پیٹرو یوآن - آصف محمود

لیجیے جناب. آج سے یوآن پیٹرو یو آن ہے۔ دھیرے دھیرے ہی سہی مگر ڈالر کی حکمرانی اب ختم ہونے جا رہی ہے۔

چین آج کے بعد سعودی عرب سے پٹرولیم مصنوعات ڈالر کی بجائے یو آن میں خریدے گا۔ یاد رہے کہ چین روزانہ 70 لاکھ بیرل پٹرول خریدتا ہے۔ سعودی عرب امریکہ کا حلیف سہی مگر اتنے بڑے خریدار کو کیسے نظر انداز کرتا؟

2009ء میں چین نے یوآن کو پہلی بار بین الاقوامی تجارت میں تجرباتی طور پر متعارف کرایا اور پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر آسیان کے دس ممالک کے ساتھ باہمی تجارت یوآن میں شروع کی۔ یہ تجربہ کامیاب رہا اور اس کے بعد سے چین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 2010ء میں چین نے ماسکو انٹر بنک کرنسی ایکسچینج میں روبل کے ساتھ یوآن میں تجارت کا معاہدہ کر لیا۔ اس سے اگلے سال اس نے جاپان کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کا معاہدہ کر لیا۔ 2013ء سے آسٹریلوی ڈالر کے ساتھ یوآن میں لین دین کا معادہ ہوا۔ اسی سال یوآن دنیا کی آٹھویں بڑی تجارتی کرنسی بن گیا۔ اور دو سال کے بعد یعنی 2015ء میں یہ دنیا کی پانچویں بڑی تجارتی کرنسی قرار پایا۔ 3 نومبر 2016ء کو یوآن کو ڈالر اور یورو کے بعد دنیا کی تیسری ’ گلوبل ریزرو کرنسی‘ قرار دے دیا گیا۔ امکان یہی ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کی کامیابی کے بعد جو ممالک اس سے منسلک ہوں گے، ان کی باہم تجارت ڈالر میں نہیں بلکہ یو آن میں ہوگی۔

ڈالر کی اجارہ داری سے نجات کا مطلب امریکی سامراج سے نجات ہے۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیجیے۔ جب اسے لین دین کے لیے ڈالر درکار ہوتے ہیں اور بنکوں میں مطلوبہ ڈالر موجود نہیں ہوتے تو امریکہ کی خوشنودی کے لیے پھر سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ جب تجارت یوآن میں ہوگی اور متبادل امکانات کا جہان آباد ہوگا تو اس محتاجی سے معقول حد تک نجات ملے گی۔ اس محتاجی سے نجات کا ابھی صرف امکان پیدا ہوا ہے، اور پاکستانی حکومت کا لب و لہجہ بدل سا گیا ہے۔ غور فرمائیے جب اس کی عملی شکل سامنے آئے گی تو امریکہ کا کردار کس حد تک محدود ہو جائے گا۔

پھر اس نئے معاشی امکان کے ہمراہ سفارتی اور عسکری قوت بھی ہے۔ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور ویٹو پاور ہے۔ روس بھی اسی مقام کا حامل ہے۔ یہ دونوں تازہ امکانات کے پیدا ہوتے اس جہان کے سرخیل ہیں۔ ترکی ان کے ساتھ ہے، پاکستان ساتھ کھڑا ہے۔ آسیان کے ممالک اس کے ساتھ ہوں گے۔ ون بیلٹ ون روڈ سے منسلک ممالک کے لیے اب یوآن کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا اور اس خطے میں ڈالر دن بدن سکڑتا چلا جائے گا۔

ڈالر کی شان و شوکت کے بارے میں پہلے ہی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب اگر دنیا کا ایک غالب حصہ متبادل کرنسی کی طرف چلا جاتا ہے تو ڈالر کی حیثیت وہ نہیں رہے گی جو اس وقت ہے۔ اور ڈالر کا مطلب محض کاغذ کی کرنسی نہیں یہ امریکی شان و شوکت کی علامت بھی ہے۔ امریکہ اس علامت کو بچانے کے لیے ماضی میں بہت کچھ کر چکا ہے۔

فرض کریں ’ ون بیلٹ ون روڈ ‘ منصوبے کی تکمیل کے بعد چین یہ اعلان کر دیتا ہے کہ آج کے بعد جس نے بھی اس کے ساتھ تجارت کرنی ہے، وہ جان لے کہ اس کی بنیاد امریکی ڈالر نہیں بلکہ چینی یو آن ہوگا، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں اس کے بعد ڈالر کا کیا حشر ہوگا اور امریکی معیشت کہاں جا کھڑی ہوگی؟

فرض کریں چین یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب یو آن کی قدر ڈالر سے کہیں زیادہ ہوگی، اور وہ امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اگر اسے ڈالر کی قدر پر اصرار ہے تو اس کے مقابل سونا دکھا دے۔ ساتھ ہی چین یوآن کے پیچھے کھڑے اپنے سونے کے ذخائر دنیا کے سامنے رکھ دیتا ہے تو ڈالر کہاں کھڑا ہوگا اور امریکی معیشت کس صورت حال سے دوچار ہو جائے گی؟

فرض کریں چین امریکہ سے کہتا ہے کہ اس نے چین سے جو قرض لے رکھا ہے، چین معاشی اصطلاح میں اسے ’’ کال اِن‘‘ کر رہا ہے، قرض واپس کیا جائے۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ جب چین 1 ٹریلین ڈالر سے زائد کا قرض ’ کال ان‘ کرے گا تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   شامی خانہ جنگی میں عالمی طاقتوں کے مفادات اور ترکی کا مسیحانہ کردار - محمد ایاز

یہ تینوں مفروضے جو میں نے بیان کیے، محض مفروضے نہیں ہیں، حقائق کی دنیا میں ان پر پوری معنویت کے ساتھ بات ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ ’’چائنا ڈیلی‘‘ تک مارکیٹ میں دستیاب نہیں، اور اہل دانش کی ترک تازی کا میدان صرف مغرب ہے، اس لیے ہمارے ہاں کم ہی زیر بحث آتا ہے کہ چین میں اہل دانش کیا سوچ رہے ہیں۔

کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے پاس سونے کی کتنی مقدار ہے۔ تیس کی دہائی میں امریکہ نے ’جہاں سے اور جیسے بھی‘ کی بنیاد پر سونا اکٹھا کیا، جو نیویارک میں مین ہٹن کے مقام پر رکھا گیا ہے۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ اس کے پاس 8 ہزار 1 سو 33 میٹرک ٹن سونا موجود ہے۔ ڈالر کی قیامت خیزیوں کا راز یہی خزانہ ہے۔ جرمنی نے سرد جنگ کے زمانے میں 150 ٹن سونا امریکہ میں رکھوایا تھا، وہ بھی ابھی تک امریکہ کے پاس پڑا ہے۔ تاہم اب اس ذخیرے کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

ہوا یہ کہ امریکہ نے کچھ ادائیگیوں کی مد میں 2009ء میں چین کو ’’ گولڈ بارز‘‘ بھیجیں۔ چین نے ان کو ٹیسٹ کیا تو وہ جعلی نکلیں۔ امریکہ کی بد قسمتی کہ اس نے کاروباری معاملات میں چینیوں سے دھوکہ کرنے کی کوشش کی اور پکڑا گیا۔ چین نے معاملہ یہیں ختم نہیں کیا بلکہ ساری کہانی منظر عام پر لا کر رکھ دی کہ اس میں فلاں دھات استعمال کی گئی ہے اور اس کے استعمال کی وجوہات کیا ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اس جعل سازی کو پکڑنے کا یہ طریقہ ہے۔ 2011ء میں ٹیکساس سے امریکی کانگریس کے رکن رون پال نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے سونے کا آڈٹ کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ اس میں کتنا سونا جعلی ہے۔ یہ مطالبہ رد کر دیا گیا۔ 14 جون 2011ء کو سی این بی سی کی سائٹ پر سٹیو لیزمین نے انکشاف کیا کہ سی این بی سی نے کہا کہ ہمیں صرف وہاں جا کر فلم بنانے دو لیکن امریکی انتظامیہ نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 1953ء کے بعد سے امریکہ نے اس ذخیرے کا آڈٹ نہیں کروایا اور اس آڈٹ کے بارے میں بھی سونے کے عالمی ماہر جیمز ٹرک کا کہنا ہے کہ سونے کو نہیں پرکھا گیا تھا بلکہ صرف دستاویزات کی جانچ پڑتال کر کے طے کر دیا گیا کہ اتنا سونا پڑا ہے۔ نہ کوئی غیر جانبدار آڈیٹر آیا نہ اس کا آڈٹ کیا گیا۔ 1974ء میں صرف ایک سینیٹر کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور اس سے مزید سوالات پیدا ہو گئے۔

اب امریکہ کے اس فیڈرل گولڈ ریزیرو کے بارے میں چار باتیں کہی جا رہی ہیں۔
1۔ اس سونے کی بنیاد پر بہت سا لین دین ہو چکا اور اب اس کا بڑا حصہ امریکہ کی ملکیت نہیں ہے۔
2۔ خزانے میں سے سونے کی بہت بڑی مقدار نکال کر مختلف مدوں میں ادائیگیاں ہو چکی ہیں اور اب یہ صرف کاغذات کی حد تک موجود ہے۔
3۔ تیس کی دہائی میں یہ سونا جن ممالک اور اداروں سے لیا گیا تھا، ایک بڑا حصہ انہیں واپس کیا جا چکا ہے۔
4۔ بنکوں سے لیے گئے قرض کی ادائیگیاں اسی سونے سے ہوتی رہیں اور اب اس کی اصل مقدار وہ نہیں جو بیان کی جاتی ہے۔

یہ سوالات جب اٹھے تو ایک وقت وہ بھی آیا کہ جرمنی نے پریشان ہو کر امریکہ سے اپنا سونا واپس مانگ لیا۔ جرمنی کو کیسے چپ کرایا گیا، یہ الگ کہانی ہے۔

دوسری طرف چین نہ صرف دنیا بھر سے سونا خریدتا رہا ہے بلکہ سی این این کے مطابق 2007ء سے اس خریداری میں 700 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سی این این ہی کا دعوی ہے کہ چین کے اندر سونے کی کانیں بھی ہیں جہاں سے چین سونا نکال رہا ہے، تاہم چین نے کبھی اصل حقیقت کسی سے شیئر نہیں کی کہ اس کے پاس کتنا سونا ہے۔ عین ممکن ہے کہ بہت جلد ہم چین کو یہ مطالبہ کرتے سنیں کہ امریکہ کے پاس اگر ڈالر کے پیچھے واقعی اتنا سونا پڑا ہے تو سامنے لے آئے ورنہ یہ لیجیے چین اپنا سونا ’ شو‘ کر رہا ہے اور آج کے بعد ڈالر کا نہیں بلکہ چین کے ’یو آن‘ کا راج ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   اکیسویں صدی کے صحرا نشین - شبیر بونیری

چین ابھی بھی چاہے تو ڈالر کو کافی نیچے لا سکتا ہے لیکن وہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہا۔ یو آن سستا ہوگا تو امریکہ شہری خوشی سے چینی مصنوعات خریدیں گے اور چین اپنی ایکسپورٹ پر کمپرومائز کرنے کو فی الحال تیار نہیں کیونکہ اس میں اس کا غیر معمولی فائدہ ہے۔ امریکہ سے چین کو ہونے والی ایکسپورٹ کا حجم 116 بلین ڈالر ہے بلکہ چین سے امریکہ کو ہونے والی ایکسپورٹ کا حجم 463 بلین ڈالر ہے۔ یعنی اس باہمی تجارت میں امریکہ کا 2016ء میں جو خسارہ تھا وہ 347 بلین ڈالر تھا۔ یہ وہ چیز ہے جو چین کو روکے ہوئے ہے۔

اب اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، اور ایک وقت آتا ہے چین کو متبادل مارکیٹ مل بھی مل جاتی ہے، اور تجارتی معاملات میں دنیا کے اہم ممالک اس کے ساتھ چلنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں، اور وہ اس کاروباری سرگرمی کا محور و مرکز بن جاتا ہے، تو پھر وہ ڈالر کے ناز کیوں اٹھائے گا؟ اس صورت حال میں کیا وہ تینوں مفروضے حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ سکتے ہیں، جن کا شروع میں ذکر کیا گیا ہے؟

