پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز - حامد کمال الدین

میری نظر میں، اسلامی سیکٹر کے پاس بطورِ پارٹی سیاست میں آنے کےلیے اس وقت دو آپشن ہیں۔ ایک: ’’مذہبی‘‘ پارٹی یا پارٹیوں کے اتحاد کے طور پر سامنے آنا۔ دوسرا: ایک ’’مین اسٹریم‘‘ پارٹی‘‘ کے طور پر سامنے آنا۔ جبکہ تیسرا آپشن اس وقتی صورتحال میں، کہ جب یہ دونوں آسامیاں (میری نظر میں) خالی ہیں، ایسی سیاسی صلاحیتیں رکھنے والے ’’افراد‘‘ کے لیے ہیں جو معاشرے کے مین سٹریم کو ساتھ چلانے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ (یعنی تیسرا آپشن بطور فرد ہے نہ کہ بطور پارٹی)۔ ذیل میں اس کی کچھ وضاحت کی جاتی ہے۔

مذہبی پارٹی کے طور پر سامنے آنے کےلیے درکار ڈائنامکس:
مذہبی گیٹ اپ کے ساتھ سیاست میں آنے کی صورت میں یہاں آپ کے لگانے کا نعرہ ’’اسلام‘‘ ہی ہے اور ’’اسلام‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ یعنی ’’اسلام‘‘ کے نام پر ہی آپ یہاں مذہب کے متوالوں میں ایک (مثبت معنیٰ کی) جنونیت پیدا کریں؛ ’’اسلام‘‘ کی بنیاد پر ہی سٹیٹس کو پارٹیوں کے ساتھ آپ ایک ’’رزمیہ‘‘ کھڑا کریں (جوکہ آپ نے کھڑا نہیں کیا۔ الٹا آپ میں سے کئی ایک، سٹیٹس کو پارٹیوں کے ساتھ بیٹھے رہے، ممتاز قادریؒ کو پھانسی اور ’لبرل بھگوان‘ کی مسلسل بلائیں لی جانے کے علی الرغم، جمہوریت ایسے ’اعلیٰ تر‘ مقصد کےلیے اپنے ان سب اسلامی مفادات کی قربانیاں دیتے ہوئے۔ حقیقت میں، ایک ’’اسلامی صدا‘‘ کے طور پر یہ آپ کی موت تھی، اگرچہ ایک مذہبی انجمن کے طور پر آپ کچھ پھل پھول لیے ہوں، یا آئندہ بھی سیاست کے کچھ ’رخنے‘ پر کرتے دیکھے جائیں)۔

معلوم ہونا چاہیے، پاکستانی سیاست میں یہ آسامی اِس وقت مکمل طور پر خالی ہے (’’اسلام‘‘ کا نعرہ لگا کر سیاست میں آنے کی آسامی)، خواہ اسے کوئی پُر کر لے، شرط صرف یہ ہے کہ اس کےلیے چہرہ جاندار ہو اور مذہبی جنونیت کے ساتھ ذرا ایک درجہ مطابقت رکھتا ہو۔ اور قابل ترجیح یہ کہ کسی ایک مسلک کی پوری سٹرینتھ لے کر آ سکتا ہو (ایک سے زیادہ مسلک کے جنونی مل کر آ جائیں تو سونے پر سہاگہ۔ ورنہ ایک بھی کافی ہے۔ اصل چیز ہے مذہبی دیوانگی اور یکسوئی کے تار چھیڑ سکنے کی صلاحیت۔ یقین کیجئے، مذہب کے متوالوں کو آپ میں اگر یہ چیز نظر آ گئی تو وہ ’دوسرے مسلک‘ کا ہونے کے باوجود آپ کے مسلکی تعصب تک سے صرفِ نظر کر لینے پر تیار ہوں گے۔ اس قدر پیاس ہے اِس جنسِ گراں مایہ کے طلبگاروں کے اندر)۔ ’جمہوریت‘ اور ’کرپشن‘ وغیرہ کےلیے پریشان نظر آنے والے چہرے البتہ اِس آسامی کےلیے مِس فٹ رہیں گے۔ کیونکہ مذہب کے متوالوں میں یہ ایشوز (جمہوریت، کرپشن وغیرہ) اس درجہ پزیرائی نہیں پا سکتے کہ وہ ان چیزوں کےلیے جذبات میں آ جائیں۔ اور جن طبقوں میں یہ نعرے (جمہوریت، کرپشن وغیرہ) پزیرائی پا سکتے ہیں وہ آپ کے مذہبی حلیے کو ووٹ دینے والے نہیں۔ لہٰذا ان ایشوز پر خاص آپ (مذہبی لوگوں) کا چیخنا چلانا سیاسی طور پر فضول ہے۔ یہاں (’’اسلام‘‘ کا ایک دیوانہ وار نعرہ لگانے کے حوالے سے) وہ چہرہ فٹ رہے گا جو صرف مذہبی ایشوز کےلیے درد ظاہر کرتا رہا ہو۔ (مذہبی شخصیات کے ہاں لوگ اس کے سوا کسی چیز کے متلاشی نہیں؛ یہ ایک واقعہ ہے۔ خادم رضوی کی مثال بھی اس معاملہ میں خاصی رَیلےونٹ relevant ہے)۔ غرض ایک ٹھیٹ غیرمفاہمتی مذہبی نعرے کے ساتھ، سیاست میں کسی قدر کامیابی حاصل کر لینے کا امکان موجود تو ہے، اگر آپ میں اس کی ہمت ہو۔ اس (مذہبی رزمیہ) کے طلبگار، معاشرے میں مفقود بہرحال نہیں ہیں۔ مذہبی حلیے کے ساتھ سیاست میں جو نعرہ آپ کو سب سے بڑھ کر سوٹ کرتا ہے وہ ’مذہب‘ ہی ہے (مذہب کے نام پر دیوانہ ہو سکنے والے عوامی طبقوں کو فی الحال مذہب کے ساتھ کسی اور چیز کا ٹانکا پسند نہیں ہے، خواہ یہ حقیقتِ واقعہ آپ کو اچھی لگے یا بری)۔

خلاصہ یہ کہ ایک خالص مذہبی نعرے کو بھی کچھ کامیابی یہاں مل ضرور سکتی ہے۔ بالکل خالی رہنے والی بات یہ نہیں ہے۔ خالی وہ رہیں گے جو کسی ایک بھی نعرے کی قیمت دینے پر آمادہ نہیں یا جو کئی نعروں کی بیک وقت قیمت دینے چل دیں گے۔ ایسے لوگ، اللہ اعلم، نری مشقت کےلیے ہیں۔ خصوصاً اگر وہ موقع پرست بھی نہیں ہیں، پھر تو سیاست میں ان کا کوئی بھی کام نہیں ہے۔ (نری خدمتِ خلق وہ سیاست سے باہر رہ کر بھی کر سکتے ہیں؛ یہاں سیاست میں کسی کسی کو بیگار دینا کیا ضروری ہے)۔ یہ یاد رہے، ہر نعرہ ایک لانگ ٹرم انوسٹمنٹ ہوتی ہے، یعنی ایک عرصہ اس کی ایک قیمت دی جاتی ہے اور ذرا محنت اور صبر کے بعد اس کی فصل آنے لگتی ہے۔
یہ رہا ایک رُوٹ، اگر آپ کو مذہبی فیس religious face کے ساتھ میدان میں اترنا ہے۔

مین اسٹریم پارٹی کے طور پر سامنے آنے کےلیے درکار ڈائنامکس:
ہاں اگر آپ ’مذہبی ایشوز‘ کی بجائے ’پاپولر‘ نعروں کا روٹ اختیار کرنا چاہتے ہیں، مانند قومی ترقی، انصاف، کرپشن کا خاتمہ، گڈ گورننس، مہنگائی کا خاتمہ، بجلی گیس وغیرہ کے بحران پر قابو، عورتوں کے حقوق یا مسائل وغیرہ، اور جوکہ ایک مین سٹریم پارٹی بننے کےلیے بوجوہ درکار ہے (ہم خود مانتے ہیں؛ اور یہ میدان دین بیزار پارٹیوں کےلیے چھوڑنے کا ہرگز نہیں ہے)... تو اس صورت میں بہتر یہ ہو گا کہ آپ مذہبی پیکنگ کے بغیر سیاست میں آئیے۔ (یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں، محض زمینی حقائق کے حوالے سے بات ہو رہی ہے)۔ اسی لیے، اپنی ایک گزشتہ تحریر (’’آپ فی الوقت ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں‘‘) میں ہم یہ کہہ چکے کہ پاکستانی سیاست میں اردگان ٹائپ ایک ڈویلپمنٹ درکار ہے جو اپنا جذبہ aspiration, motivation تو مذہب سے لے رہی ہو لیکن اپنے ساتھ لوگوں کو چلا سکنے کے حوالے سے وہ معاشرے کے ہر ہر طبقے کی پارٹی ہو۔ یعنی صرف مذہبی لوگوں کو ساتھ چلا سکنے والی نہیں بلکہ صحیح معنیٰ کی ایک مین سٹریم پارٹی (جس میں ڈاڑھی نہ رکھنے والے اور نقاب نہ کرنے والیاں اُتنی نسبت سے ہوں جتنی نسبت سے وہ آپ کے اس معاشرے میں بالفعل پائے جاتے ہیں۔ اسے میں کہوں گا ’’مین سٹریم کی ایک سیاسی پارٹی جو صرف ایسپی ریشن aspiration اسلام سے لیتی ہو مگر اپنے ساتھ چلاتی سب کو ہو اور ہر طرح کے مرد عورتیں معاشرے میں اس کا پرچم اٹھائے کھڑے ہوں‘‘، جو کہ ہمارا اسلامی سیکٹر ابھی تک پاکستان کو نہیں دے سکا)۔ خاصے یقین سے کہا جا سکتا ہے، ایسی ایک پارٹی ان شاء اللہ یہاں سب کو کھا جائے گی۔
(یہاں اختصار سے بات کی گئی ہے۔ ایک ’’مین سٹریم‘‘ پارٹی کے کچھ تفصیلی خدوخال آئندہ کسی تحریر میں واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی)۔

پس اسلامی سیکٹر کے ’’پارٹی‘‘ کے طور پر سامنے آنے کےلیے تو یہ دو ہی موڈ mode ہو سکتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے۔ پاکستان ایسے ملک میں یہ دونوں بیک وقت بھی ہو سکتے ہیں، بلکہ ہونے چاہئیں، (الگ الگ طور پر) جہاں یہ دونوں اپنی اپنی سمت سے اسلام کو اس ملک میں اچھا راستہ بنا کر دیتے چلے جائیں۔

تیسرا آپشن: ’’افراد‘‘ کےلیے:
ہاں البتہ جب تک ان دونوں سمتوں پر ملک میں پیش رفت نہیں ہوتی، اور جو کہ فی الحال نہیں ہو رہی، تو اس وقتی مرحلے transitional period کےلیے (اور واضح رہے، صرف اس وقتی مرحلے ہی کےلیے) میں تجویز دوں گا کہ:
عامۃ الناس (مین سٹریم) کےلیے پُرکشش charismatic ہو سکنے والے ہمارے کچھ باصلاحیت نفوس کے پاس یہ ایک آپشن رہ جاتا ہے کہ وہ یہاں کی مین سٹریم پارٹیوں میں ممکنہ حد تک اوپر پہنچنے کی کوشش کریں، اگرچہ وہ کچھ غیر مذہبی پارٹیاں کیوں نہ ہوں، مانند پی-ایم-ایل-این اور پی-ٹی-آئی وغیرہ۔ (اس کی کچھ تفصیل آپ ہمارے مضمون ’’فی الوقت آب ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں)۔ جب تک آپ یہاں خود مین سٹریم نہیں بن سکتے، اُس وقت تک اِن مین سٹریم پارٹیوں کو لبرل ایجنڈا برداروں کے حاوی ہونے کےلیے چھوڑ رکھنا میری نظر میں ہلاکت ہے۔ ان (غیر مذہبی) پارٹیوں کو شجرِ ممنوعہ جانتے ہوئے خاص مذہبی سیاست کے اندر محصور رہنا اندریں حالات درست نہ ہو گا (خصوصاً جبکہ مذہبی سیاست فی الوقت ایک بند گلی ہو اور اس کا منتہائے سعی چند سیٹیں۔ حقیقت یہی ہے، خواہ اسے آپ الفاظ میں لائیں یا چھپائیں)۔ واضح رہے ہم نے کہا دین پسندوں کا مذہبی سیاست کےاندر ’’محصور‘‘ رہنا ایک نادرست بات ہو گی۔ یہ نہیں کہا کہ مذہبی سیاست ’’کرنا‘‘ غلط ہے۔ جن علاقوں میں کوئی روایتی مذہبی جماعت کسی اچھی پوزیشن میں ہے وہاں اس کے پلیٹ فارم سے ہی سیاست میں سرگرم ہونا اس آپشن کا حصہ جانیے۔

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.