جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل سے خوفزدہ کون؟ عبیداللہ عابد

وہ شخص دنیا کے بڑے بزدلوں میں سے ایک تھا جس نے کہا کہ مذہب افیون کی طرح ایک نشہ ہے۔ دراصل اس نے اپنے بہت سے مخالف نظریات کے مقابل ایک نظریہ قائم کرلیاتھا لیکن مذہب کے مقابل وہ کھڑا نہیں ہوپارہاتھا۔ چنانچہ اس نے لوگوں کو ڈرانا شروع کردیا کہ مذہب افیون ہے، اس سے بچ کر رہو۔ اگر یہ تین چار جملے پڑھنے سے آپ کی سانس نہ پھولی ہو تو میں بات کو آگے لے کر چلتا ہوں۔

دراصل میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے یہ جاننا از حد ضروری ہے کہ دنیا میں دلیل کو دلیل ہی سے زیر کیاجاتاہے۔ جس نے دلیل کے جواب میں گالی دی، گویا اس کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں تھی اور جس نے دلیل کے جواب میں ڈنڈا اٹھالیا، وہ تو پرلے درجے کا جاہل ثابت ہوا اور جس نے دلیل سے ڈرنا شروع کردیا، اس سے بچ کر فرار ہونے کی کوشش کی، اس کی بزدلی کو مانے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔

ممکن ہے کہ آپ کو میری بات میں کچھ ثقالت محسوس ہو لیکن بس ایک بات مزید جان لیجئے کہ امریکا سے لے کر یورپ تک اور مغرب کے سارے غلام مسلمان حکمرانوں تک، سب اسلام سے سخت خوفزدہ ہیں کہ اس کی تعلیمات کی روشنی میں کسی نے ریاست اور معاشرہ قائم کرلیا تو مغرب کی ساری دکان داری بند ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی حکمران پالیٹیکل اسلام کا نام لے کران مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر لگے ہوئے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے ہاں سیاسی اور ریاستی نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں، اور مسلمان معاشروں میں ان مغربی حکمرانوں کے کچھ لونڈے اپنے بعض مخالفین کے بارے میں دن رات پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر سیاست کررہے ہیں۔

مغربی لونڈوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے مذہبی مخالفین مالی کرپشن میں مبتلا ہوتے ہیں نہ ہی شیاطین مغرب کی طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں، وہ بس سادہ سی زندگی بسر کرتے ہیں۔ میں نے مغربی لونڈوں کے ایسے بہت سے مخالفین دیکھے ہیں جو سائیکل پر سوار ہوکر گائوں گائوں جاتے اور اپنی انتخابی مہم چلاتے، عالیشان انتخابی دفتر کھولنے کے بجائے کسی بھی جگہ دریاں بچھاکر انتخابی دفتر قائم کرلیتے تھے، یہ لوگ مغربی لونڈوں کی طرح محلات، کوٹھیوں اور بنگلوں میں نہیں رہتے، ان کے عام سے گھرہوتے ہیں جہاں ہر کوئی فرد ان سے آسانی سے مل لیتا ہے۔ کوئی پہرے دار ہوتا ہے نہ ہی کوئی پروٹوکول افسر۔ ظاہر ہے کہ جب یہ سب کچھ نہیں ہوگا تو وہ رکن پارلیمان بن کر قومی خزانہ سے کیوں جھولیاں بھریں گے، کیوں سوئس اکائونٹس بنائیں گے بھلا؟ قوم کا خون تو وہ مغربی لونڈے چوستے ہیں جو اپنی انتخابی مہم پر کروڑوں لگاتے ہیں اوراس کےبعد اربوں کماتے ہیں تاکہ انتخابی اخراجات بھی پورے ہوسکیں، اگلے انتخابی اخراجات بھی جمع ہوسکیں اور اس دوران عیش و عشرت کی زندگی بھی بسر ہوتی رہے۔

قوم کے مال کو ہڑپ کرنے والے یہی مغربی لونڈے اپنے اسلام پسند مخالفین کو طاقتور ہوتا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ اسلام کےنام پر سیاست کررہے ہیں۔ وہ یہ بھی ایک جھوٹ بکتے ہیں، کیونکہ اسلام پسند اسلام کے محض نام پر سیاست نہیں کرتے بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قوم کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، اسی مقصد کی خاطر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ویسے مغرب کے ان غلاموں سے کوئی پوچھے کہ تم کسی ایک فرد یا کچھ افراد کی روشنی میں سیاست کرسکتے ہو،تو اسلام سے محبت کرنے والے اپنی عظیم الشان قائد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور حیات مبارکہ کی روشنی میں سیاست کیوں نہیں کرسکتے؟

مغرب کے لونڈے کہتے ہیں کہ ہم تو اسلام کے تقدس کی خاطر کہتے ہیں، اس مقدس نام کوسیاست کے گندے میدان میں استعمال نہ کیا جائے۔ واہ یہ بھی کیا خوب کہی ،سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اسلام کو مقدس مانتے تو ان کی زندگیاں اسلام سے یونہی خالی ہوتیں؟ ذرا ان کی زندگیوں ہی کو دیکھ لیں آپ کو لگ پتہ جائے گا۔ دوسری بات: یہ چاہتے ہیں کہ وہ سیاست کے میدان کو اسی طرح گندا رکھیں، ایک دوسرے پر گند اچھالتے رہیں، لیکن اگر کوئی اس میدان کو صاف کرنے کے لئے آگے بڑھے تو اسے روکنے کے لئے طرح طرح کی تدابیر اختیار کرنے لگتے ہیں، یہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل اسلام کے نام پر سیاست کرتی ہے۔ مکررعرض ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سیاست کرتی ہیں۔ یہ مغربی لونڈے اس لئے خوف کا شکار ہیں کہ متحدہ مجلس عمل قائم و دائم رہی، یہ سب اسلام پسند ایک دوسرے کے ہاتھوں میں یونہی ہاتھ ڈال کر آگے بڑھتے رہے تو یہ ضرور کامیاب ہوں گے اور مغربی شیاطین کا گندا کھیل ختم ہوجائےگا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کیا خوب تزیہ کیا ہے جناب آپ نے۔ ۔ ۔جب ترکی میں مسلمانوں کی خلافت ختم کی گئی تھی۔ ۔ ۔توصلیبیوں نے کہا تھا کہ اسآئندہ دنیا میں کہیں بھی خلافت قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔ ۔ ۔ اس لیے اگر دنیا کی رائج جمہوری طریقے سے الجازئر اور مصر میں اسکلامی جماعتیں جیتی تو فوج کے ذریعے مارشل لگا کر اقتدار ان کو منرقل نہیں ۔ ۔ ۔ مسارے مسلمان ملکوں میں حکمران امریکا کی پٹھو ہیں۔ ۔ ۔ وہ اسلامی جماعتوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے