ کیونکہ کسی کا گلا دبا کر یہ کہا جائے کہ وہ بولنا ہی نہیں چاہتا کون سے امن کی وضاحت ہے؟ یہاں تو آنکھوں دیکھی چیزوں پر بولنا محال ہوجاتا ہے۔

تقریباً دنیا کی کیفیت اس کبوتر کی طرح ہے جو آنکھیں بند کر کے یہ سمجھتا ہے کہ بلّی اسے نہیں دیکھ رہی۔ انڈیا تو دنیا کو کشمیر میں امن کی فاختائیں اڑتی ہوئی دکھاتا ہے، اسرائیل سمجھتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کا خون بہا کر دنیا سے برائی ختم کر رہے اور امریکا اور اس کے اتحادی مل کر افغانستان میں جبکہ شامی اور روسی شام میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بغیر غور کیے بھی نظر آرہا ہے کہ ساری دنیا کے لیے ایک اللہ اور اس کے آخررسول ﷺ کو ماننے والے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں اور اپنے ہی خون سے ساری دنیا کی آبیاری کررہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے دشمن ہمیں ہی ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں اور ہمارے ہی مال و دولت پر عیاشی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان میں دہشت گردی کی تشویش ناک لہر - قادر خان یوسف زئی

بھارت کشمیری نوجوانوں کے خون کی ہولی کھیلے، عزتیں پامال کرے، سرحدی خلاف ورزیاں کرے اور امن کی آشا کی بات بھی کرے۔ ایسا ہی سب کچھ اسرائیلی کر رہے ہیں بھلا کسی ذی شعور ذہن میں یہ باتیں جگہ بنا سکتی ہیں؟ کبھی بھی نہیں۔

کشمیر، فلسطین، شام اور افغانستان میں زندگی تھمتی نہیں اور موت رکتی نہیں۔ ان ملکوں میں صبح اور شام خوف و ہراس کا راج ہے یہاں جنم لینے والے بھی خوف میں لتھڑے ہوئے دنیا میں آتے ہیں۔ آپ کسی کا حق مار لیجیے اور اس سے یہ توقع رکھیے کہ وہ کوئی شور نہیں مچائے گا؟ عالمی امن کے لیے سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ طاقت کا توازن قائم کیا جائے اور کسی ایک طاقت کو اس اختیار سے باز رکھا جائے کہ کسی بھی ملک کو جب چاہے کسی بھی الزام کی بنیاد پر فوج کشی کرنے کا حکم دے دے۔ طاقت کی مرکزیت دنیا کے لیے خطرہ بنتی چلی جا رہی ہے اور یہ بات تو واضح ہے کہ اس بے دریغ استعمال صرف اور صرف مسلم ممالک پر ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مسلم ممالک میں رائج طرز حکومت سے مسئلہ ہے تو مسلم ممالک کو بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی معاشرتی اور مذہبی اقدار سے مسئلہ ہے۔

حکمران تو اقتدار کے نشے میں دھت ہیں مگر ہمارے ملک کے تھنک ٹینک کیا کر رہے ہیں؟ ادیب کیا کر رہا ہے؟ صحافی کیا کر رہے ہیں؟ کیا انہیں یہ بات نہیں سمجھ آرہی کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے؟ شاید انہیں ان باتوں سے فرصت ہی نہیں مل رہی کہ ہمارے سیاست دان صبح ناشتے میں کیا کھا رہے ہیں اور رات کو سونے سے پہلے کیا پی رہے ہیں۔ ہمیں بہت ہی منظم طریقوں سے الجھایا جاتا ہے، کبھی بھارتی فوج سرحدوں پر بد انتظامی پھیلا کر یہ ذمہ داری نبھائی جائی ہے، کبھی افغانی سرحدوں سے گولا باری کی جاتی ہے، کبھی اپنی ہی حدوں میں دھماکے ہونے لگتے ہیں، کبھی سیاسی جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں تو کبھی کرپشن کا پنڈورا بکس کھول دیا جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسی آنکھ ضرور ہوگی جو اس ساری صورتحال کو بالکل اسی طرح سے دیکھ رہی ہوگی جس طرح سے اس صورتحال میں ہمیں دھکیلا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان میں دہشت گردی کی تشویش ناک لہر - قادر خان یوسف زئی

گزشتہ دنوں قصور سے تعلق رکھنے والی بچی زینب کے ساتھ ہونے والے دلدوز واقع نے پوری پاکستانی قوم کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ نہ تویہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا اور نہ ہی آخری قرار پایا۔ اس واقعے کے بعد سے بلکہ مجرم کو قرار واقع سزا ہونے کے بعد سے اب تک تواتر سے ایسے ہی واقعات ملک کے تقریباً ہر شہر میں رونما ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن کیا وجہ رہی ہوگی کہ زینب کے معاملے نے پوری قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی جبکہ اس کے بعد ہونے والے واقعات کسی عام سی خبر سے زیادہ اہمیت حاصل کرسکے؟ آپ اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھرنے والوں کو لے لیجیے کیا یہ امن و امان کے لیے خطرے کا باعث نہیں ہیں؟ ان کے پیچھے بھی کسی کے ہاتھ ہونے کی خبریں سرگوشیوں میں گردش کرتی سنائی دے رہی ہیں۔ طاقتور اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی عمل سے دریغ نہیں کرتا اور دنیا تو ویسے بھی طاقتور کے آگے گھٹنے ٹیکے اور سر کو جھکائے بیٹھی ہوئی ہے۔ عالمی اداروں کو مفلوج بناکر یا پھر اپنے ماتحت کر کے کبھی بھی دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس بات کو کم ازکم ہمیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح امریکہ امن قائم کرنے کا خواہش مند ہے اس طرح سے کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