’’افسوس کہ یہ خبر نہیں‘‘ - احسان کوہاٹی

سیلانی دفتر کے نیوز روم میں کمپیوٹر پراپنے کام میں محو تھا جب نیوزکاسٹر کی چنگھاڑتی آواز نے اس کی توجہ درہم برہم کر دی۔ آج کل کی نیوز کاسٹر بھی تو سندھ اسمبلی کی رکن نصرت سحر عباسی سے کم نہیں، ایسا چلا چلا کرخبریں پڑھتی ہیں کہ ان کی پسلیوں میں رکھے پھیپھڑے پھول پچک کر ہانپ کانپ جاتے ہیں۔ ان نیوز کاسٹروں کوشش ہوتی ہے کہ خبر سے زیادہ ان کا لہجہ ڈسکس ہو، وہ اپنے لب ولہجے سے ہر اس شخص کو متوجہ کر لیں جس کے کان میں ان آواز پہنچ رہی ہو۔ سیلانی نے گردن گھما کر ٹیلی ویژن کی اسکرین پر دیکھا، وہاں آدھی اسکرین پر اینکر صاحبہ کا قبضہ تھا اور بقیہ پر مسلم لیگ نون کی ’’اصغری‘‘ کی بکل ماری ہوئی تصویر کا، سارہ افضل تارڑ صاحبہ خدمات برائے قومی صحت کی وزیر ہیں، انہوں نے کہیں اپنی بھتیجی کو نرسنگ کونسل کا رکن نامزد کروادیا حالاں کہ ان کی بھتیجی صاحبہ گریڈ سترہ کی باقاعدہ افسر ہیں، ٹھیک ہے سترہ گریڈ جونیئر افسران کا ہوتا ہے، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ کل انہی جونیئروں سے سینئر ہونا ہوتا ہے، یہ بھی بھلا کوئی خبر ہوئی، اب ایک وزیر اتنا بھی نہ کرے تو بہتر ہے رائے ونڈ میں میاں نوازشریف صاحب کے سامنے حاضر ہونے کے حاجی عبدالرؤف صاحب کے سامنے پیش ہوجائے، عاقبت تو سنور جانی ہے ناں۔

خبر سننے کے بعد سیلانی لاحول پڑھ کر رہ گیا۔ یہ بھی بھلا کوئی خبر اور وہ بھی بریکنگ نیوز ہوئی؟ پاکستانی حکمرانوں میں اقرباء پروری اب کوئی بیماری نہیں رہی، جس گاؤں میں ہر شخص بغل کھجاتا ملے وہاں خارش مرض نہیں رہتا، یہی حال یہاں کا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی اور ایک آدھ جماعت کو چھوڑ کر یہاں سب بغلیں کھجانے والے دکھائی دیتے ہیں۔ ابھی مہینہ دو مہینہ بھر پہلے ہی آصف علی زرداری صاحب نے اپنے دکھ درد کے ساتھی ڈاکٹر عاصم کو دوبارہ اسی کرسی پر لا بٹھایا جہاں سے رینجرز کے جوان اٹھا کر لے گئے تھے۔ وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے بلاول ہاؤس کے حکم پر بلا کسی چوں چراں تابعدار وفادار مصاحب کی طرح نوٹیفکیشن جاری کر دیا، 26اگست2015ء کو ڈاکٹر عاصم ہائیر ایجوکیشن سندھ کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جب رینجرز اہلکاروں نے کمرے میں گھس کر انہیں باہر نکالا تھا، اور ساتھ لے گئے تھے۔ بعد میں ان پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا عدالتوں میں پیش کیا گیا اور وہ ابھی تک پیشیاں بھگت رہے ہیں، باقاعدہ ملزم ہیں لیکن ہوتے ہیں تو کسی کی بلا سے ہوں، آصف زرداری صاحب کی نظر میں ان سے قابل لائق فائق دوسرا کوئی نہیں، اسی لیے تو انھوں نے کمال مہربانی سے انھیں دوبارہ اسی عہدے پر بحال کر دیا۔ یہ سیلانی جیسوں کی بدنصیبی کہ وہ زرداروں کی حکمت نہیں سمجھے اور الٹے سیدھے سوال داغنے سے باز نہیں آتے۔ سیلانی نے ان کی تعیناتی کے بعد سندھ کابینہ کے اجلاس پر بریفنگ دینے کے لیے آنے والے وزیر اطلاعات کے ساتھ یہی کیا تھا۔ ناصر حسین شاہ کیمروں کے سامنے آئے تو ٹھنڈے مزاج کے ناصر حسین شاہ سے سیلانی نے عرض کی کہ کابینہ اجلاس کی روداد تو آپ نے بیان کر دی، یہ فرمائیے گا کہ ڈاکٹر عاصم میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزام کو چھوڑ کر ایسی کیا خوبی ہے کہ سندھ کی اعلٰی تعلیم میں ترویج اور بہتری کی ذمہ داری انھیں سونپ دی جائے۔ ناصر حسین شاہ نے تحمل سے سیلانی کا چبھتا ہوا سوال برداشت کیا اور ڈاکٹر عاصم کے درجات بیان کرنے لگے، ڈاکٹر عاصم نے جیلیں کاٹی ہیں، انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔ سیلانی نے ان کی بات کاٹی اور پھر عرض کیا سر! اس عہدے کے لیے ان کی کوئی ایک خوبی تو بتا دیں، کیا سندھ میں کوئی بھی پڑھا لکھا صاف ستھرے کردار کا بندہ نہیں رہا؟ سیلانی کے اس سوال پر جزبز ہو کر ناصر حسین شاہ نے حتیٰ المقدور اپنا غصہ برداشت کیا، چہرے پر آنے والے ناگواری کے تاثرات دور کیے اور کہا ’’ان کی یہی خوبی ہے کہ وہ مظلوم ہیں ‘‘
’’پھر تو نقیب اللہ محسود کے والد کو بھی کوئی ذمہ داری دے دینی چاہیے‘‘
’’ہاں، ہاں انہیں بھی دے دیں گے‘‘شاہ صاحب یہ کہتے ہوئے بات چیت ختم کر کے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   مارو اور بھاگو - قادر خان یوسف زئی

اقرباء پروری کے معاملے میں شریف خاندان بھی بری طرح بدنام ہے۔ اسلام آباد کے ایک باخبر دوست نے کچھ عرصہ پہلے بتایا تھا کہ میاں نوازشریف خادموں، خدمت گزاروں اور ساتھ نبھانے والوں کو بھولتے ہیں نہ مخالفین کو، ان کی والدہ کی خدمت پر مامور نرس نے کچھ ایسی دل جمعی سے خدمت کی کہ وہ متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے، صلہ دینے کی باری آئی توان کی صاحبزادی کو جھنڈے والی گاڑی انعام میں دے دی، وہ آج کل ایک اہم وفاقی وزیر ہیں۔ سیلانی کے دوست کا کہنا تھا کہ ان کے لیے خدمات انجام دینے والے، مٹھیاں چانپیاں بھرنے والے نامزدگیاں لے کر قومی اداروں کی لٹیا ڈبو رہے ہیں۔ اتفاق تھا کہ اسی وقت اسلام آباد کے اس باخبر دوست کی کال بھی آگئی۔ سیلانی نے اسے سارہ تارڑ کی بریکنگ نیوز بتائی تو یوں ہنسنے لگے جیسے سیلانی نے کوئی لطیفہ سنا دیا ہے:
’’یار سیلانی بھائی! یہ بھی کوئی خبر ہے، آپ کے اسٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر سعید احمد کے قصے کہانیاں تو چھپ چھپ کر پرانی ہو چکی ہیں، یہ اسحاق ڈار صاحب کے رازدار تھے، انہیں صلہ یہ دیا گیا کہ اسٹیٹ بنک میں سیٹ کروا دیا۔ عطاء الحق قاسمی صاحب سے میاں صاحب کی نیاز مندی ڈھکی چھپی بات نہیں، ان کے نثری قصیدے کالموں کی صورت میں کون نہیں پڑھتا ہوگا، اس کا انعام یہ ملا کہ وہ سرکاری ٹیلی ویژن کے چیئرمین ہو گئے، مانا کہ وہ ایک مشہور کالم نگار ہیں طنز نگار ہیں، لیکن میڈیا کے بارے میں ان کا تجربہ کتنا ہوگا؟ بس ان کا جو میاں صاحبان سے تعلق ہے وہی میرٹ ٹھہرا۔ اپنے پیمرا میں ابصار عالم کی تعیناتی پر تو میں ہنس پڑا تھا، میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں، اچھا صحافی ہے، اچھا براڈ کاسٹر رہا ہے، لیکن اس سے بڑے بڑے اور غیر متنازعہ نام موجود ہیں، اسے میڈیا کو نتھ ڈالنے کے لیے لایا گیاتھا، پھر جس طرح پیمرا نے حکومت مخالف چینلز کو لگامیں ڈالیں، نوٹس جاری کیے، ان کی نشریات بند کیں، سب نے دیکھا۔ ممتاز قادری کا جنازہ یاد ہے ناں‘‘
