کیا آپ پاکستان کے لیے سیاست کر رہے ہیں؟ رمضان رفیق

آج کل سیاسی میدان میں جوتوں کی زبان میں باتیں ہو رہی ہیں، جوں جوں الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں، سیاسی درجہ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دوستوں کی گفتگو میں حدت محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان لوگوں سے بھی بحث ہونے کا امکان ہونے لگا ہے جن کے ساتھ وضع داری کا ایک رشتہ رہا ہوتا ہے۔ آنے والے الیکشن میں آپ مجھ ایسے غیر سیاسی شخص کو بھی کسی پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے پائیں گے، جیسا کہ پچھلے الیکشن سے پہلے ہوا تھا۔

لیکن کسی بھی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرنا میری ذاتی رائے، سوچ پر منحصر ہے۔ میری عمر اب اڑتیس سال ہونے والی ہے، بیس پچس ملک دیکھ چکا ہوں، پاکستان میں دو اڑھائی سال گزٹیڈ آفیسر رہا، اچھے لیول پر پرائیویٹ کمپنیوں میں کام کیا، پردیس میں مزدوری کر کے دیکھی، اپنے کاروبار کی بارہا کوشش ملک کے اندر اور باہر کرتا آیا ہوں، میری سوچ ان سبھی تجربات کا نچوڑ ہے جن سے مجھے پالا پڑا، ہوسکتا ہے کہ آپ کا واسطہ ویسے حالات سے نہ پڑا ہو، آپ نے اور طرح کی زندگی پائی، آپ کے تجربات، مشاہدات مختلف تھے، اس لیے آپ کسی اور پارٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

لیکن ایک بنیادی بات جو ہر پارٹی کے سپورٹر کو سمجھنی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کسی پارٹی کو سپورٹ کیوں کر رہے ہیں؟ اس سوال کا صرف اور صرف ایک جواب ہے کہ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے۔ اب پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے، اس کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے جو پارٹی بھی کوشش کر رہی ہو گی ہم اپنی سوچ کے مطابق اس کو سپورٹ کر رہے ہوں گے۔ جیسے میرے بہت سے دوست بشمول میرے بڑے بھائی کے یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کو ن لیگ بہترین انداز میں چلا رہی ہے۔ اس کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے، اس نے فلاں منصوبے اچھے چلائے، ان کے پاس تجربہ ہے۔ وغیرہ۔ تو مجھے ان کی یہ بات سننے میں کیا تامل ہو سکتا ہے۔ میرے بڑے بھائی انڈسری سے وابستہ ہیں، ان کے تجربات میں ن لیگ ان معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں دیکھ رہے ہے، اس لیے وہ اس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

لیکن میرے خیال میں یا میرے بھانجے کے خیال میں ن لیگ نے گزشتہ بہت سالوں میں اتنا نہیں کیا جتنا ان کو کرنا چاہیے تھا، ان کے کام میں بہتری لائی جا سکتی ہے، انہوں نے اداروں کو کرپٹ کیا، ملک میں دونمبری بڑھی، اب عمران خان کی پارٹی کو موقع ملنا چاہیے۔

میرے بے شمار دوست جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں، ان دوستوں کی خواہش ہے کہ جماعت اسلامی جیسے شفاف تنظیم کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملنا چاہیے۔ میں نے جماعت کی سرپرستی میں چلنے والی ایک کمپنی میں کام کیا ہے، اس لیے میرے دل میں ایک احترام کا رشتہ بھی موجود ہے۔

پیپلز پارٹی کے بہت سے لوگ مجھے اچھے لگتے آئے ہیں، غرضیکہ کہ میں آج جو تصویر دیکھ رہا ہوں مجھے اس تصویر میں کوئی برا نہیں لگ رہا۔ کچھ لوگ مولانا فضل الرحمن کا نام لوگ تحقیر سے لیتے ہیں، پچھلے دنوں ایک ٹی وی نے ان کے نام کے حوالے سے زیادتی بھی کی، ایسے ہی ایم کیو ایم جس کے شعلہ بیان مقرر پاکستان کی سبھی پارٹیوں پر حاوی نظر آتے ہیں۔

تھوڑی دیر کے لیے پاکستان کی ساری سیاسی تصویر کو پھر سے دیکھیے، چھوٹی چھوٹی جماعتوں سے لیکر بڑی بڑی جماعتوں تک، ان سب کا منشور ایک جملے میں کیا ہو سکتا ہے، ان سب کی کوشش کیا ہے؟ پاکستان کا بہتر مستقبل؟ اور میرے خیال میں اگر آپ اس ایک کسوٹی پر ہماری ساری سیاسی جماعتوں کو رکھیں تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہر کوئی اپنے انداز میں پاکستان کی بات کر رہا ہے۔ ہر کسی کو اپنے انداز میں پاکستان کی فکر ہے۔

اگر ہم یہ تصور کر لیں کہ ہم سب کو پاکستان کے مستقبل کی فکر لاحق ہے، تو کیا ہمارا ایجنڈا یہ ہونا چاہیے تھا جو آج ہے؟ ہاں مجھے ن لیگ سے اختلاف ہے، پیپلز پارٹی پسند نہیں، لیکن میرا کسی اور پارٹی کو سپورٹ کرنا ان لوگوں کو نفرت کا سبب کیوں ہے؟

پچھلے دنوں سے ایک نفرت کی فضا بنی ہوئی ہے، ہم اپنے اپنے جھنڈے کو نمایاں کرنے کے لیے دوسروں کی اسقدر کردار کشی پر اتر آئے ہیں کہ بات چیت کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے، ورکنگ ریلشن شپ کے کئے جو ماحول ہوا کرتا ہے وہ ماحول مٹتا چلا جا رہا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جس پارٹی کی بھی جیت ہو، وہ سارے پاکستان کو ساتھ لے کر چلے، اور ہم سب پاکستانی بن کر سوچیں، اگر ملک کی تقدیر بدلنی ہے تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہے۔ ایک دوسرے سے نفرت اور حقارت سے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔

الیکشن ایک میچ کی طرح ہونا چاہیے جس میں ہر بندہ اپنی خوبیوں کی بنا پر یہ ثابت کرے کہ وہی ملک کے لیے بہترین ہے، اور ہم ایسے لوگوں کو اپنی اپنی پارٹی کی سپورٹ کرنی ہے، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ہماری پارٹی پاکستان کے اچھا کام کرے گی، اور میری مخالف پارٹی والا میرا نظریاتی مخالف ہے پاکستان کا دشمن نہیں۔ خدا کے ایک دوسرے کی تحقیر بند کر دیجیے، ایک دوسرے سے نفرت کا ماحول مت بنائیے۔

کیونکہ آپ کسی کو طعنوں کی زد پر رکھ کر اس سے عزت کی امید نہیں رکھ سکتے، اگر آپ ن لیگ کے سپورٹرز کو پٹواری کہہ کر تحقیر کریں گے تو کوئی کیوں کر آپ کی مناسب بات بھی کیونکر سنے، اور ایسے ہی آپ یوتھ کو قوم یوتھ یا دیگر تحقیری حربوں کے ذریعے بگاڑیں گے تب بھی یہ غیر مناسب ہے۔ ایک دوسرے کو جوتے مارنے والے لوگ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس دلائل کے لیے الفاظ باقی نہیں رہتے۔ اگر مخالفین پہلے ہی ایک دوسرے کی تحقیر کرنا چھوڑ دیں تو دوسرے مرحلے کی نوبت نہ آئے

کاش ہم پاکستانی بن کر سوچیں، اور یہ سمجھیں کہ ان سیاسی پارٹیوں کا ایک ہی مقصد ہے پاکستان کا بہتر مستقبل۔

Comments

رمضان رفیق

رمضان رفیق

رمضان رفیق دنیا گھومنے کے خواہشمند ہیں اور اسی آرزو کی تکمیل کے لیے آج کل کوپن ہیگن میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان میں شجر کاری اور مفت تعلیم کے ایک منصوبے سے منسلک ہیں۔ انہیں فیس بک پر یہاں فالو کریں۔ ان کا یوٹیوب چینل یہاں سبسکرائب کریں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.