ڈی ایٹ ممالک کی کانفرس میں اگر طیب اردوان متبادل کرنسی کی بات کر رہے ہیں تو کیا یہ محض ایک جذباتی بیان سمجھا جائے؟ ڈی ایٹ میں قابل ذکر ممالک تو پاکستان، ترکی، ایران اور ملائیشیا ہیں۔ خطے میں چین اور روس ایک بلاک کی صورت ابھر رہے ہیں اور یہ ممالک اپنے اپنے دائرہ کار میں اسی صف کا حصہ ہیں۔

یہ چیز اگر ہونے جا رہی ہے تو امریکہ اسے آسانی سے تو برداشت نہیں کرے گا۔ اس کا رد عمل تو آئے گا۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کےخلاف اگر امریکہ نے کھل کر بیان دے دیا ہے تو یہ قابل فہم ہے۔ صدام حسین کا بھی ایک بڑا قصور یہی تھا کہ اس نے تیل کی تجارت ڈالر سے ڈی لنک کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ لیکن صدام کا عراق اکیلا تھا۔ اور چین عراق نہیں ہے۔ لیکن امریکہ بھی کسی معمولی قوت کا نام نہیں ہے۔ لازم ہے کہ وہ اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔ اب جو منظر نامہ بنے گا سوال یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے لیے چیلنجز کیا ہیں اور امکانات کتنے ہیں۔؟

دو کام یقینی ہیں۔ پہلا یہ کہ سرد جنگ کی بنیاد پر نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ یہ صف بندی ہمارے سامنے ہے۔ چین ، روس، ایران، ترکی اکٹھے ہو چکے اور پاکستان ظاہر ہے چین کے ساتھ کھڑا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای دوسرے کیمپ میں ہیں جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔ ترکی نے بڑے واضح انداز میں عربوں سے گلہ کیا ہے کہ امریکہ کو فوجی اڈوں کے لیے جگہ دے دیتے ہیں لیکن مسلمانوں کو نہیں دیتے۔ اب پاکستان کے لیے مشکل مرحلہ ہے کہ اس صورت حال میں توازن کیسے رکھے اور پوسٹ سی پیک منظر نامے میں چین کے ساتھ کھڑے ہونے کے باوجود دوسرے کیمپ سے دشمنی مول نہ لے۔ یہی ہماری سفارت کاری امتحان بھی ہوگا۔

ہمارا دوسرا امتحان دہشت گردی سے نبٹنا ہے۔ اس بات کا امکان تو بہت کم ہے کہ امریکہ اور چین میں کھلی جنگ ہو۔ ایسی جنگیں بہت مہنگی ہوتی ہیں، آسان ترین جنگ دہشت گردی ہے۔ پہلے اکانومی گلوبلائز ہوئی، اب دہشت گردی گلوبلائز ہو رہی ہے۔ حساب برابر ہوں گے تو کھلی جنگ کے بجائے دہشت گردی کے میدان میں ہوں گے اور انارکی پھیلانے کی کوشش کی جا ئے گی۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ میدان جنگ پاکستان ہوگا۔ بلکہ ہوگا کیا، پاکستان میدان جنگ بن چکا ہے۔ دہشت گردی بڑھے گی تو سی پیک کی کامیابی کے امکانات کم ہوں گے۔ ہمیں اس چیلنج سے نبٹنا ہوگا۔ یہ چیلنج اس وقت بہت سنگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی کیمپ میں کچھ ایسے برادر اسلامی ممالک بھی موجود ہیں جو اس کھیل کا حصہ بن گئے تو معاملہ بہت سنگین ہو جائے گا کیونکہ پاکستانی سماج میں ان کی بڑی طاقتور پراکسیز موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کیا ہم آنے والے چیلنجز سے نبٹنے کو تیار ہیں؟ اور ہم نے کوئی پالیسی وضع کر رکھی ہے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.