پاکستانی فوج نے تیسری عالمی جنگ جیتی-سہیل وڑائچ کا خصوصی انٹرویو

صحافت کے معروف نام سہیل وڑائچ کے ساتھ مختلف موضوعات پر پہلی بار اہم ترین اور تفصیلی انٹرویو

انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


سہیل وڑائچ پاکستانی صحافت کا بہت بڑا نام ہیں۔ ایک درجن سے زائد اہم ترین کتابوں کے مصنف۔ پاکستان کی سیاست پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مستقبل کی سیاست سے متعلق ان کے تجزئیے کو ہمیشہ سے اہمیت حاصل رہی ہے۔ وڑائچ صاحب نے ماسٹرز کی ڈگری انگریزی لٹریچر میں پنجاب یونیورسٹی سے لی۔ دسمبر 1985ء میں کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ٹرینی سب ایڈیٹر کے طور پر روزنامہ ”جنگ“ جوائن کیا۔ سب ایڈیٹر بنے، رپورٹنگ کی، نمایندہ خصوصی بنے اور پھر سینئر ایڈیٹر کے عہدے تک جاپہنچے۔ اس وقت پاکستان کے بڑے میڈیا گروپ جنگ میں گروپ ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہےہیں۔ پاکستانی چینل ”جیو“ کے مقبول ترین پروگرام ”ایک دن جیو کے ساتھ“ کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایک منفرد نوعیت کا پروگرام ہے جس میں سیاست دانوں اور اہم شخصیات کے طرزِ زندگی اور حالاتِ زندگی سے واقفیت ملتی ہے۔ ”دلیل“ نے پاکستان کی اہم ترین شخصیات سے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا تو سہیل وڑائچ سے بھی گزارش کی۔ ان کا جواب تھا کہ آپ نے بڑے لوگوں کے ساتھ انٹرویوز کیے ہیں، میرے پاس خبر ہوتی ہے نہ ہی کوئی ایسی بات جو قارئین کی معلومات میں اضافے کا سبب بنے۔ ذاتی زندگی میں یہ ان کی ایک بڑی خوبی ہے۔ انکساری اور عاجزی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ انٹرویو کے دن غیرمعمولی مصروفیات کے باوجود انہوں نے وقت دیا۔ انہیں مختصر جملوں میں اپنی بات کہنے کا ملکہ حاصل ہے۔ اس وقت کالم نگاری میں ایک نئے انداز کے ساتھ بہت سوں کو حیران کررہے ہیں۔ ان کا جامع انٹرویو ملاحظہ کیجیے۔


دلیل: کئی کتابوں کے مصنف، صحافت میں بڑا نام، کبھی اس مقام کا سوچا تھا؟
سہیل وڑائچ: سچی بات یہ ہے کہ کبھی اس مقام کے بارے میں نہیں سوچا تھا، اور نہ ہی اس کی توقع تھی۔

دلیل: صحافت شروع سے ہی خواب تھا یا محض بطورِ ملازمت اسے اپنایا؟
سہیل وڑائچ: دراصل میں سی ایس ایس کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جب اخبار جوائن کیا تو لگا کہ میری یہی جگہ ہے۔ میں نے سی ایس ایس کا امتحان چھوڑدیا۔ کچھ سالوں بعد احساس ہوا کہ معاشی طور پر صحافی کی زندگی تنگ دستی کا شکار رہتی ہے۔ بڑی قناعت پسندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب عملی زندگی کا آغاز کیا تو ریگولر صحافی کی تنخواہ گریڈ 17 کی تنخواہ سے کچھ سو زیادہ تھی۔ بعد میں گریڈ 17 کی تنخواہ صحافی سے کئی گنا بڑھ گئی۔ اس وقت میرے ذہن میں ایک دفعہ یہ خیال ضرور آیا کہ کہیں میں غلط جگہ تو نہیں آگیا؟ لیکن اب میں فیصلہ کرچکا تھا، اس لیے اسی پر قائم رہا۔ یہی طے کیا کہ سچ اور سیدھی راہ پر چلنا ہے۔ جو ملے گا، اسی میں مل جائے گا۔ پھر جب الیکٹرونک میڈیا آیا، اس نے ہمارے لیے زندگی مزید آسان کردی، بلکہ میں کہوں گا کہ بہت اچھی کردی۔

کسی دور میں اسلامی جمعیت طلبہ کا صحافیوں کے ساتھ جھگڑا رہتا تھا۔ پھر کسی زمانے میں ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات خراب رہنے لگے۔ اب معاملہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہتا ہے یا کچھ نئے گروہ پیدا ہوگئے ہیں۔

دلیل: کیریئر کا بڑا حصہ ”جنگ گروپ“ کے ساتھ گزارا، کوئی خاص وجہ؟
سہیل وڑائچ: یہاں دل بھی لگا، آزادی بھی نسبتاً زیادہ رہی، اور پروفیشنل ازم بھی یہاں زیادہ ہے۔ کچھ عرصہ میں نے ”دی نیشن“ اور ”نوائے وقت“ میں بھی گزارا۔ ”فرنٹیئر پوسٹ“ میں بھی کام کیا، لیکن ”جنگ“ کا ماحول مجھے ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے۔ دوستانہ اور آزادانہ۔

دلیل: صحافت کے لیے کڑا وقت آغاز کا تھا، یا اب زیادہ مشکلات محسوس کرتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: میرا خیال ہے کہ مشکلات اس وقت بھی تھیں، اب بھی ہیں۔ اس زمانے میں مشکلات کا انداز مختلف تھا، اب آزمائشیں کچھ اور ہیں۔ مثلاً: میں عرض کروں کہ اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کا صحافیوں کے ساتھ جھگڑا رہتا تھا۔ پھر کسی زمانے میں ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات خراب رہنے لگے۔ اب معاملہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہتا ہے یا کچھ نئے گروہ پیدا ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ ہمیشہ رہے گا۔ ان سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ تنازعات رہتے ہیں، جنگ ہمیشہ رہتی ہے۔

زیادہ مشکل انٹرویو اداکاروں اور اداکارائوں کا ہوتا ہے۔

دلیل: آپ کے انٹرویوز کو بڑی مقبولیت ملی، خصوصاً ٹی وی پر طرزِ گفتگو منفرد رہا، کسی سے متاثر ہوکر یہ انداز اپنایا؟
سہیل وڑائچ: بعض اوقات قدرت آپ کی خامیوں کو آپ کی مثبت طاقت بنادیتی ہے۔ میں ڈھیلا ڈھالا چلتا ہوں اور سست رفتار سے بولتا ہوں۔ سیاسی شخصیات کے ساتھ انٹرویوز کا سلسلہ میں نے روزنامہ ”جنگ“ کے لیے شروع کیا۔ ”ایک دن سیاست دان کے ساتھ۔“ جب ”جیو“ چینل آیا اور پروگرام شروع کیا تو ظاہر ہے کہ اپنے اس فطری انداز کو بدلنا آسان نہیں تھا۔ لوگ یہ سمجھے کہ میں ایک نیا انداز متعارف کرانے کی کوشش کررہا ہوں۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا، یہ میرا فطری انداز تھا اور وہی مقبول ہوا۔

