میرا جسم میری مرضی، ایک سچی کہانی - محمد بلال خان

آج سے 12، 13 سال قبل کی بات ہے۔ پرائمری سکول کا زمانہ تھا، غالباً دوسری یا تیسری جماعت کا طالب علم تھا، بلکہ دوسری جماعت سے تیسری میں ترقی ملی تو نئے سال میں ہمیں سابقہ کلاس کی چار فیل شدہ بچیاں ویلکم پارٹی کے طور پر دی گئیں، اور وہ بھی کلاس کا حصہ بنیں۔ اتفاق سے تعلیمی ادوار میں یونیورسٹی کے دور تک کلاس کا پراکٹر مجھے ہی چن لیا جاتا تھا، اس وقت بھی کلاس کا مانیٹر ہونے کی وجہ سے حاضری رجسٹر وغیرہ کی دیکھ بھال، اور بچوں کو کنٹرول کرنا ذمہ ٹھہرتا۔ بچوں کے ساتھ تعارف کے دوران معلوم ہوا کہ سابقہ کلاس میں فیل ہونے والی چار بچیوں میں سے ایک جو قد کاٹھ میں کلاس میں سب سے بڑی لگتی تھی، جس کا نام عاصمہ تھا، اس سے قبل بھی فیل ہو کر اسی کلاس میں تھی، گویا ہیٹرک کرنے کی غرض سے ہماری ہم جماعت بن گئی۔ عاصمہ کی آنکھوں میں عیاری اور بےباکی اس درجے کی تھی کہ استانی جی کے ہاتھوں دس دس ڈنڈے کھا کر بس ایک بار آنکھیں موندھ لیتی، اور اپنی جگہ جا کر ایسے بیٹھ جاتی، جیسے اثر ہی نہ ہوا ہو۔ سرکاری سکول تھا، ایک ہی استانی تمام مضامین پڑھایا کرتی تھی، جس دن استانی نہ آئے تو کلاس کو سارا دن سنبھالنا اور پڑھانا پڑتا تھا، ایک دن ایسا ہی ہوا، عاصمہ کی چاندی ہوگئی، ایک کی چادر نوچی، دوسری کو چھیڑا، تیسرے کی کاپی پر کچھ لکھ دیا، میں نے دو تین بار منع کیا تو خاطر میں ہی نہ لائی، چوتھی بار میں نے بھی پٹھانیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پہلے سر پر زوردار چھڑی ماری، اور پھر کہا کہ بیٹھ جاؤ، ورنہ نام لکھ کر کل ٹیچر کو دوں گا۔ مجھے دل میں لگ رہا تھا کہ میرے حملے کے بعد میری درگت ویسے بھی بننے والی ہے، کیونکہ مجھ جیسوں کو ایک ہاتھ میں تولتی تھی، لیکن توقع کے برخلاف فرسٹ امپریشن از لاسٹ امپریشن ثابت ہوا، اور لڑکی جگہ سے ہلی نہیں۔ لیکن شرارتیں بدستور جاری رہیں۔ ہفتہ ڈیڑھ کی کلاس کے بعد استانی بھی اس کی حرکات سے عاجز آگئیں، مار پیٹ، سرزنش، تادیب اور نصیحت کچھ بھی عاصمہ کے سکارف کے شاید اندر سنائی ہی نہ دیتے تھے۔

خوبرو تھی، خوش چال اور خوش لباس بھی، دیگر بچوں کے مقابلے میں قدرے متوسط گھرانے سے تعلق کی وجہ سے جیب خرچ کلاس میں سب سے زیادہ لاتی، اس لیے لڑکیوں کا ایک گروپ مستقل اس کے گرد و پیش رہتا تھا۔ ہر روز بریک، جسے آدھی چھٹی کہتے تھے، کے بعد بیس پچیس منٹ تاخیر سے آنا اس کا معمول تھا۔ چند دن میں اس نے اپنے ساتھ دو تین اور لڑکیوں کو اس روٹین کا حصہ بنالیا۔ میں آئے روز اس کے متعلق ٹیچر کو آگاہ کرتا، وقتاً فوقتاً خود بھی اچھل کر دو چار ڈنڈے لگاتا، مگر وہ بلا کی بےحس تھی، یا بےخوف و خطر اپنی دھن میں رہتی تھی۔ ایک دن اس کی والدہ کو بلا کر استانی نے تمام فسانہ سنایا، ماں کچھ دیر خاموش رہی، پھر کہنے لگی کہ ہماری لاڈلی بچی ہے، تھوڑا بہت اسے آزادی دی ہے تاکہ "کمپریسڈ" نہ ہو۔ اس وقت استانی نے عاصمہ کی والدہ کو طویل نصیحت کی کہ آزادی دینے اور بےلگام چھوڑنے میں فرق ہے، بہرحال اس کی ماں قائل ہو کر آئندہ احتیاط کا وعدہ کرکے چلی گئی، لیکن عاصمہ کا معمول نہ بدلا۔ ایک دن استانی صاحبہ نے مجھے تعاقب میں بھیجا کہ چھپ چھپ کر دیکھو، کہاں جاتی ہے، کیا کرتی ہے۔

اس دن آدھی چھٹی سے چند منٹ قبل میں سکول سے باہر نکلا، بریک ہوتے ہی اس کے پیچھے پیچھے گیا، وہ رسی کودائی کھینے میں ایسی ماہر اور عادی تھی کہ چلتے ہوئے قدم بھی اسی طرح اٹھاتی اور کودتی کودتی چلتی تھی، اس وقت بچیوں میں سکول سے باہر سر پر سکارف لینے کا خود ہی رجحان تھا، لیکن عاصمہ کا دوپٹہ بیگ میں ہی ہوتا، اور اس کے گلے کے گرد ایک بالشت چوڑائی اور ایک میٹر لمبائی پر مشتمل سفید مفلر سا ہوتا تھا، لمبے بال، اور اچھلتے کودتے ہواؤں میں بکھر جاتے تھے۔ یہی اس کی خاصیت تھی کہ آدھی چھٹی کے دوران دس بارہ ریڑھیوں والے سکول کے سامنے آ کھڑے ہوکر اس کی چال دیکھتے تھے۔ مجھے جس دن تعاقب کے لیے بھیجا گیا، میں آنکھ بچاتے، غیر محسوس طریقے سے اس پورے دورانیے میں اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ عاصمہ اس وقت گھر سے بیس روپے لاتی تھی، جب ہمیں دو روپے جیب خرچ ملتے تھے، ہر ریڑھی بان سے کچھ نہ کچھ لیتی، ایک املی اور چاٹ بیچنے والے کے پاس خصوصی جاتی، پانچ روپے کی پلیٹ اسے آسانی میں دو بار بھر کر ملتی تھی۔ املی چاٹ اور سموسے والے عاصمہ پر خاص "نظرِ کرم" کرتے ہوئے اکثر وبیشتر پیسے نہیں لیتے تھے، بس اس کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے، اور اس کے تاخیر سے آنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ آدھی چھٹی ختم ہوتے ہی وہ سکول اور مسجد کی اوٹ میں واقع تنگ سی گلی میں بیٹھ کر باتیں کیا کرتی، اور یہی عادت بنا لی تھی۔

میں نے اسی روز استانی کو سارا معاملہ سنایا۔ انہوں نے چھٹی سے قبل مجھے اور ایک اور بچے کو عاصمہ کے گھر جا کر والدہ کو بلانے کے لیے کہا، ہم گھر سے والدہ کو ساتھ لے آئے۔ استانی صاحبہ نے ساری کہانی سنائی اور شدید تشویوش کے ساتھ کہا کہ اگر آپ اسے نہ روک پائیں تو یہ بچی خدا نخواستہ ضائع ہوجائے گی، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر یہ دوبارہ ایسے پائی گئی تو سکول سے اخراج پکا سمجھیں۔ خیر، اُس کی ماں منت سماجت کر کے پھر وعدے وعید کر کے چلی گئی، اور عاصمہ کا معمول دیکھتے دیکھتے بدل گیا۔ چند روز بعد ماں خود سکول آئی اور شکوہ کیا کہ آپ بہت دیر سے چھٹی دیتے ہیں۔ بچی سکول کی چھٹی کے وقت کے معمول سے ایک گھنٹہ کم از کم تاخیر سے آتی ہے۔ یہ خبر ٹیچر اور پوری کلاس کے لیے دھچکے سے کم نہ تھی، اور کسی کو سمجھنے میں دشواری بھی نہ تھی کہ اس شکایت کا پس منظر کیا ہوگا۔ استانی نے اس کی والدہ سے کہا کہ چھٹی عین معمول کے مطابق ہو رہی ہے، البتہ آپ کی بچی نے شاید اپنا معمول ختم نہیں کیا، بلکہ "ٹائم ٹیبل" چینج کیا ہے۔

عاصمہ کلاس میں بیٹھی خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی، چہرے پر کوئی خوف، یا ندامت کے آثار نہیں تھے، پالش زدہ ناخنوں سے کھیلتے ہوئے استانی اور اپنی والدہ کے درمیان مکالمہ سن رہی تھی، ہونٹ چبانا اُس کی عادت تھی، اتنے میں ٹیچر غضبناک لہجے میں بولیں: "چھوڑ دو یہ اپنا گوشت کھانا۔ کھڑی ہوجاؤ۔۔!! "
عاصمہ نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے دامن اور کپڑوں کو سیدھا کیا، بالوں کی پونی باندھی، جو آدھی چھٹی کے دوران ہواؤں میں بکھرنے کی وجہ سے بکھرے بکھرے تھے، ہاتھ باندھ کر ایسی با ادب کھڑی تھی کہ تابعداری کا مجسم لگے، اگلی آواز اس کی ماں کی تھی۔
"عاصمہ ! کیا چھٹی وقت پر ہوتی ہے؟ اور تم نے جھوٹ بولا۔؟"
عاصمہ نے برجستہ جواب دیا، " ہاں ! چھٹی وقت پر ہوتی ہے۔"
ماں اور استانی نے اس کے بعد ڈانٹ ڈپٹ کی اور گھر تاخیر کی سے جانے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی، " املی چاٹ والے خان کے پاس جاتی ہوں، اور چاٹ کھا کر آتی ہوں۔"
املی چاٹ والا خان دراصل ایک افغانی فارسی بان لڑکا تھا، ٹیچر نے جب دوبارہ پوچھا کہ تم اس کے پاس کیوں جاتی ہو؟
عاصمہ نے پورے اعتماد اور قدرے گرجدار لہجے میں کہا:
"میری مرضی۔۔۔۔!"
استانی ٹھٹھک کر رہ گئیں، اور پہلی بار مجھے بھی سر چکراتا محسوس ہوا، ٹیچر نے اس کی ماں کی طرف دیکھا، ماں نے آنکھیں جھکائیں۔ اور کچھ دیر بعد گویا ہوئی :
" اللہ اس لڑکی کو ہدایت دے، گھر میں جس بات سے منع کیا جائے، یہی جملہ کہہ کر خاموش کروادیتی ہے۔"

اس دن بھی عاصمہ کو دو چار چانٹے لگائے گئے، ڈانٹا گیا، اور آخری وارننگ دی گئی، لیکن پھر بھی وقتاً فوقتاً اس کی ساز باز سامنے آتی رہی، سکول کی ہیڈمسٹریس اور کلاس ٹیچر بھی اس سے عاجز آگئے، البتہ مجھے شدید غصہ آتا تھا، جب بھی اسے دیکھتا، دو چار چھڑیاں لگانے کا جی کرتا تھا، لیکن ایسا کرنا بے سود تھا، اور شاید مناسب بھی نہیں لگتا تھا، سو اسے کلاس میں معمول کا پابند بنا کر باقی معاملات چھوڑ دیے۔

گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اگست میں سکول دوبارہ کھلا، ششماہی امتحانات قریب تھے، ایک دن عاصمہ آدھی چھٹی کے بعد واپس نہ آئی، سکول بند ہونے کے بعد کافی دیر تک گھر نہ جانے پر ماں سکول آئی تو سکول بند۔ دو ڈھائی گھنٹے بعد مساجد میں اعلانات ہوئے، لیکن لڑکی کو زمین نگل گئی، یا آسمان کھا گیا، کچھ معلوم نہ ہوا، مقدمہ درج ہوا، تلاش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ روزانہ املی چاٹ بیچنے والا افغانی لڑکا بھی غائب ہے۔ والدہ نے چوتھے دن سکول آکر بتایا کہ لڑکی اس دن گھر میں میری غیر موجودگی کا علم رکھتی تھی۔ طلائی زیورات، والد کا موبائل اور نقدی بھی ساتھ لے گئی ہے۔ بہرحال پچیس دن بعد عاصمہ اور املی فروش کو پولیس نے ایبٹ آباد سے ہی بازیاب کرایا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ دونوں لاہور گئے، خوب گھومے پھرے، اور پیسے ختم ہونے کے بعد واپس آگئے۔ لڑکے کی عمر 16 سال تھی، عاصمہ لگ بھگ 13، 14 کی تھی۔ پولیس نے بچی والدین کے حوالے کی، اور اس کے بیان پر کہ میں اور لڑکا رضامندی سے گئے ہیں، لڑکے کو بھی چھوڑ دیا گیا۔ بازیابی کے چوتھے دن عاصمہ کی ماں سہمی سہمی سکول آئی، رو رو کر منتیں کیں کہ اس کا سال ضائع نہ ہو، اسے داخلہ دیں، استانی نے قطعی انکار کیا، لیکن ہیڈمسٹریس سے ساز باز کے بعد دوبارہ کلاس میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی۔ پھر وہی منظر تھا، عاصمہ کا "ایٹی ٹیوڈ" کلاس کی خاموشی، ٹیچر کا غصے اور غضب سے بھرپور لہجہ اور ماں کی بےحسی نما بےبسی۔

عاصمہ سے پھر وہی سوال ہوا ، کہ لاہور کیوں گئی۔؟
جواب تھا : "میری مرضی۔۔۔۔"
اگلے دن ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق عاصمہ کے ساتھ املی والے لڑکے سمیت چار دیگر لڑکوں کا "رضامندانہ جنسی تعلق" ثابت ہوا۔ عاصمہ کی والدہ وہی منت سماجت کر رہی تھی کہ بچی ہے، غلطی ہوگئی، جبکہ عاصمہ کا وہی کورا جواب تھا۔۔۔۔ "میری مرضی۔۔۔" بہرحال اب کی بار ششماہی میں فیل ہونے کی وجہ سے عاصمہ تھوڑی پریشان تھی، لیکن سالانہ امتحان میں اردو کے پرچے میں املاء کے سوال کے جواب میں "اللہ" لکھنے کے علاوہ اس نے کچھ لکھا، نہ ہی پیپر حل کیا، البتہ باقی پیپرز میں پھول پتیاں بنا رکھی تھیں۔

سالانہ امتحان میں عاصمہ تیسری جماعت میں فیل ہونے کی ہیٹرک مکمل کرچکی تھی، لیکن اس کا چہرہ اسی طرح ہشاش بشاش تھا، جیسے دیگر بچوں کا ہوتا ہے۔ چند دن سکول آئی، پھر کچھ عرصہ غائب رہی، اور پھر ایک دن وہی کہانی کہ لڑکی گھر سے غائب ہے۔ سال ڈیڑھ تک ہمیں عاصمہ کی سکول میں آمد و رفت کا معلوم پڑتا رہا، اور یوں ہم پانچویں جماعت تک پہنچ گئے۔ تب عاصمہ کی عمر بھی 16 سے متجاوز ہوئی، اس کا وہی بانکپن، لاپرواہی اور "مرضی" کا عروج تھا۔ آخر کار تنگ آکر والدین نے رشتہ طے کردیا۔ عاصمہ کو کوئی غرض نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے، اور کیا ہونے والا ہے، حالانکہ سب اس کے علم میں تھا۔ بس فرق یہ تھا کہ اب محلے میں اس کی دوستی کالج کی چند "پڑھی لکھی" لڑکیوں سے ہوگئی تھی، وہ "پڑھی لکھی" لڑکیاں جو خواب دیکھا کرتی تھیں، اس کا عملی تجربہ عاصمہ سے کرواتیں۔ ہم پانچویں جماعت سے امتحانات کے بعد ہائی سکول کی جانب رخت سفر باندھنے لگے تو فیئرویل پارٹی میں سب ایک دوسروں سے باتیں کر رہے تھے۔ عاصمہ کا ذکر آیا، ایک بچی جو اس کی پڑوسی تھی، کہنے لگی، عاصمہ نے رشتہ توڑ دیا تھا، اور ایک کپڑے کی دکان میں کام کرنے والے لڑکے کے ساتھ کئی دن بھاگ کر دوبارہ گھر واپس آئی۔ آج کل گھر میں ہی ہوتی ہے، ایک پرائیوٹ سکول میں آنا جانا لگا ہوا ہے، اسی دوران معلوم پڑا کہ دوسری بار بھی "اپنی مرضی" سے اس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ رشتہ توڑنے کی وجہ سے والدین اور لڑکے والوں کے بیچ بھی تلخ حالات تھے، لڑکا قتل کرنے کی دھمکی بھی دے رہا تھا، لیکن عاصمہ ایسی دھمکیوں کو اپنی سینڈل سے بھی نہ لگاتی۔ پانچویں جماعت کے بعد میں اسلام آباد آیا، اور دو سال بعد واپس ایبٹ آباد گیا تو ہم آٹھویں جماعت میں ابتدا کرنے لگے تو شہزاد اور عاطف بھی اسی کلاس میں تھے، جو پرائمری سکول میں بھی شروع سے آخر تک کلاس فیلو رہے، اور تیسری سے پانچویں تک ہم تین ہی لڑکے تھے۔ شہزاد عاصمہ کا پڑوسی تھا، ایک دن باتوں باتوں میں عاصمہ کا ذکر پھر محفل میں بپا ہوا، شہزاد کہنے لگا اب عاصمہ ایک بچی کی ماں ہے، اور ایک این جی او میں کام کرتی ہے۔ میں نے پوچھا شادی کس سے کی، اور اس سے شادی کس نے کی؟ تو شہزاد بولا، شادی نہیں کی، ایک سوزوکی ڈرائیور کے ساتھ پھر "اپنی مرضی" سے بھاگی، اور اس کے ساتھ "میرا جسم، میری مرضی" کے کلیے کے تحت حاملہ ہوئی، اور گھر والوں کو بھی کئی ماہ معلوم نہ ہوا، اور یوں اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ میری یادداشت کی سکرین پر وہ تمام مناظر فلمی سین کی طرح گھومنے لگے، جو ماضی میں بیت چکے تھے۔

2013-14 میں ، میں نے میٹرک مکمل کی تو پھر فیئرویل پارٹی ہوئی، اور پھر یادوں کے دریچے کھلے۔ شہزاد بھی وہیں تھا، ہم بھی وہیں، البتہ اس بار عاصمہ کے ذکر میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا کہ عاصمہ لاہور چلی گئی ہے، اور وہاں "فیمنسٹ" نامی تنظیم میں کام کرتی ہے۔ یہ پہلی دفعہ تھا جب میں نے شہزاد جیسے نالائق اور کند ذہن دوست کے منہ سے "فیمنسٹ" لفظ سنا تھا۔ مطلب نہ شہزاد کو آتا تھا، نہ مجھے، وہ لفظ جب بھی عاصمہ جیسے کسی کردار کی کہانی پڑھتا یا کوئی اخباری واقعہ یاد آتا تو اس کے نام کے ساتھ ہی "عاصمہ فیمنسٹ" کے طور پر آتا تھا۔ پھر فیس بک پر متحرک ہونے کے بعد لبرل ازم کے متعلق مطالعے اور مباحثے کے دوران فیمنزم کے متعلق پڑھنے کا موقع ملا، اور معلوم ہوا کہ یہ فیمنسٹ تنظیم نہیں ہوتی، بلکہ فیمنزم کے لیے کام کرنے والے اپنے آپ کو فیمنسٹ کہتے ہیں۔ 8 مارچ 2018ء کو اسلام آباد میں "فیمنسٹ لیڈیز" کا مظاہرہ اور اس مظاہرے کا ہفتے سے فیس بک پر چرچا دیکھ کر فیمنزم کو سمجھنے کا مرحلہ بھی اختتام پذیر ہوا۔
.........................................
نوٹ : واقعہ اور کرداروں کے نام بالکل حقیقت ہیں۔ استانی صاحبہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہی ہیں۔ باقی کردار بھی سبھی زندہ ہیں، البتہ عاصمہ کا معلوم نہیں کہ فیمنزم میں کتنے گریڈ کی ترقی پائی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی راہِ راست پر آنے کی دعا ہے۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • […] 2013-14 میں ، میں نے میٹرک مکمل کی تو پھر فیئرویل پارٹی ہوئی، اور پھر یادوں کے دریچے کھلے۔ شہزاد بھی وہیں تھا، ہم بھی وہیں، البتہ اس بار عاصمہ کے ذکر میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا کہ عاصمہ لاہور چلی گئی ہے، اور وہاں “فیمنسٹ” نامی تنظیم میں کام کرتی ہے۔ یہ پہلی دفعہ تھا جب میں نے شہزاد جیسے نالائق اور کند ذہن دوست کے منہ سے “فیمنسٹ” لفظ سنا تھا۔ مطلب نہ شہزاد کو آتا تھا، نہ مجھے، وہ لفظ جب بھی عاصمہ جیسے کسی کردار کی کہانی پڑھتا یا کوئی اخباری واقعہ یاد آتا تو اس کے نام کے ساتھ ہی “عاصمہ فیمنسٹ” کے طور پر آتا تھا۔ پھر فیس بک پر متحرک ہونے کے بعد لبرل ازم کے متعلق مطالعے اور مباحثے کے دوران فیمنزم کے متعلق پڑھنے کا موقع ملا، اور معلوم ہوا کہ یہ فیمنسٹ تنظیم نہیں ہوتی، بلکہ فیمنزم کے لیے کام کرنے والے اپنے آپ کو فیمنسٹ کہتے ہیں۔ 8 مارچ 2018ء کو اسلام آباد میں “فیمنسٹ لیڈیز” کا مظاہرہ اور اس مظاہرے کا ہفتے سے فیس بک پر چرچا دیکھ کر فیمنزم کو سمجھنے کا مرحلہ بھی اختتام پذیر ہوا۔ ………………………………….. نوٹ : واقعہ اور کرداروں کے نام بالکل حقیقت ہیں۔ استانی صاحبہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہی ہیں۔ باقی کردار بھی سبھی زندہ ہیں، البتہ عاصمہ کا معلوم نہیں کہ فیمنزم میں کتنے گریڈ کی ترقی پائی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی راہِ راست پر آنے کی دعا ہے۔ بشکریہ دلیل ڈاٹ پی کے […]

  • نا معلوم صاحب کی پوسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس پر لکھا تھا :
    (1 لبرل خاتون کی پوسٹ پڑھی لکھا تھا :" نہ میں خود شادی کرونگی اور نہ ہی اپنے بچوں کو کرنے دوں گی")