’’بالکل یاد ہے۔‘‘
’’سوائے ایک دو نیوز چینل کے کس نے دکھایا تھا؟‘‘
’’ان کا یہ کہنا تھا کہ حالات ایسے تھے کہ جنازے کی کوریج سے پورے ملک میں آگ لگ جاتی‘‘
’’سلمان تاثیر کا قتل ایک خبر تھی کہ نہیں‘‘ انہوں نے سوال کیا
’’بالکل تھی‘‘ سیلانی نے اثبات میں جواب دیا
’’وہ چلائی گئی، ممتاز قادری کے مقدمات کی سماعتوں کی خبر چلتی رہی، عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی، خبر چلی اور اسے پھانسی ہوئی۔ یہ خبر بھی میڈیا میں آگئی تھی، مجھے بتائیں کہ ہوا کیا؟ کہیں ہنگامے ہوئے؟ گولی چلی؟ تدفین کا سارا عمل پرامن رہا، سیدھی سیدھی بات ہے لوگوں کا اپنا بھی ایک نقطہ ء نظر ہے، وہ اسے ہیرو سمجھتے ہیں تو سمجھیں، یہی تو جمہوریت ہے ناں۔ آپ اسے جمہوریت کا حسن کہتے ہیں، اس کے جنازے میں شہر کے شہر امڈ آئے تھے لیکن ابصار عالم نے میڈیا کو خبر دینے سے روک دیا تھا۔ یہ تو کسی بھی شہری کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ خیربات کہیں اور چلی جائے گی، مزے کی بات سنیں، بھارت کے بعد کینیڈا دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں ست سری اکال کہنے والے سردار جی بڑی تعداد میں آباد ہیں، کینیڈا میں سکھ کمیونٹی بڑی مستحکم پوزیشن میں ہے، موجودہ کینیڈین حکومت کے چار وزراء سکھ ہیں، اور ان کے بھلے سے نام ہیں ہاں یاد آیا! نودیپ، بردیش چگڑ، ہرجیت سجن اور امرجیت سوہی، ان سکھ وزراء کے پاس بڑی اہم وزارتیں ہیں، ہرجیت سجن تو کینیڈا کے وزیر دفاع ہیں، مزے کی بات یہ کہ یہ چاروں سکھ خالصتان تحریک کے کھلم کھلا حامی ہیں، دو وزراء تو ایسے ہیں جو بھارت میں’’اشتہاری‘‘ تھے، ان کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں تھے، پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ان پر کڑی نظر رکھتے تھے، ان کے لیے بھارت ماتا کی گود تو کیا پیروں میں بھی جگہ نہ تھی، لیکن گذشتہ دنوں یہ وزراء اس شان سے دہلی اترے کہ وہی پولیس جو کبھی انہیں ہتھکڑی لگانے کے لیے بے چین رہتی تھی، انہیں ٹوں ٹوں سرخ بتی کی گاڑیوں میں پروٹوکول دے رہی تھی۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن ان کیا انہیں بھی میاں صاحب نے وزیر بنوایا ہے۔‘‘
’’ہا،ہا،ہا۔ میاں صاحب نے وزیر نہیں بنایا لیکن میاں صاحب نے ان کے ملک کینیڈا میں بھی سفارشی کو سفیر لگا دیا ہے۔‘‘
’’کینیڈا کے سکھ وزیر ۔ اور پاکستان کا سفارشی وزیر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘
بتاتا ہوں، بتاتاہوں، بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ ان سکھ وزیروں اور کینیڈا کی خالصتان موومنٹ کی حمایت کی وجہ سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات بڑے ہی نازک موڑ پر ہیں، ان چاروں وزراء کے ساتھ کینیڈین وزیراعظم نے کچھ دن پہلے بھارت کا دورہ کیا، مودی جی کو تو پہلے ہی مرچیں لگی ہوئی تھیں، اس نے کینیڈین وزیراعظم کا ائیرپورٹ پر استقبال تک نہ کیا، آپ اسے سفارتی زبان میں شدید ترین احتجاج کہہ سکتے ہیں، بھارت کا یہ رویہ صاف بتا رہا کہ کینیڈا کا خالصتان کے حوالے سے رویہ بھارت کو پسند نہیں، اس کھنچاؤ کے بعد وہاں ہمارے سفیر صاحب کا کام آسان نہیں ہوجاتا؟ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، اسرائیل ہزاروں میل دور ہونے کے بعد بھی بھارت کا دوست ہے، تو اس لیے کہ ان کا دشمن ایک ہے، ہمارے طارق عظیم صاحب نے اسے ککھ بھی کیش نہ کرایا۔‘‘
’’یہ وہی طارق عظیم ہیں ناں جو سینیٹر بھی رہے۔‘‘
’’جی، جی یہ وہی طارق عظیم ہیں۔ حالت یہ ہے کہ کینیڈا سے ہماری تجارت دم توڑی رہی ہے، وہ ہم سے کپاس نہیں خرید رہا، اور ہم اس سے دالیں نہیں لے رہے، اور بھارت اس کشیدگی کے باوجود انھیں اپنی موٹرسائکلیں بیچے جارہا ہے۔ یہ نالائقی اپنی وزارت خارجہ، وزرات تجارت کے ساتھ ساتھ طارق عظیم کے کھاتے کی بھی ہے، سفیر کا تو کام ہی اپنے ملک کے لیے لابنگ کرنا ہوتا ہے، وہ خدا جانتا ہے، وہاں کیا کر رہے ہیں۔ سچی بات ہے اس بیماری نے سیاست کے ساتھ ساتھ ہر شعبے کا بیڑا غرق کر دیا ہے، ان کے ایک بھائی ہوتے ہیں، شجاعت عظیم صاحب، جناب ائیر فورس سے کورٹ مارشل ہو کر نکالے گئے تھے، وہ بھی میاں صاحب کی گڈ بک کے نکلے، ان کی خوبی میاں صاحب کا سامان لانا لے جانا تھا، جس کا صلہ انہیں مشیر ہوا بازی لگا کر دیا گیا، اخبارات میں بڑا شور مچا لیکن میاں صاحب نے کیا نوٹس لینا تھا، وہ تو بعد میں عدالت نے انہیں گھر بھیجا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   فوج اقتدار بھی پلیٹ میں رکھ کے دے؟ - سمیع احمد کلیا

سیلانی کا دوست ایک ایک کرکے نام گنوانے لگا، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے تو پورا خاندان وزیر، مشیر اورجانے کیا کیا لگا رکھا ہے، میاں صاحب کے نزدیک بھی سب سے بڑی اہلیت ان سے وفاداری اور کشمیری ہونا ہے۔ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی حکومت کا یہی حال ہے، ان کے لیے کوئی قانون اصول قاعدہ ضابطہ نہیں، ضمیر نامی شے میلے میں بھس بھری لومڑی کے دھڑ والی ممتاز بیگم سے زیادہ کچھ نہیں، ان سیاسی خاندانوں کے ہر فرد کا سر کڑھائی، پاؤں مرتبان اور انگلیاں گھی میں ہیں۔ بس حال برا ہے تو زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے والی عوام کا۔ سیلانی کی اپنے دوست سے خاصی دیر تک بات چیت ہوتی رہی جو اس وقت ہی ختم ہوئی جب اس کے دوست نے اجازت چاہی، اسے شاہراہ دستور جانا تھا۔ سیلانی نے اسے خدا حافظ کہہ کر فون سامنے میز پر رکھا اور پرسوچ نظروں سے ٹی وی اسکرین پر سارہ تارڑ کی اقرباء پروری کی خبر کے سرکتے لفظ دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں