دوسری بات - عامر خاکوانی

طالبانائزیشن اور فوجی آپریشن کے حوالے سے دو موقف بلکہ کہہ لیجیے کہ دو سکول آف تھاٹ پائے جاتے ہیں۔

پہلا سکول آف تھاٹ:
اس پہلے حلقہ کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج نے افغان طالبان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ جہادی تنظیموں (کشمیری جہادیوں) کو ڈچ کیا یعنی چھوڑ دیا، امریکہ کا کہنا مانا اور امریکی پراکسی آرمی کا کردار ادا کیا۔ انہیں افغانستان میں فوجی آپریشنز کے لیے امریکہ کا ساتھ نہیں دینا چاہییے تھا، امریکہ کو انہوں نے لاجسٹک سپورٹ دی، یہاں سے امریکی طیارے اڑ اڑ کر افغانستان جاتے رہے اور طالبان پر بم برساتے رہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ ظلم ہے۔ ایسا کرنے کی وجہ سے جہادی عناصر پاکستانی فوج کے خلاف ہوئے اور انہوں نے پاکستانی طالبان کی شکل میں فوج پر حملے شروع کر دیے۔ سید منور حسن بھی اسی نظریہ کے حامی تھے۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی شہید ہیں تو ٹی ٹی پی کے امریکہ کے خلاف لڑنے والے جنگجو بھی شہید ہیں۔ اس حلقہ کا دباؤ تھا کہ پاکستانی فوج کو فاٹا میں نہیں جانا چاہیے۔ یہ فاٹا ایجنسیوں میں آپریشنز کے سخت مخالف تھے۔ ان میں جماعت اسلامی، جے یوآئی ف، س اور ہر قسم کے مذہبی عناصر شامل ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن نہ کرنے کے خلاف تو انہوں نے باقاعدہ تحریک چلائی۔ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کو اسی حلقے نے فیک قرار دیا تھا اور ان کے مطابق یہ شمالی وزیرستان پر چڑھ دوڑنے کی سازش ہے۔ یہ اور بات کہ ان کا خدشہ غلط نکلا اور پاکستانی فوج اگلے دو برسوں تک شمالی وزیرستان نہیں گئی۔ سوات آپریشن کا بھی یہ حلقہ مخالف رہا اور آپریشن کے دوران ہونے والی بعض بے اعتدالیاں پر جماعت اسلامی کے رہنما نجی محفلوں میں سخت تنقید کرتے رہے۔ ان کا یہ الزام رہا کہ ملا فضل اللہ کو فوج نے ڈھیل دیے رکھی اور بعد میں وہ اتنا بڑا خطرہ بن گیا۔ دلچسپ بات ہے کہ یہ لوگ آپریشن کے بھی خلاف تھے، یعنی ان کے خیال میں فوجی آپریشن نہیں ہونا چاہیے تھا جس میں جنگجو نشانہ بنے، مگر شہری بھی متاثر ہوئے، مگر پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے رہے کہ آپریشن کرنےوالوں نے جنگجوؤں کو چھوڑ دیا۔ کئی سینہ گزٹ سٹوریز بھی سنائی جاتی رہی ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا بھی یہی حلقہ حامی رہا۔ عمران خان بھی اسی صف میں شامل تھے بلکہ زور دے کر طالبان سے مذاکرات کی وکالت کرتے تھے۔ خود مسلم لیگ ن بھی یہی سوچتی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف نے زور دے کر مذاکرات کی آپشن آزمانے کا فیصلہ کرایا اور مذاکراتی کمیٹی بھی بنائی جس میں عرفان صدیقی، میجر عامر وغیرہ شامل تھے۔ میجر عامر تو آج بھی یہ کہتے ہیں کہ فوج نے خواہ مخواہ آپریشن شروع کر دیا، ورنہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے تھا۔ ایک اور مزے کی دلیل اس کیمپ سے یہ ملتی ہے کہ نائن الیون سے پہلے تو فاٹا میں دہشت گردی نہیں تھی، یہ پرامن علاقہ تھا، پاکستانی فوج وہاں گئی ہے تو یہ مسائل پیدا ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حلقہ اس وقت پاک فوج کا سخت ناقد ہے۔ ان کی دکان پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ چورن مختلف ذائقوں کے ساتھ دستیاب ہے۔ جے یوآئی والوں کا اپنا ذائقہ ہے، جبکہ جماعت اسلامی والے اسے اپنے چٹخارے کےساتھ بیچتے ہیں، میجر عامر تو ادرک، ہرے مسالے کے کچھ فرق کے ساتھ ان کے پاس بھی اپنا ’’چورن‘‘ موجود ہے۔ جو لینا چاہے، وہ بخوشی لے سکتا ہے۔

اس کے برعکس ایک اور سکول آٖف تھاٹ بھی ہے ۔
دوسرا حلقہ:
یہ بنیادی طور پر قوم پرستوں، سیکولروں، لبرلز، دیسی لبرلز، لبرل فاشسٹوں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ جیالوں، اینٹی تکفیری مگر اتنے ہی شدت پسندوں پر مشتمل ہے۔ ان کے خیال میں فوج نے امریکہ کے ساتھ دھوکا کیا ۔ پاک فوج ڈبل گیم کرتی رہی اور ’’معصوم ‘‘امریکی دھوکا کھا گئے۔ فوج نے طالبان کو مکمل سپورٹ فراہم کی۔ یہ لوگ ہر ایک کو طالبان کہتے ہیں، افغان طالبان، تحریک طالبان اور پنجابی طالبان میں فرق رکھنا گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ گڈ طالبان ، بیڈ طالبان کے الفاظ یہ استعمال کرتے ہیں، مگر طنزاًاور مقصد صرف ٹھٹا اڑانا ہوتا ہے۔

ان کے خیال میں فوج کو جلدی آپریشن کرنا چاہیے تھا، وزیرستان دیر سے جانے پر یہ فوج سے خفا رہتے ہیں۔ ان کے خیال میں فوج کو طالبان کی دھجیاں اڑا دینی چاہئے تھیں۔ انہوں نے آپریشن تو کیا، مگر ’’ مزا‘‘نہیں آیا۔ حقانی نیٹ ورک ان کی چڑ ہے۔ وہ اسے اسرائیلی جاسوس تنظیم موساعد سے ملتا جلتا کوئی گروپ سمجھتے ہیں، انہیں اس پر بڑا ’’وٹ‘‘ یعنی غصہ ہے کہ یہ بدبخت حقانی نیٹ ورک والے پاکستان کے ابھی تک قریب کیوں ہیں؟ ان کے خیال میں پاکستان کو افغان طالبان کی کسی بھی صورت میں کسی بھی قسم کی حمایت نہیں کرنی چاہیےبلکہ زیادہ بہتر ہو کہ آرمی چیف اپنے ہاتھوں سے ہر افغان طالبان کا زبح کر کے افغان فوجیوں کے حوالے کرے ۔ سٹریٹجک ڈیپتھ نامی اصطلاح کا نام سن کر ان کا بلڈ پریشر ہائی ہونے لگتا ہے۔ وہ افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھ ہلاک ہونے والے لاکھوں افغانوں، ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستانی شہریوں، فوجی جوانوں اورایف سی ، پولیس کے شہدا کی موت کی ذمہ دار پاکستانی فوج کو سمجھتے ہیں۔ بلکہ ان کے خیال میں تاریخ انسانی میں جتنے بھی جرائم ہوئے، بدفعلیاں کی گئیں، شیطانی منصوبے بنائے گئے ، حتیٰ کہ ماحولیاتی تبدیلیون، آلودگی بڑھنا، اوزون کی تہہ میں سوراخ کا ہو جانا، گرمی میں شدت، بارشیں کم ہونا بلکہ آج صبح کے ناشتے میں پراٹھے کا درست طریقے سے نہ تلا جانا بھی پاک فوج کی وجہ سے ہے۔ ضرور انہوں نے کچھ کیا ہوگا، ورنہ ہر روز تو پراٹھا ٹھیک بنتا تھا۔

مسئلہ کیا ہے ؟
مسئلہ یہ ہے کہ ایک حلقہ کہتا ہے کہ آپریشن نہیں ہونا چاہیے تھا، اس سے نقصان ہوا، طالبان مارے گئے، مذہبی لوگ ریاست پاکستان کے خلاف کھڑے ہوگئے ۔ پاکساتنی فوج امریکی ایجنٹ بن گئی ہے، امریکیوں کے کہنے پر سب کچھ کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

دوسرا حلقہ یہ کہتا ہے کہ آپریشن میں تاخیر کی گئی، فوج اپنے چکر میں رہتی ہے، اپنی سٹریٹجک ڈیپتھ کے تحت افغان طالبان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا، امریکہ کو دھوکا دیا گیا، پاک فوج ڈبل گیم کرتی رہی۔

اب صورتحال یہ ہےکہ ان دونوں میں سے ایک حلقہ ہی ٹھیک ہوسکتا ہے۔ فوج یا تو امریکی ایجنٹ ہوگی یا پھر اس نے امریکہ سے ڈبل گیم کی ہوگی۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ دونوں باتیں درست ہوجائیں۔ دراصل یہ ہماری شدت پسند سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم ایک سیدھا فیصلہ سنا دیتے ہیں، ہاں میں یا ناں میں۔ اس پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ پختون تحفظ تحریک سے جاری بحثوں میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کمنٹس میں لوگ سوچے سمجھے بغیر جنرلائزڈ سوئپنگ سٹیٹمنٹس دے دیتے ہیں۔ ان میں جو تضادات ہیں، انہیں دانستہ فراموش کر دیتے ہیں تاکہ ان کا کیس مضبوط بنے ۔ یوں بات مگر چل نہیں سکتی۔

پی ٹی ایم کے اندر بھی دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں۔ کبھی تو سمجھ نہیں آتا کہ ہو کیا رہا ہے؟ کسی کو یہ غصہ ہے کہ آپریشن کیوں ہوا؟ کوئی یہ کہتا ہے کہ طالبان نے اتنے لوگ مار دئیے، اتنا نقصان کیا جبکہ آرمی نے ان کے خلاف آپریشن نہیں کیا۔ کسی کو یہ غصہ ہے کہ فوج نے ملا نذیر، حافظ گل بہادر کے خلاف بھی آپریشن کر ڈالا، حالانکہ یہ تو گڈ طالبان تھے۔ کسی کو یہ غصہ ہے کہ فوج نے ملا نذیر کے ساتھ بھی اتحاد کر لیا۔ دیگر طالبان کو گڈ طالبان کہہ کر ہاتھ ملا لیا۔ علی وزیر نے اپنی تقریر میں یہی باتیں کہی ہیں۔ اب ہم کنفیوژ ہیں کہ پی ٹی ایم کے اندر کے لوگ ہیں، وزیرستان ہی کے ہیں مگر متضاد باتیں کہہ رہے ہیں، کس کی مانی جائے اور اصل مسئلہ پھر ہے کیا؟
اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں، کچھ خود بھی سوچیے۔ میں اتنے میں اگلی بات کی طرف بڑھ جائوں گا۔

ایک نکتہ عرض کر دوں کہ جو لوگ یعنی قوم پرست حلقہ آپریشن کرنے پر زور دیتا تھا، فوج کہتی تھی کہ آپریشن سے نقصان بہت ہوجاتا ہے، لوگ بے گھر ہوجاتے ہیں، مسائل بڑھ جائیں گے، مگر یہ قوم پرست، لبرل، سیکولر بار بار دبائوڈالتے تھے کہ ہر حال میں آپریشن کرو۔ قبائلی ایجنسیوں میں گھس کر سیف ہیون ختم کر دو۔ اب وہی لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ آپریشن میں نقصان ہوگیا، بمباری، گولہ باری سے گھر تباہ ہوگئے، وغیرہ وغیرہ۔ ان قوم پرستوں کو یہ بات کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کوئی نہیں کہ پہلے دبائو ڈال کر ، شور مچا کر آپریشن کرایا اور پھر متاثرین کے ساتھ مل کر سیاپا ڈالنے لگ گئے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.