جنوبی پنجاب صوبہ کا نعرہ کیوں لگایا گیا؟ محمدعامر خاکوانی

سرائیکی وسیب (خطے) یا جنوبی پنجاب پر مشتمل ایک الگ صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا یا اس بار بھی کسی مخصوص سیاسی ایجنڈے کی خاطر یہ ایشو اٹھایا گیا ہے اور الیکشن ہونے کے چند گھنٹوں بعد اسے اگلے پانچ برسوں کے لئے پھر دفن کر دیا جائے گا؟ اس پر بات کرتے ہیں، مگر دو بنیادی نکات سمجھ لئے جائیں کہ سرائیکی صوبہ بنانے کا مطالبہ الگ ہے، جنوبی پنجاب کا مطالبہ اپنا تناظر میں اس سے مختلف ہے اور بحالی صوبہ بہاولپور کی تحریک ان دونوں سے قطعی طور پرمختلف اور منفرد ہے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا مطالبہ ایک الگ ایشو ہے اور یہ مطالبہ لگانے والوں کی شخصیت ، اخلاص یا ایجنڈہ الگ معاملہ۔ اس پر بات ہوسکتی ہے، ممکن ہے آرا مختلف ہوں۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبہ کو البتہ الگ حیثیت میں دیکھنا ہوگا۔ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ اسے میرٹ پر جانچنا اور پرکھنا چاہیے۔

سرائیکی صوبہ بنانے والے سرائیکی اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، جس کی بنیادی معیار سرائیکی قوم، کلچر،تہذیب ، زبان ، ادب، تاریخ وغیرہ ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ سرائیکی صوبہ میں ملک بھر کے سرائیکی اکثریتی علاقے یاجہاں کہیں ان کا کلسٹر(Cluster)ہے، انہیں کاٹ کر سرائیکی صوبہ میں شامل کیا جائے۔ انکے خیال میں سرائیکی صوبہ میں کم ازکم پنجاب کے بہاولپور، ملتان، ڈی جی خان ڈویژنز اور سرگودھا ڈویژن کے سرائیکی اضلاع بھکر، میانوالی جبکہ خوشاب کی تحصیل نور پور تھل وغیرہ اورضلع جھنگ جبکہ خیبر پختون خوا کے سرائیکی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی مل کر سرائیکی صوبہ بنایا جائے۔یہ خالصتاً لسانی اور قومیت کی بنیاد پر نیا صوبہ بنائے جانے کا مطالبہ ہے۔اس کے برعکس بہاولپور بحالی صوبہ تحریک والے صرف بہاولپور ڈویژن یعنی سابق ریاست بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ اس میں سرائیکی ، پنجابی آباد کار اور اردو سپیکنگ تینوںقومیتوں کے لوگ شامل ہیں۔ ان کا یک نکاتی ایجنڈا یہی ہے کہ ون یونٹ ٹوٹنے سے پہلے بہاولپور ایک الگ صوبہ تھا۔ون یونٹ میں پورا مغربی پاکستان اکٹھا ہوگیا، جب ون یونٹ ٹوٹا تو چار صوبے پنجاب، سندھ، بلوچستان ، سرحد الگ الگ ہوگئے، مگر بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے بجائے پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا ۔اب بہاولپور کوا لگ کر کے ون یونٹ بننے (1954)سے پہلے کی صوبہ والی حیثیت میں بحال کیا جائے ۔ یہ واضح رہے کہ سرائیکی صوبہ تحریک والے بہاولپور بحالی صوبہ تحریک کے سخت مخالف ہیں اور وہ اسے اپنے پشت میں چھرا گھونپنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

جہاں تک جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبہ کا تعلق ہے، یہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیاد پر کیا جاتا رہا ہے۔ اس میں جنوبی پنجاب کے تین ڈویژن بہاولپور، ملتان، ڈی جی خان پر مشتمل الگ صوبہ بنانا مقصود ہے، نام اس کا کچھ بھی رکھا جا سکتا ہے۔یہ مطالبہ کرنے والوں کے مطابق اس میں سرگودھا ڈویژ ن کے میانوالی، بھکر وغیرہ کو یا جھنگ کو بھی انتظامی اور لاہور سے دوری کی بنیاد پر شامل کر لیا جائے تو اور اچھا ہوجائے گا۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبہ کے پیچھے تین بنیادی وجوہات ہیں، ایک تو پسماندگی، دوسرا صوبائی دارالحکومت لاہور سے کئی گھنٹوں کی دوری (جیسے ملتان لاہور سے پانچ گھنٹے، بہاولپور سات آٹھ گھنٹے، ڈی جی خان سات گھنٹے جبکہ رحیم یار خان دس گیارہ گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہیں) ، تیسرا یہ اعتراض کہ آج کے جدید دور میں دس گیارہ کروڑ پر مشتمل پنجاب جتنے وسیع وعریض صوبے کی گورننس عملی طورپر ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مصنوعی مقبولیت کا بلبلہ - محمد عامر خاکوانی

ساڑھے پانچ سال پہلے یہ ایشو زندہ ہوا تھا۔ اس وقت ن لیگ نے سرائیکی صوبے کا مطالبہ کاﺅنٹر کرنے کے لئے صوبہ بہاولپور اور صوبہ جنوبی پنجاب(دارالحکومت ملتان)بنانے کا نعرہ لگایا ۔ ان دنوں پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب صوبے کے ایشو کوزور شور سے اٹھایا تھا تاکہ نواز شریف صاحب کو سیاسی طور پر تنگ کیا جا سکے۔ زرداری صاحب نے ن لیگ کے دو صوبوں کی چال کو کاؤنٹر کرنے کے بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جس کا دارالحکومت بہاولپور ہو۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ والے بھی خوش ہوجائیں اور بہاولپوری صوبائی دارالحکومت کا درجہ ملنے پر راضی ہوجائیں۔ یہ نعرہ بےمعنی اور غیر عملی تھا۔ ملتان سرائیکی وسیب کے مرکز میں واقع ہے، اس سے ڈیڑھ دو گھنٹے کے فاصلے پر ڈی جی خان، سوا سے ڈیڑھ گھنٹے پر بہاولپور، خانیوال اور مظفر گڑھ صرف آدھا گھنٹہ جبکہ بھکر، لیہ وغیرہ بھی تین گھنٹوں کی مسافت پر ہیں۔ جبکہ بہاولپور ایک سائیڈ میں ہونے کے باعث دیگر اہم سرائیکی اضلاع اور شہروں سے زیادہ دور ہوجاتا ہے اورایک طرح کی وہی لاہور والی مسافت کا معاملہ ہوجاتا۔ زرداری صاحب نے مگر اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اس نعرے کو آگے بڑھایا، یہ اور بات کہ انتخابات میں ان کا یہ تیر نشانے پر نہ بیٹھا اور سرائیکی عوام نے ان کی سیاست کو مسترد کر دیا۔

مئی 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو جنوبی پنجاب میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ سرائیکی علاقوں میں روایتی طور پر پیپلزپارٹی کی پوزیشن مضبوط رہی ہے، اہم الیکٹ ایبلز بھی ان کے ساتھ رہے ہیں اور سرائیکی محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنی بہو کہتے تھے کہ زرداری خاندان کی گھریلو زبان سرائیکی بیان کی جاتی ہے، ایک وجہ یہ بھی کہ بیشتر سرائیکی قوم پرست پیپلزپارٹی کا ماضی میں حصہ رہے اور تاج محمد لنگاہ، اسد لنگاہ،منصور کریم ایڈووکیٹ، حمید اصغر شاہین، افضل مسعود ایڈووکیٹ اور دیگر ممتاز سرائیکی اہل علم، اہل قلم پیپلزپارٹی کا حصہ یا اس کے قریب رہے تھے۔ زرداری صاحب کی پانچ سالہ حکومتی کارکردگی مگر پیپلزپارٹی پر اس قدر بھاری بوجھ بن گئی کہ جنوبی پنجاب میں اس کا صفایا ہوگیا۔ مسلم لیگ ن نے بڑی تعداد میں سیٹیں جیت لیں۔ تین وجوہات تھیں، پیپلزپارٹی کی ناکامی ، اچھے الیکٹ ایبلز کا انتخاب اور تیسرا یہ کہ انہوںنے الیکشن مہم سے پہلے ہی جنوبی پنجاب اور بہاولپور پر مشتمل دو الگ صوبے بنانے کا عندیہ دیا بلکہ پنجاب اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرائی۔ن لیگ نے جنوبی پنجاب کی نوے فیصد نشستیں جیت لیں، اگرچہ الیکشن کے بعد اپنے اس نعرے کو بالکل ہی بھلا دیا۔ اس الیکشن میں جنوبی پنجاب کے چند ایک الیکٹ ایبلز نے آزاد الیکشن لڑا، ان میں شاید کسی قسم کی غیر رسمی مفاہمت بھی ہوگی۔ اس میں سے بعض ہار گئے، کچھ جیسے رحیم یار خان سے خسرو بختیار، علی پور سے عاشق گوپانگ، ڈی جی خان سے اویس لغاری، مظفر گڑھ سے جمشید دستی، خانیوال سے رضا ہراج، بہاولنگر سے اصغر شاہ، راجن پور سے صوبائی نشست پر بزرگ سیاستدان سردار نصراللہ دریشک، وہاڑی سے طاہر اقبال چودھری جیت گئے جبکہ لودھراں سے عبدالرحمن کانجو نے اپنے گروپ کے ساتھ پورے ضلع میں سویپ کیا۔ الیکشن کے بعد ن لیگ کو غیر معمولی اکثریت حاصل ہوگئی۔ آزاد ارکان اسمبلی میں سے بیشتر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ اویس لغاری، جمال لغاری کو نواز شریف صاحب نے پوری طرح قبول کر لیا، وزارتیں دی گئیں۔ عبدالرحمن کانجو کو بھی مسلم لیگ میں پزیرائی ملی، جہانگیر ترین کو کاؤنٹر کرنے کے لئے شریف برادران کو ان کی ضرورت تھی۔جمشید دستی سخت نالاں رہے اور کچھ عرصہ قبل تو انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بیشتر آزاد ایم این ایز مسلم لیگ ن میں شامل تو ہوگئے، مگر انہیں پزیرائی نہ ملی یا لیڈرشپ نے لفٹ نہیں کرائی۔ کسی کو وزارت ملی بھی تو وہ بالکل بے اختیار۔ وہاڑی کے طاہر اقبال نے اگلے روز ٹی وی پر بتایا کہ ساڑھے چار برسوں میں کوشش کے باوجود وہ وزیراعظم سے ایک ملاقات تک نہ کر پائے۔ یہ تو بہرحال حقیقت ہے کہ ن لیگ کی قیادت نے جنوبی پنجاب کے نمائندوں، رہنماؤں کو سیاسی اونر شپ بالکل نہیں دی۔ پارٹی کا حصہ بن جانے کے باوجود انہیں فیصلہ سازی سے دور رکھا ۔ معاشی محرومی تو ہمیشہ سے ہے، اس بار سیاسی محرومی میں بھی اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   سمرٹن اور جنوبی پنجاب میں تبدیلی کا خواب - صابر بخاری

تین دن پہلے جنوبی پنجاب کے آٹھ اہم الیکٹ ایبلزمستعفی ہو کر ن لیگ سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے کھل کر پہلی بار جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی برسوں سے گوشہ نشیں ہوئے بزرگ سیاستدان بلخ شیر مزاری ان کے سرپرست بنے ہیں، سردار نصراللہ دریشک اس گروپ کے روح رواں ہیں، جبکہ مخدوم خسرو بختیار، قاسم نون ، اصغر شاہ، ملک طاہر اقبال وغیرہ بھی اس صف میں شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چشتیاں سے پنجابی سیٹلرز کے نمائندہ ایم این اے طاہر بشیر چیمہ بھی جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کا حصہ بنے ہیں۔ بہاولنگر کے اصغر شاہ نے مطالبہ کی حمایت کی ہے، مگر ابھی استعفا نہ دینے کا کہا ہے، جبکہ عالم داد لالیکا کا نام پہلے آیا تھا، مگر بعد میں ان کی جانب سے تردید آگئی۔ کہا جا رہا ہے کہ عاشق گوپانگ اور بعض دیگر ارکان اسمبلی بھی اس جانب آئیں گے، جمشید دستی تو پہلے ہی الگ صوبے کی بات کرتے رہتے ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں پندرہ بیس ارکان اسمبلی اس پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں گے اور ممکن ہے الیکشن بھی اسی نعرے اور کسی مخصوص انتخابی نشان پر لڑیں۔

یہ تو تھا جنوبی پنجاب صوبہ کا پس منظر اور یہ نعرہ لگانے والوں کاسیاسی تناظر۔ جنوبی پنجاب کا صوبہ بننا چاہیے یا نہیں، اس کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں.... اس پران شااللہ اگلی نشست میں بات ہوگی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں