وجود زن اور تصویر کائنات - محمد نورالہدیٰ

مارچ کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تقاریب کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔ مختلف پلیٹ فارموں سے یہ تقاریب پورا مہینہ جاری رہتی ہیں جہاں خواتین کے حقوق بارے خوب باتیں کی جاتی ہیں۔ عورت کے کردار ، صلاحیتوں ، ذمہ داریوں اور برداشت کا ذکر ہوتا ہے۔ اس پر ظلم و تشدد اور استحصال کی واضح مذمت کی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ہم واپس ”نارمل زندگی“ کی جانب لوٹ آتے ہیں۔ یعنی عورت کے ساتھ ویسا ہی سلوک اور رویہ دہرایا جاتا ہے، جو اس سیمینار میں شمولیت سے قبل تک تھا۔

یہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی مسئلہ ہے کہ ہمارے دو چہرے ہیں۔ ایک چہرہ وہ ہے جو محافل میں جا کر ایشوز پر بڑی بڑی باتیں کرتا اور اس کا ”حل“ پیش کرتا ہے، دوسرا چہرہ یہ ہے کہ انہی ایشوز پر اپنے ہی پیش کردہ حل کی نفی اور دوسروں کی حق تلفی کرتا ہے۔ عورت کے معاملے میں بھی ہمارا مزاج ایسا ہی ہے۔ عورت بارے ہونے والے سیمیناروں میں ہم خوب بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں ، مگر اصلاً اس کے استحصال اور تحقیر سے باز نہیں آتے۔

عورت اس مردہ معاشرے کا زندہ وجود ہے لیکن اس کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ہماری عادت بن چکی ہے۔ عورت نہ صرف ہماری نصف آبادی ہے بلکہ نسلوں کی تعمیر و حفاظت، معاشی، معاشرتی اور سماجی ترقی بھی ان کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ وطن عزیز پاکستان تیسرے درجہ کے ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں غربت کی شرح بھی کم از کم 70 فیصد ہے۔ یعنی ملک کے 70 فیصد سے زائد عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، صرف 2 فیصد اشرافیہ ہیں اور باقی 28 فیصد سفید پوش خاندان ہیں، جن کی معاشی حالت کو بہت بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے حالات میں خواتین کو مجبوراً اپنے باپ، بھائی اور شوہر کا ہاتھ بٹانے کےلیے رزق کی خاطر نکلنا پڑتا ہے۔ والدین اور شوہروں کا سہارا بننے کی امید لئے میدان عمل میں نکلنے والی خواتین کم تنخواہ پر کام کررہی ہیں۔ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کم معاوضہ پر نوکری دینے حوالے سے استحصال ہمارے ہر ادارے میں ہو رہا ہے ۔ اسے اتنی تنخواہ ملتی ہے کہ گھر کے محض بل اتار دے تو پیسے ختم ہو جاتے ہیں ۔ ایسے میں جو لوگ بڑے بڑے پروگرامات میں خواتین کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں، مجھے خود حضرات پر ترس آنے لگتا ہے۔

عورتوں کے حقوق کے لیے اگرچہ بہت سی تنظیمات کام کر رہی ہیں ، مگر اس کے باوجود معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک ختم نہیں ہو سکا۔ ملازمت پیشہ خواتین انتہائی نامساعد حالات میں بھی معمولی اجرتوں پر مجموعی طور پر مردوں کی نسبت دگنا کام کرتی ہیں۔ بیک وقت خاندان کی دیکھ بھال، گھر داری، ملازمت، غرض، ان پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے مگر انہیں مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد کم اجرت ملتی ہے، جسے بوجوہ انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ آج ہمیں عورت کبھی بس ہوسٹس کی شکل میں دکھائی دیتی ہے تو کبھی ائیر ہوسٹس کی صورت میں.... کہیں یہ دفتر میں کام کرتی نظر آتی ہے تو کہیں کھیتوں میں محنت مزدوری کرتی ملتی ہے۔ ان میں سے ہر کسی کے پیش نظر کوئی نہ کوئی مجبوری ہوتی ہے ۔ کسی کو بیوہ ماں کی ادویات کیلئے نوکری کرنا پڑی تو کسی کو غریب باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ کوئی خود بیوہ ہے کہ اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے پالنے ہیں تو کسی کے شوہر کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر چل سکے۔

ہوں پانی کی طرح فطرت میں اپنی
میں ہر سانچے میں ڈھلنا جانتی ہوں

غرض ہر خاتون بذات خود ہمت، جرات اور ضرورت کی اک کہانی ہے جبکہ ہمارا بےحس معاشرہ اس کہانی کو مزید تلخ بنانے کےلیے خوب کردار ادا کر رہا ہے۔

