ملحد کے جانے کا غم - افشاں نوید

جو بڑا آدمی دنیا سے جاتا ہے، اپنے پیچھے یہ پیغام چھوڑ کر جاتا ہے کہ زندگی یوں بھی گزاری جاسکتی تھی کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے..

عبدالستار ایدھی رخصت ہوئے تو ان کی ویب سائٹ پر چیریٹی کے لیے اتنا ہجوم کہ وہ کریش ہوگئی. اب ہم ان کے جانشیں رات دن اس مشن میں لگے پڑے ہیں، ان کی طرح جھولی پھیلائے فٹ پاتھوں پر کھڑے ہیں. اب ضرورت مند لاچار ڈھونڈے نہیں ملے گا، اپنے زور بازو سے فلاحی اسٹیٹ بنا دیا ہم نے ریاست کو.

آنجہانی روتھ فاؤ رخصت ہوئیں تو ہم جذام کے سامنے سینہ سپر ہوگئے کہ مادام اپنا مشن ہمارے حوالے کرکے گئی ہیں.

عاصمہ جہانگیر جو تھیں جیسی تھیں، حقوق کے لیے آواز بلند کرتی تھیں. ان کی جدائی سے بہت سے سوئے ہوئے جاگ گئے اور انسانی حقوق کے علم اٹھا لیے.

اسٹیفن ہاکنگ تو وہ صدمہ دے گئے کہ بس.
خلاؤں کے باسی تھے، خلائیں اداس ہیں اور ستارے و کہکشائیں سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ اب کوئی آئے تو کہنا مسافر تو گیا. یہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو.
اسے تو پچاس برس پہلے ہی چلے جانا تھا ماہرین صحت کی پیش گوئی کے بموجب.
اسٹیفن چلے گئے معذور جسم کے ساتھ..

حواس خمسہ کے ساتھ چھوڑ دینے پر جسم کمپیوٹر سے باندھ کر کئی عشرے خلاؤں میں بلیک ہولز کے بارے میں فکرمند رہے اور ہم صحت مندوں کو آئینہ دکھاتے رہے کہ جیو تو تسخیر کائنات کے لیے جیو. ویسے بھی قرآن نے تو غوروفکر بھی عبادات کی طرح لازم قرار دیا تھا ہم پر. آپ ہمیں سبق یاد دلا گئے ہیں کہ خدا کو نہ ماننے والا جب تسخیر کائنات کے لیے کئی عشروں سے وھیل چیئر پر جستجو میں ہے تو جو خود کو خلیفتہ الارض سمجھتے ہیں، ان کی ذمہ داری تو دوچند ہو جاتی ہے.

اسٹیفن آپ کے جانے کے بعد اب تھیوریٹکل کاسمولوجی ہماری نسلوں کی تحقیق کا موضوع ہوگا. ہمارے بچے ڈاکٹر انجینیئر کے سراب سے نکل کر تھیوریٹیکل فزکس پڑھیں گے. ہاکنگ ریڈیشنز اب ان کی جستجو کا عنوان بنے گا. آپ تو انگلیوں کی حرکت حتی کہ آنکھوں کو جھپکنے پہ بھی قادر نہ تھے اور ستاروں کی گزرگاہوں کے متلاشی رہے. ہم تو حواس خمسہ کا خزانہ رکھتے ہیں. اب باری ہماری ہے. تحقیق ہماری نسلیں کریں گی تو دنیا کو خدا آشنا کردیں گی. ان شاءاللہ

آپ کی تاریک رات کی سحر نہ بن سکی آپ کی جستجو. یہ علم ہم اٹھائیں گے اب. مگر پہلے آپ کے ملحد ہونے کا غم منا لیں. جو دنیا سے جاتا ہے، ہمیں یہ غم کچھ نہیں کرنے دیتا کہ جانے والا تو دوزخی تھا.

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں