کیا اسلام لبرل ہے؟ غامدی صاحب کا مؤقف - محمد زاہدصدیق مغل

کچھ دیر قبل چینل گھماتے گھماتے غامدی صاحب کا پروگرام سامنے آگیا۔ موضوع تھا "کیا اسلام لبرل ہے؟"۔ موضوع دلچسپ اور شرکاء دیکھے بھالے محسوس ہوئے تو دیکھنے لگا۔ پورا پروگرام نہ دیکھ سکا، درمیان ہی سے سنا جہاں غامدی صاحب ریاست کے دائرہ کار پر گفتگو کر رہے تھے اور بعد میں اس تصور ریاست کے خلاف جانے والے کچھ سوالات کے جوابات (جن سب کا جواب تھا "اتمام حجت")۔ ریاست کے دائرہ کار پر انہوں نے جو فرمایا، اس کے بارے میں خاصے کی چیز یہ تھی کہ غامدی صاحب ریاست کے بارے میں "پوسٹ نیشنل ازم" مباحث و طریقہ تشکیل ہی کو درست و جائز سمجھتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر تاریخ کو جانچتے ہیں۔ اس پوسٹ نیشنلسٹ تصور ریاست پر اسلامی تاریخ بشمول نبی علیہ السلام کا دور چونکہ پورا نہیں اترتا، لہذا اس کا حل "قانون اتمام حجت" ہے جس کے ذریعے نبی علیہ السلام کو بچا لیا جاتا ہے کہ نبی نے جو "ریاست" قائم کی تھی نیز اسے ہر طرف پھیلا دیا تھا، وہ خاص مجرموں کر سزا دینے کے لیے تھا۔ لیکن "آج کیا کرنا چاہیے؟" کے اعتبار سے وہ قانون اب مکمل طور پر غیر متعلق ہے، اور اس پر کوئی رہنمائی فراہم نہیں کرتا، یہ بس ایک "تاریخی مذہبی واقعہ" ہے۔ رہے بعد والے "جنگجو مسلمان"، تو ان کا طرز عمل یقینا قابل گرفت ہے۔

رہی یہ بحث کہ "ریاست" کا جائز دائرہ کار کیا ہے؟ (غامدی صاحب ریاست کو فار گرانٹڈ لیتے ہیں) تو اس کے لیے غامدی صاحب نے لاک کی طرف رجوع فرماتے ہوئے بتایا کہ ریاست وہ قوت ہے جو انسان کو ایک دوسرے کے برے اعمال سے بچانے کی خاطر وضع کی جاتی ہے، یعنی اس کا دائرہ کار حق تلفی کو روکنا ہے (اس کے لیے انہوں نے "جان مال عزت کی حفاظت" کا علیحدہ ذکر کیا جبکہ ا سکی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بھی حق تلفی کے اصول کے تحت آتے ہیں)۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے خیال میں کسی کو "نیک بنانا" بھی ریاست کے ایجنڈے میں شامل ہے تو غامدی صاحب کے بقول اس کے لیے اسے دلیل لانی ہوگی اور قرآن میں ایسی کوئی دلیل سرے سے موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بت پرستی چھوڑیے، بت شکن بنیے - صابر علی

ریاست کا دائرہ کار متعین کرنے کا یہ طریقہ فرد و معاشرے کے تعلق کے بارے میں خالصتا لبرل تصورات پر مبنی ہے۔ پھر خود اس تصور کی رو سے فرد اگرچہ فطرتا خود غرض ہے، نیز اس کی خود غرضی کا تقاضا آزادی کا حصول ہے، نیز آزادی کا یہ حصول اگرچہ بالقوہ ممکن ہے مگر اسے بالفعل بنانے کے لیے ریاست چاہیے جو سب لوگوں کو "ایسا نیک بنائے" جس کے ذریعے آزادی "عملا" ممکن ہوسکے۔ تو نیک بنانے کی یہ بحث خود لبرل فریم ورک کے اندر بھی موجود ہے مگر سادہ لوح مفکرین اس سے صرف نطر کرتے ہیں کیونکہ لبرل مفکرین جھانسا دینے کے لیے ریاست کے دائرہ کار کو بالعموم "سلبی" انداز ("ریاست کو حق تلفی روکنا ہے") میں بیان کرتے ہیں۔ پھر مزید یہ کہ حق تلفی کیا ہے؟ اس کا تعین کیسے ہوگا؟ کیا فرد خود اپنے بارے میں بھی حق تلفی کا شکار ہوسکتا ہے؟ حق تلفیوں سے بچانے والے اس نظام کے قیام کا مقصد کیا ہے وغیرہ؟ غامدی صاحب ان بنیادی سوالات کو پرابلمٹائز ہی نہیں کرتے، گویا یہ کوئی آفاقی و ٹیکنیکل قسم کی چیزیں ہیں۔ اس کے برعکس اگر مسلم فقہاء و سیاسی مفکرین کی کتب کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں یہ بات ملتی ہے کہ خلیفہ (مسلمانوں کے اجتماعی نظام کے نمائندہ) کی ذمہ داری ان احکامات کا نفاذ ہے جو خدا نے اپنے بندوں کے حقوق کے تحفظ (یعنی فرائض کی ادائیگی) کے لیے مقرر کیے ہیں۔ کس قدر بنیادی فرق ہے ان دونوں تصورات میں؟ مگر پوسٹ نیشنلسٹ فکر کو حتمی سمجھنے والوں کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں۔

اس پروگرام کا دوسرا حصہ دیکھا اور یہ جانا کہ "ریاست کیا ہے یعنی اس کی حیثیت کیا ہے؟" کے سوال کا جواب دیے بغیر کس طرح اس سوال پر "تفصیلی و علمی" بحث کی جاسکتی ہے کہ "ریاست مذہبی کیوں نہیں ہوسکتی"۔ دوسری بات یہ جانی کہ "قومی ریاست کا فارمیٹ" تبدیل کر دینا شرع میں تبدیلی سے بھی بڑا گناہ ہے اور کسی کو اس کا حق نہیں۔ غامدی صاحب نے بتایا کہ پاکستان کی عوام کو یہ حق نہیں کہ وہ ریاست پاکستان کے آئین کو اسلامی بنالیں۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.