دلیل: کن شخصیات کا انٹرویو زیادہ مشکل لگتا ہے؟
سہیل وڑائچ: میرا خیال ہے کہ زیادہ مشکل انٹرویو اداکاروں اور اداکارائوں کا ہوتا ہے۔ میں نے ساری زندگی سیاسی رپورٹنگ کی ہے۔ پھر جب آپ شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے ہاں جاتے ہیں تو دو دو گھنٹے تو یہ انتظار کرنا پڑتا ہے کہ اب میک اَپ ہورہا ہے، اب کپڑے تبدیل ہورہے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جب ہم کسی سیاست دان کے گھر جاتے ہیں تو وہ دروازے پر ہی استقبال کرتے نظر آتا ہے۔

جمال عبداللہ عثمان انٹرویو کرتے ہوئے

دلیل: صحافت میں کم لوگوں کو آپ جیسا منکسرالمزاج دیکھا، کیا یہ کسی کی تربیت کا نتیجہ ہے؟
سہیل وڑائچ: ہمارے ہاں سرگودھا میں یہ رواج ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں سے احتراماً ملتے وقت ان کے گوڈوں (گھٹنوں) کو ہاتھ لگایا جاتا ہے۔ مجھے یہ کبھی اچھا نہیں لگتا تھا، لیکن میرے والد صاحب اس کے لیے اصرار کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ہاں جو مہمان آتے، خود تولیہ کاندھے پر رکھ کر ہم ان کے ہاتھ دھلاتے تھے۔ انہیں بہت احترام دیتے تھے۔ بہت انکساری اور عاجزی سے ان کے ساتھ ملنا ہوتا تھا۔ سو اس طرح ہماری تربیت ہوئی۔ انکساری مجھ میں کوٹ کوٹ کر ڈالی گئی۔ شاید اسی تربیت کا اثر ہو۔

اسٹبلشمنٹ کے پانچ یا چھ حملے تھے، جن سے میاں نواز شریف بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

دلیل: شکوہ کیا جاتا ہے کہ اب نظریاتی صحافت نہیں رہی، اتفاق کرتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: میں تو شروع سے پروفیشنل صحافت کا قائل ہوں۔ میں نظریاتی صحافت کا قائل ہی نہیں۔ اپنی طرف سے ہماری کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ کام میں پروفیشنل ازم ہو۔ بعض اوقات اس پر مکمل کاربند رہتے ہیں اور کبھی کبھی ایسی چیزیں نظر آجاتی ہیں جو اس کے برخلاف بھی ہوتی ہیں۔

دلیل: پرنٹ میڈیا کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: ظاہر ہے کہ پرنٹ میڈیا میں کچھ کمزوری آرہی ہے اور یہ صرف یہاں نہیں، دنیا بھر میں آئی ہے۔ مثلاً: جو بڑے بڑے نام ہیں؛ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، لاس اینجلس ٹائمز، ان میں عملہ کم ہوا ہے۔ اسی طرح ٹریبیون ہے۔ نیوز ویک کا تو پرنٹ ایڈیشن ہی بند ہوگیا ہے۔ یہ بقا کی ایک جنگ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اب بھی لوگ گہرائی کے لیے پرنٹ میڈیا ہی دیکھتے ہیں۔

دلیل: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ الیکٹرونک میڈیا غیرضروری طاقت پاگیا ہے، کیا یہ درست ہے؟
سہیل وڑائچ: میرا نہیں خیال کہ میڈیا اتنا طاقتور ہوا ہے کہ اس نے کوئی حکومت نکال پھینکی ہو۔ ہاں دنیا بھر میں جہاں یہ ڈبہ آیا ہے، جسے ٹی وی کہتے ہیں، یہ لوگوں کی سوچ میں انقلاب ضرور لے کر آیا ہے۔ یہ یہاں بھی انقلاب لے کر آئے گا۔ ابھی تو یہ پوری طرح آزاد نہیں ہے۔ جس دن اسے آزادی مل گئی، یہاں بھی انقلاب آئے گا۔ البتہ اس سے لوگوں کے سیاسی شعور میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی اُمید رکھی جاسکتی ہے۔

اگر مزاحمت کی سیاست جاری رہی تو پھر مریم ہی جانشین ہوں گی۔

دلیل: آپ نے فرمایا کہ میڈیا ابھی آزاد نہیں ہے، قدغنیں کس طرف سے ہیں؟
سہیل وڑائچ: مختلف ممانعتیں ہیں، معاشرے کی طرف سے، طاقتور گروہوں کی جانب سے، ہماری اسٹبلشمنٹ کی رکاوٹیں ہیں۔

دلیل: سیاست پر آپ اتھارٹی ہیں، اسی طرف آتے ہیں، نواز شریف نااہل قرار پائے، اس کے اثرات کیا دیکھتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: یقینی طور پر اس کا بڑا اثر پڑا ہے۔ نواز شریف نااہل ہوئے اور اس کے ساتھ ہی ان کی سیاست کو دھچکا لگا۔ لیکن انہوں نے بڑی موثر مہم چلائی۔ جتنا دھچکا ملنا چاہیے تھا، اس سے وہ بچ گئے۔ اسٹبلشمنٹ کے ان پر پانچ یا چھ حملے تھے، ان سے بھی وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ مثلاً: نواز شریف نے اپنی مرضی کا وزیراعظم بنادیا۔ پنجاب حکومت بچالی۔ جی ٹی روڈ پر جلوس نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ اپنی پارٹی صدارت دوبارہ بحال کروالی۔ اسی طرح مسلم لیگ ن میں کوئی فارورڈ بلاک اب تک نہیں بننے دیا۔ ظاہر ہے کہ اسٹبلشمنٹ یہ سب کچھ نہیں چاہتی تھی۔

دلیل: پارلیمانی سیاست میں نواز شریف کی واپسی کا کوئی امکان ہوسکتا ہے؟
سہیل وڑائچ: اس کے لیے انہیں بڑی بھاری اکثریت کے ساتھ انتخاب جیتنا ہوگا۔ فی الحال تو نہیں لگ رہا کہ وہ اس میں کامیاب ہوسکیں گے، لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ دیکھنا یہ ہے کہ آگے حالات کس طرف جارہے ہیں۔ ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ میاں نواز شریف کتنی جدوجہد کرسکتے ہیں۔ کتنی تکلیفیں برداشت کرسکتے ہیں۔ کیا وہ جیل کی سختیاں برداشت کرپائیں گے، مستقبل کا فیصلہ ان باتوں کو سامنے رکھ کر ہی کیا جاسکے گا۔

میں نے فیصلے سے پہلے ہی ٹی وی پر بتایا تھا کہ نواز شریف نااہل ہوگئے ہیں، دوسرے بڑے لیڈر کی نااہلی یہ ملک برداشت نہیں کرسکے گا۔

دلیل: کیا مریم نواز کو جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: مجھے تو یوں لگتا ہے اگر مزاحمت کی سیاست جاری رہی تو پھر مریم ہی جانشین ہوں گی۔

دلیل: ن لیگ کا خیال تھا کہ عمران خان بھی آئوٹ ہوجائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا، کیا کیس کمزور تھا؟
سہیل وڑائچ: مجھے تو لگتا ہی نہیں تھا کہ فیصلہ عمران خان کے خلاف آئے گا۔ میں نے فیصلے سے پہلے ہی ٹی وی پر بتایا تھا کہ نواز شریف نااہل ہوگئے ہیں، دوسرے بڑے لیڈر کی نااہلی یہ ملک برداشت نہیں کرسکے گا۔

دلیل: کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ نوازشریف کے بعد ایک ہی لیڈر ہے اور اسے ہی ملک کا وزیراعظم بننا چاہیے؟
سہیل وڑائچ: عمران خان کا راستہ روکنا ہی غلط ہے۔ عمران خان نے آنا ہی آنا ہے۔ جتنا کچھ ہورہا ہے، یہ غلط ہورہا ہے۔ جس کی اکثریت ہو، اسے آنا چاہیے۔ انتخابات ہونے چاہییں۔ اس ملک کے مسئلے کا حل ہی یہ ہے کہ الیکشن ہوں اور جو جیتے، اسے اقتدار ملے۔

دلیل: کہا جاتا ہے کہ عمران ضدی بہت ہیں، ملک کی کچھ قوتیں پسند نہیں کریں گی کہ وہ اقتدار میں آئیں۔
سہیل وڑائچ: لوگ اگر ضدی کو پسند کرتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ دیکھیں بات یہ ہے میں تو اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جس کو لوگ ووٹ دیں، جس کے ساتھ اکثریت ہو، اسے آگے آنے دیا جائے۔ یہی جمہوریت ہے۔ نواز شریف جب سے نااہل ہوئے ہیں، سب سے مقبول شخص عمران خان ہی ہیں۔ اب انتخابات میں کیا وہ اتنی نشستیں حاصل کرسکتے ہیں، یا نہیں، لیکن اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں اقتدار اور اختیار مل جانا چاہیے۔

ہم سب مذہبی ہیں۔ یہ جو سیاسی جماعتیں ہیں، یہ بھی مذہبی ہیں اور مذہبی جماعتیں بھی مذہبی ہیں۔

دلیل: پیپلز پارٹی کی کارکردگی مایوس کن ہے، کیا بلاول کوئی انقلاب لاسکتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: بلاول بھٹو کے پاس بڑا چانس ہے۔ اس وقت جو دونوں جماعتیں ہیں، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف؛ دونوں مڈل کلاس، اور رائٹسٹ مڈل کلاس کی نمایندگی کرتی ہیں۔ عمران خان کارپوریٹ مڈل کلاس کو اور نواز شریف بزنس مڈل کلاس کے نمایندے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کے اندر دو پارٹیاں ہوتی ہیں؛ ایک مڈل کلاس یا ایلیٹ کی پارٹی اور ایک غریبوں کی ترجمان پارٹی۔ پاکستان میں اس وقت غریبوں کی کوئی جماعت نہیں۔ پیپلز پارٹی کو کسی زمانے میں یہ اعزاز حاصل تھا۔ یہ مزدور کی پارٹی کہلاتی تھی۔ لیکن اب وہ جگہ خالی ہے۔ ووٹ تقسیم ہیں: پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن میں، لیکن وہ جگہ کسی نہ کسی کو تو پُر کرنی ہے۔ وہ کب کون کرے گا، یہ مجھے نہیں معلوم، لیکن پیپلز پارٹی اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرسکتی ہے۔ اور یہ 2018ء میں نہیں، 2023ء میں ممکن ہوسکتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو کے پاس بہت طویل وقت ہے، وہ عمر کے ابتدائی حصے میں ہیں۔ اس وقت کی سیاسی شخصیات میں بلاول اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پولیو : ایک حقیقت سو افسانے - ڈاکٹر رضوان اسد خان

دلیل: اگلے انتخابات سے پہلے کسی نئی سیاسی قوت کو اُبھرتا دیکھ رہے ہیں؟ تحریک لبیک سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سرپرائز دے سکتی ہے۔
سہیل وڑائچ: بریلوی اس معاشرے کی اکثریت ہے اور اکثریت کو منظم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی اکثریت ہے، وہی مختلف جماعتوں کے اندر پھیلی ہوئی ہے۔ ن لیگ میں بھی وہ ہیں، پاکستان تحریک انصاف میں بھی ہیں۔ وہ الگ سے کوئی رنگ اختیار کرے، مشکل ہے۔ یہ رنگ تحریکوں کے اندر ضرور آتا ہے۔ مثلاً: بریلوی مکتب فکر46ء میں اکٹھا ہوا: پاکستان بنانے کے لیے۔ 53ء میں اکٹھا ہوا: قادیانیوں کے خلاف۔ 74ء میں پھر بریلوی مسلک کے لوگ جمع ہوئے: قادیانیوں کے خلاف۔ 77ء میں نظامِ مصطفیٰ کے لیے اور اب ایک بار پھر اکٹھے ہوئے ہیں۔ نورانی صاحب کے زمانے میں بھی ”سنی کانفرنسز“ ہوتی تھیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تحریکوں میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ کوئی پارٹی بناکر سیاست کرنا اکثریت کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جب تک کوئی مقصد زندہ ہے، یہ بڑے سرگرم رہیں گے، جب مقصد ذرا پیچھے چلا گیا، یہ پھر اپنے اپنے گھروں میں، اپنی اپنی اصل جماعتوں میں چلے جائیں گے۔

جماعت اسلامی کا نظریہ وہی ہے جو قائداعظم، محمد عبدہ، جمال الدین افغانی کا تھا۔

دلیل: اسی سے جڑا سوال، مذہبی جماعتیں کیوں کامیاب نہیں ہوسکیں؟
سہیل وڑائچ: اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب مذہبی ہیں۔ یہ جو سیاسی جماعتیں ہیں، یہ بھی مذہبی ہیں اور مذہبی جماعتیں بھی سیاسی ہیں۔ لوگ شاید اپنے مذہبی راہنمائوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ سیاست بھی کریں۔ اس لیے انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ ہاں کسی تحریک کا مسئلہ ہوتا ہے، مذہب کی بات ہوتی ہے، لوگ ضرور ان کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ ختم نبوت کا معاملہ ہوگا، نظامِ مصطفیٰ کی بات ہوگی، کوئی اور حساس معاملہ ہوگا، تو عوام سامنے آجائیں گے، لیکن وہ ان لوگوں کو ملک کا نظام چلانے کے لیے منتخب نہیں کرتے۔

