دہشت گردی، اپنی غلطی - قادر خان یوسف زئی

نقیب اللہ محسود کے ماورائے قانون قتل سے قبل قبائل طلبا پر مشتمل آرگنائزیشن مخصوص مطالبات پر متحرک تھی۔ اُس وقت انہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن نقیب اللہ محسود کیس میں اسلام آباد دھرنے کے بعد جب عالمی نشریاتی اداروں نے ریاست کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اہمیت دینی شروع کی تو ان کی لاف زنی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ڈی آئی خان کی ایک یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف ویٹرنٹی میڈیسن ( ڈی وی ایم ) میں پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے والا24برس کا نوجوان جو جنوبی وزیر ستان کی تحصیل سروکئی شعور کے علاقے میں پیدا ہوا۔ اس وقت شہرت کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔ جذبات کا نشہ عقل پر غالب ہوتا جارہا ہے۔ معصومیت، سادگی اور عقل کی بھاگ دوڑ بے قابو ہو رہی ہے۔ شاید اب اُسے خود بھی نہیں معلوم کہ اُس سے کیا کرایا جا رہا ہے۔نقیب کیس میں پورے پاکستان کی ہمدردیاں مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ تھی اور اب بھی ہیں۔ اسی لیے بلا امتیاز رنگ و نسل نقیب اللہ محسود کو اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام لسانی اکائیوں نے بھرپور آواز اٹھائی تھی۔ جب اسلام آباد دھرنا منعقد کیا گیا تو چند عناصر کی جانب سے پولیس افسر راؤ انوار کے خلاف چارج شیٹ میں چند ایسے مطالبات بھی شامل کردیے گئے جن کا نقیب کیس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان عناصر نے اِس موقع سے فائدہ اٹھایا اور و اُن معاملات پر لب کشائی شروع کردی جس کے لیے 2016میں بھی ایک نام نہاد موومنٹ بنا کر مطالبات منوانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اُس وقت موومنٹ کو پزیرائی نہیں مل سکی تھی۔ لیکن ان ہی عناصر نے نقیب اللہ محسود کیس میں با اثر افراد کی جانب سے راؤ انوار کی پشت پناہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لسانی اکائیوں کے جذبات کو مشتعل کرنا شروع کردیا۔ گزشتہ دنوں پشاور میں منعقد ایک جلسے میں مقررین نے جذبات سے مغلوب متنازع تقاریراور ملکی حساس اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ ریاستی اداروں کے خلاف متنازع تقاریر نے گریٹر پختونستان، ریاست افغان، پختون بلوچستان کے لیے پر فریب نعروں کی یاد تازہ کردی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آپریشن راہ نجات، آپریشن راہ راست، آپریشن خیبر ون، آپریشن خیبر ٹو، آپریشن راجگال، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردُ الفساد میں شمال مغربی سرحدوں کے رہائشیوں نے سب سے زیادہ قربانی دی ہے۔ لیکن کیا ایک لمحے کے لیے بھی ہم نے یہ سوچا کہ یہ آپریشنز کیوں ہوئے۔ ہم جانتے ہیں کہ شمال مغربی علاقوں میں موجودہ حالات ایک دو ہفتے میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ ہمیں تحمل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ ان نا مساعد حالات کا اصل سبب ہمارے درمیان، ہماری صفوں میں موجود وہ عناصر ہیں جنھوں نے کبھی اسلام کے نام پر تو کبھی قومیت کے نام پر ہمیں استعمال کیا۔ چالیس برسوں سے جاری اس جنگ میں اصل ذمے دار کسی ایک فریق کو یکطرفہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ سن94کو پیدا ہونے والا نوجوان سن78کے حالات کو نہیں مانتا کہ اگر شمال مغربی سرحدوں کے رہائشی نہ چاہتے تو کوئی بھی انہیں استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ ہمیں اس وقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ شمال مغربی سرحدوں کی حفاظت ہم خود کرتے تھے، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے بجائے ہم ہی پاک۔افغان سرحدوں کے محافظ تھے۔ لیکن ہماری کوتاہیوں و کمزوریو ں کی وجہ سے ایسے عناصر جنوبی وزیر ستان، شمالی وزیر ستان، خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی اور دیگر قبائلی علاقوں میں مضبوط ہوتے چلے گئے جنھوں نے پاکستان بھر میں نہتے، معصوم بیگناہ انسانوں کو اسلام کے نام پر نشانہ بنانا شروع کردیا۔ مساجد، مدرسے، عوامی مقامات سمیت ریاستی ادارے بھی ان دہشت گردوں سے محفوظ نہیں تھے۔ پر امن عوام نے تو ازخود اُس وقت ہی نقل مکانی شروع کردی تھی جب کالعدم انتہا پسند تنظیموں نے فاٹا کے علاقوں پر قبضہ جما لیا تھا۔ اس بات کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ جب شدت پسندوں سے تنگ عوام نے شہری علاقوں میں کاروبار شروع کیا تو انہی کے علاقوں میں مضبوط گڑھ بنانے والی انتہا پسند تنظیموں نے لاکھوں اور کروڑوں روپیہ ان سے بھتہ لینا شروع کردیا تھا۔۔ کاغذ و فون و فیکس کے ذریعے بھتے کیلیے دہمکیاں دی جاتی۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہمارے گھر، ثقافت، اروایات کچھ بھی تو محفوظ نہیں تھا۔ حکم عدولی پر اپنوں کے سر قلم اور عصمتوں کو پامال کیا جاتا، بچوں کو زنانہ لباس قید میں رکھا جاتا تھا۔اُس وقت کوئی بھی ان کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیری بہنیں پاک فوج کی منتظر - صائمہ عبدالواحد

فاٹا کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی عدم موجودگی کا فائدہ کس نے اٹھایا؟ کیا ہم اس سے ناواقف ہیں۔میں یہاں سوات، ملاکنڈ ڈویژن کی بات ہی نہیں کرتا۔ لیکن اپنی ضمیر کی عدالت میں یہ فیصلہ تو کرو۔ منظور پشتین کے والد جو خود اسکول ٹیچر تھے۔ وہی گواہی دے دیں کہ سینکڑوں اسکولوں کو بارودی مواد سے کس نے تباہ کیا تھا، بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے کون روکتا تھا، فاٹا، سوات سمیت پورے خیبر پختونخوا میں کتنے اسکول دھماکوں سے اڑا دیے گئے تھے؟ کیا کسی نے ان کی فہرست بنائی کہ اس بیدردی میں کس کی دہشت گردی ہے؟ قومی اثاثوں و مفاد عامہ کی امانتوں کے ساتھ کس نے کیا کیا، کیا ہم اس کے قصور وار نہیں ہیں؟ چیک پوسٹیں اُس وقت بھی تھی جب شدت پسند تھے۔ کئی عشروں سے یہ چیک پوسٹیں قائم تھیں۔ شدت پسند بغیر پوچھے ایک قدم بڑھانے پر ہی جان سے مار دیا کرتے تھے۔ اب یہ چیک پوسٹیں ملکی سلامتی کے لیے قائم ہیں، کئی عشروں تک مسلط کی جانے والی چیک پوسٹوں کے جبر پر ہم صبر کرسکتے تھے تو ریاست کی قائم کردہ چیک پوسٹوں پر اعتراض سمجھ سے بالاتر نہیں ہے۔ مکمل انفرا اسٹرکچر تو شدت پسندوں نے تباہ و برباد کردیا تھا۔ اب جتنے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں کیا کبھی شدت پسند تنظیم نے بھی کرائے تھے۔ سرحدوں کی حفاظت سے تکلیف اُن کو ہوسکتی ہے جنہیں غیر قانونی نقل و حرکت اور اسمگلنگ میں تکلیف ہو۔ بچھائی گئی سرنگیں فوری صاف تو نہیں ہوسکتیں۔ سب جانتے ہیں بارودی سرنگ شدت پسندوں نے بچھائی تاکہ آپریشن کرنے والی فورسز کو نقصان پہنچے۔چیکنگ پوسٹوں، کرفیوپر ناراضگی فطری ہے۔ لیکن اتنا سوچو کہ جن کی جان ہر لمحے خطرے میں ہو، اپنوں کے بھیس میں دشمن ہو، کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ کون ہے تو اس کے نفسیاتی اثرات تو ہر انسان پر ظاہر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیری بہنیں پاک فوج کی منتظر - صائمہ عبدالواحد

فاٹا مکمل طور پر پہاڑی ومیدانی علاقہ ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے سرحدیں محفوظ نہیں ہیں۔ افغانستان سرحدوں پر باڑلگانے میں تعاون نہیں کررہا۔ لازمی امر ہے کہ کسی بھی جگہ سے کوئی شدت پسند دہشت گردی کی کاروائی کے بعد راستے میں پر امن مسافروں میں شامل ہوسکتا ہے۔ ہر علاقے میں چیک پوسٹ کی وجہ بھی ہم سب خود ہیں کیونکہ ان شدت پسندوں کو ہم بخوبی جانتے ہیں اور انہیں دہشت گردی کے واقعات کے بعد اپنے قبیلے اپنے گھروں میں پناہ دیتے رہے ہیں اور اب بھی دیتے ہیں۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین ہے۔ دیکھا جاچکا ہے کہ متحارب گروپوں کی جانب سے مخالفین کو اغوا کرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک کر فورسز پر الزام لگا دیا جاتا تھا۔ مسنگ پرسن کمیشن کے سامنے ایسے افراد کی فہرست بھی پیش کردی گئی تھی جن میں بیشتر لاپتہ افرادکے والد کے نام و ایڈریس بھی احتجاج کرنے والوں کو معلوم نہیں تھے۔ دیگر ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے کہ جہاد کے نام پر ہمارے ہی نوجوان افغانستان، شام، ایران جاتے رہے ہیں۔ جہاں ان کے ساتھ کوئی بھی واقعہ پیش آجائے توان کے اہل خانہ بے خبر ہوتے ہیں۔ ایسے جنگجوؤں کو بھی لاپتہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اداروں پر بھی الزامات ہیں لیکن ان مطالبات کی آڑ میں شدت پسندوں کی رہائی کی کوششیں کرنا مناسب نہیں، ماضی میں یہی غلطیاں بار بار ہوتی رہی ہیں لیکن ہر بار کیوں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم اپنی لسانی تحریک کو پاکستان تحفظ تحریک میں تبدیل کردیتے۔ لیکن لسانی اکائیوں کو مشتعل کرنے سے کیا ملک و قوم کی خدمت ہو رہی ہے یا پھر ملک دشمن عناصر کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔ ہمیں مخصوص چھاپ سے خود کو بچانا ہوگا۔ پختون سمیت تمام لسانی اکائیاں ملک و قوم سے مخلص ہیں۔ ذاتی طور پرکسی کو غداری کا سرٹیفکیٹ دینے کے حق میں نہیں ہوں۔ لیکن کسی کو یہ حق بھی نہیں دے سکتاکہ وہ مخصوص مذموم مقاصد کے لیے ملک دشمن کا آلہ کار بن جائے۔ ریاست کے ارباب ِ اختیار سے بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ فاٹا و پاٹا کے عوام کے جائز مطالبات کو جلد از جلد پورا کریں تاکہ قومی جذبات سے کھیلوار کا یہ کھیل پھلنے پھولنے سے قبل ہی اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے۔کیونکہ یہی ملک و قوم کے لیے بہتر ہے۔