ہمارے ہاں بہت کم ادارے یا تنظیمات ایسی ہیں جو خواتین کی امپاورمنٹ کےلیے صحیح معنوں میں کام کررہی ہیں۔ خواتین کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کی معاشی خودمختاری اور استحکام پر بحث کےلیے گذشتہ دنوں انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نامی نے دنیا بھر سے نمائندہ خواتین کا اجتماع پاکستان میں منعقد کیا۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اس پروگرام کی روح رواں تھیں۔ ''عورت، تہذیبوں کا ستون'' کے نام سے منعقد ہونے والی اس چار روزہ عالمی کانفرنس میں انڈونیشیا، سوڈان، فلسطین، سری لنکا، نائجیریا، یوگنڈا، چین، ناروے، ترکی، لبنان، ایران، تھائی لینڈ، اردن، سویڈن ، سمیت دنیا کے 20 سے زائد ممالک سے خواتین کے وفود نے شرکت کی۔ کانفرنس میں تمام ممالک کی خواتین نمائندگان نے اپنی اپنی ریاست کی عورتوں کی معاشی و معاشرتی خود انحصاری کے حوالے سے طویل مشاورت کی اور لائحہ عمل بنایا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے تمام ممالک کے مابین وسیع بنیادوں پر بین المذاہب اور بین المسالک رابطے استوار کئے جائیں گے۔ میرا نہیں خیال کہ کسی بھی قسم کی حکومتی سپورٹ کے بغیر اس قدر بڑے پیمانے پر بالخصوص خواتین بارے ایسی کوئی کانفرنس کبھی منعقد ہوئی ہے ۔ یہ کانفرنس انٹرنیشنل مسلم وویمن یونین کے عہدیداروں نے اپنے زور بازو پر منعقد کی۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد جہاں یہ باور کروانا تھا کہ پاکستان امن پسند اور محفوظ ملک ہے، وہیں یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ ترقی کے نعروں کی گونج میں خواتین کے متاع و کردار کو کیسے تباہ کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ اگر اس ستون کو صحیح معنوں میں مضبوط کرنا ہے تو اسلام کی ان کے حوالے سے دی گئی امپاورمنٹ کو عمل میں لایا جائے۔

بلاشبہ عورت تہذیبوں کا ستون ہے جو نہ صرف تہذیبوں کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈالتی ہے بلکہ معاشرے کی بناوٹ، ترقی، استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فرد خاندان ، ملکوں ، معاشرے کی ترقی خواتین کی ترقی کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ یہ وہ سائبان ہے جس کے سائے تلے انسانیت پنپتی ہے۔ جس معاشرے میں خواتین کا کردار حذف کیا گیا ، وہ تباہی سے دوچار ہوا ۔ لہذا اسے برابری اور مساوی حقوق دینا معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ خواتین ہر لحاظ سے قائدانہ کردار ادا کرتی ہیں۔ معاشرے میں کلیدی حیثیت ہونے کے باوجود وہ ظلم و ستم اور عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ کہیں تیزاب گردی کا نشانہ بنتی ہے تو کہیں زیادتی کا .... کہیں تشدد ، طلاق اور قتل جیسے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے تو کہیں دفاتر میں استحصال کا شکار ہوتی ہے .... اور کہیں وہ خود حالات کے ستم سے مجبور ہو کر بچوں سمیت خود کشی کر رہی ہے۔ نسل انسانی کی تخلیق کرنا اس کا مقام بلند ہونے کی دلیل ہے لیکن اسے صرف اپنے مقاصد اور مفادات کیلئے استعمال کرنا دورِ جدید کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“ یہ بات اگرچہ ہر لحاظ سے درست ہے، لیکن ان کے اس رنگ کو پھیکا کیسے کرنا ہے، اس میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی 1979ءمیں وضع کردہ معاشی اصلاحات میں عورتوں کے خلاف امتیازات کے خاتمے کا اعلان اور ان کی معاشی خودمختاری کے ضمن میں مرتب کی گئی سفارشات کے نفاذ کو یقینی بنانے کا پابند کیا تھا، لیکن ان قراردادوں پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس وقت ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ ہر فرد معاشی میدان میں جتنا خود انحصار یا مضبوط ہوگا، اتنا ہی طاقتور ہوگا۔ لہذا معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے ایمپاورمنٹ ضروری ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انتظامی عہدوں سے زرعی میدان تک عورت بہترین کام کرتی ہے، تاہم تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ عورت کسی کی ماتحتی کے بغیر اپنے طور پر بہتر کام کرسکتی ہے۔ اس کی ایک مثال زراعت پیشہ دیہی خواتین ہیں ۔ فصلوں کو سنبھالنا ، مویشیوں کا خیال رکھنا ، خاندانی یا گھریلو ذمہ داریاں ، خاتون یہ سب امور بیک وقت انجام دیتی ہے اور فیصلہ کن انداز میں کردار ادا کرتی ہے۔

خاتون گھر کی ملکہ اور کائنات کا حسن ہے ۔ دنیا کا نظام انہی کی وجہ سے ہے، اس کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے جداگانہ معاشی ڈھانچہ متعارف کروایا جانا چاہیے جس میں ان کے خاندانی استحکام و ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جائے اور معاشی پہلوؤں کو بھی۔ یعنی عورت کو عورت رکھ کر ہی ایمپاور کیا جائے۔ ہمیں ترقی پسند ضرور ہونا چاہیے لیکن اس امر کو نہیں بھلانا چاہیے کہ عورت اپنے فطری دائرہ کار میں رہتے ہوئے بھی قومی اور معاشی ترقی میں بہترین کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہذا اس کی اندرون خانہ ذمہ داریوں کا خیال رکھتے ہوئے سروس اسٹرکچر بنایا جانا چاہیے، تاکہ وہ قومی ترقی کے عمل میں بھی شریک رہے، گھر بار کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتی رہے، خاندانی استحکام بھی برقرار رہے اور اس کا معاشی سرکل بھی چلتا رہے۔