دلیل: کیا عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اندر اہلیت نہیں؟
سہیل وڑائچ: آج تک جو سیاست کی سمجھ ہے، اس کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ لوگ سمجھتے ہیں قومی لیڈر کو ڈاڑھی کے بغیر ہونا چاہیے۔ کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے، مجھے تو باریش لوگ بہت پسند ہیں، لیکن میں نے مجموعی طور پر یہی دیکھا ہے۔ شاید عوام کی اکثریت ویسی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ لیڈر بھی ان جیسا ہی ہو۔ جیسے جناح صاحب تھے، جیسے عمران خان ہیں، جیسے ذوالفقار علی بھٹو تھے، جیسے نواز شریف ہیں۔ ترکی کے طیب اردگان ایک اچھی مثال ہوسکتے ہیں کہ مذہبی بھی ہیں اور ماڈرن بھی۔ اب تو اس طرح کی کوئی لیڈر شپ ہی سامنے آئے تو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

دنیا بھر میں جہاں بھی افراتفری ہوتی ہے، وہاں فوج کا رول زیادہ ہوتا ہے۔ جوں جوں معاشرہ settle ہوتا جاتا ہے، ریاست کے اندر سکون آتا جاتا ہے اور فوج کا کردار کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

دلیل: مذہبی جماعتوں کو کوئی مشورہ دیں گے؟
سہیل وڑائچ: دیکھیں ووٹ اسی کو پڑتے ہیں جس کے بارے میں لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مسئلے حل کرے گا۔ یہ ہمارے دکھوں کا مداوا کرے گا۔ پھر مذہبی جماعتوں کے پروگرام بھی ایسے ہیں۔ اپنی اپنی فقہ۔ قومی پروگرام کسی کا نہیں۔ یہ دراصل سارے کے سارے پریشر گروپس ہیں۔

دلیل: جماعت اسلامی کے پاس منشور بھی ہے، منظم بھی بہت، فرقہ واریت سے بھی دور، کیا اسے بھی اسی کیٹگری میں رکھیں گے؟
سہیل وڑائچ: جماعت اسلامی کا نظریہ بیسویں صدی کے آغاز کا نظریہ ہے۔ اس وقت اس کے اندر بڑی اپیل تھی۔ یہ وہی نظریہ ہے جو قائداعظم، محمد عبدہ، جمال الدین افغانی کا تھا۔ سارے اسلام کی نشاۃ ثانیہ چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے 55، 56 ممالک بن گئے۔ اس وقت تک تو یہ تحریک ٹھیک تھی، اب اس کی اگلی منزل کیا تھی۔ نئے چیلنجز تھے، مثلاً: دہشت گردی کے خلاف جو چیلنج تھا، جماعت اسلامی کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں تھا۔ اُسامہ بن لادن کا کوئی توڑ نہیں دے سکے۔ طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ جمعیت علمائے اسلام تو ان کے ساتھ مل گئی، جے یو پی خاموش رہی۔

دلیل: دہشت گردی کی جنگ میں ان مذہبی جماعتوں کا بھی تو جانی نقصان ہوا ہے۔
سہیل وڑائچ: دنیا میں یہی مسئلہ رہا ہے ہر مذہبی ریاست اور مذہبی جماعت کے ساتھ۔ جب ان سے زیادہ شدت پسند آتے ہیں تو ان کا آپس میں تنازع ہوتا ہے اور پھر لگتا ہے کہ یہ مذہبی جماعتیں تو بڑی ماڈریٹ ہیں۔ یہ تو آئین کو مانتی ہیں اور جب آئین کو نہ ماننے والے آئیں تو ان کے پاس کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ جماعت اسلامی کے کئی لوگ ناراض یا تائب ہوکر وزیرستان چلے گئے۔ جماعت اسلامی کوئی counter narrativeنہیں دے سکی۔ قاضی حسین احمد صاحب پر حملہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن حملے کی زد میں آئے۔ لیکن ان میں کوئی جوابی بیانیہ نہیں دے سکا۔ بالآخر ریاست اور قومی جماعتوں کو یہ narrative دینا پڑا۔

جب آپ ایسی ریاست ہوتے ہیں جس کے اندر فوج کا کردار زیادہ ہو۔ آپ welfare state نہیں رہتے تو آپ ایک defence stateبن جاتے ہیں۔ اس کے اندر پھر فوج اپنی space زیادہ سے زیادہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمارے ہاں یہی ہوا۔

دلیل: پاکستانی سیاست میں چہرے بدلنے کے امکانات کتنے ہیں؟
سہیل وڑائچ: نواز شریف 68 سال کے ہیں، شہباز شریف عمر کی 66 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ اسی طرح عمران خان بھی 68 کے لگ بھگ ہیں۔ اگلے چار پانچ سال میں نئی قیادت تو آنی ہی آنی ہے۔ پاکستانی سیاست کے اگلے دو تین سالوں میں چہرے بدلنے ہیں۔ آپ کچھ بھی کہیں، صحت کی وجہ سے ہی بدل جانے ہیں۔ زندگی موت کی وجہ سے ہی تبدیل ہوجائیں گے۔ اللہ کرے ان کی زندگیاں بہت لمبی ہوں لیکن پاکستان میں 70 سال کے بعد سیاست میں سرگرم رہنے کے زیادہ چانسز نہیں ہوتے۔ آپ کا سوشل اور پولٹیکل فیبرک خودبخود بدلنے والا ہے۔ اس وقت جو فیصلے آرہے ہیں، ممکن ہے ان کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوجائے۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان اور شہباز شریف اگلے منظرنامے میں مدمقابل ہوں۔ لیکن یہ صرف ایک الیکشن ہے۔ اگلے الیکشن میں نئے لوگ ہی مدمقابل ہوں گے۔

دلیل: کیا انہی خاندانوں میں سے یہ لوگ ہوں گے؟
سہیل وڑائچ: نہیں، میرا خیال ہے بالکل نئے چہرے ہوں گے۔ یہ خاندان ضروری نہیں کہ پرفارم کریں۔ پی ٹی آئی میں تو ظاہر ہے کہ عمران خان کا خاندان ہی نہیں ہے۔

کوئی اتنا معروف اور تگڑا سیاست دان نہیں آیا جو عقل اور اکثریت دونوں کا استعمال کرکے اس گتھی کو سلجھ سکے۔ بھٹو نے کوشش کی، لیکن بالآخر اسے بھی پیچھے ہونا پڑا۔

دلیل: نظام کی تبدیلی کی بات ہوتی ہے۔ صدارتی نظام کی بات کبھی کبھی آجاتی ہے، کیا ہمارے اس پارلیمانی نظام میں خرابی ہے؟
سہیل وڑائچ: دیکھیے قائداعظم محمدعلی جناح اور لیاقت علی خان پاکستان کے بانیان ہیں۔ انہوں نے سوچ سمجھ کر یہاں پارلیمانی نظام بنایا۔ پارلیمانی نظام ہی پہلے دن سے چلا، جب ہم نے اسے صدارتی نظام میں بدلنے کی کوشش کی تو ہمیں ناکامی ہوئی۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔ اس کے بعد گول میز کانفرنس ہوئی اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ پارلیمانی نظام ہی ہونا چاہیے۔ پھر ایک متفقہ آئین بنا ہوا ہے ۔ کوئی بھی نظام بدلنے کے لیے آپ کو یہ آئین بدلنا پڑے گا۔ آپ کو بہت کچھ تبدیل کرنا ہوگا جو ممکن نہیں۔ بہتر ہے کہ ان معاملات کو نہ ہی چھیڑا جائے۔ پاکستان کا یہ جمہوری نظام بالکل ٹھیک ہے۔ صرف اسے چلنے دیا جائے۔ آپ اپنی قانون سازی بہتر کریں۔ آپ اپنے نظام کے اندر خرابیوں کو ٹھیک کریں۔ ساری دنیا میں اسی طرح کا نظام ہے اور بہت اچھا چل رہا ہے۔

مجھے اسٹبلشمنٹ سے بہت محبت ہے۔ لیکن مجھے اس کا سیاسی کردار پسند نہیں ہے۔

دلیل: سول ملٹری تعلقات بہتر نہیں رہے۔ کیا فوج کو کوئی آئینی رول دیا جاسکتا ہے؟
سہیل وڑائچ: امریکا کے اندر فوج کا کوئی آئینی رول نہیں، وہاں نظام بہت اچھا چل رہا ہے۔ برطانیہ کے اندر کوئی آئینی کردار نہیں، ان کے ہاں بھی بہت اچھا سسٹم چل رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی افراتفری ہوتی ہے، وہاں فوج کا رول زیادہ ہوتا ہے۔ جوں جوں معاشرہ settle ہوتا جاتا ہے، ریاست کے اندر سکون آتا جاتا ہے اور فوج کا کردار کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادہ کردار فوج ہی ادا کرتی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ ریاست میں اپنا کردار محدود اور پس پردہ رکھنا ہے۔ اسی میں وہ کامیاب بھی رہتی ہے۔ یہاں چونکہ ابھی معاشرہ settledنہیں۔ حالیہ کشمکش دیکھ لیں تو میاں نواز شریف کے ساتھ لڑائی ہے، افغانستان کی سرحد گرم ہے، عالمی سطح پر ہم بہت سے قضیوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ایسی ہی وجوہات کی وجہ سے یہاں فوج کا کردار زیادہ ہوگیا ہے۔

دلیل: سیاست دانوں کی نااہلی کو کس حد تک قصوروار ٹھہراتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: سیاست دان پھر سارے ہی نااہل ہوگئے؟ بھٹو بھی نااہل تھا، جونیجو بھی نااہل تھا، نواز شریف بھی نااہل تھا؟ سارے تو نااہل نہیں ہوسکتے۔ حسین شہید سہروردی بھی نااہل تھا، جن کی دنیا تعریف کرتی ہے؟ نہیں، اس کی وجہ حالات ہیں۔ پاکستان بنا تو ہماری انڈیا کے ساتھ دشمنی ہوگئی۔ جب آپ ایسی ریاست ہوتے ہیں جس کے اندر فوج کا کردار زیادہ ہو۔ آپ welfare state نہیں رہتے تو آپ ایک defence stateبن جاتے ہیں۔ اس کے اندر پھر فوج اپنی space زیادہ سے زیادہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمارے ہاں یہی ہوا، فوج اسپیس لیتے لیتے بہت اسپیس لے گئی ہے۔ دوسری طرف کوئی اتنا معروف اور تگڑا سیاست دان نہیں آیا جو عقل اور اکثریت دونوں کا استعمال کرکے اس گتھی کو سلجھ سکے۔ بھٹو نے کوشش کی، لیکن بالآخر اسے بھی پیچھے ہونا پڑا۔

ایٹم بم بنانا، ملک کی اسٹریٹجی کو ترجیح دینا، ہمیں باعزت رکھنا، تیسری عالمی جنگ جیتنا۔ 32 نیٹو ممالک جو افغانستان میں نہیں کرسکے، ہماری اکیلی فوج نے پاکستان میں کردکھایا۔

دلیل: یہ تاثر ہے کہ بھٹو نے بھی فوج کو مجبور کیا، نواز شریف بھی ہمیشہ خود تنازعات پیدا کرتے رہے۔
سہیل وڑائچ: اگر آپ کی بات کو درست مانوں تو ظفر اللہ خان جمالی نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ شوکت عزیز نے کیا پنگا لیا تھا اور جونیجو نے کیا کیا تھا؟ جو فوجی حکومتوں کے درمیان وزیراعظم آئے، وہ بھی کچھ نہ کرسکے۔ وہ جو بڑے شریف النفس تھے، جو ہر بات پر سلام کرتے تھے۔ چوہدریوں کا کیا قصور تھا؟ نواز شریف تو ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ ظفر اللہ جمالی کو خود منتخب کرکے لائے تھے۔ شوکت عزیز کو بیرون ملک سے لائے تھے، پھر بھی کام نہیں بن سکا۔
”جناب! سیاست دان ہی برے ہوتے ہیں۔“
بات یہ ہے کہ اس طرح پردہ ڈالنے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوتے۔

دلیل: آپ کی تحریروں میں اسٹبلشمنٹ سے متعلق بہت تلخی آگئی ہے، کیا وجہ ہے؟
سہیل وڑائچ: مجھے اسٹبلشمنٹ سے بہت محبت ہے۔ لیکن مجھے اس کا سیاسی کردار پسند نہیں ہے۔ میں صرف اسی کی مخالفت کرتا ہوں۔ باقی تو فوج کے بہت سے کارنامے ہیں۔ ایٹم بم بنانا، اپنے ملک کی اسٹریٹجی کو ترجیح دینا، ہمیں باعزت رکھنا، تیسری عالمی جنگ جیتنا۔ 32 نیٹو ممالک جو افغانستان میں نہیں کرسکے، ہماری اکیلی فوج نے پاکستان میں کردکھایا۔ پھر چھوٹا ملک ہونے کے باوجود انڈیا کے ساتھ پورے وقار کے ساتھ سر اُٹھاکر جینا۔ یہ ہماری فوج کے کارنامے ہیں اور ان کو سراہا جانا چاہیے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان کے سیاسی کردار اور مارشل لائوں کا میں مداح نہیں ہوں۔

فوج کی ناکامی یہ رہی کہ چار دفعہ برسراقتدار آنے کے باوجود جو کامیابیاں خود اپنے ادارے کے لیے حاصل کیں، وہ پوری قوم کے لیے نہ کرسکی۔

جس طرح سے ریاست کے ان امور کو فوج نے چلایا ہے، یہ بہت اچھا ہے۔ پھر جو اپنا اندرونی نظام تبدیل کیا ہے، وہ بہت آئیڈیل ہے۔ جس طرح فوج میں میرٹ پر امور چلائے جارہے ہیں۔ جیسے وہ آپس میں فیصلے کرتے ہیں، جس انداز سے ایک ایک سپاہی کو وقت پر اناج پہنچتا ہے، پہاڑیوں کی چوٹیوں پر ہوں یا سمندر کی گہرائیوں میں، برابر کی سہولیات دستیاب ہیں۔ ہمارے جیسے ملک کے اندر یہ بہت مشکل تھا۔ اس کی داد اسے ضرور ملنی چاہیے۔ لیکن اس کی ناکامی یہ رہی کہ چار دفعہ برسراقتدار آنے کے باوجود جو کامیابیاں خود اپنے ادارے کے لیے حاصل کیں، وہ پوری قوم کے لیے نہ کرسکی۔ اسے پوری قوم پر نافذ نہ کیا جاسکا۔

دلیل: قیامِ پاکستان سے ہم حالتِ جنگ میں ہی رہے، سو یہ جواز قابلِ تسلیم ہوسکتا ہے؟
سہیل وڑائچ: بات یہ ہے کہ یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ ویلفیئر اسٹیٹ ہے یا سیکیورٹی اسٹیٹ؟ اگر سیکیورٹی ہے تو یہ جو ہم نے کچھ حاصل کیا، ٹھیک ہے۔ اگر ہم ویلفیئر اسٹیٹ ہیں تو پھر ہماری سمت غلط ہے۔ میں نے سیکیورٹی اسٹیٹ کے حق میں دلائل دئیے ہیں۔ میں پھر کہوں گا، اگر ہم سیکیورٹی اسٹیٹ ہیں تو پھر ہم نے بڑے اچھے طریقے سے اپنی سیکیورٹی کو محفوظ کیا، لیکن آئیڈیل اسٹیٹ تو دنیا میں ویلفیئر اسٹیٹ ہی ہوتی ہے، سیکیورٹی نہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو ویژنری لیڈر تھی۔ نواز شریف معاشیات کا آدمی تھا۔

دلیل: سیاست دانوں کی وہ بنیادی غلطی، جہاں سے ہماری سمت غلط ہوئی؟
سہیل وڑائچ: میرا خیال ہے کہ بانیانِ پاکستان سے ہی غلطی ہوئی۔ چونکہ سیکیورٹی کے معاملات پیدا ہوگئے تھے، اس لیے انہوں نے فوج کو بہت زیادہ کردار دیا۔ جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع بنادیا۔ پھر ایوب خان کو بہت زیادہ لمبی توسیع دی۔ یہ غلط فیصلے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی تارکین وطن کے مسائل - مفتی منیب الرحمن

دلیل: بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاست کا کیسے تقابل کریں گے؟
سہیل وڑائچ: دونوں بالکل الگ الگ کردار تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ویژنری لیڈر تھی۔ عالمی سیاست کو سمجھتی تھی۔ وہ عوام اور غریب کی سیاست کرتی تھی۔ ان کی توجہ زیادہ تر حاملہ مائوں پر تھی، ان چھوٹے بچوں پر جو ایسا نمک کھائیں جس سے زندگیاں بچ جائیں۔ جبکہ نواز شریف معاشیات کا آدمی تھا۔ نواز شریف چاہتا تھا کہ ملک کے اندر ملیں لگیں اور ملک کی معاشی ترقی ہو۔ محترمہ بے نظیر بھٹو انسانی ترقی پر زور دیتی تھیں، نواز شریف معاشی ترقی پر توجہ دیتے تھے۔ دو مختلف ویژنز تھے جن کا مقابلہ جاری تھا اور اچھا تھا، لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو جتنی بڑی سیاست دان تھیں، جتنی قابل تھیں، گورننس ان کی اتنی اچھی نہیں تھی۔
جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے، عوام نے انہیں تین بار منتخب کیا۔ لیکن آخری دفعہ ایسے لگا کہ وہ وزیراعظم بنے ہی نہیں، پہلے دن سے لے کر آخری دن تک حکومت پر ان کی گرفت ہی نہیں تھی۔ اس کی جو بھی وجوہات ہوں، جو بھی ذمہ دار ہو، لیکن نواز شریف خود بھی اس کے ذمے دار ہیں۔ کیونکہ وہ کوئی واضح فیصلہ نہ کرسکے۔ مصلحتوں سے ہی کام لیتے رہے۔ کبھی پرویز رشید کی چھٹی کرائی، کبھی مشاہد اللہ کو گھر بھیج دیا۔ کبھی یہ مان لیا، کبھی وہ مان لیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی رعایتیں دیتے دیتے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے کہ صرف اُنگلی لگانے سے گرپڑیں۔

آخری بار وزارتِ عظمیٰ میں نواز شریف چھوٹی چھوٹی رعایتیں دیتے دیتے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے کہ صرف اُنگلی لگانے سے گرپڑیں۔

دلیل: بے نظیر بھٹو کی گورننس کی بات کی، کیا ان کی ناکامی میں آصف زرداری کا بھی ہاتھ تھا؟
سہیل وڑائچ: مجھے ان کے اندرونی معاملات کا تو نہیں پتا، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ آصف علی زرداری صاحب کے مشوروں پر چلتی تھیں۔ وہ ایک آزاد عورت اور لیڈر تھی۔ آصف زرداری سیاسی معاملات میں ان کی بات مانتے تھے نا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ان کی کوئی رائے مانتی تھی۔

دلیل: سیاست دانوں میں شخصی اعتبار سے کس نے متاثر کیا؟
سہیل وڑائچ: بہت سے سیاست دانوں کے ساتھ ذاتی رابطہ اور تعلق رہا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کے ساتھ میرا بہت ہی تعلق خاطر رہا۔ ان کے ساتھ بیرون ملک سفر بھی کیے۔ تقریباً روز ہی ان کے ہاں شام کو محفل سجتی تھی جس کا میں مستقل رکن تھا۔ وہ بڑے شفیق انسان تھے۔ ان میں دور اندیشی بہت تھی، صاحب مطالعہ تھے۔ انگریزی، عربی، فارسی جانتے تھے۔ پاکستان اور ہندوستانی سیاست کا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ ان کی صحبت میں بہت سی چیزیں جانیں اور سمجھیں۔ پھر محترمہ بے نظیر بھٹو سے بہت اچھا تعلق رہا۔ وہ صاحب مطالعہ تھیں۔ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بڑے غور سے دیکھتی تھیں۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر ہمیں بتاتی تھیں کہ یہ پڑھیں۔ خاص کر میں جب بھی ان کے ہاں جاتا، کتابوں پر بات ہوتی۔ ظاہر ہے وہ خود پڑھتی تھیں تو ہمیں بھی بتاتی تھیں، ہم بھی ایک دو کتابیں پڑھ چکے ہوتے تھے۔ ان میں میں نے مشرقیت بہت دیکھی۔ اپنا دایاں پائوں گاڑی سے پہلے نکالتی تھیں۔ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتی تھیں۔ ہمارے ہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ بہت مغربی تھیں، ایسا نہیں تھا۔ مطالعے اور ذہن کے اعتبار سے تو وسعت تھی لیکن عام زندگی میں وہ بہت ہی مشرقی تھیں۔ ان سے یہ ہم نے سیکھا۔ نواز شریف صاحب پر میں نے کتاب لکھی۔ جدہ میں رہا، ان کے ساتھ بڑا تعلق رہا۔ جب وہ وزیراعظم بنے تو ان سے ملاقات نہیں رہی۔ عام طور پر جب لوگ بڑے عہدوں پر چلے جاتے ہیں تو بطورِ صحافی ہم جیسے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ قریب رہنے کی زیادہ کوشش بھی نہیں کرتے۔ ہمیں اپوزیشن ہی اچھی لگتی ہے۔ ہمارا کام بھی اپوزیشن ہی ہے۔

بے نظیر بھٹو میں میں نے مشرقیت بہت دیکھی۔

دلیل: محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل سے متعلق نت نئی باتیں سامنے آتی ہیں، آپ نے اس پر کتاب بھی لکھی، کسے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: یہ بڑا واضح ہے کہ محترمہ کا قتل طالبان اور القاعدہ نے کروایا تھا۔ ایمن الظواہری نے خود بتایا کہ اُسامہ بن لادن کی ہدایت پر ہم نے انہیں قتل کیا ہے۔ ایمن الظواہری نے یہ کریڈٹ لیا۔ پھر ڈی این اے ہوا، اس سے پتا چلا کہ قاتل وزیرستان کا ہے، اس کا نام پتا چل گیا کہ بلال ہے۔ یہ معلوم ہوگیا کہ وہ کہاں سے آیا ہے، کہاں سے ٹریننگ لی۔ اکوڑہ خٹک سے چلے تھے۔ اس کو لانے والے اور وقوعہ تک چھوڑنے والے پکڑے گئے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے۔

دلیل: ریاست کے کسی ذمہ دار کی خاموش حمایت حاصل ہوسکتی ہے؟
سہیل وڑائچ: میرا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی بے احتیاطی اور لاپرواہی شامل تھی۔ انہیں پتا تھا کہ کچھ ایسا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ محترمہ کو جتنی سیکیورٹی دینی چاہیے تھی، وہ انہوں نے نہیں دی۔

دلیل: سیاست میں انتہا پسندی کا عنصر غالب دیکھ رہے ہیں، کیا اس کی توجیہہ پیش کی جاسکتی ہے؟
سہیل وڑائچ: میں یہ نہیں سمجھتا۔ میری یہ رائے ہے کہ اصل میں پاکستان میں ایک اُبھرتی ہوئی مڈل کلاس سیاسی میدان میں نئی نئی آئی ہے۔ اسی مڈل کلاس کا محاورہ عمران خان استعمال کررہے ہیں۔ یہ مڈل کلاس زیادہ open اور بے تکلف ہے۔ کسی حد تک یوں کہہ لیں کہ اسی کلاس کا لہجہ عمران خان کی گفتگو میں نظر آتا ہے۔ عمران خان مڈل کلاس کے انہی احساسات کو لے کر لیڈر بنے۔ عمران خان تو 1997ء میں بڑے ہیرو تھے۔ کرشماتی شخصیت۔ اس وقت لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ ہاں جب وہ فلاسفی اپنالی جو مڈل کلاس کی تھی تو لوگ ان کے ساتھ جڑگئے۔ کرپشن کے خلاف، میرٹ کی خلاف ورزی پر اسٹینڈ، پروٹوکول کے خلاف آواز، وی آئی پی کلچر کے خلاف شور، یہ ساری emerging مڈل کلاس کی فلاسفی ہے۔

مڈل کلاس کا محاورہ عمران خان استعمال کررہے ہیں۔ یہ مڈل کلاس زیادہ open اور بے تکلف ہے۔

دلیل: ان روئیوں سے بہت سے لوگ مستقبل کے لیے گھبراجاتے ہیں۔
سہیل وڑائچ: بالآخر معتدل معاشرہ بن جائے گا۔ الیکٹرونک میڈیا بھی نیا ہے، مڈل کلاس بھی نئی آئی ہے۔ بالآخر معاشرے سیٹل ہوجاتے ہیں اگر انہونے واقعات نہ ہوں۔ ہمارے ہاں انہونے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ یہ معاشرے کو settle نہیں ہونے دیتے۔ جب غیرمتوقع صورتِ حال ہو، یہ پتا نہ ہو کہ کل کیا ہونے والا ہے تو پھر اس میں روئیے بھی غیرمتوقع ہوجاتے ہیں۔ اس میں مزاج بھی غیر متوقع ہوجاتے ہیں۔ جیسے جیسے معاشرے کی سیٹلمنٹ ہوتی جاتی ہے، ویسے ویسے لوگوں کی آواز نیچے ہوتی جاتی ہے، ویسے ہی گالیاں کم ہوتی جاتی ہیں۔ اتنی خوشیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور غم کم ہوتے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے کسی معاشرے کو دیکھنا ہو تو یہ دیکھیں کہ وہاں لوگ اونچا بولتے ہیں یا آہستہ۔ مہذب معاشروں میں لوگ آہستہ بولتے ہیں اور غیر مہذب معاشروں میں اونچا بولنے کا رواج ہوتا ہے۔

دلیل: میڈیا سے لوگوں کو بھی بڑا گلہ ہے کہ قوم کو بگاڑکر رکھ دیا، کیا آپ اتفاق کرتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: دیکھیں یہ تو وہی بات ہے کہ مرغی پہلے یا انڈا۔ ظاہر ہے لوگوں کے پاس ریموٹ کنٹرول ہوتا ہے اور اگر فرض کریں کہ وہ کسی چینل کو ناپسند کرتے ہیں تو اپنی پسند کے چینل اور پروگرام پر جاسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی پسندیدگی کا مرکز یہی میڈیا اور چینل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی اُمنگوں اور توقعات سے ہم زیادہ دور نہیں۔ جو لوگ چاہتے ہیں، تقریباً اس کے قریب قریب۔ ورنہ لوگ کب کا ایک چینل چھوڑکر کسی اور کو دیکھ رہے ہوتے۔

ہمارے ہاں انہونے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ یہ معاشرے کو settle نہیں ہونے دیتے۔ جب غیرمتوقع صورتِ حال ہو، یہ پتا نہ ہو کہ کل کیا ہونے والا ہے تو پھر اس میں روئیے بھی غیرمتوقع ہوجاتے ہیں۔

دلیل: سوشل میڈیا سے متعلق مین اسٹریم میں خوف لاحق رہتا ہے، کیا یہ بھی معاشرے کے لیے ایک خطرہ ہے؟
سہیل وڑائچ: نیا زمانہ ہے، اس کے نئے تقاضے ہیں۔ پہلے لوگ ریڈیو کی مخالفت کرتے تھے، ٹی وی کے خلاف تھے۔ یہ زمانے کی ایجادات ہیں، انہیں آپ روک نہیں سکتے۔ آپ کو یہ سیکھنا پڑے گا، ہم نے بھی سیکھ رکھا ہے۔ زیادہ پرانی بات تو نہیں، ایس ایم ایس، واٹس ایپ کا ہمیں پتا نہیں تھا۔ یہ موبائل ہماری زندگی میں 1998ء میں آیا۔ پہلے بڑا عجیب لگتا تھا، لیکن اب اس کے بغیر زندگی عجیب لگتی ہے۔

دلیل: صحافت میں اساتذہ کون ہیں؟
سہیل وڑائچ: میں نے بہت سے اساتذہ سے سیکھا ہے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے سیکھا ہے۔ اخبارات کو دیکھ کر سیکھا ہے۔ انٹرنیشنل جرنلسٹ سے بالواسطہ طور پر سیکھا۔ اب بھی سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔ ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھتا ہوں۔ نام بہت ہیں۔ کسی کا ذکر ہوجائے گا، کسی کا نہیں، اس لیے نام ذکر کرنا مناسب نہیں۔

کسی معاشرے کو دیکھنا ہو تو یہ دیکھیں کہ وہاں لوگ اونچا بولتے ہیں یا آہستہ۔ مہذب معاشروں میں لوگ آہستہ بولتے ہیں اور غیر مہذب معاشروں میں اونچا بولنے کا رواج ہوتا ہے۔

دلیل: کس کالم نگار کو شوق سے پڑھتے ہیں؟
سہیل وڑائچ: تقریباً سارے ہی کالم پڑھتا ہوں۔ میری ڈیوٹی ہے کالم پڑھنا۔ پسندیدگی بدلتی رہتی ہے۔ لیکن میں ہارون الرشید صاحب کا کالم ضرور پڑھتا ہوں، حامد میر اور سلیم صافی کو ضرور پڑھتا ہوں۔ خاص کر وہ کالم پڑھتا ہوں جن کے اندر معلومات ہوتی ہیں۔ مجھے وہ کالم اچھے لگتے ہیں، جن کا اندازِ تحریر بھی اچھا ہو اور جس کے اندر انفارمیشن بھی ہوں۔

دلیل: شعرو شاعری سے دلچسپی؟
سہیل وڑائچ: بہت دلچسپی ہے، خود نہیں کرسکتا، لیکن سب کا مداح ہوں۔ بیڈ سیٹ پر ہر وقت شاعری کی کتابیں پڑی رہتی ہیں۔ ان سے مدد لیتا ہوں، انہیں پڑھتا ہوں، محظوظ ہوتا ہوں۔

دلیل: شعروشاعری کی بات ہو اور عشق کا نہ پوچھا جائے۔
سہیل وڑائچ: جی عشق کیے ہیں، کئی کیے ہیں۔ لیکن جو پہلا تھا، وہ بہت بھاری تھا۔ وہ کامیاب نہیں ہوا تو اس کے بعد کسی میں ہم نے بہت زیادہ دلچسپی نہیں لی۔

دلیل: فرصت کے لمحات میں کیا کرنا پسند کریں گے؟
سہیل وڑائچ: سب سے زیادہ پڑھنا ہی پسند کروں گا۔ میرا زیادہ تر ایسا وقت پڑھنے میں ہی گزرتا ہے۔ اس کی کافی رینج ہے۔ مذہب، سیاست، آپ بیتیاں، فلسفہ، شاعری، ناول۔ انتخاب بدلتا رہتا ہے۔

دلیل: مذہبی شخصیات میں کسی نے متاثر کیا؟
سہیل وڑائچ: مولانا شاہ احمد نورانی سے قربت رہی۔ قاضی حسین احمد صاحب سے بہت زیادہ قربت رہی۔ میرا نکاح بھی انہوں نے پڑھایا۔ مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق بھی ہیں۔ کسی سے زیادہ، کسی سے کچھ کم ہوسکتا ہے۔

کئی عشق کیے ہیں، لیکن پہلا بہت بھاری تھا۔ وہ کامیاب نہیں ہوا تو اس کے بعد کسی میں ہم نے بہت زیادہ دلچسپی نہیں لی۔

دلیل: روزنامہ دنیا چھوڑکر جنگ میں واپسی ہوئی، کچھ ایسی افواہیں تھیں کہ شاید کچھ مقتدر طبقات نے آپ کو نکلوایا؟
سہیل وڑائچ: نہیں، اس میں کوئی صداقت نہیں۔ جس طرح گھر کے اندر والدین کے ساتھ کبھی کبھی بہت معمولی بات پر جھگڑا ہوجاتا ہے اور بچہ گھر سے نکل جاتا ہے، اسی طرح میرے ساتھ ہوا۔ میں نے ”جنگ“ چھوڑکر ”دنیا گروپ“ جوائن کیا۔ بہت ہی معمولی بات تھی، اور پھر یہاں واپس آیا۔ مجھے میاں عامر صاحب نے پورے عزت اور احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ اپنے گھر پر میرے لیے کھانا رکھا۔ تحفے تحائف دئیے۔ ”جنگ“ کا ماحول مجھے زیادہ راس آتا ہے اور یہیں واپسی ہوئی ہے۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سہیل وڑائچ صاحب آج کے زمانے کے سقراط ہیں ۔ سچ کہنا اور پھر اس کے سائیڈ افیکٹس کو برداشت کرنا یہ سبھی کے بس کی بات نہیں ہے لیکن سہیل صاحب وہ شخصیت ہیں کے جن کی تعریف کرنے کو الفاظ کم پڑجائیں